کور کمانڈر ہاؤس حملہ: پنجاب پولیس کا یاسمین راشد کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر نو مئی کو ہونے والے حملے کے الزام میں پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما یاسمین راشد کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کیا جا رہا ہے کیونکہ ’عدالت نے پولیس کو کیس کی فرانزک شہادتیں پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    مزید خبروں و تجزیوں کے بارے میں جاننے کے لیے نئے لائیو پیج کا رُخ کریں۔۔۔

  2. جو پارٹی الیکشن چاہتی ہے وہ انتشار نہیں چاہتی: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI/Screen grab

    تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انھیں اپنے خلاف بنائے گئے کسی بھی کیس میں سزا نہیں ہو سکتی ، ملٹری کورٹس کھولے ہی اس لیے ہیں کہ انھیں سزا دینی ہے۔

    عمران خان نے سوشل میڈیا پراپنے خطاب کے دوران کہا ’عدالت نے یاسمین راشد کو بے قصور قرار دے دیا ہے وہ سینٹرل پنجاب کی صدر ہیں۔عدالت سے ان کے بری کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ پارٹی پالیسی نہیں تھی کہ کور کمانڈر ہاوس جلایا جائے۔‘

    عمران خان کے مطابق ’وڈیوز کے مطابق یاسمین راشد بار بار لاوڈ سپیکر پر کہہ رہی ہیں کہ اندر نہیں جانا۔ یہ ایک پری پلان منصوبہ تھا کہ کور کمانڈر کے گھر کی آڑ لے کر پوری پارٹی کو بین (پابندی) کیا جائے۔

    عمران خان نے دعویٰ کیا ’میں جب سے جیل سے نکلا ہوں میں نے چیف جسٹس کے سامنے مذمت کی اور تب بھی کہا کہ ہماری یہ پالیسی نہیں رہی۔ جو پارٹی الیکشن چاہتی ہے وہ انتشار نہیں چاہتی اور جو الیکشن سے فرار چاہتے ہیں ان سب کی مل کر یہ سازش تھی۔‘

    عمران خان کے مطابق ’یہ ایک ایسی چیز ہوئی ہے کہ ہمیں غدار اور فوج کا دشمن بنا دیا اب سب کو سوال کرنا چاہیے کہ اس کے پیچھے کون تھا۔‘

    عمران خان نے کہا ’کیا مجھے سزا دینے کے بعد پاکستان اس مشکل حالات سے نکل آئے گا۔ عمران خان کے مطابق ’عدلیہ نے اچھے فیصلے کیے اور لوگوں کا اعتماد عدالتوں پر آنا شروع کیا۔ وہ سارا کچھ آج دوبارہ کیا جا رہا ہے جس سے صورت حال تباہی کے کنارے پر پہنچ گئی ہے۔ آج عدلیہ سہم گئی، ان کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے ان کے خلاف ٹیپیں دکھائی جا رہی ہیں۔‘

    عمران خان کے مطابق ’سپریم کورٹ کو تقسیم کیا جا رہا ہے عدالتوں کو دبایا جا رہا ہے۔ آزادی رائے بھی ختم کر دی گئی ہے۔ ججز مشکل حالات میں بھی قانون کے ساتھ چلنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان پر وہ پریشر ڈالا جا رہا ہے۔`

    عمران خان نے کہا کہ ’جس طرح میڈیا کا منہ بند کیا گیا اور ان کو دھمکیاں دی گئی ہیں تو آج وہ سب کہاں ہیں جو میڈیا کی آذادی کی بات کرتے تھے۔ایسا تو مارشل لاز میں بھی ایسا نہیں تھا۔ مشرف کے مارشل لا میں اپوزیشن کو بولنے کا پورا موقع ملتا تھا آج پی ٹی آئی کا کوئی نمائندہ بھی کسی پروگرام میں نہیں جا سکتا۔‘

    عمران خان کے مطابق ’جب حکومت چیف جسٹس کو دھمکیاں دیتی ہے تو کون ملک کے انصاف کے نظام پراعتماد کرے گا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    عمران خان نے کہا’ آئین پر امن احتجاج کا حق دیتا ہے۔ ہمارے خلاف تین لانگ مارچ ہوئے، بتایا جائے کہ کتنوں کے خلاف ہم نے ایف آئی آر کٹوائیں، کس احتجاج پر آنسو گیس کا استعمال کیا۔‘

    عمران خان نے دعویٰ کیا ’یہ سب کچھ تحریک انصاف کو ختم کرنے کے لیے ہو رہا ہے تو آگے کا پلان تو بتائیں کہ آگے کیا کرنا ہے۔ نہ حکومت نہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس کوئی روڈ میپ ہے، یہ ہمیں اندھیرے میں لے کر جا ر ہے ہیں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہمیں جنگل کے قانون کی طرف جانا ہے یا ساری قوم کو آزادی اور حقیقی جمہوریت اور خوشحالی کی طرف جدوجہد کرنا ہے۔ آ

    عمران خان نے کہا کہ ان حالات میں آج ہم اسی ڈارک ایج کی طرف جا رہے ہیں۔ ’اس وقت ایک ہی فارمولہ ہے کہ پاکستان پر قانون کی حکمرانی قائم کریں ۔ جب تک اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان کے جسٹس سسٹم پر اعتماد نہیں ہو گا جب تک یہاں سرمایہ کاری نہیں آئے گی۔‘

  3. اگر وفاقی حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ نہیں تو بلوچستان این ای سی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا: وزیر اعلی بلوچستان, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے وفاقی حکومت کے رویے پربرہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد میں وفاقی حکومت کی سرد مہری باعث تشویش ہے۔

    اپنے ایک پالیسی بیان میں وزیراعلیِ نے کہا کہ ’اس طرح سے کسی وفاقی اکائی کو مسلسل نظرانداز کرنا اور دیوار سے لگانا انتہائی غیر مناسب فعل ہے۔ وفاق کا یہ رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’اگر وفاقی حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ نہیں تو بلوچستان این ای سی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ وفاق کا رویہ ثابت کرتا ہے کہ ماضی کی طرح یہ اجلاس بھی ہمارے لیے بے فائدہ ثابت ہو گا۔ ایسے اجلاس میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں جس میں فیصلہ سازی اور عملدرآمد کا فقدان ہو۔ گزشتہ سال بھی بلوچستان حکومت کی تجویز کردہ اسکیموں کو وفاقی پی ایس ڈی پی کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کی باتیں کی جاتی ہیں لیکن سی پیک میں شامل مںصوبوں کے ٹینڈر ہونے کے باوجود بھی انکے لیے فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب زندگان کی بحالی کے لیے وزیراعظم کے اعلان کردہ 10 ارب روپے سے ایک سال گزرنے کے باوجود بھی ایک روپیہ تک نہیں دیا گیا جس کے باعث سیلاب متاثرین بے سرو سامانی کی حالت میں پڑے ہیں اور ہم انکے لیے کچھ نہیں کر پا رہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے با رہا وفاقی حکومت تک اپنا موقف پہنچایا لیکن تاحال پزیرائی نہیں ملی۔ وزیراعظم ہماری متعدد درخواستو ں کے باوجود ملاقات کا وقت نہیں دے رہے ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئین کے مطابق نئے این ایف سی کا اجراء بھی عرصہ سے تعطل کا شکار ہے۔ بلوچستان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے ایک متوازن بجٹ بنانے کے قابل بھی نہیں۔

  4. بریکنگ, ’شرپسندوں کے درمیان ہونے والی ایک ایک کال کا ریکارڈ موجود ہے،ثبوت عدالت میں پیش کرنے جا رہے ہیں‘

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ’نو مئی کے تمام واقعات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے اور تمام واقعات اچانک نہیں ہوئے۔ نو مئی کے واقعات کی تفصیلات عدالت میں پیش کرنے جا رہے ہیں۔‘

    آئی جی پنجاب کے مطابق ’جناح ہاوس ، جی ایچ کیو، ریڈیو پاکستان اور دیگر مقامات پر حملہ ایک وقت میں ہوا۔ شر پسندوں کے درمیان ہونے والی ایک ایک کال کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے۔ واٹس ایپ گروپ کے 170 لوگوں کو شناخت کر چکے ہیں۔‘

    آئی جی پنجاب کے مطابق سوشل میڈیا پر اداروں کے حلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔ حماد اظہر، یاسمین راشد مراد راس اور دیگر رہنماوں کی کالز کا ریکارڈ موجود ہے۔ پی ٹی آئی رہنما یاسمین راشد نے 41 کالز کی ہیں۔ یاسمین راشد کی بریت کے خلاف اپیل کرنے جا رہے ہیں۔‘

    آئی جی پنجاب کے مطابق ’پرانی وڈیو سوشل میڈیا پر ڈالی گئیں ۔ سوشل میڈیا پر 2009 کے افسر کی وڈیوز تک ڈالی گئیں جو اب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔ پرانی وڈیوز اور تصاویر کے ذریعے پروپیگنڈا کیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی وکٹم کارڈ کھیل رہی ہے۔ پہلے کہا کہ 40 بندے مار دیے پھر کہا کہ 25 لوگ مارے ہیں جس پر ہم نے کہا کہ لاشیں دکھائیں۔‘

    آئی جی پنجاب نے دعویٰ کیا کہ 4 افراد ان کی اپنی گولیوں سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    آئی جی پنجاب نے نیوز کانفرنس میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ جن خواتین کا ریمانڈ آیا ہے ان کو ہم بہت عزت سے لے کر آئے ہیں۔

  5. ’دس نہیں 100 پرچے بھی یہ درج کروا لیں کوئی فرق نہیں پڑے گا: پرویز الہٰی

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالہٰی نے اپنے خلاف ناجائز بھرتیوں کے کیس میں لاہور کی اینٹی کرپشن عدالت میں پیشی کے وقت میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں کہتا ہوں کہ میرے خلاف 10 نہیں 100 پرچے بھی یہ درج کروا لیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جتنے پرچے بنانے ہیں اپنے آپ کو خوش کر لیں کیونکہ جھوٹ میں برکت نہیں ہوتی۔

    پرویز الہی نے کہا کہ ’میرا پیغام ہے پی ٹی آئی والوں کو کہ آپ ان کے ہتھکنڈوں کا دلیری کے ساتھ مقابلہ کریں کوئی فکر آپ کو کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ حق و سچ کی لڑائی کے لیے کھڑے ہیں ، مضبوطی سے کھڑے رہیں اور ان کا مقابلہ کرتے رہیں۔

    دوسری جانب ترجمان اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سپیشل مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ ورک پر جانبداری کے واضح شواہد ہیں۔

    ترجمان اینٹی کرپشن نے بیان میں دعویٰ کیا کہ ’میرٹ کے باوجود فیل شدہ اُمیدواروں کے وکلاء کا بھی نجی حیثیت میں جج غلام مرتضی پر عدم اعتماد کیا گیا ہے۔ جج غلام مرتضیٰ ورک نے دو جون کو پرویز الہی کو بری کر کے جانبداری کا مظاہرہ کیا تھا۔

    بیان کے مطابق ’سابق وزیر اعلی نے میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ذاتی ملازمین پنجاب اسمبلی میں بھرتی کئے۔ پرویز الہٰی کو تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے اور چوہدری پرویز الٰہی کے کرپشن میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ قانون کے مطابق تفتیش کے لئے ملزم کا جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔‘

  6. حضور بیٹھیں گے کہ لیٹیں گے؟ وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات

  7. کور کمانڈر ہاؤس حملہ: پنجاب پولیس کا یاسمین راشد کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر نو مئی کو ہونے والے حملے کی سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یاسمین راشد سمیت تمام حملہ آوروں اورمنصوبہ سازوں کو انصاف کہ کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    پولیس کا سماجی رابطے کی سائٹ پر کہنا تھا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما یاسمین راشد کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کیا جا رہا ہے کیونکہ ’عدالت نے پولیس کو کیس کی فرانزک شہادتیں پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔

    پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد ہی عدالتی فیصلہ حتمی قرار پائے گا۔ اور پولیس اس کیس کی تحقیقات کرنے اور عوام تک سچ لانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔‘

  8. تحریک انصاف کے خلاف جس بیانیے پر کریک ڈاؤن کیا گیا اس کی دھجیاں اُڑ چکی ہیں: عمران خان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نو مئی کے واقعات میں تحریک انصاف یا مرکزی پنجاب کی صدر یاسمین راشد کا قطعاً کوئی کردار نہیں تھا۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’ڈاکٹر یاسمین راشد کو کور کمانڈر لاہور کی رہائشگاہ میں جلاؤ گھیراؤ کے معاملے میں بالکل معصوم (بےگناہ) قرار دے دیا گیا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مرکزی پنجاب کی صدر کے طور پر (ڈاکٹر یاسمین راشد) اور پاکستان تحریک انصاف کا بطور جماعت اس جلاؤ گھیراؤ میں قطعاً کوئی کردار نہیں۔

    ’تحریک انصاف کے خلاف سارا کریک ڈاؤن اسی جواز کی آڑ میں کیا گیا کہ تحریک نے پرتشدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی۔ اس بیانیے کی تو اب واقعتاً دھجیاں اُڑ چکی ہیں۔‘

  9. پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی میں جعلی بھرتیوں کے کیس میں گرفتار: اینٹی کرپشن پنجاب

    pervaiz ellahi

    ،تصویر کا ذریعہpti

    پاکستان تحریکِ انصاف کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کو عدالت سے ایک کرپشن کے مقدمے میں رہائی ملنے کے بعد دوسرے میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ترجمان اینٹی کرپشن کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے چوہدری پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔

    اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ترجمان نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں گریڈ 17کی 12 بھرتیوں کے کیس میں پرویز الہٰی کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق ’پنجاب اسمبلی میں فیل شدہ اُمیدواروں کو ریکارڈ میں ردوبدل کر کے بھرتی کیا گیا۔ بھرتی کے عمل میں گھپلوں کے لیے جعلی ٹیسٹنگ سروسز کی خدمات لی گئیں۔

    ’انکوائری میں پنجاب اسمبلی میں جعلی بھرتیاں ثابت ہوئیں۔‘

    پرویز الہی کے بیٹے مونس الہی نے ردعمل دیا ہے کہ ’پرویز الٰہی عدلیہ سے سرخرو ہو رہے ہیں۔ صرف انتقامی ایجنڈے کے تحت مقدمات درج ہو رہے ہیں۔‘

    ’پہلے کرپشن کرپشن کی رٹ لگائی ہوئی تھی۔ لاہور کے ایک کیس اور گوجرانوالہ کے دونوں کیسوں میں چوہدری پرویز الٰہی بری ہوگئے تو اب پنجاب اسمبلی کی بھرتیوں کے بھونڈے کیس میں گرفتار کر لیا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. پنجاب انتخابات کیس: 29 مئی کی سماعت کا تحریری فیصلہ, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے پنجاب انتخابات فیصلے کے خلاف نظرثانی کیس میں 29 مئی کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔

    حکم نامے کے مطابق ’اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا صدر نے آرٹیکل 184 تھری سے متعلق قانون پر دستخط کر دیے ہیں۔‘

    تحریری حکمنامے کے مطابق ’اٹارنی جنرل نے بتایا کہ موجودہ کیس بھی آرٹیکل 184 تھری کے تحت ہی دائر ہوا تھا، اٹارنی جنرل کے مطابق نئے قانون کا اطلاق موجودہ کیس پر بھی ہوتا ہے۔‘

    عدالت کے حکمنامے کے مطابق اٹارنی جنرل کو نئے قانون کی کاپیاں تمام فریقین کو فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کیس کی مزید سماعت سات جون کو ہوگی۔

  11. بریکنگ, پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد جناح ہاؤس حملہ کیس سے بری, عمر دراز، بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور

    یاسمین راشد

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کو جناح ہاوس حملہ کیس سے بری کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف ریکارڈ پر کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں، اگر یاسمین راشد کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو انھیں رہا کر دیا جائے۔

    یاسمین راشد

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    دوسری جانب ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل نے کہا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو ملزمان کے بیانات کی روشنی میں مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔

  12. مجھے تھانے میں رکھا گیا جہاں باتھ روم تک جانے نہیں دیا گیا: چوہدری پرویز الہی

    پرویز الہی

    ،تصویر کا ذریعہPMLQ

    سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے کہا ہے کہ ہم چٹان کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں۔ کوئی فرق نہیں پڑتا جتنا مرضی یہ ظلم کر لیں۔

    گوجرانوالہ میں عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں پرویز الہی نے کہا کہ ’مجھے تھانے میں رکھا گیا جہاں مجھے باتھ روم تک جانے نہیں دیا گیا۔ اپنی دوائیاں بھی بڑی مشکل سے لی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آج عدالت میں اپنی تمام میڈیکل رپورٹس لے کر آیا ہوں یہ سارا کچھ سوچی سمجھی سکیم کے تحت ہو رہا ہے۔‘

  13. انتخابات سے پہلے نواز شریف پاکستان واپس آ جائیں گے: وفاقی وزیر جاوید لطیف

    وفاقی وزیر جاوید لطیف نے کہا ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں گے اور انتخابات سے پہلے نواز شریف پاکستان واپس آ جائیں گے۔

    راولا کوٹ میں میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر جاوید لطیف نے کہا کہ ’سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلی کو اربوں روپے کے کرپشن پر گرفتار کیا گیا، عدالت سے ریمانڈ کی استدعا کی گئی لیکن عدالت نے بری کر دیا۔‘

    جاوید لطیف نے کہا کہ ادارے آئین و قانون کے مطابق چلیں تو کسی سے کوئی لڑائی نہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایک شخص کو ملک پر مسلط نہ کیا جاتا تو آج ملک کی حالت کہیں بہتر ہوتی۔

  14. ہم اور جہانگیر ترین مل کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں، سردار تنویر الیاس

    social media

    ،تصویر کا ذریعہsocial media

    سردار تنویر الیاس کا کہنا ہے کہ ہم اور جہانگیر خان ترین مل کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار تنویرالیاس نے لاہور میں جہانگیر ترین سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم اور جہانگیر خان ترین مل کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ پارٹی پر کام جاری ہے۔ کوئی علیحدہ گروپ نہیں ہو گا سب اکھٹے ساتھ چلیں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ میں صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا نہیں بلکہ پاکستان کا سٹیک ہولڈر ہوں اور قومی سطح پر کردار ادا کرا رہوں گا۔

  15. پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات مئی کے مہینے میں 20 فیصد گر گئیں, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں مئی کے مہینے میں 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ موجودہ مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں 15 فیصد کی کمی ہوئی۔

    موجودہ مالی سال میں مئی کے مہینے میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 2.09 ارب ڈالر رہا جو اپریل 2023 کے مقابلے میں 143 فیصد زیادہ ہے۔

    تجارتی خسارے میں بے پناہ اضافہ کی وجہ مئی میں اپریل کے مقابلے میں درآمدات میں 43 فیصد کا اضافہ ہے جبکہ برآمدات میں اس مہینے میں صرف دو فیصد کا اضافہ ہوا۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق موجودہ مالی سال میں مئی کے مہینے میں گزشتہ سال مئی کے مہینے میں تجارتی خسارے میں 50 فیصد کی کمی ہوئی۔

    موجودہ مالی سال کے پہلے 11 مہینوں میں ملک کا تجارتی خسارہ 25.7 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ مالی سال کے ان مہینوں کے مقابلے میں 41 فیصد کم ہے۔

  16. ’ایک بڑا گروپ ساتھ چلنے کا اعلان کرے گا‘

    تحریک انصاف کے سابق رہنما جہانگیر ترین اور سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے درمیان ہفتے کے دن ملاقات سے قبل سابق صوبائی وزیر داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر نے کہا ہے کہ ایک بڑا گروہ ساتھ چلنے کا اعلان کرے گا۔

    واضح رہے کہ جہانگیر ترین اور پی ٹی آئی چھوڑنے والے سابق اراکین اسمبلی کے درمیان رابطے جاری ہیں اور ہفتے کے دن جہانگیر ترین لاہور میں سیاسی رہنماوں اور گروپ کے ممبران سے ملاقاتیں کریں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس سے ملاقات میں ان کو بھی اپنے گروپ میں شمولیت کی دعوت دیں گے۔

    اس سے قبل ہاشم ڈوگر نے ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ ’ہم لوگ کبھی بھی ن لیگ اور پی ڈی ایم کے بیانیے کا ساتھ نہیں دے سکتے، ایک بڑا گروپ کل اکٹھے چلنے کا اعلان کرے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم دیکھیں گے کہ سیاست کس کروٹ بیٹھے گی مگر پی ٹی آئی اور اس کے ورکر بے یار و مددگار نہیں ہو سکتے۔ ہم فوج کے خلاف بیانیے کے خلاف ہیں مگر پی ڈی ایم کے ساتھ نہیں۔‘

  17. پرویز الہی کے ترجمان گجرانوالہ سیشن کورٹ کے احاطے سے گرفتار, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

    پنجاب پولیس نے گجرانوالہ سیشن کورٹ کے احاطے سے سابق وزیر اعلی پنجاب اور تحریک انصاف رہنما چوہدری پرویز الٰہی کے ترجمان اقبال چوہدری کو گرفتار کر لیا ہے۔

    تاہم اقبال چوہدری کے بیٹے کا کہنا تھا کہ ان کے والد کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہے۔

    علی اقبال چوہدری نے بتایا کہ پولیس کی وردی میں چند افراد ان کے والد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔

  18. شہزاد اکبر کے بھائی کی بازیابی کی درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کا سیکرٹری داخلہ، ڈی جی رینجرز اور آئی جی اسلام آباد کو پیش ہونے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر کے بھائی کی بازیابی کی درخواست پر حکم جاری کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ، ڈی جی رینجرز اور آئی جی اسلام آباد کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے دو صفحات کا حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت کو بتایا گیا کہ مراد اکبر کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔

    عدالت کے مطابق وزارت دفاع، وزارات داخلہ اور ڈی آئی جی آپریشن نے بتایا کہ رینجرز، سی ٹی ڈی یا پولیس نے مراد اکبر کو نہیں اٹھایا۔

    حکنامے میں لکھا گیا ہے کہ بادی النظر میں یہ سامنے آیا ہے کہ اسلام آباد میں ایک منظم گینگ متحرک ہے جو سیکورٹی اداروں کی وردیاں پہن کر کرمنل کارروائیوں میں ملوث ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ایسی کاروائیوں سے نمٹیں۔

    عدالت نے سیکرٹری داخلہ، ڈی جی رینجرز اور آئی جی اسلام آباد کو حکم دیا کہ سوموار کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوں جبکہ عدالت نے جعل سازوں کے خلاف الگ سے مقدمہ درج کرکے کاپی عدالت جمع کروانے کا حکم بھی دیا ہے۔

  19. محمد حنیف کا کالم: ’کیا وہ عمران خان کو مار دیں گے؟‘

  20. عثمان بزدار کی کوئٹہ میں سرپرائز انٹری: ’پریس کلب کے اندر ہوتے ہوئے ان کی آمد کا پتہ نہیں چلا‘