وفاقی وزارت داخلہ نے ملک بھر میں
موبائل فون سروس معطل رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اب اس ضمن میں دن
تین بجے سکیورٹی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد سروس کی بحالی کے
بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ وزارت داخلہ نے پولنگ شروع
ہونے سے ایک گھنٹہ قبل سکیورٹی خدشات کی بنا پر ملک بھر میں موبائل فون سروس معطل
کر دی تھی اور ساتھ ہی دن 12 بجے اس کے بارے میں دوبارہ جائزہ لینے کا اعلان کیا
تھا۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق 12
بجے سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیے جانے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ سروس بدستور دن
تین بجے تک بند رکھی جائے گی۔
اہلکار کا کہنا ہے کہ تین بجے صورتحال
کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد اس ضمن میں مزید فیصلہ لیا جائے گا۔
موبائل سروس معطل ہونے کے بعد ووٹرز
کو پریشانی کا سامنا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت چند سیاسی جماعتوں نے اس
فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے نگراں حکومت سے سروس فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ
کیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سروس
کی فوری بحالی کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست بھی دائر کی گئی ہے جبکہ پارٹی
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں عدالت سے رجوع کریں گے۔
تاہم جمعرات کی علی الصبح چیف الیکشن
کمشنر سکندر سلطان راجہ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ موبائل
سروس کی بندش الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں نہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ یہ سکیورٹی
اداروں کا فیصلہ ہے اور الیکشن کمیشن اس ضمن میں اداروں کو صرف گزارشات دے سکتا ہے
لیکن سروس کو بحال کرنا حکومت کی صوابدید ہے۔
موبائل سروس کی بحالی سے متعلق وفاقی
حکومت کو درخواست دینے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر کا کہنا
تھا ’بالکل نہیں دیں گے، اس پر اگر ہم حکم دیتے ہیں اور کوئی واقعہ ہو جاتا ہے تو
کون ذمہ دار ہو گا؟‘
لاہور میں موجود نمائندہ بی بی سی کیرولین ڈیوس
نے شہر کے ایک پولنگ سٹیشن پر موجود ووٹرز سے موبائل سروس بند ہونے پر رائے مانگی
تو بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے انھیں اُن کے مطلوبہ
پولنگ سٹیشن تک پہنچنے میں مُشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
وہیں موجود چند ووٹرز نے کہا کہ پولنگ
سٹیشن تک پہنچنے کے لیے آن لائن ٹیکسی سروس کی ایپس کے استعمال میں انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔