نگران وزیر داخلہ گوہر
اعجاز نے کہا ہے کہ الیکشن سے ایک روز قبل 28 ہلاکتوں کے بعد پولنگ کے دوران
موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ شہریوں کی جانیں بچائی جاسکیں۔
انھوں نے اسلام آباد میں پریس
کانفرنس کے دوران کہا کہ ’اگر یہ فیصلہ دوبارہ بھی کرنا پڑے تو میں کروں گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس فیصلے پر ہم پر تنقید کی گئی۔ اس فیصلے میں الیکشن حکام کی شراکت نہیں تھی۔ سکیورٹی
ایجنسیوں نے انھیں بتایا کہ یہ ہمارے لیے بہت ضروری ہے، تاکہ لوگوں کی جانوں کی حفاظت
کریں۔‘
گوہر اعجاز نے کہا کہ
’ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اگر ایک گاڑی میں بم پھٹ جاتا تو ہزاروں لوگوں کی
جانیں چلی جاتیں۔۔۔ موبائل سروس اور موبائل انٹرنیٹ بند کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا، اگر یہ
فیصلہ دوبارہ بھی کرنا پڑے، ان 28 شہادتوں کے بعد، اگر 12 یا 16 گھنٹوں کی قربانی دینی
پڑے تو ہر بار یہ فیصلہ کروں گا۔‘
نگران وزیر داخلہ نے کہا کہ
’سکیورٹی ایجنسیوں نے بہترین انداز سے نظام چلایا تاکہ کسی کو کوئی خوف نہ ہو۔ اس
کے باوجود کل 56 واقعات ہوئے ہمارے تین فوجی جوان، دو لیویز، سات پولیس اہلکار
شہید ہوئے۔ دو شہریوں اور دو معصوم بچوں کی ہلاکت ہوئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت
نے وہ فیصلے کرنے ہوتے ہیں جو قوم کے لیے بہتر ہوں۔ سکیورٹی اولین ترجیح ہے۔‘
اس معاملے پر کہ موبائل
سروس فوراً کیوں نہیں کھولی گئی، ان کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس کی رپورٹس موجود
تھیں کہ بیلٹ بوکسز لے جانے والے انتخابی عملے پر آئی ای ڈی ڈیوائسز کے ذریعے حملہ
ہوسکتا ہے۔
’فیصلہ ضروری تھا کہ جب تک
بوکسز اپنی جگہ پر نہیں پہنچ جاتے اور لوگ محفوظ نہیں ہوجاتے، ہمیں کوئی خطرہ مول
نہیں لینا چاہیے۔‘
گوہر اعجاز نے کہا کہ تمام
چیلنجز کے باوجود انٹرنیٹ سروس کو بحال رکھا گیا۔