آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

الیکشن 2024: حکومت سازی سے متعلق ن لیگ، پی ٹی آئی اور دیگر سے کوئی باضابطہ گفتگو نہیں ہوئی: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ لاہور میں اُن کی حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن سمیت کسی سیاسی جماعت سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ ادھر پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت قومی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے عددی اکثریت حاصل کر چکی ہے اور اب پی ٹی آئی وفاق، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں حکومتیں بنائے گی۔

لائیو کوریج

  1. صوبائی اسمبلیاں: کون سی پارٹی اب تک کتنی نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے؟

    الیکشن کمیشن کی جانب سے نتائج کی آمد کا سلسلہ فی الحال جاری ہے۔

    پنجاب اسمبلی

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اب تک پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے 297 جنرل نشستوں میں سے 86 نشستوں کے غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ ابھی 210 نشستوں کے نتائج آنا باقی ہیں جبکہ اس نشست پر امیدوار کی موت کے باعث الیکشن منسوخ کر دیا گیا تھا۔

    سامنے آنے والی 86 نشستوں کے نتائج کے مطابق 45 نشستوں پر پاکستان مسلم لیگ نواز کامیاب قرار پائی ہے جبکہ 35 نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار جیتے ہیں۔ پنجاب سے دو نشستیں مسلم لیگ ق جبکہ چار نشستیں دیگر آزاد امیدواروں نے حاصل کی ہیں۔

    سندھ اسمبلی

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اب تک پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے 75 نشستوں کے غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کا اعلان کیا ہے۔

    نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 63 نشستوں پر کامیاب قرار پائی ہے جبکہ ایم کیو ایم چار نشستوں پر جیتی ہے۔ اسی طرح تحریک انصاف کے حمایت یافتہ تین آزاد امیدوار بھی کامیاب رہے ہیں۔ جی ڈی اے 2 جبکہ دیگر جماعتوں کے تین امیدوار بھی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

    خیبرپختونخوا اسمبلی

    خیبرپختونخوا کی 56 صوبائی اسمبلی کی نشستوں کا اعلان ہو چکا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار 49 سیٹوں پر کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کو دو سیٹیں مل سکی ہیں۔ اسی طرح دیگر پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے پانچ امیدوار بھی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

    بلوچستان اسمبلی

    بلوچستان اسمبلی کی 11 نشستوں پر نتائج کا اعلان ہوا ہے۔ جے یو آئی (ف) اور پی پی پی تین، تین نشستوں پر کامیاب رہی ہے جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی ایک سیٹ پر جیتی ہے۔ دیگر جماعتوں کے چار امیدوار بھی اپنی سیٹیں نکالنے میں کامیاب رہے ہیں۔

  2. رات بھر الیکشن کمیشن میں کیا ہوتا رہا اور انتخابی نتائج مرتب کرنے کا نظام کیسے ’ناکام‘ ہوا؟

  3. قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 233 نشستوں کے غیرسرکاری نتائج: کون سی پارٹی کہاں کھڑی ہے؟, سحر بلوچ، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پولنگ ختم ہونے کے 18 گھنٹوں کے بعد اب تک مجموعی طور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 233 حلقوں کے غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کا اعلان کیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ قومی اسمبلی کے 47 حلقوں کے نتائج کے بعد 16 نشستوں پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار،17 پر مسلم لیگ ن، 12 نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ ایک، ایک نشست پر بی این پی اور مسلم لیگ ق کے امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔

    سندھ اسمبلی کے 53 حلقوں کے نتائج کے مطابق 45 حلقوں پر پیپلز پارٹی جبکہ چار حلقوںمیں آزاد امیدوار کامیاب رہے ہیں۔ جی ڈی اے نے دو، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے ایک، ایک نشست حاصل کی ہے۔

    خیبرپختونخوا اسمبلی کے 50 حلقوں کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 45 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

    پنجاب اسمبلی کے 77 حلقوں کے نتائج کے مطابق 39 نشستوں پر ن لیگ، 33 پر آزاد امیدوار جبکہ دو پر مسلم لیگ ق کامیاب رہی ہے۔

    اسی طرح بلوچستان اسمبلی کے 6 حلقوں کے نتائج اب تک موصول ہوئے ہیں جہاں ن لیگ اور بی این پی عوامی ایک، ایک نشست پر کامیاب رہی ہے۔ بلوچستان میں جے یو آئی نے تین جبکہ پیپلزپارٹی نے ایک نشست حاصل کی ہے۔

  4. الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ہیڈکوارٹرز میں کیا چل رہا ہے؟, سحر بلوچ، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ہیڈ کوارٹرز میں انتخابی عملہ الیکشن کے نتائج الیکشن مینیجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) کے بجائے مینوئلی یکجا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    نمائندہ بی بی سی سحر بلوچ اس وقت الیکشن کمیشن کے ہیڈ کوارٹرز میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے افسران کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ الیکشن مینیجمنٹ سسٹم بوجوہ باقاعدہ طور پر فعال نہیں ہو سکا جس کے بعد اب نتائج جمع کرنے کا کام مینوئلی کیا جا رہا ہے۔

    ہیڈکوارٹرز کے الیکشن سیل میں ای سی پی کا عملہ قطار اندر قطار بیٹھا ہوا ہے جبکہ ان کے سامنے مختلف ذرائع ابلاغ کے نمائندے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی ترجمان نگہت صدیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں الیکشن کے نتائج تیزی سے آنا شروع ہو جائیں گے۔ جب اُن سے سوال کیا گیا کہ ایک تاثر ہے کہ آر اوزاور ای سی پی کے درمیان نتائج دینے کے طریقہ کار پر تنازع ہے، تو انھوں نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ بالکل صحیح نتائج کا اعلان کریں۔ اس وقت میری سب کو تلقین ہے کہ مثبت سوچیں۔ تھوڑی ہی دیر میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔‘

  5. این اے 47 اسلام آباد: تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار کی مبینہ دھاندلی کی کوششوں کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شعیب شاہین کی جانب سے الیکشن کمیشن میں این اے 47 میں مبینہ دھاندلی کے خلاف درخواست جمع کروا دی ہے۔

    درخواست میں شعیب شاہین کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ فارم 45 کے مطابق وہ این اے 47 کا الیکشن جیت چکے تھے مگر پھر آر او آفس کے باہر لگائی گئی سکرین کو اچانک بند کر دیا گیا۔

    شعیب شاہین نے اس اندیشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کے نتائج کو مخالف امیدوار کے حق میں بدلا جا رہا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ حلقے کے ریٹرننگ آفیسر کو اس ضمن میں ثبوت بھی فراہم کیے گئے ہیں مگر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

    اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ آر او کو فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کرنے کے احکامات دیے جائیں۔

  6. چیف الیکشن کمشنر کا چیف سیکریٹریز، ریٹرنگ افسران اور صوبائی الیکشن کمشنرز سے رابطہ، نتائج کے فوری اعلان کی ہدایت

    وفاقی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے عوام اور میڈیا کی جانب سے نتائج کی پروسیسنگ میں تاخیر فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائی گئی احتیاطی تدابیر کا نتیجہ تھی۔

    وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ انتخابی عملے اور بیلٹ دونوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے پروٹوکول جامع ہیں جس میں خاصا وقت صرف ہوا۔ وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اب صورتحال تسلی بخش ہے اور توقع ہے کہ نتائج کی آمد کا سلسلہ مسلسل جاری رہے گا۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے چیف سیکرٹریز، ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسران اور صوبائی الیکشن کمشنرز سے ذاتی طور پر فون پر رابطہ کیا اور انھیں سخت ہدایات دیں کہ نتائج کے فوری اعلان کو یقینی بنایا جائے۔

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کا وقت ختم ہونے کے نو گھنٹے بعد پہلا غیرسرکاری و غیرحتمی نتیجہ سامنے آیا تھا۔

  7. بریکنگ, صوبائی اسمبلیوں کے نتائج: خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی برتری، سندھ میں پی پی پی آگے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے نو گھنٹوں کی تاخیر کے بعد عام انتخابات 2024 کے غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے اعلان کا آغاز ہوا اور یہ سلسلہ اب تیزی سے جاری ہے۔

    اب تک الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے صوبائی اسمبلیوں کی 81 نشستوں پر نتائج کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

    اب تک سامنے آنے والے غیرحتمی نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار لیڈ لیے ہوئے ہیں جبکہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی متعدد حلقے جیت چکی ہے۔

    پنجاب میں چند نشستیں پاکستان مسلم لیگ ن جبکہ چند پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب ٹھہرے ہیں۔

    خیبر پختونخوا اسمبلی

    اب تک سامنے آنے والے غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے 36 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز نے دو جبکہ جمیعت علمائے اسلام نے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست حاصل کی ہے۔

    پنجاب اسمبلی

    صوبہ پنجاب کی بات کی جائے تو الیکشن کمیشن کے غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نواز نے سب سے زیادہ آٹھ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار تین نشستوں پر کامیاب رہے ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ (ق) نے دو سیٹیوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

    سندھ اسمبلی

    الیکشن کمیشن کی جانب سے اب تک صوبہ سندھ کی 28 نشستوں کے غیرحتمی نتائج کا اعلان کیا جا چکا ہے اور ان تمام سیٹوں پر پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔

    بلوچستان اسمبلی

    اب تک بلوچستان کی صرف ایک نشست کا نتیجہ آیا ہے جہاں جمیعت علمائے اسلام (ف) نے کامیابی حاصل کی ہے۔

  8. موبائل اور انٹرنیٹ سروسز نہ ہونے کی وجہ سے نتائج کے حصول میں دقت ہوئی مگر اب ن لیگ کی پوزیشن مضبوط ہے: مریم اورنگزیب کا دعویٰ

    اگرچہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے زیادہ تر قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر نتائج کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے مگر پاکستان میں مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے حکومت سازی کرنے اور مخالفین کو شکست دینے جیسے دعوے کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما اور سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی جماعت وفاق اور پنجاب میں حکومت بنائے گی اور عوام کی خدمت کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی۔

    مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ سروسز نہ ہونے کی بنا پر نتائج کے حصول میں دقت پیدا ہوئی مگر اب مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن مضبوط ہے۔

  9. بریکنگ, اب تک سامنے آنے والے قومی اسمبلی کے 13 حلقوں کے نتائج: تحریک انصاف خیبرپختونخوا، مسلم لیگ پنجاب اور پیپلز پارٹی سندھ میں آگے

    تقریباً نو گھنٹے کی تاخیر کے بعد عام انتخابات 2024 کے نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں اور اب تک الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے قومی اسمبلی کی 13 نشستوں پر نتائج کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

    یاد رہے کہ ذیل میں دیے جانے والے تمام نتائج الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کیے جانے والے غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج ہیں۔

    اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے قومی اسمبلی کی پانچ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار چار نشستوں پر کامیاب رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کی چار سیٹیں پاکستان پیپلز پارٹی کے نام رہی ہیں۔

    قومی اسمبلی: پنجاب

    سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف لاہور کی نشست 123-NA سے 63،953 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ اُن کے مخالف پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار افضل عظیم پاہٹ کو 48486 ووٹ ملے۔

    پنجاب میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 58 پر مسلم لیگ ن کے امیدوار طاہر اقبال 115974 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ ان کے مخالف امیدوار تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ایاز امیر 102537 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    پنجاب میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 59 پر مسلم لیگ ن کے امیدوار سردار غلام عباس 141680 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار محمد رومان احمد 129716 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    پنجاب میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 55 پر مسلم لیگ ن کے امیدوار ابرار احمد 78542 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ ان کے مخالف تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار محمد بشارت راجہ 67101 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    پنجاب میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 121 پر پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار وسیم قادر 78703 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ ان کے مخالف پاکستان مسلم لیگ ن کے شیخ روحیل اصغر 70597 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    قومی اسمبلی: خیبرپختونخوا

    صوبہ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 25 پر عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان کو شکست کا سامنا کر پڑا ہے۔ انھیں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ فضل محمد خان نے 100713 ووٹ لے کر شکست دی۔

    صوبہ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 3 پر پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار سلیم رحمان 81411 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے واجد علی خان 27861 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    صوبہ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 17 پر پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار علی خان جدون 97177 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ کے محبت اعوان 44522 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    صوبہ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 30 پر پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار شاندانہ گلزار 78971 ووٹ لے کر کامیاب رہیں جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ناصر خان 20950 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    قومی اسمبلی: سندھ

    صوبہ سندھ میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 199 پر پاکستان پیپلز پارٹی کے علی گوہر خان مہر 154832 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ ان کے مخالف امیدوار جمعیت علمائے اسلام (ف) کے عبدالقیوم 40204 ووٹ لے کر رنر اپ رہے۔

    صوبہ سندھ میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 216 پر پاکستان پیپلز پارٹی کے مخدوم جمیل الزمان 124536 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے بشیر احمد 80439 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    صوبہ سندھ میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 195 پر پاکستان پیپلز پارٹی کے نظیر احمد بگیو 133830 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ ان کے مخالف امیدوار گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے صفدر علی عباسی 48893 ووٹ لے کر رنر اپ رہے۔

    صوبہ سندھ میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 225 پر پاکستان پیپلز پارٹی کے صادق علی میمن 140773 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رسوک بخش جاکھرو 28899 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

  10. پنجاب میں قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں ن لیگ کامیاب

    پاکستان کے صوبے پنجاب میں راولپنڈی میں واقع قومی اسمبلی کے حلقے این اے 55 میں ن لیگ کامیاب ہوئی ہے۔

    اس حلقے میں ن لیگ کے امیدوار ابرار احمد 78 ہزار 542 لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے راجہ بشارت 57 ہزار 101 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    پنجاب کے ضلع چکوال میں بھی قومی اسمبلی کے حلقے این اے 58 میں ن لیگ کے امیدوار طاہر اقبال 1 لاکھ 15 ہزار 974 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

    پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار ایاز امیر این اے 58 میں 1 لاکھ 2 ہزار 537 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

  11. مریم نواز اور شہباز شریف پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے کامیاب

    پنجاب کی صوبائی اسمبلی کا پہلا نتیجہ سامنے آ گیا ہے اور اس میں پاکستان مسلم لیگ ن کی مریم نواز شریف نے پی پی 159 میں 23598 سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کے مقابلے میں تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ مہر شرافت علی نے 21491 ووٹ حاصل کیے۔

    ن لیگ کے صدر شہباز شریف پنجاب کے شہر لاہور میں واقع صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 158 میں 38 ہزار 642 ووٹ کے کر کامیاب ہوگئے ہیں۔

    پنجاب کے صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 21 سے ن لیگ کے تنویر اسلم ملک 83 ہزار 55 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔

    چکوال میں ہی واقع صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 20 میں ن لیگ کے ہی امیدوار سلطان حیدر علی خان 52 ہزار 450 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

  12. خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 26 میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کامیاب

    خیبر پختونخوا میں بونیر میں واقع صوبائی اسمبلی کے حلقے پی کے 26 میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سید فخر جہان 26 ہزار 782 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

    اسی طرح سندھ کے علاقے کشمور میں واقع صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 6 میں پی پی پی کے امیدوار محبوب علی خان بجارانی 86 ہزار 365 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کے مخالف جمعیت علما اسلام پاکستان کے امیدوار عبدالقیوم 9 ہزار 945 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    سندھ کے علاقے گھوٹکی میں واقع صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 21 میں پی پی پی کے امیدوار علی نواز خان مہر 63 ہزار 758 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

  13. بریکنگ, سندھ میں پہلے صوبائی حلقے کے نتیجے کا اعلان، پاکستان پیپلز پارٹی کامیاب

    پاکستان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے مرتب کردہ نتائج کے مطابق سندھ کے ضلع گھوٹکی میں واقع صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 20 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار 87 ہزار 431 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔

    ان کے مخالف جمعیت علما اسلام پاکستان کے امیدوار محمد اسحاق لغاری نے 9 ہزار 401 ووٹ حاصل کیے اور دوسرے نمبر پر رہے۔

    اس حلقے سے تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار سانول خان نے 3 ہزار 959 ووٹ حاصل کیے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

  14. بریکنگ, خیبرپختونخوا کے مزید دو صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں پی ٹی آئی کے حمایتی یافتہ آزاد امیدوار کامیاب

    خیبر پختونخوا کے ایبٹ آباد میں واقع صوبائی اسمبلی کے حلقے پی کے 45 میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار مشتاق غنی 50 ہزار 143 ووٹ لے کر جیت گئے ہیں۔

    دوسری جانب خیبر پختونخوا کے علاقے بٹگرام میں واقع صوبائی اسمبلی کے حلقے پی کے 34 میں بھی پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار زبیر خان 13 ہزار 501 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔

    اب تک خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی سات نشستوں پر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کامیاب ہو چکے ہیں۔

  15. بریکنگ, ایبٹ آباد میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 17 میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب

    ایبٹ آباد میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 17 میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار علی خان جدون 97 ہزار 177 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے ہیں۔

    ان کے مقابلے میں ن لیگ کے امیدوار محبت خان 44 ہزار 422 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

  16. بریکنگ, نو گھنٹے کی تاخیر کے بعد نتائج کے اعلان کا سلسلہ شروع، خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ چار آزاد امیدوار کامیاب

    پاکستان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے پاکستان میں عام انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں کے حتمی اور غیرسرکاری نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے سپیشل سیکریٹری طفر اقبال کے مطابق خیبرپختونخوا میں پشاور میں واقع صوبائی اسمبلی کے حلقے پی کے 76 میں پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سمیع اللہ خان 18 ہزار 888 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔

    خیبرپختونخوا کے سوات میں واقع صوبائی اسمبلی کے حلقے پی کے 6 میں پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار فضل حکیم خان 25 ہزار 330 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔

    خیبرپختونخوا کے ہی سوات میں واقع صوبائی اسمبلی کے حلقے پی کے 4 میں بھی پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

    پی کے 4 سے جیتنے والے امیدوار علی شاہ نے 30 ہزار 22 ووٹ حاصل کیے۔

    اس کے علاوہ پی کے 77 سے تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شیر علی آفریدی 30544 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔

  17. قومی اسمبلی کے پہلے حلقے کے حتمی نتیجے کا اعلان، پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شاندانہ گلزار فاتح

    پاکستان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے پشاور میں واقع حلقے این اے 30 کے حتمی اور غیرسرکاری نتیجے کا اعلان کردیا گیا ہے۔

    پشاور کے حلقے این 30 سے پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار شاندانہ گلزار خان 78 ہزار 971 ووٹ لے کر کامیاب ہوئی ہیں۔

    اس حلقے میں دوسرے نمبر پر جمعیت علما اسلام کے امیدوار ناصر خان دوسرے نمبر پر رہے جنھوں نے 20 ہزار 950 ووٹ حاصل کیے۔

  18. اکثریت اور حکومت سازی کی باتیں انتخابات کے حتمی نتائج کے بعد کریں گے: خواجہ آصف

    پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کی مرکزی قیادت بشمول سابق وزیراعظم نواز شریف انتخابات کے حتمی نتائج کے اعلان کے بعد بات کریں گے۔

    ان کو کہنا تھا کہ 'میرا خیال ہے ہمیں حتمی نتائج کے اعلان کا انتظار کرنا چاہیے۔'

    ان کا کہنا تھا کہ 'اکثریت اور حکومت سازی کی باتیں اس وقت کی جانی چاہییں جب الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی نتائج کا اعلان کردیا جائے۔'

    خواجہ آصف نے اعتراف کیا کہ ان کی مخالف جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے ووٹر بھی دوپہر کے بعد بڑی تعداد میں باہر نکلے ہیں۔

    خواجہ آصف سیالکوٹ کے این اے 71 سے ن لیگ کے امیدوار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس موجود نتائج کے مطابق انھیں اپنے حلقے میں 30 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔

  19. 50 فیصد ووٹوں کی گنتی سے قبل نتائج کو حتمی نہ سمجھیں، ن لیگ کافی تعداد میں نشستیں جیتے گی: احسن اقبال

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ جب تک ووٹوں کی 50 فیصد گنتی مکمل نہیں ہو جاتی انتخابات کے نتائج کو حتمی نہیں مانا جا سکتا۔

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے دعویٰ کیا کہ ن لیگ کافی بڑی تعداد میں سیٹیں جیتے گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہمیں الیکشن کمیشن کی طرف سے سرکاری نتائج کا انتظار کرنا چاہیے۔ جب تک 50 فیصد سے زیادہ نتائج نہیں آتے تب تک آپ کسی نتیجے کو حتمی نہ سمجھیں۔'

  20. تحریک انصاف مرکز اور دو صوبوں میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں، دھاندلی کے سنجیدہ نتائج ہوں گے: رؤف حسن

    پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت مرکز اور دو صوبوں میں حکومتیں بنانے کی پوزیشن میں ہے۔

    رؤف حسن کا کہنا تھا کہ 'جب تک بلاتاخیر نتائج آ رہے تھے تو ہم ہر حلقے میں جیت رہے تھے۔ اس وقت کے اندازے کے مطابق ہم 130 نشستوں پر فیصلہ کُن برتری حاصل کر چکے تھے۔'

    تحریک انصاف کے ترجمان کے مطابق 'خیبر پختونخوا ہم سوئیپ کر چکے تھے اور پنجاب میں زیادہ تر نشستوں پر ہمیں برتری حاصل تھی ہمیں صوبائی اسمبلی میں۔'

    'پھر الیکشن کے نتائج سست ہوئے اور پھر بند ہوگئے۔ ہمیں ڈر ہے کہ الیکشن میں دھاندلی کی جائے گی۔'

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار یہ الیکشن جیت چکے ہیں اور 'ہم دو صوبوں میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔'

    انھوں نے خبردار کیا کہ اگر 'دھاندلی' کے ذریعے الیکشن کے نتائج بدلنے کی کوشش کی گئی تو اسے 'ہم قبول نہیں کریں گے۔'