تقریباً نو گھنٹے کی تاخیر کے بعد عام انتخابات 2024 کے نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں اور اب تک الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے قومی اسمبلی کی 13 نشستوں پر نتائج کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
یاد رہے کہ ذیل میں دیے جانے والے تمام نتائج الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کیے جانے والے غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج ہیں۔
اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے قومی اسمبلی کی پانچ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار چار نشستوں پر کامیاب رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کی چار سیٹیں پاکستان پیپلز پارٹی کے نام رہی ہیں۔
سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف لاہور کی نشست 123-NA سے 63،953 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ اُن کے مخالف پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار افضل عظیم پاہٹ کو 48486 ووٹ ملے۔
پنجاب میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 58 پر مسلم لیگ ن کے امیدوار طاہر اقبال 115974 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ ان کے مخالف امیدوار تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ایاز امیر 102537 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
پنجاب میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 59 پر مسلم لیگ ن کے امیدوار سردار غلام عباس 141680 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار محمد رومان احمد 129716 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
پنجاب میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 55 پر مسلم لیگ ن کے امیدوار ابرار احمد 78542 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ ان کے مخالف تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار محمد بشارت راجہ 67101 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
پنجاب میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 121 پر پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار وسیم قادر 78703 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ ان کے مخالف پاکستان مسلم لیگ ن کے شیخ روحیل اصغر 70597 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
قومی اسمبلی: خیبرپختونخوا
صوبہ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 25 پر عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان کو شکست کا سامنا کر پڑا ہے۔ انھیں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ فضل محمد خان نے 100713 ووٹ لے کر شکست دی۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 3 پر پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار سلیم رحمان 81411 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے واجد علی خان 27861 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 17 پر پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار علی خان جدون 97177 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ کے محبت اعوان 44522 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 30 پر پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار شاندانہ گلزار 78971 ووٹ لے کر کامیاب رہیں جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ناصر خان 20950 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
صوبہ سندھ میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 199 پر پاکستان پیپلز پارٹی کے علی گوہر خان مہر 154832 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ ان کے مخالف امیدوار جمعیت علمائے اسلام (ف) کے عبدالقیوم 40204 ووٹ لے کر رنر اپ رہے۔
صوبہ سندھ میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 216 پر پاکستان پیپلز پارٹی کے مخدوم جمیل الزمان 124536 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے بشیر احمد 80439 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
صوبہ سندھ میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 195 پر پاکستان پیپلز پارٹی کے نظیر احمد بگیو 133830 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ ان کے مخالف امیدوار گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے صفدر علی عباسی 48893 ووٹ لے کر رنر اپ رہے۔
صوبہ سندھ میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 225 پر پاکستان پیپلز پارٹی کے صادق علی میمن 140773 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رسوک بخش جاکھرو 28899 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔