آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

الیکشن 2024: حکومت سازی سے متعلق ن لیگ، پی ٹی آئی اور دیگر سے کوئی باضابطہ گفتگو نہیں ہوئی: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ لاہور میں اُن کی حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن سمیت کسی سیاسی جماعت سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ ادھر پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت قومی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے عددی اکثریت حاصل کر چکی ہے اور اب پی ٹی آئی وفاق، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں حکومتیں بنائے گی۔

لائیو کوریج

  1. شانگلہ: ’ہماری خوشی غم میں بدل گئی‘, عمر باچا/ شانگلہ، صحافی

    ’محمد حسن کل ہمارے ہجرے پر اپنے والد اور ساتھیوں کے ساتھ نتائج کے انتظار میں رات دیر تک موجود تھے اور وہ پی ٹی آئی سے بہت لگاؤ رکھتے تھے۔۔۔ ہمیں کیا پتا تھا کہ ایسا واقعہ ہوگا اور ہماری خوشی غم میں بدل جائے گی۔‘

    یہ کہنا تھا تحصیل پورن کے چیئرمین اور پی کے 29 کی سیٹ جیتنے والے عبدالمنعم کے چھوٹے بھائی عبدالمولی کا۔

    ریسکیو حکام کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں پی ٹی آئی کے کارکنان اور پولیس کے بیچ تصادم میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین تھانے کے قریب آ رہے تھے جنھیں منتشر کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے تھے۔ پولیس نے مظاہرین پر پتھراؤ کا الزام بھی عائد کیا۔

    ہلاک ہونے والوں میں 16 سالہ محمد حسن شامل ہیں جو 8ویں جماعت کے طالب علم تھے۔ وہ مبینہ دھاندلی کے خلاف پی ٹی آئی کے اس احتجاجی مظاہرے میں موجود تھے جو مسلم لیگ ن کے امیدوار امیر مقام کی فتح مسترد کر رہا تھا۔

    عینی شاہدین کے مطابق نعرے بازی کے دوران کارکنان اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور مظاہرین پر ڈنڈے برسائے۔

    ان کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے ایک سرکاری گاڑی کو آگ لگائی تو پولیس نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے بعد الپوری مین چوک پر گولیاں لگنے سے بعض لوگ زخمی ہوئے جنھیں بعد ازاں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال الپوری، ڈاکٹر محمد سجاد خان نے بتایا کہ کل 12 زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا جن میں دو شدید زخمی تھے جو ہسپتال میں دم توڑ گئے جبکہ پانچ کی حالت تشویشناک تھی جنھیں ابتدائی طبی امداد کے بعد سوات منتقل کیا گیا۔

    ابتدائی طور پر پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مظاہرین نے پولیس سٹیشن الپوری پر پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ کی جس میں دو افراد کی ہلاکت ہوئی۔

  2. انتخابات میں ہونے والے بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی جائیں: یورپی یونین

    یورپی یونین نے کہا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات میں عوام کی جانب سے حق رائے دہی کا استعمال جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار ہے۔

    یورپی یونین نے گذشتہ انتخابات کی نسبت اس بار پاکستان میں رجسٹرڈ خواتین ووٹر کی تعداد بڑھنے کا خیر مقدم کیا۔ تاہم اس نے پاکستان میں ’کچھ سیاست دانوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے اور ان کے انتخابات میں کھڑا نہ ہو پانے‘ پر مایوسی کا اظہار کیا گیا۔

    ساتھ ہی ساتھ آن لائن اور آف لائن ’اظہارے رائے کی آزادی نہ ملنے، انٹرنیٹ پر پابندی، انتخابی عمل میں مبینہ مداخلت سمیت سیاسی کارکنوں کو حراست میں لیے جانے پر‘ بھی مایوسی ظاہر کی گئی۔

    یورپی یونین نے پاکستان میں متعلقہ حکام سے انتخابات میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ یورپی یونین نے الیکشن سے متعلق اپنے مشن کی رپورٹ پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔

  3. بلوچستان اسمبلی میں کون جیتا؟, محمد کاظم/ بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان سے عام انتخابات میں متعدد معروف شخصیات نے کامیابی حاصل کی ہے جن میں جمیعت علمائے اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمان بھی شامل ہیں۔

    غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے پہلی مرتبہ بلوچستان سے قومی اسمبلی کی نشست این اے-265 سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

    مولانافضل الرحمان کو 52 ہزار 429 ووٹ ملے۔ اس نشست سے خوشحال خان کاکڑ 31 ہزار 4 سو 26 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    2018 کے عام انتخابات میں ناکامی کے بعد جمیعت علما اسلام نے مولانا فضل الرحمان کو پشین سے بھی امیدوار نامزد کیا تھا۔ پشین میں نہ صرف جمیعت کا ووٹ بینک مضبوط ہے بلکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی بھی اس نشست سے مولانا فضل الرحمان کے حق میں دستربردار ہوئے تھے۔

    بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب محمداسلم خان رئیسانی کو ضلع مستونگ سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پر کامیابی ملی۔

    اس مرتبہ انھوں نے جمیعت علمائے اسلام کی ٹکٹ پر انتخاب لڑا۔ بلوچستان سے عام انتخابات میں بلوچستان اسمبلی کی نشست سے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے بھی کامیابی حاصل کی۔ صادق سنجرانی ایران اور افغانستان سے متصل ضلع چاغی سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی ۔32 سے 19091 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے۔

    صادق سنجرانی نے بلوچستان عوامی پارٹی کی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی۔ سابق نگراں وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے بھی ڈیرہ بگٹی سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پر52 ہزار 4 سو 85 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔

    اس مرتبہ سرفراز بگٹی نے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی جبکہ اس سے قبل وہ بلوچستان اسمبلی کی اس نشست پر بلوچستان عوامی کی ٹکٹ کے علاوہ آزاد حیثیت سے انتخاب لڑتے رہے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے معروف جیالے رہنما میر صادق عمرانی بھی بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی ۔13 نصیرآباد ون سے 14 ہزار 8 سو سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ جعفرآباد ہی سے بلوچستان اسمبلی کی ایک نشست پر پہلی مرتبہ جماعت اسلامی کے امیدوار عبدالمجید کو بھی کامیابی ملی۔

    ان کے مقابلے پر سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی کے صاحبزادے عمر جمالی کے علاوہ علاقے کے جمالی خاندان سے تعلق رکھنے والے دیگر شخصیات بھی تھیں۔

    بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ جام کمال خان ضلع لسبیلہ سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پر 38 ہزار 5 سو 62 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ وہ قومی اسمبلی کی نشست سے بھی امیدوار تھے تاہم قومی اسمبلی نشست کے نتائج کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا۔

    گذشتہ عام انتخابات میں جام کمال بلوچستان عوامی پارٹی کی ٹکٹ پر انتخاب لڑے تھے لیکن اس مرتبہ انھوں نے نواز لیگ کی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی۔

    بلوچستان اسمبلی کی عام نشستوں پر اب تک پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو آٹھ آٹھ نشستیں ملی ہیں۔ جمیعت کو 6، بلوچستان عوامی پارٹی کو 4، عوامی نیشنل پارٹی کو 2، نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کو ایک، ایک نشست ملی ہے جبکہ آزاد حیثیت سے چار امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

  4. خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی واضح اکثریت, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو

    اب تک کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو واضح اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔

    صوبے میں یہ تیسرے انتخابات ہیں جن میں لوگوں نے پی ٹی آئی کو تیسری مرتبہ منتخب کیا ہے۔ اب تک جو نتائج سامنے آئے ہیں ان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ کامیاب ارکان اپنی حکومت تو قائم کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے انھیں کسی سیاسی جماعت کا سہارا چاہیے ہوگا تاکہ وہ خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں بھی حاصل کر سکیں۔

    اس بارے میں قانونی ماہر قاصی محمد انور ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ آزاد ارکان کو انتخابات کے سرکاری اعلان کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے یا انھیں پھر آزاد حیثیت سے ہی اسمبلی میں رہنا ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اس بارے میں عمران خان سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرے گی کہ اب آئندہ کیا اقدامات کیے جا سکیں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ان کی ملاقات عمران خان سے ہوئی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں تین ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جن کے ساتھ وہ رابطے میں ہیں اور ان کے ساتھ مل کر وہ حکومت سازی کر سکتے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ یہ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں نہیں ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں وزارت اعلی کے حصول کے لیے بھی سیاسی جماعت ضروری ہوگی۔ اس عہدے کے لیے صوبائی صدر علی امین گنڈہ پور کا نام لیا جا رہا ہے تاہم اس بارے میں جماعت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

    علی امین 9 مئی کو عسکری تنصیبات پر حملوں کے معاملے کے بعد سے روپوش ہیں۔

  5. انتخابات کے نتائج سے مزید تقسیم کا خدشہ: ’پاکستان نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا‘

  6. آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی لاہور آمد

    سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری لاہورپہنچ گئے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے دونوں رہنما آئندہ حکومت سازی کے لیے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کریں گے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف نے حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں سے رابطوں کا ٹاسک شہباز شریف اور اسحاق ڈار کو دیا تھا۔

  7. طاقت رکھنے والوں کو عوامی چناؤ کا احترام کرنا سیکھنا چاہیے: پی ٹی آئی

    پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن نے کہا ہے کہ مرکز، پنجاب اور کے پی میں ان کی جماعت سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔

    پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ عوام نے عمران خان کو تاحیات ملک کا اگلا وزیراعظم بنائے جانے کی توثیق کی ہے۔

    انھوں نے یہ بھی تنبیہ کی کہ فیصلوں کو ثبوتاژ کرنے کی کوئی بھی کوشش کیے جانے کے تباہ کن نتائج ہوں گے۔

  8. تحریک لبیک کے سعد رضوی نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کی کال دے دی

    تحریک لبیک پاکستان کے مرکزی امیر حافظ سعد حسین رضوی نے الیکشن میں مینہ طور پر ہونے والی دھاندھلی کے خلاف احتجاج کی کال دی ہے۔

    انھوں نے سنیچر کی دوپہر ایک بجے ملک بھر میں بھرپور احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان کر دیا

  9. آزاد ارکان نے کھیل بگاڑ دیا!

  10. ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں: نواز شریف

    قومی اسمبلی میں عددی طور پر اکثریتی نشتوں کے ساتھ پہلے نمبر پر موجود جماعت کے سربراہ نواز شریف نے اپنی وکٹری سپیچ میں کہا ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم دنیا اور ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

  11. ’اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں‘: نواز شریف کی دیگر جماعتوں کو مل بیٹھنے کی دعوت

    نواز شریف نے کہا ہے کہ ’ہمارے پاس اتنی اکثریت نہیں کہ اکیلے حکومت بنائیں، اس لیے ہم دیگر جماعتوں کو دعوت دیتے ہیں کہ ہم سب مل کر بیٹھیں۔‘

    ان کے بقول انھوں نے اسحاق ڈار اور شہباز شریف کو ٹاسک دیا ہے کہ دیگر جیتنے والی جماعتوں کو اتحاد کی دعوت دیں۔

    ’شہباز شریف سے کہا ہے کہ آصف علی زرداری، ایم کیو ایم، مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کریں۔ موجودہ حالات تقاضہ کرتے ہیں کہ ہم سب مل کر اس کشتی کو بھنور سے نکالیں۔‘

  12. ’پاکستان کو استحکام کے لیے کم از کم 10 سال درکار‘

    لاہور میں پارٹی کارکان سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ سب کی ذمہ داری ہے، یہ سب کا پاکستان ہے اور سب کو مل کر مل کر پاکستان کو مشکلات سے نکالنا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’بچوں کے مستقبل اور زندگیوں کا سوال ہے۔ یہ کوئی عام بات نہیں، ان چیزوں کو ہمیں سنجیدگی سے لینا چاہیے، قومی کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے۔‘

    نواز شریف نے کہا کہ ’ملک کو استحکام کے لیے کم از کم دس سال چاہیے۔‘

    ’سب کو مل کر بیٹھنا ہو گا۔‘

  13. نواز شریف کی آزاد امیدواروں کو ساتھ بیٹھنے کی دعوت

    سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پارٹی کارکان سے خطاب میں کہا ہے ان انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔

    انھوں نے پارٹی کارکنان کو اس پر مبارکباد دی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سب پارٹیوں کے مینڈیٹ کا احترام ہے۔ چاہے وہ پارٹی ہے یا آزاد لوگ۔ ہم ان کو دعوت دیتے ہیں کہ زخمی پاکستان کو بچانے کے لیے آؤ ہمارے ساتھ بیٹھو۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے ہیں۔۔۔ ہمارا ایجنڈا صرف خوشحال پاکستان ہے۔‘

    نواز شریف نے کہا کہ ’ہمارا فرض بنتا ہے ملک کو مشکلات سے نکالنے کی تدبیر دیں۔

    ’ہم سب پارٹیوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں، چاہے وہ پارٹی ہے یا چاہے فرد واحد اور آزاد لوگ ہیں۔ ہم ان کا بھی احترام کرتے ہیں اور دعوت دیتے ہیں کہ اس زخمی پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کے لیے آؤ ہمارے ساتھ بیٹھوں۔‘

  14. نواز شریف کی پارٹی کارکنان سے خطاب کے لیے ماڈل ٹاؤن آمد

    پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف پارٹی کارکنان سے خطاب کے لیے ماڈل ٹاؤن پہنچ چکے ہیں۔

    وہاں آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا اور پارٹی نغمے بجائے جا رہے ہیں۔

  15. لاہور ہائیکورٹ نے حلقہ این اے 128 کے غیر حتمی نتائج پر عملدرآمد روک دیا

    لاہور ہائیکورٹ نے حلقہ این اے 128 میں نتائج سے متعلق فارم 47 پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

    خیال رہے کہ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کے اس حلقے میں مسلم لیگ ن کے اتحادی عون چوہدری جیت گئے ہیں۔

    مگر اب عدالت نے الیکشن کمیشن کو حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روک دیا ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے 12 فروری کو فریقین سے جواب طلب کیا ہے۔

    جسٹس علی باقر نجفی نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔

  16. بریکنگ, قومی اسمبلی: نصف سے زائد نتائج کا اعلان، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سب سےآگے

    پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی تعداد قومی اسمبلی کے اب تک کے نتائج میں سب سے زیادہ ہے۔

    قومی اسمبلی کے نصف سے زیادہ نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

    اب تک جاری ہونے والے اعدادو شمار میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 65 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔

    اس فہرست میں مسلم لیگ ن 51 نشتوں کے ساتھ دوسرے اور پیپلز پارٹی 38 نشتوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

  17. نواز شریف کی تقریر میں تاخیر، کارکنان پارٹی سکریٹریٹ میں موجود

    مسلم لیگ ن کے کارکنان کی بڑی تعداد نوازشریف کی تقریر کو سننے کے لیے پارٹی سیکریٹریٹ میں موجود ہیں۔

    خیال رہے کہ شام پانچ بجے نواز شریف نے تقریر کرنا تھیں تاہم ابھی تک اس کا آغاز نہیں ہو سکا۔ تاہم ٹی وی سکرینز پر سکریٹریٹ کی بالکونی میں مسلم لیگ ن کے رہنما کھڑے دکھائی دے ہے ہیں۔

  18. شانگلہ میں مظاہرین ’پولیس سٹیشن کے قریب آگئے تھے‘, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو

    خیبر پختونخوا کے علاقے شانگلہ میں آج پاکستان تحریک انصاف کے کارکن نتائج میں مبینہ تبدیلی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کہ اس دوران پولیس سے تصادم میں پتھراؤ اور فائرنگ کی وجہ سے پی ٹی آئی کے دو کارکن ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔

    شانگلہ میں الپوری تھانے کے اہلکار نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا الزام لگا رہے تھے۔ ’بڑی تعداد میں مظاہرین پولیس تھانے کے قریب آگئے جہاں انھوں نے تھانے پر پتھراؤ کیا ہے اور گاڑی کو نقصان پہنچایا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس دوران فائرنگ بھی ہوئی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔ اس کے بقول اب تک مظاہرین میں دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں تاہم ریسکیو حکام ہلاکتوں کی تعداد تین بتا رہے ہیں۔

    دو پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

    مقامی لوگوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 11 شانگلہ میں کل رات تک پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کامیاب ہو رہے تھے لیکن صبح پھر پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما امیر مقام کو فاتح قرار دے دیا گیا ہے جس پر لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے۔

    مقامی سکول کے ماسٹر عبدالرحمان نے بتایا کہ علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور اس واقعے کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے ہیں جبکہ پولیس روڈ پر موجود ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیو بھی سامنے آئی ہیں جن میں ایک نوجوان زخمی حالت میں سڑک پر پڑا ہے۔ تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

    انتخابات کے نتائج میں مبینہ رد و بدل کے خلاف پشاور کے چارسدہ روڈ پر بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے جہاں روڈ کو بلاک کر دیا گیا تھا۔

  19. شیر افضل مروت کا اپنی گاڑی پر حملے کا دعویٰ

    این اے 41 سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار شیر افضل خان مروت بے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بلٹ پروف کار پر فائرنگ ہوئی ہے تاہم وہ گاڑی میں موجود نہیں تھے۔ انھوں نے اسے ایک سنجیدہ نوعیت کا خطرہ قرار دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں انھوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے دو خودکش بمباروں کے حملے کا الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

    انھوں نے لکھا ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس اورایف سی کے اہلکار موجود ہیں۔

    شیر افضل کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہزاروں حامی کارکنان اور مسلح لوگ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کے دفتر کے باہر موجود ہیں۔

    ’میں مطمئن ہوں کہ ڈی پی او اپنی ڈیوٹی درست ادا کر رہا ہےاور نتائج حوالے لیے جائیں گے، میں اپنے تمام حامیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ منتشر ہو جائیں کیونکہ ہماری زندگیوں کو بڑا خطرہ ہے۔‘

  20. شانگلہ: پولیس اور پی ٹی آئی کے حامیوں کے درمیان جھڑپ، فائرنگ سے تین اموات, فرحت جاوید، بی بی سی اردو

    خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں پولیس اور تحریک انصاف کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ریسکیو 1122 کے حکام نے تین اموات اور چھ زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں تین افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    پی ٹی آئی کے کارکنان کا الزام ہے کہ پولیس نے ان پر فائرنگ کی۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ ان کا امیدوار پانچ ہزار کے مارجن سے جیت رہا تھا تاہم اس صبح فارم 47 پر مسلم لیگ ن کے امیدوار کی فتح ہوئی۔

    تاحال پولیس کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔