کور کمانڈر ہاؤس حملہ: پنجاب پولیس کا یاسمین راشد کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر نو مئی کو ہونے والے حملے کے الزام میں پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما یاسمین راشد کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کیا جا رہا ہے کیونکہ ’عدالت نے پولیس کو کیس کی فرانزک شہادتیں پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان اور پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟

  2. پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن: عمران خان اور پی ٹی آئی کا مستقبل کیا ہو گا؟

  3. جبران ناصر کی بازیابی کے لیے کراچی میں مظاہرہ

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر کی اہلیہ اداکارہ منشا پاشا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے شوہر کو ان کی آنکھوں کے سامنے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا ہے۔ آج کراچی میں ان کی بازیابی کے لیے مظاہرہ کیا گیا۔

    دیکھیے ریاض سہیل اور محمد نبیل کی یہ رپورٹ۔

  4. اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ میں نے سپریم کورٹ میں الگ گروپ بنا رکھا ہے: جسٹس فائز عیسیٰ کی وضاحت

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے چیف جسٹس وفاقی شرعی کورٹ کی حلف برداری کی تقریب کے موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان کو نظر انداز کرنے سے متعلق میڈیا میں چلنے والوں خبروں کی تردید کی ہے۔

    سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ حلف برداری کے موقع پر چیف جسٹس وفاقی شرعی کورٹ جسٹس اقبال حمید الرحمان اور ان کی اہلیہ کو مبارکباد دینے ان کے پاس گیا جہاں میری سب سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال سے ملاقات ہوئی۔

    وضاحت میں کہا گیا ہے کہ اس کے بعد جب میں سابق چیف جسٹس وفاقی شرعی کورٹ جسٹس سید محمد انوار کے پاس کھڑا تھا کہ چیف جسٹس آ پاکستان بھی وہاں ان سے ملنے کے لیے پہنچے، عین اسی لمحے جسٹس اقبال حمید الرحمان کی اہلیہ نے میرا اپنے بعض رشتہ داروں سے تعارف کروانا چاہا جس کے سبب میں ان کی طرف متوجہ ہو گیا۔

    ’یہ لمحہ کسی نے ریکارڈ کر لیا۔ جس سے یہ تاثر گیا کہ میں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مصافحہ نہیں کیا، حالانکہ قبل ازیں میں ان سے مل چکا تھا۔‘

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنی جاری وضاحت میں کہا ہے کہ ’اس بات میں بھی کوئی حقیقت نہیں کہ میں نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں قصداً ایک الگ گروپ بنا رکھا ہے۔ میں بطور جج آئین کے تحفظ اور دفاع کے لیے اپنے منصب کے حلف کا پابند ہوں۔

    ’اس کے خلاف کسی چیف کی تائید نہیں کر سکتا۔ خلاف حقائق ایک متنازعہ بیانیہ گھڑنا ادارے کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔‘

  5. چوہدری پرویز الٰہی عدالت سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    پاکستان تحریکِ انصاف کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کو عدالت سے ایک کرپشن کے مقدمے میں رہائی ملنے کے بعد دوسرے میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ترجمان اینٹی کرپشن کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے چوہدری پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔

    ان کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف کرپشن کے الزامات پر اینٹی کرپشن گوجرانولہ میں مقدمہ درج ہے۔

    ترجمان کے مطابق ’اینٹی کرپشن آج کے فیصلے کے خلاف اپیل میں جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ٹھوس شواہد کی بنیاد پر چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پرویز الٰہی کے مقدمے میں بہت سے اہم نکات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

    ’صدر تحریک انصاف پرویز الہٰی کے خلاف کرپشن کے مختلف الزامات میں انکوائریاں جاری ہے۔‘

  6. بریکنگ, عثمان بزدار کا سیاست سے دستبرداری کا فیصلہ

    عثمان بزدار

    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ’موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر‘سیاست سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔

    ایک پریس کانفرنس میں تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ہمیشہ شرافت کی سیاست کی ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’میں تمام سٹیک ہولڈرز سے گزارش کروں گا کہ اپنی ذات اور پارٹیوں سے نکل کر پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے سوچیں۔ تمام لوگوں سے یہی گزارش ہے۔ تمام لوگوں کے ساتھ نیک تمنائیں ہیں۔‘

    نو مئی کے واقعات پر گرفتاریوں سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپیل کرتا ہوں کہ تمام بے گناہ لوگوں کو رہا کیا جائے۔‘

    ’میں نے نیک نیتی کے ساتھ صوبے کے عوام کی خدمت کی ہے۔۔۔ 14 ماہ سے مختلف عدالتوں میں کیسز بھگت رہا ہوں۔‘

  7. ریڈ لائن خاکی کیسے ہو گئی؟

  8. سنجیدہ مذاکرات صرف وزیر اعظم شہباز شریف سے ہوسکتے ہیں: رانا ثنا اللہ

    رانا ثنا اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ تحریک اور حکومت کے درمیان مذاکرات صرف وزیر اعظم شہباز شریف کے ذریعے ہوسکتے ہیں۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’اگر سنجیدہ مذاکرات چاہتے ہیں تو وہ صرف وزیراعظم جناب شہبازشریف سے ہی ہو سکتے ہیں۔‘

    دریں اثنا انھوں نے وضاحت کی ہے کہ پرویز الہی کے خلاف کیس نو مئی کے واقعات پر مبنی نہیں بلکہ ان کی بطور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب مبینہ بدعنوانی سے متعلق ہے۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’کیس تحریک انصاف سے علیحدگی والا نہیں ہے۔ پرویز الٰہی نے بطور وزیر اعلیٰ اپنے حالیہ دور میں بہت کرپشن کی اور فرح گوگی والا کام بڑے دھڑلے سے کیا گیا۔

    ’ٹھیکوں میں 10 فیصد کمیشن اور گرین لینڈ کو براؤن لینڈ کروا کر اربوں روپے کمائے، جہاز کے ذریعے (ان کے بیٹے) مونس الٰہی نے ڈالرز بیرون ملک منتقل کیے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. القادر ٹرٹس کیس: نیب نے عمران خان اور بشری بی بی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

    عمران خان اور بشری بی بی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    احتساب کے وفاقی ادارے نیب نے القادر ٹرسٹ کیس کی تحقیقات کے لیے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 جون کو طلب کرلیا ہے۔

    نیب کے نوٹسز میں درج ہے کہ دونوں ملزمان ذاتی حیثیت میں اسلام آباد کے دفتر میں تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوں اور اپنے بیان درج کروائیں۔

    نیب نے عمران خان سے دیگر دستاویزات کے علاوہ زمان پارک میں ان کی رہائش گاہ کی تزئین و آرائش کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

    اس سے پہلے ایک مرتبہ عمران خان نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔

    القادر ٹرسٹ کیس میں نیب کی جانب سے تحقیقات کی جا رہی ہے کہ آیا برطانیہ سے پاکستان 190 ملین پاؤنڈز کی منتقلی میں عمران خان اور دیگر نے اپنی طاقت سے تجاوز کیا اور ذاتی فائدے حاصل کیے۔

    31 مئی کو کیس کی سماعت کے دوران نیب نے احتساب عدالت کو بتایا تھا کہ انھیں بشری بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں۔ احتساب عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری نہ ہونے کی وجہ سے بشری بی بی کی درخواست ضمانت غیر مؤثر قرار دی تھی۔

    وکیل خواجہ حارث نے جواباً کہا تھا کہ ’ہمیں ایک نوٹس موصول نہیں ہوا اور انویسٹی گیشن شروع کر دی گئی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے ساتھ بشری بی بی گئیں تو نیب نے کہا ہم نے آپ کو بلایا ہی نہیں۔‘

  10. افواجِ پاکستان کا حامی رہا ہوں مگر وہ دیکھیں کہ ان کے اردگرد بیٹھے لوگ ملک اور قوم کو کدھر لے کر جا رہے ہیں، پرویز الہی

    ببث

    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور پی ٹی آئی کے صدر پرویز الہی کا کہنا ہے کہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہہ رہا ہوں کہ میں بالکل بے گناہ ہوں۔

    عدالت میں پیشی کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ مجھے اپنی عدلیہ پر بھروسہ ہے اور افواجِ پاکستان کا حامی رہا ہوں لیکن یہ ان کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ اپنے اردگرد کو بیٹھے ہوئے لوگوں کو دیکھیں کہ ملک اور قوم کو کدھر لے کر جا رہے ہیں۔

    پرویز الہی کا کہنا ہے کہ میرا تمام پی ٹی آئی کے لوگوں کو پیغام ہے کہ آپ حق سچ پر ہیں، پاکستان کے لیے کھڑِے ہیں تو آپ ثابت قدم رہیں، آپ نے بالکل پیچھے نہیں ہٹنا، تگڑے ہو جائیں باقی نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

    یاد رہے گذشتہ روز پاکستان تحریکِ انصاف کے صدر چوہدری پرویز الہٰی کو ان کی رہائش گاہ کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

    گذشتہ روز ترجمان اینٹی کرپشن اسٹیبلمشنٹ نے چوہدری پرویز الہٰی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پرویز الٰہی کرپشن کے مختلف کیسز میں اینٹی کرپشن کو مطلوب تھے۔

    ان کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ چوہدری پرویز الٰہی کی ضمانت چند دن قبل اینٹی کرپشن عدالت نے منسوخ کر دی تھی۔

    ترجمان اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے دعویٰ کیا کہ ’چوہدری پرویز الٰہی نے ضمانت کے لیے جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیا تھا۔‘

    خیال رہے کہ اس سے قبل پنجاب پولیس کی جانب سے پرویز الٰہی کی گرفتاری کے لیے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا تھا تاہم گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی تھی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اس وقت مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پرویز الٰہی کو انسداد کرپشن کے مقدمے میں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

  11. بریکنگ, اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں چار روپے اضافہ، 300 روپے کی حد پھر عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    گذشتہ روز ڈالر کی قیمت میں ہونے والی 13 روپے کی کمی کے بعد اوپن مارکیٹ میں جمعے کے روز ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا اور ایک ڈالر کی قیمت میں چار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    اوپن مارکیٹ کرنسی ڈیلرز کے مطابق اس وقت ڈالر کی قیمت 302 روپے پر ٹریڈ ہو رہی ہے۔

    ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ک سیکرٹری جنرل ظفر پراچہ کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ اس میں آنے والی مارکیٹ کریکشن ہے یعنی گزشتہ روز ڈالر کی قیمت بہت زیادہ گری تھی اس کے بعد اس میں تھوڑا بہت اضافہ ہونا تھا۔

    دوسری جانب انٹر بینک میں بھی ڈالر کی قیمت میں اب تک بارہ پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

  12. الطاف حسین اور ایم کیو ایم: ’فوج مجھے واپسی کی دعوت دے‘

  13. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ: شہریار آفریدی کو جیل میں اے کلاس اور طبی سہولیات مہیا کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی کو جیل میں اے کلاس کی فراہمی اور طبی سہولیات مہیا کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    اسلا آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی۔

    جیل حکام نے شہریار آفریدی کو الگ سیل میں رکھے جانے کی تصدیق کی ہے۔ اڈیالہ جیل حکام نے عدالت کو بتایا کہ وہ سیل میں ہیں لیکن ڈیتھ سیل میں نہیں ہیں۔

    جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ آپ اعتراف کر رہے ہیں کہ ان کو سیل میں رکھا گیا ہے۔ اس پر سٹیٹ کونسل نے عدالت کو بتایا کہ یہ ہائی پروفائل شخصیت ہے، بیرک میں نہیں رکھا جا سکتا۔

    اڈیالہ جیل حکام نے عدالت کو بتایا کہ جیل میں کلاس کی تبدیلی سے متعلق ڈی سی کو لکھا ہے۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ جیل حکام نے فواد چودھری کی شہریار آفریدی سے بغیر آرڈر کے ملاقات کرا دی لیکن عدالتی حکم کے باوجود مجھے شہریار آفریدی سے ملنے نہیں دیا گیا۔

    وکیل شیر افضل کا کہنا ہے کہ جتنے افراد نے پریس کانفرنسز کیں ان کے پیچھے ڈیتھ سیل ہے۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  14. شاہ محمود قریشی سے وکیل کو ملاقات کی اجازت، جسٹس عبدالعزیز کا جیل سپرینڈنٹ کو حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں پی ٹی آئی کے وائس چئیرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

    کیس کی سماعت لاہور ہائی کورٹ پنڈی بنچ کے جسٹس چودھری عبدالعزیز نے کی۔

    شاہ محمود قریشی کی جانب سے ان کے وکیل بیرسٹر تیمور ملک عدالت میں پیش ہوئے۔

    عدالت نے آئی جی پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، سی پی او راولپنڈی، آر پی او اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت منگل 6 جون تک سماعت ملتوی کر دی ہے۔

    دورانِ سماعت شاہ محمود قریشی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت دے دی جائے۔

    جس پر عدالت نے سپرینڈنٹ اڈیالہ جیل کو حکم دیا کہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اجازت دیں۔

  15. بریکنگ, شہزاد اکبر کے بھائی کی بازیابی کا معاملہ: اگر بندہ بازیاب نہ ہوا تو وزیر اعظم کو بلاؤں گا، جسٹس محسن اختر کیانی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے مشیر داخلہ شہزاد اکبر کے بھائی کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت پر ڈی جی رینجرز اور سیکرٹری داخلہ اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے

    جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے بینچ نے کہا ہے کہ ڈی جی رینجر اور آئی جی اسلام آباد آئندہ سماعت پر خود آئیں۔ انھوں نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اپنی اپنی ایف آئی آر لے کر آئیے گا، اپنے اپنے ادارے کی وردی آپ نے بچانی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ڈی جی رینجرز، آئی جی اس معاملےکو دیکھیں اور مقدمہ درج کرائیں۔

    سماعت کے دوراں وزارت دفاع کے نمائندہ بھی موجود تھے اور جسٹس محسن اختر کیانی نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں پھر ان سے پوچھوں گا کہ اسلام آباد میں آپ اپنی وردی کیوں نہیں سنبھال سکتے۔

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ آرڈر کا مقصد اصلی وردی والوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ اگر آپ اس طرح کام نہیں کرسکتے تو آپ لوگ گھر چلے جائیں۔

    انھوں نے کہا کہ اگر عدالتی حکم پر درآمد نہ ہوا تو وزیر اعظم کو بلاؤں گا۔

    جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ سماعت پر بندہ بازیاب نہ ہوا تو اگلی تاریخ پر وزیر داخلہ کو طلب کریں گے، انھوں نے کہا کہ اگر پھر بھی بندہ بازیاب نہ ہوا تو وزیر اعظم کو بلاؤں گا۔

    جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ 36 کلومیٹر کے ایریا میں اگر امن وامان کا یہ عالم ہے تو آپ لوگ پھر اپنے گھر چلے جائیں۔

    اس درخواست کی سماعت پانچ جون تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

  16. بریکنگ, کور کمانڈر ہاؤس جلاؤ گھیراؤ: انسداد دہشت گردی عدالت نے سات ملزم خواتین کے جوڈیشل ریمانڈ میں ایک دن کی توسیع کر دی

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریکِ انصاف کی خواتین کارکنان اور رہنما جنھیں 9 مئی کو جناح ہاؤس پر حملہ اور جلاو گھیراؤ کے بعد حراست میں لیا گیا تھا، آج انھیں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔

    انسداد دہشت گردی عدالت نے ان خواتین کے جوڈیشل ریمانڈ میں ایک دن کی توسیع کر دی ہے۔ دوران سماعت تفتیشی افسر نے بتایا کہ خواتین کی شناخت پریڈ مکمل ہو گئی ہے لیکن ابھی رپورٹ مرتب نہیں ہوئی، رپورٹ مرتب کر کے کل عدالت میں پیش کر دی جائے گی۔

    عدالت پیش کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جیل میں تشدد کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے صنم جاوید کا کہنا تھا کہ جیل میں ہمارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی، ہمیں جیل میں رکھنا ہی زیادتی تھی کیونکہ ہم نے کچھ کیا ہی نہیں تو رکھنا ہی نہیں چاہیے تھا۔

    اس موقع پر عالیہ حمزہ کا کہنا تھا کہ آدھی رات کو عورتوں کو گھروں سے اٹھا کر گھسیٹ کر لانے اس سے زیادہ آپ عورتوں کی کیا تذلیل کریں گے۔

    طیبہ راجا کا کہنا تھا کہ اگر سوشل اکاؤنٹس سے مسئلہ ہے تو سوشل میڈیا کے مقدمے کریں اس طرح سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ضروری تو نہیں ہے۔

    یاد رہے گذشتہ روز شناخت پریڈ کے بعد عالیہ حمزہ، صنم جاوید اور طیبہ راجہ سمیت دیگر خواتین کو عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. بریکنگ, ظل شاہ قتل کیس: عمران خان کی عبوری ضمانت میں چھ جون تک توسیع

    لاہور ہائیکورٹ نے ظل شاہ قتل کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی عبوری ضمانت میں چھ جون تک توسیع کر دی ہے۔

    چیئرمین تحریک انصاف آج ظل شاہ قتل کیس میں ضمانت کی معیاد مکمل ہونے پر لاہور ہائیکورٹ پیش ہوئے۔

    دورانِ سماعت عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار عدالت کے باہر گاڑی میں موجود ہیں جس پر جسٹس انوار الحق پنوں نے ریمارکس دیے کہ انھیں کمرہ عدالت کے اندر ہونا چاہیے تھا۔ جس کے بعد عمران خان کمرہ عدالت پہنچے۔

    دوران سماعت جسٹس انوار الحق پنوں نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ کیا آپ نے درخواست گزار کو شامل تفتیش کرنے لیے نوٹس بھیجا؟ جس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار شامل تفتیش نہیں ہوئے اس لیے تفتیش مکمل نہیں ہوئی۔

    اس موقع پر جسٹس انوار الحق پنوں نے تفتیشی افسر کو درخواست گزار کا بیان لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ ان سے جو سوالات پوچھنا چاہتے ہیں پوچھیں۔ جس پر سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ بیان دیتے وقت وکیل ساتھ نہ ہوں۔

    جسٹس انوار الحق نے عمران خان کو ہدایت کی کہ آپ سے جو سوالات پوچھیں جائیں آپ جواب دیں گے۔ جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ میں بالکل تیار ہوں۔

    تفتیش افسر نے ظل شاہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف کو شامل تفتیش کرتے ہوئے ان کا بیان ریکارڈ کر لیا۔

  18. پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 21 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    گ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 21 کروڑ 81 لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملکی ذخائر نو ارب 73 کروڑ 11 لاکھ ڈالر کی سطح سے گر کر 9 ارب 51 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

    مرکزی بینک کے ذخائر 4 ارب 19 کروڑ 30 لاکھ کی سطح سے گر کر 4 ارب 9 کروڑ 7 لاکھ ڈالر ہو گئے ہیں۔

    کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 42 کروڑ 23 لاکھ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں جو گذشتہ ہفتے پانچ ارب اور پچاس کروڑ ڈالر سے زائد تھے۔

  19. عمران خان کا چیئرمین نیب کے خلاف 15 ارب روپے کا ہتک عزت کا نوٹس

    سابق وزیراعظم اور تحریکِ انصاف کے چئیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ انھوں نے چیئرمین نیب کے خلاف 15 ارب روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور اس حوالے سے انھیں قانونی نوٹس بھیجا ہے۔

    عمران خان نے دعویٰ کیا کہ میرے وارنٹ گرفتاری چھٹی کے روز جاری کیے گئے اور انھیں آٹھ دن تک خفیہ رکھا گیا تھا۔ القادر ٹرسٹ کیس کی انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کرنے کے بارے میں مجھے آگاہ نہیں کیا گیا۔ نیب آرڈیننس کے سیکشن 24 میں دی گئی شرائط کو نظر انداز کیا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ میرے وارنٹ گرفتاری کا طریقہ اور اس پر عمل درآمد غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کے لیے رینجرز کو استعمال کیا گیا جنھوں نے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا۔

    سابق وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے مجھے گرفتار کرنے کا مقصد میری بدنامی تھا تاکہ دنیا کو دکھا سکیں کہ مجھے کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    عمران خان کا کہنا ہے کہ میں سالانہ 10 ارب روپے خیرات میں جمع کرتا ہوں۔ میری ساکھ پر کبھی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ اس کے باوجود، مجھے ایک بوگس انکوائری میں پھنسانے کے بعد میری غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی گرفتاری نے میری ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس نے مجھے تضحیک کا نشانہ بنایا ہے۔ لہذا میں ہتک عزت کی کارروائی شروع کر رہا ہوں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. جہانگیر ترین، پی پی پی، ق لیگ یا مسلم لیگ ن: پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کی اگلی سیاسی منزل کیا ہو سکتی ہے؟