شانگلہ: ’ہماری خوشی غم میں بدل گئی‘, عمر باچا/ شانگلہ، صحافی
’محمد حسن کل ہمارے ہجرے پر اپنے والد اور ساتھیوں کے ساتھ نتائج کے انتظار میں رات دیر تک موجود تھے اور وہ پی ٹی آئی سے بہت لگاؤ رکھتے تھے۔۔۔ ہمیں کیا پتا تھا کہ ایسا واقعہ ہوگا اور ہماری خوشی غم میں بدل جائے گی۔‘
یہ کہنا تھا تحصیل پورن کے چیئرمین اور پی کے 29 کی سیٹ جیتنے والے عبدالمنعم کے چھوٹے بھائی عبدالمولی کا۔
ریسکیو حکام کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں پی ٹی آئی کے کارکنان اور پولیس کے بیچ تصادم میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین تھانے کے قریب آ رہے تھے جنھیں منتشر کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے تھے۔ پولیس نے مظاہرین پر پتھراؤ کا الزام بھی عائد کیا۔
ہلاک ہونے والوں میں 16 سالہ محمد حسن شامل ہیں جو 8ویں جماعت کے طالب علم تھے۔ وہ مبینہ دھاندلی کے خلاف پی ٹی آئی کے اس احتجاجی مظاہرے میں موجود تھے جو مسلم لیگ ن کے امیدوار امیر مقام کی فتح مسترد کر رہا تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق نعرے بازی کے دوران کارکنان اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور مظاہرین پر ڈنڈے برسائے۔
ان کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے ایک سرکاری گاڑی کو آگ لگائی تو پولیس نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے بعد الپوری مین چوک پر گولیاں لگنے سے بعض لوگ زخمی ہوئے جنھیں بعد ازاں ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال الپوری، ڈاکٹر محمد سجاد خان نے بتایا کہ کل 12 زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا جن میں دو شدید زخمی تھے جو ہسپتال میں دم توڑ گئے جبکہ پانچ کی حالت تشویشناک تھی جنھیں ابتدائی طبی امداد کے بعد سوات منتقل کیا گیا۔
ابتدائی طور پر پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مظاہرین نے پولیس سٹیشن الپوری پر پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ کی جس میں دو افراد کی ہلاکت ہوئی۔