آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

الیکشن 2024: حکومت سازی سے متعلق ن لیگ، پی ٹی آئی اور دیگر سے کوئی باضابطہ گفتگو نہیں ہوئی: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ لاہور میں اُن کی حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن سمیت کسی سیاسی جماعت سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ ادھر پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت قومی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے عددی اکثریت حاصل کر چکی ہے اور اب پی ٹی آئی وفاق، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں حکومتیں بنائے گی۔

لائیو کوریج

  1. سینیٹر تاج حیدر نے موبائل نیٹ ورک کی فوری بحالی کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو درخواست کر دی

    سینیٹر تاج حیدر انچارج سنٹرل الیکشن سیل پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان بھر میں موبائل نیٹ ورک کی فوری بحالی کے لیے چیف الیکشن کمشنر کودرخواست کر دی۔

    سینٹر تاج حیدر نے چیف الیکشن کمشنر کو اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی کو پاکستان بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک کنیکٹیویٹی کی حالیہ غیر اعلانیہ بندش پر تشویش ہے جو عام انتخابات پر بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس ملک گیر رکاوٹ کی وجہ سے ووٹرز اپنے پولنگ اسٹیشن سے متعلق معلومات تک رسائی حاصل کرنے یا پولنگ سٹیشنز تک رسائی کے لیے لاجسٹکس کو مربوط کرنے سے قاصر ہیں۔‘

    الیکشن کمشن کو لکھے جانے والے خط میں سینٹر تاج حیدر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’نیٹ ورک سروسز کے بند ہونے سے ووٹرز، اُمیدواروں اور انتخابی عملے کے لیے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ قابل فہم طور پر، انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورکس تک رسائی کے بغیر، ووٹرز پولنگ سٹیشنز کے بارے میں اہم معلومات تک رسائی حاصل کرنے اور دیگر انتخابی طریقہ کار کی پیروی کرنے اور متعلقہ پولنگ سٹیشنز تک رسائی کے لیے رسد کو مربوط کرنے سے قاصر ہیں۔‘

    سینٹر تاج حیدر کا مزید کہنا تھا کہ ’موبائل نیٹ ورک میں خلل ووٹر ٹرن آؤٹ کو متاثر کرے گا۔ موبائل نیٹ ورک الیکشن کے دن کے لیے اہم ہے اور ہم ای سی پی پر زور دیتے ہیں کہ وہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کو بحال کرنے کے لیے فوری کارروائی کرے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ کی فوری بحالی الیکشن 2024 کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے لیے ای سی پی کے عزم کو ظاہر کرے گی۔‘

  2. لاہور اور پشاور میں ووٹرز موجود مگر پولنگ کا عمل قدرے سست

    پاکستان بھر میں پولنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ لاہور اور پشاور میں بھی ووٹرز ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلے ہیں۔ پشاور میں پولنگ کا عمل قدرے سست روی کا شکار ہے۔

    لاہور کے پولنگ سٹیشن پر ہماری ساتھی ترہب اصغر جبکہ پشاور میں ہمارے ساتھی عزیزاللہ خان موجود ہیں۔ ️

  3. اسلام آباد کے شہری علاقوں میں وٹر ٹرن آوٹ کم، پولنگ کیمپس ویران, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    جمعرات کے روز اسلام آباد کے شہری علاقوں میں پولنگ شروع ہونے کے پہلے تین گھنٹوں کے دوران لوگوں کی بہت کم لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلی اور ووٹر ٹرن آوٹ پانچ فیصد سے زیادہ نہیں تھا۔

    یہ بات بی بی سی کو ڈسٹرکٹ ریٹنرنگ افسں میں تعینات ایک اہلکار نے بتائی جس کی ڈیوٹی ووٹر ٹرن آوٹ کا جائزہ لینا ہے۔

    جب ان سے اسلام آباد کے دیہی علاقوں کے ووٹر ٹرن آؤٹ کا پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ان کے پاس معلومات نہیں ہیں۔

    ایف ایٹ مرکز میں موجود اسلام آباد کے سب سے بڑے پولنگ سٹیشن پر مردوں کے پولنگ سٹیشن پر تعینات اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک اس پولنگ سٹیشن پر ایک سو سے بھی کم ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے آئے ہیں۔

    شہر کے علاقوں جن میں ووٹرز کی تھوڑی بہت گھما گہمی دیکھنے کو ملی ان میں اسلام آباد کے چار سیکٹرز : جی-سیون، جی-ایٹ، جی-نائن اور جی-ٹین، شامل ہیں۔

    تاہم، یہاں بھی کچھ امیدواروں کے پولنگ کیمپس ویران پڑے تھے جبکہ کچھ کیمپس کو ٹینٹ لگا کر بند کردیا گیا تھا۔ ان علاقوں میں صرف پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیداوروں کے پولنگ کیمپس میں ووٹرز کا رش نظر آیا۔

    مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار اپنے ووٹرز کو پولنگ سٹیشن تک لانے کے لیے انھیں ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، وہ امیدوار جو آزاد حثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں وہ اس امید پر بیٹھے ہیں کہ ووٹر خود اپنا انتظام کر کے پولنگ سٹیشن پر پہنچ جائیں گے۔

    شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ رواں دواں ہے۔ اسلام آباد سے راولپنڈی چلنے والی میٹرو بس کے علاوہ مختلف روٹس پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی چل رہی ہے۔

    اسلام آباد کے شہری علاقوں میں پولیس اہلکار پولنگ سٹیشنز کے ارد گرد پیٹرولنگ کرتے ہوئے نظر آئے لیکن شہری علاقوں میں رینجرز اہلکار پیٹرولنگ کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیے۔

  4. لاہور میں این اے 121 میں گہما گہمی، ووٹرز کی بڑی تعداد قطاروں میں موجود, فرقان الہیٰ، نامہ نگار بی بی سی اردو، لاہور

    این اے 121 میں لوگوں کی بڑی تعداد اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ سٹیشنز کے باہر موجود۔

  5. صدر پاکستان کی عوام سے ووٹ ڈالنے کی درخواست

  6. بریکنگ, مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے این اے 128 ماڈل ٹاؤن میں اپنا ووٹ ڈال دیا

    پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 128 میں اپنا ووٹ ڈال دیا ہے۔

    اس موقع پر ان کے ہمراہ ان کی بیٹی اور مسلم لیگ ن کی سینئر رہنما مریم نواز اور آئی پی پی کے رہنما عون چودھری بھی موجود تھے۔

  7. پاکستان کی فوج میں اختلاف رائے کا تاثر: ’ذہن سازی‘ اور پالیسی میں ’تبدیلی‘ کا ٹکراؤ کیسے ہوا؟

    اکستان میں فوجی اسٹیبلشمنٹ مضبوط ترین ریاستی ستون سمجھی جاتی ہے اور ان پر الزام ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں نہ صرف مداخلت کرتی ہے بلکہ سیاسی جوڑ توڑ ان کے اشاروں پر ہی ہوتا ہے۔

    خود فوجی افسران عوامی سطح پر عوامی یا سیاسی معاملات پر رائے دینے کے مجاز نہیں ہیں اور ملک کا آئین انھیں ایسے کسی بھی اقدام سے روکتا ہے جس سے ان پر کسی سیاسی جماعت کی جانبداری کا تاثر ملے۔ اپنی پالیسیوں کا دفاع کرنا اور عوام سے رابطہ قائم رکھنا، یہ امور عام طور پر وہ فوجی افسران سرانجام دیتے رہے ہیں جو حاضر سروس نہ ہوں۔

    یہی وجہ ہے کہ ریٹائر ہونے والی فوجی افسران اکثر اخبارات اور ٹی وی سکرینز پر عسکری پالیسیوں، اقدامات اور فیصلوں کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔

    قانون کے تحت کوئی بھی فوجی افسر اپنے عہدے سے سبکدوشی کے تین سال ختم ہونے کے بعد نہ صرف سیاسی معاملات پر اپنی رائے دے سکتا ہے بلکہ سیاست میں کسی بھی عام شہری کی طرح حصہ بھی لے سکتا ہے۔

  8. بریکنگ, الیکشن کمیشن موبائل سروس کی بحالی کے لیے درخواست نہیں دے گا: چیف الیکشن کمشنر

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی بندش سے کمیشن کی تیاریوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ان کے سسٹم کا دار و مدار انٹرنیٹ پر نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ موبائل سروس کی بندش الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں نہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ سکیورٹی اداروں کا فیصلہ ہے، اس معاملے میں کمیشن صرف گزارشات دے سکتا ہے لیکن یہ ان کی صوابدید ہے۔

    ’اس میں کمیشن کو میں نہیں سمجھتا مداخلت کرنی چاہیے۔‘ موبائل سروس کی بحالی سے متعلق درخواست کے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا ’بالکل نہیں دیں گے، اس پر اگر ہم حکم دیتے ہیں اور کوئی واقعہ ہو جاتا ہے تو کون ذمہ دار ہوگا۔‘

  9. ’انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے مطلوبہ پولنگ سٹیشن تک پہنچنے میں مُشکلات کا سامنا ہے‘, کیرولین ڈیوس، نامہ نگار بی بی سی

    لاہور کے علاقے نصیر آباد کی چھوٹی گلیوں میں موجود ایک سکول کے باہر ووٹرز لمبی قطاروں میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے انتظار میں کھڑے تھے۔ اس پولنگ سٹیشن میں موجود پریزائیڈنگ افسر نے کہا کہ ’ہزاروں مرد و خواتین پہلے ہی اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں۔‘

    قطار میں کھڑے کچھ لوگوں نے کہا کہ انھیں اب اس قطار میں کھڑے دو گھنٹے گزر چُکے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے اہل خانہ کو اُن کے مطلوبہ پولنگ سٹیشن تک پہنچانے میں مُشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    تاہم اسی قطار میں کھڑے دوسرے لوگوں نے کہا کہ پولنگ سٹیشن تک پہنچنے کے لیے آن لائن ٹیکسی سروس کی ایپس کے استعمال میں مُشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور اب بھی اُن کے وہ اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں پہنچ سکے۔

  10. اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر ووٹنگ کا عمل جاری مگر کچھ مشکلات کے ساتھ

    اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی تین نشستوں این اے 46، 47، 48 پر انتخاب ہو رہا ہے۔

    این اے 46 سے مسلم لیگ ن کے انجم عقیل خان، پیپلز پارٹی کے راجہ عمران اشرف اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار عامر مسعود مغل مدمقابل ہیں۔ سنہ 2018 میں یہ حلقہ این اے 52 تھا اور یہاں سے پی ٹی آئی کے راجہ خرم نواز الیکشن میں کامیاب ہوئے تھے۔

    اس حلقہ میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 350580 ہے۔

    اسی طرح اسلام آباد کا دوسرا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 47 ہے جہاں پر اس مرتبہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شعیب شاہین، مسلم لیگ نواز کے طارق فضل چوہدری اور آزاد امیدوار مصطفیٰ نواز کھوکھر مدمقابل ہیں۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے سید سبطت الحیدر بخاری بھی اس حلقے سے میدان میں موجود ہیں۔ سنہ 2018 میں یہ حلقہ این اے 53 تھا اور یہاں سے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کامیاب ہوئے تھے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے شاہد خاقان عباسی دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

    اس حلقے میں 433202 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔

    اسی طرح اسلام آباد کا تیسرا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 48 ہے جہاں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 299248 ہے۔ سنہ 2018 میں یہ حلقہ این اے 54 تھا۔

    اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے حلقوں کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے لیکن ووٹرز کو کچھ مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ اس بارے میں مزید بتا رہی ہیں بی بی سی نامہ نگار فرحت جاوید۔

  11. پشاور کے مختلف علاقوں میں پولنگ کا عمل جاری، خواتین کی بڑی تعداد بھی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ سٹیشنز پر موجود, عزیز اللہ خان، نامہ نگار بی بی سی اردو، پشاور

    پشاور میں بھی مُلک کے بیشتر علاقوں کی طرح پولنگ کا عمل جاری ہے۔ پولنگ سٹیسنز کے باہرسیای جماعتوں اور امیدواروں کے کیمپس نمایاں ہیں لوگ مختلف سیاسی جماعتوں کے پرچم اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر لگا رکھے ہیں۔

    پشاور کے متعدد علاقوں میں خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد بھی اپنا حقِ رائے دہی کے استعمال کے لیے پولنگ سٹیشنز کے باہر موجود ہے۔ واضح رہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 99 لاکھ 83 ہزار ہے۔

    جبکہ مرد اور خواتین کُل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو کروڑ 19 لاکھ 20 ہزار ہے۔

    شہر بھر میں خاصی گہما گہمی دکھائی دے رہی ہے۔ اس دوران اُمیدوار بھی مختلف حلقوں کے دورے کر رہے ہیں۔ اب تک کہیں سے کسی بھی قسم کے ناخوش گوار واقعہ کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

    پشاور کے متعدد علاقوں میں صبح سے قہوے کی پیالیاں پیش کی جا رہی ہیں انتخابی مہم کے برعکس پشاور میں پی ٹی آئی کا کارکن بڑی تعداد میں پولنگ سٹیشنز کے باہر موجود ہیں، خواتین بھی ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے پولنگ سٹیشنز پر آرہی ہیں۔

  12. قومی اسمبلی کے حلقہ 54-NA کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری، ’ہم سیاست کی بنیاد پر ایک دوسرے سے بات خراب نہیں کرسکتے‘

    ٹیکسلا کے قومی اسمبلی کے حلقہ 54-NA میں تین بڑی سیاسی جماعتیں مدِ مقابل ہیں۔ سابق وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور اس حلقے سے استحکامِ پاکستان پارٹی کے ٹکٹ سے قومی اسمبلی کی سیٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔

    ماضی میں یہاں سے مسلم لیگ نواز کو زیادہ ووٹ ملتے آئے ہیں لیکن اس مرتبہ صورتحال کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ اس حلقے کے ایک پولنگ سٹیشن کے باہر، بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ کی ملاقات ایک ماموں اور بھانجے سے ہوئی جو تحریکِ انصاف اور استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار کو ووٹ ڈالنے کے لیے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ ’ہمارا جینا مرنا اسی علاقے میں ہے۔ ہم لوگ سیاست کی بنیاد پر ایک دوسرے سے بات خراب نہیں کرسکتے۔‘

  13. ’سکیورٹی کے زیادہ اچھے انتظامات ہونے چاہیے تھے، ہر پولنگ سٹینش پر فوج کی تعیناتی ہوتی تو حالات مزید بہتر ہوتے‘ سابق وزیر اعلیٰ سندھ, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی

    سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ’آج موبائل فون سروس بھی معطل ہے، تو الیکٹرانک منیجمنٹ سسٹم پر فرق پڑ سکتا ہے۔‘

    سابق وزیر اعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ ’سکیورٹی کے زیادہ اچھے انتظامات ہونے چاہیے تھے، ہر پولنگ سٹیشن پر فوج کی تعیناتی ہوتی تو حالات مزید بہتر ہوتے۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’تمام سیاسی جماعتوں سے گذارش ہے کہ پُر امن طریقے سے آج کا دن گزاریں۔‘

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سنئیر رہنما نثار کھوڑو نے اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد بات کرتے ہوئے کہا کہ ’امن و امان کو کنٹرول میں رکھنا نگران حکومت کی ذمہ داری ہے جس کی سزا فون سروس بند کر کے ووٹرز کو نہ دی جائے۔‘

    پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کھوسہ محلہ رحمت پور سکول لاڑکانہ میں اپنا ووٹ کاسٹ کردیا۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ موبائل فون بند ہونے کی وجہ سے رابطوں میں سخت دشواری کا سامنہ ہے۔ موبائل فون بند کرنا ٹرن آؤٹ کم کرنے کی سازش ہے۔‘

    نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن فوری طور پر پی ٹی اے اور نگران حکومت کو موبائل فون سروس کی بحالی کے لئے احکامات جاری کرے۔ اگر موبائل فون سروس نہیں کھولی گئی تو نتائج پر سوالیہ نشان آئے گا۔‘

  14. ملتان میں قومی اسمبلی کی چھ نشستوں کے لیے ووٹنگ جاری, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو

    ملتان میں قومی اسمبلی کی چھ نشستوں کے لیے مقابلہ جاری ہے جہاں چند بڑے نام مدمقابل ہیں۔ ان میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، استحکامِ پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی اور بیٹے زین قریشی، پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار محمد عامر ڈوگر شامل ہیں۔

    این اے 149 میں آئی پی پی کے سربراہ جہانگیر ترین اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محمد عامر ڈوگر کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

    اس حلقے میں جہانگیر ترین کو پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے ان کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ملتان کے اس حلقے میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ووٹ ڈالنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

    پولنگ سٹیشن سے کچھ فاصلے پرلگ بھگ تمام امیدواروں کے پولنگ کیمپ لگائے گئے ہیں۔ ان کیمپوں میں موجود ایجنٹس کا کہنا ہے کہ موبائل فون سروس معطل ہونے باعث لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    ووٹنگ کا عمل شروع ہوتے ہی تمام امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس پولنگ بوتھس کے باہر موجود ہیں۔

  15. شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر حملہ ایک اہلکار زخمی, عزیز اللہ خان، نامہ نگار بی بی سی اردو، پشاور

    شمالی وزیرستان کے سرکاری ذرائع سے موصول ہونے والے اطلاعات کے مطابق تھانہ حدود میر علی میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے راکٹ حملہ کیا ہے۔

    سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر حملے کے نتیجے میں ایک لیفٹیننٹ تاتیر زخمی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز کے یہ گاڑی میر علی کے ایک کیمپ سے حسو خیل نامی گاؤں میں قائم ایک چیک پوسٹ کی جانب جا رہی تھی۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے گاڑی پر حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے اہلکار کو ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

  16. ملتان NA-129: پولنگ سٹیشن کے اندر بیٹھنے کی جگہ نہیں دی گئی، خواتین پولنگ ایجنٹس کا دعوٰی, عمردراز ننگیانہ، بی بی سی اردو ملتان

    ملتان میں این اے 149 میں خواتین کے پولنگ بوتھس کے باہر موجود پولنگ ایجنٹس نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو بوتھ کے اندر بیٹھنے کی جگہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے وہ پولنگ کی عمل کا جائزہ نہیں لے سکتیں۔ انھیں باہر بیٹھنے کی جگہ دی گئی ہے جہاں سے وہ آنے والے ووٹرز کو بوتھ تلاش کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔

    چند خواتین ووٹرز نے یہ شکایت بھی کی کہ انھیں ان کا ووٹ بوتھ میں موجود پولنگ ایجنٹس کی فہرستوں میں نہیں مل رہا جبکہ ان کے پاس الیکشن کمیشن کا میسیج موجود ہے جس کے مطابق ان کا ووٹ اسی پولنگ سٹیشن میں رجسٹرڈ ہے۔

  17. پاکستان مُسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے این اے 128 میں ووٹ کاسٹ کیا, ترہب اصغر، نامہ نگار بی بی سی اردو، لاہور

    پاکستان مُسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے لاہور کے حلقہ این اے 128 میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

    واضح رہے کہ این اے 128 میں مسلم لیگ ن کا کوئی اُمید وار الیکشن میں حصہ نہیں لے رہا۔ اس حلقے میں مسلم لیگ ن نے استحکامِ پاکستان پارٹی کے عون چوہدری کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

  18. بلاول بھٹو زرداری کا ملک بھر میں موبائل سروس کی بحالی کا مطالبہ

    پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے ملک میں موبائل سروس کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اپنی جماعت سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر الیکشن کمیشن اور عدالتوں سے رجوع کرے

  19. موروثی سیاست: پاکستان کی سیاست پر چند خاندانوں ہی کا راج کیوں ہے؟

    آئندہ ماہ 8 فروری کو پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے نامزد کردہ امیدواروں کی حتمی فہرستوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک بھر میں درجنوں ایسی قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں ہیں جہاں ایک ہی گھر یا خاندان کے افراد کو میدان کو اُتارا گیا ہے۔

    اگر کسی سیاسی خاندان کے سربراہ قومی اسمبلی کی نشست پر کسی جماعت کے امیدوار ہیں تو انہی کے بھائی، بیٹے، بیٹی، بہو یا بیگم اُسی شہر یا علاقے سے دیگر قومی و صوبائی نشستوں سے امیدوار نظر آتے ہیں۔ اور پاکستانی سیاست میں ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ دہائیوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور اس میں بڑی سیاسی جماعتوں میں سے کسی کو بھی استثنیٰ نہیں ہے۔

    موروثی یا خاندانی سیاست پاکستان میں ایک منفی اصطلاح کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ موروثی سیاست کا یہ معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک، خاص کر جنوبی ایشیائی ممالک میں خاندانی سیاست کے گہرے اثرات موجود ہیں۔ تاہم دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں موروثی سیاست کی شرح بہت حد تک بلند ہے۔

  20. ’آج تو عوام کا دن ہے، آج تو فون نیٹ ورک نہ بند کرتے‘, فرحت جاوید بی بی سی اردو اسلام آباد

    اسلام آباد کے پولنگ سٹیشنوں پر ووٹروں کی قطاریں لگنا شروع ہو گئی ہیں جن میں بوڑھے، جوان، مرد اور خواتین سب شامل ہیں۔ تمام پولنگ سٹیشنوں پر سکیورٹی کے لیے پولیس کے جوان تعینات ہیں جبکہ حساس پولنگ سٹیشنوں پر فوج بھی تعینات ہے مگر موبائل نیٹ ورک کی عدم دستیابی ووٹرز کے لیے پریشان کن ثابت ہو رہی ہے۔

    ’آج الیکشن کا دن ہے۔ یہ عوام کا دن ہے۔ کم از کم آج کے دن تو فون نیٹ ورک بند نہ کرتے‘ یہ کہتے ہوئے اسلام آباد میں سیکٹر جی الیون کے ایک شہری ووٹ ڈالنے پولنگ بوتھ میں داخل ہوئے۔

    جمعرات کی صبح ووٹنگ سے چند منٹ پہلے اچانک موبائل فونز کے سگنل غائب ہونا شروع ہوئے اور پھر وزارت داخلہ کا اعلان بھی سامنے آ گیا کہ تمام نیٹ ورکس عارضی طور پر بند رہیں گے۔

    اسلام آباد کی ہی ایک اور ووٹر کومل کہتی ہیں کہ انہیں توقع تھی کہ ایسا ہی ہو گا۔ “میں تو کل شام سے سوشل میڈیا پر دیکھ رہی تھی کہ موبائل نیٹ ورک بند ہوں گے۔ میں تو صبح بالکل تیار تھی اس صورتحال کے لیے۔ مجھے توقع تھی کہ صبح چھے بجے ہی نیٹ ورک غائب ہوگا”۔

    ایک اور ووٹر نے بتایا کہ الیکشن کے دن عوام کو سہولت فراہم کرنی چاہئیے۔ اسی پولنگ اسٹیشن پر موجود پیپلز پارٹی کی ایک پولیٹکل ایجنٹ نے کہا کہ نیٹ ورکس کی بندش کی وجہ سے وہ اپنے امیدواروں سے رابطہ نہیں کر پا رہے۔