کور کمانڈر ہاؤس حملہ: پنجاب پولیس کا یاسمین راشد کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر نو مئی کو ہونے والے حملے کے الزام میں پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما یاسمین راشد کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کیا جا رہا ہے کیونکہ ’عدالت نے پولیس کو کیس کی فرانزک شہادتیں پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔

لائیو کوریج

  1. آج ہم میانمار اور سوڈان کی سطح پر گِر چکے ہیں: عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قانون کی عملداری کے بغیر پاکستان میں نہ جمہوریت رہے گی، نہ خوشحالی آئے گی اور نہ ہی اس کا کوئی مستقبل ہوگا۔

    انھوں نے ٹوئٹر پر دیے بیان میں کہا کہ تحریک انصاف کے خلاف کریک ڈاؤن سے قبل پاکستان رول آف لا انڈیکس میں 140 ممالک میں سے 129ویں نمبر پر تھا مگر ’آج ہم میانمار اور سوڈان کی سطح پر گِر چکے ہیں جہاں طاقتور کا قانون ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. مبینہ لیکس کمیشن کیس: سپریم کورٹ میں درخواستوں پر سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

    آج کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے اعتراض پر مشتمل درخواست کو ڈائری نمبر لگانے کی ہدایت دی گئی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئندہ ہفتے اٹارنی جنرل کی درخواست پرسماعت کریں گے۔ ’ہمارے پاس کچھ اور درخوستیں بھی آئیں ہیں۔ جو اخباروں میں پڑھیں۔ اٹارنی جنرل صاحب آپ کی درخواست ابھی تک فائل نہیں ہوئی، آپ کی درخواست پر نمبر لگانے کا کہہ رہے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ ’اٹارنی جنرل تمام فریقین کو اپنی درخواست کی کاپیاں فراہم کریں۔‘

    درخواست گزار حنیف راہی نے کہا کہ ’میں ایک درخواست داٸر کرنا چاہتا ہوں، اس کو سنا جائے۔ ساتھ میں ایک توہین عالت کی درخواست بھی ہے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ہمارے پاس کچھ اور درخواستیں آئی ہیں، جن کو رجسٹر کرنے کا حکم دے دیا ہے، پہلے اٹارنی جنرل کی درخواست دائر کی ہے، وہ سنیں گے۔‘

    وکیل شعیب شاھین کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ’انکوائری کمیشن نے لکھا ہے کہ ٹاک شوز میں ہم بات کرتے ہیں۔‘ اس کے جواب میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ یہ تحریری طور پر دیں، اس کو سنیں گے۔‘

  3. مبینہ آڈیو لیکس کمیشن کیس: سپریم کورٹ نے ججز پر اعتراض سے متعلق حکومتی درخواست واپس کر دی, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ ججز

    ،تصویر کا ذریعہSCP

    آڈیو لیکس کمیشن کیس میں رجسٹرار سپریم کورٹ نے بینچ اور ججز پر اعتراض سے متعلق حکومتی درخواست واپس کر دی ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اس درخواست پر کیا اعتراض عائد کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز وفاقی حکومت نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر کے خلاف درخواست میں استدعا کی تھی کہ وہ یہ مقدمہ نہیں سن سکتے۔

    ادھر سپریم کورٹ میں مبینہ آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف دائر درخواستوں پر دوسری سماعت شروع ہوچکی ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر اس کیس پر سماعت کر رہا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بینچ میں شامل ہیں۔

    مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے خلاف چار درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ عمران خان، صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری، ریاض حنیف راہی اور مقتدر شبیر نے کمیشن کے خلاف درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے کارروائی روک رکھی ہے۔

  4. فسطائی حربوں سے عوام اور اداروں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فسطائی حربوں سے پاکستان کے عوام اور اداروں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’جبری علیحدگیوں‘ کے لیے ’کس بے شرمی سے ہر حربہ آزمایا جا رہا ہے۔ یہ مناظر خود اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ اس سب سے تحریک انصاف کے لیے ہمدردیاں بڑھ رہی ہیں اور اس کے ووٹ بینک میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان فسطائی حربوں سے پاکستان کے عوام اور اداروں کے مابین خلیج بھی بڑھ رہی ہے۔‘

    عمران خان نے ان ٹویٹس میں دو ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں۔ ان میں سے ایک ویڈیو میں ایک شخص کا کہنا ہے کہ وہ گجرات کے عزیز بھٹی ہسپتال میں موجود ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میری طبیعت ٹھیک نہیں مگر مجھے زبردستی اور دباؤ میں آ کر ڈسچارج کیا جا رہا ہے۔‘

  5. ’دو دن میں شہزاد اکبر کے بھائی کو عدالت میں پیش کریں‘ اسلام آباد ہائیکورٹ کا ڈی آئی جی آپریشنز کو حکم, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    عمران خان کے سابق مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کے بھائی مراد اکبر کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈی آئی جی آپریشنز کو دو دن کی مہلت دی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کے پاس دو دن کا وقت ہے، مراد اکبر کو عدالت میں پیش کریں۔‘

    درخواست گزار کے وکیل قاسم ودود اور عدالتی حکم پر ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری عدالت میں پیش ہوئے۔

    عدالت نے پولیس کو دو روز میں مراد اکبر کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت دو جون تک ملتوی کی ہے۔

  6. پشاور ہائیکورٹ نے تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریاں کالعدم قرار دے دیں, بلال احمد/بی بی سی اردو، پشاور

    پشاور ہائیکورٹ

    پشاور ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے جاری تھری ایم پی او کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نقض امن کے خدشے کے پیش نظر گرفتار کیے گئے افراد کی رہائی کا حکم دیا ہے۔

    جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس ارشد علی نے تھری ایم پی او کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران اپنا محفوظ فیصلہ سنایا۔

    سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل عامر جاوید نے دلائل میں کہا کہ ’آئین کے آرٹیکل 245 کے نفاذ کے بعد ہائیکورٹ کا اختیار نہیں کہ رٹ سنے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں آرٹیکل 245 لگایا گیا۔‘

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ خیبرپختونخوا میں نگران حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ ’آئین کے تحت جہاں ضرورت ہو وہاں آرٹیکل 245 لاگو کیا جاسکتا ہے۔ آرٹیکل 245 نافذ کرتے وقت مخصوص علاقہ نہیں بتایا جاتا وہ انتظامیہ خود طے کرتی ہے۔‘

    اس موقع پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ’جتنے عبوری حکم دیے گئے کیا کوئی رہا ہوا یا نہیں۔ عدالت کو بتایا جائے کہ کتنے وزیر، ایم پی ایز اور کتنے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ورکر جیلوں میں رُل رہے ہیں۔‘

    جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ ’سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا کہ گرفتاری غلط ہے۔ انھوں نے کہا جگہ غلط ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہاں جو بھی ہو گا وہ سول ایڈمنسٹریشن کے تحت ہو گا۔‘

    پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ’یہ نوٹیفیکیشن اس (نگران) کابینہ نے کیا جس کے 90 دن کب کے پورے ہوچکے ہیں۔۔۔ جس حکومت کے پاس خزانے سے خرچ کا اختیار نہیں انھوں نے نوٹیفکیشن کیا ہے۔‘

  7. ’آڈیو لیکس‘ کمیشن کا سپریم کورٹ کے بینچ پر اعتراض: ’جج ذاتی مفادات سے متعلق کیس نہیں سن سکتا‘, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن نے سپریم کورٹ کی جانب سے کارروائی روکنے کے حکم پر ردعمل دیا ہے کہ انھیں سنے بغیر یہ فیصلہ دیا گیا جبکہ کوئی جج ذاتی مفادات سے متعلق کیس نہیں سن سکتا۔

    جوڈیشل کمیشن کے سیکریٹری نے عدالت عظمی میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا ہے کہ ’کمیشن نے آرٹیکل 209 پر اپنا موقف پہلے اجلاس میں واضح کر دیا تھا۔ واضح کیا تھا کہ کمیشن کی کارروائی کو سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی نہ سجھا جائے۔

    ’صدر سپریم کورٹ بار نے آڈیو لیک کمیشن کے خلاف درخواست دائر کی، مبینہ آڈیو لیک کے دیگر افراد نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی نہ ہی کمیشن پر اعتراض اٹھایا۔‘

    انھوں نے کہا ہے کہ ’چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ یہ کیس نہیں سن سکتا۔ ذاتی مفادات سے متعلق کیس کوئی جج نہیں سن سکتا۔ کمیشن کو آڈیو لیک کی انکوائری میں کوئی ذاتی دلچسپی نہیں۔ کمیشن کو یہ ذمہ داری قانون کے تحت دی گئی ہے۔

    ’آڈیو کمیشن آئین و قانون کے مطابق اپنی ذمہ داری پوری کرے گا۔ کمیشن یقین دلاتا کہ متعلقہ فریقین کے اٹھائے گئے اعتراضات کو سنا اور ان پر غور کیا جائے گا۔ صحافی قیوم صدیقی اور خواجہ طارق رحیم کمیشن میں پیش ہونے کے لیے تیار ہیں۔‘

  8. ’آڈیو لیکس‘ کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کو ثاقب نثار کے بیٹے کے خلاف کارروائی سے روک دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ’آڈیو لیکس‘ کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کو سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب کے خلاف کارروائی سے روک دیا ہے۔

    نجم ثاقب نے ہائیکورٹ میں سپیکر اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی سپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کر رکھی ہے جس پر اب عدالت نے اس معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب مانگا ہے۔

    جسٹس بابر ستار نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ ’کیا یہ سپیشل کمیٹی ہے؟‘ اس پر وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’سپیشل کمیٹی کے لیے بھی وہی رولز ہوں گے جو عام کمیٹی کے لیے ہوتے ہیں۔‘

    وکیل نے دلائل دیے کہ ’کوئی متعلقہ وزارت اس معاملے میں ہے ہی نہیں۔ ہم نے صرف یہ چیلنج کیا کہ سپیکر اور اسمبلی کو پرائیویٹ معاملے کو دیکھنے کا اختیار نہیں۔ سپریم کورٹ میں جو معاملہ زیر التوا ہے ہم نے اس کو چیلنج نہیں کیا۔

    ’آڈیو لیک دو پرائیویٹ لوگوں کے درمیان مبینہ طور کی گئی بات ہے۔ پارلیمنٹ کو دو پرائیویٹ لوگوں کے معاملے کو دیکھنے کا اختیار نہیں۔‘

  9. سپریم کورٹ میں ’آڈیو لیکس‘ کمیشن کے خلاف دائر درخواستوں پر دوسری سماعت آج

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سپریم کورٹ میں مبینہ آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف دائر درخواستوں پر دوسری سماعت آج ہوگی۔ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ سوا بارہ بجے سماعت کرے گا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بینچ میں شامل ہیں۔

    سپریم کورٹ نے گذشتہ سماعت میں آڈیو لیکس کمیشن کا نوٹیفیکیشن معطل کردیا تھا۔ مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے خلاف چار درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

    عمران خان، صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری، ریاض حنیف راہی اور مقتدر شبیر نے کمیشن کے خلاف درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

    سپریم کورٹ کے حکم پر آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے کارروائی روک رکھی ہے۔

    گذشتہ سماعت پر عابد زبیری کے وکیل شعیب شاہین اور اٹارنی جنرل پاکستان نے دلائل دیے تھے۔ ابتدائی دلائل کے بعد عدالت نے کمیشن کے قیام نوٹیفکیشن اور کارروائی معطل کی تھی۔

  10. اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں ’دفعہ 144 نافذ العمل ہے۔ ہائی سکیورٹی زون/ ریڈ زون میں کسی بھی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں ہے۔‘

    اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’چار یا چار سے زیادہ افراد کے اکٹھے ہونے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسلام آباد میں آمد و رفت کے تمام راستے معمول کے مطابق کھلے ہیں۔‘

  11. القادر ٹرسٹ کیس: ہائیکورٹ میں آج عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست پر سماعت ہوگی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں آج القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست پر سماعت ہوگی۔ انھیں اس کیس میں گذشتہ سماعت پر 31 مئی تک ضمانت دی گئی تھی۔

    دوسری جانب احتساب عدالت میں القادر ٹرسٹ کیس پر عمران خان کی بیوی بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوگی۔

    عمران خان اور بشری بی بی کی آج لاہور سے اسلام آباد آمد متوقع ہے۔

  12. رینجرز، اسلام آباد پولیس نے میرے گھر چھاپہ مارا، ملازمین کے بازو توڑ دیے: شیخ رشید

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر سکیورٹی اہلکاروں نے چھاپہ مارا ہے اور ان کے ملازمین پر تشدد کیا گیا ہے۔

    تاحال حکومت یا پولیس کی جانب سے اس دعوے پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔

  13. دفاعی تنصیبات پر حملوں کے خلاف کارروائی: ’عمران خان سارے معاملے کے آرکیٹیکٹ ہیں، ان کی گرفتاری ضرور ہوگی‘

    رانا ثنا اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ دفاعی تنصیبات اور املاک پر حملوں کے آرکیٹیکٹ سابق وزیر اعظم عمران خان خود ہیں جن کی گرفتاری ضرور ہوگی۔

    جیو نیوز کے پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بارہا اسلام آباد پر حملے کی بات کی ہے اور حالیہ واقعات میں وہ ’سارے معاملے کے آرکیٹیکٹ ہیں۔ انھوں نے نفرت اور تشدد کی سیاست کی اور نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر بھرا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’میرے تجزیے کے مطابق ان (عمران خان) کی گرفتاری ضرور ہوگی۔ (تاہم) تحقیقاتی اداروں کا اختیار ہے کہ وہ کس کو گرفتار کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری پر کوئی عوامی ردعمل نہیں آیا تھا۔ ’کسی شہر میں بھی دس ہزار لوگ بھی جمع نہیں ہوئے تھے۔ یہ وہی لوگ تھے جنھیں کسی مقصد کے لیے ٹرین کیا گیا تھا۔ ان کی ڈیوٹیاں لگائی گئی تھی کہ گرفتاری کی صورت میں یہ کرنا ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’ایسے ردعمل کو روکنے کے لیے کارروائیاں کی گئی ہیں اس کے بعد کوئی ایسا ردعمل نہیں دے سکے گا۔ (عمران خان کی دوبارہ گرفتاری کی صورت میں) قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔‘

  14. پی ٹی آئی سے مذاکرات میں 30 ستمبر یا یکم اکتوبر کے دن الیکشن پر اتفاق ہو چکا تھا، وزیر قانون

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات میں تحریک انصاف سے الیکشن کی تاریخ پر بھی اتفاق ہو چکا تھا تاہم عمران خان اس تاریخ پر نہیں مانے۔

    جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف سے مذاکرات کے دوران ’لاہور میں دو تین ملاقاتیں آف دی ریکارڈ ہوئیں جن میں کافی پیشرفت ہوئی تھی۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ طے ہو گیا تھا کہ 30 ستمبر یا یکم اکتوبر کو الیکشن کی تاریخ رکھ لی جائے گی اور اکھٹے الیکشن ہوں۔‘

    ’سب چیزیں طے ہو چکی تھیں اور ہم نے اتحادیوں سے بات کرنی تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس کے بعد شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری اور بیرسٹر علی ظفر نے باہر جا کر فون پر بات چیت کی اور اندر آ کر بتایا کہ ’پارٹی چیئرمین کہتے ہیں کہ اگر اسمبلی فوری تحلیل کریں گے تو ہم مانیں گے۔‘

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’یہ ایک اچھا موقع تھا جس میں سیاسی اتفاق رائے پیدا ہو رہا تھا اور حالات مثبت سمت میں چل سکتے تھے۔‘

  15. عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چل سکتا ہے، وفاقی وزیر داخلہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چل سکتا ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ڈان نیوز کے پروگرام میں کہا کہ ’عمران خان یہ طے کر کے گئے تھے کہ اگر میں گرفتار ہوں تو کس نے کیا کرنا ہے، کہاں پر رکنا ہے، کس کی کس جگہ پر ڈیوٹی ہو گی، یہ سارا کچھ پہلے سے طے شدہ تھا۔‘

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلے گا تو رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’بلکل، کیوں نہیں چلے گا۔‘

    ادھر جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹالک میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان کے دور میں سول افراد کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات چل چکے ہیں۔

  16. تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں کا سیاست چھوڑنے کا اعلان, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

    راجہ یاسر ہمایوں

    ،تصویر کا ذریعہRAJA YASIR

    تحریک انصاف رہنما اور سابق صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں نے نو مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔

    ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’ورکرز نے قومی اثاثوں پر حملہ کیا، جی ایچ کیو پر حملہ، جناح ہاوس کو جلانا، شہیدوں کی یادگاروں کی بے حرمتی، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’نو مئی کے بعد میں اس کشمکش کا شکار تھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔‘

    راجہ یاسر ہمایوں نے کہا کہ ’جو لوگ تبدیلی پر یقین رکھتے تھے وہ پارٹی یا سیاست چھوڑ چکے ہیں۔ اب صرف وہ لوگ رہ گئے ہیں جو روایتی سیاست دان ہیں۔ شاید وہ پارٹی ٹیک اوور کر لیں، یا انقلابی ٹیک اوور کر لیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں ان دونوں ٹائپ کی سیاست نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں سیاست کو ہی ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دوں۔‘

  17. آئین ہمیں اجازت دیتا ہے ہم کہیں بھی احتجاج کر سکتے ہیں، عمران خان

    تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ عدلیہ اور ججوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور ملک کے تمام اداروں کو تحریک انصاف کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    قوم سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے کئی کارکنوں پر تشدد کیا گیا جو تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’یہ جانتے ہیں کہ ڈیڑھ دو سو لوگوں کے علاوہ باقی سب پرامن احتجاج کر رہے تھے اور آئین ہمیں اجازت دیتا ہے ہم کہیں بھی احتجاج کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جیسے کمانڈو ایکشن کر کے مجھے گرفتار کیا گیا تو احتجاج عسکری علامات پر ہی ہونا تھا اور کہاں جانا تھا۔‘

    عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’عدلیہ بھی دباؤ میں ہے، ججوں کو نامعلوم فون کالز آ رہی ہیں کہ ہم یہ کر دیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’سارے ملک کے اداروں کو استعمال کیا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کو ختم کیا جائے۔ ایف آئی اے اور نیب صرف تحریک انصاف کے خلاف کیسز بنا رہے ہیں۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’اب تک مجھے یہ سمجھ آئی ہے کہ ایک کنگ پارٹی تیار ہو رہی ہے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’نہ ن لیگ، نہ پیپلز پارٹی پورے ملک میں حکومت بنا سکتے ہیں، اسی لیے کنگز پارٹی کی مدد سے مخلوط حکومت بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ملک کی مشکلات ایک کمزور حکومت حل نہیں کر سکتی۔

    ’مضبوط حکومت وہ ہوتی ہے جس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ عوام کھڑی ہو، وہی حکومت مشکل فیصلے کر سکتی ہے۔‘

  18. نو مئی کے ہنگاموں پر عمران خان کے خلاف کون سی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں؟

  19. عمران خان کی کور کمانڈر ہاؤس جے آئی ٹی تحقیقات میں بذریعہ ویڈیو لنک شمولیت کی پیشکش, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے نو مئی کو لاہور میں جناح ہاؤس واقعہ پر بنائے جانے والی جے آئی ٹی کو پیشکش کی ہے کہ وہ سوالنامے یا بذریعہ ویڈیو لنک زمان پارک سے تحقیقات میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔

    تحریک انصاف کی جانب سے ٹوئٹر پر عمران خان کا تحریر جواب شائع کیا گیا ہے جس کے مطابق عمران خان کی جانب سے نامزد کردہ نمائندگان نے جے آئی ٹی میں پیش ہو کر یہ جواب جمع کروایا۔

    تاہم تحریک انصاف کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کی جانب سے نمائندوں کے ذریعے چئیرمین تحریک انصاف کا تحریری جواب قبول کرنے سے انکار کیا گیا۔

    اس تحریری جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جس روز یہ واقعات ہوئے اس روز میں نیب کی غیر قانونی اور ناجائز حراست میں تھا اور مجھے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر رہا کیا گیا۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’بڑی تعداد میں جھوٹے مقدمات کے اندراج کے باوجود تحقیقاتی اداروں سے مکمل تعاون کر رہا ہوں۔‘

    عمران خان نے اس مقدمے کی تحقیقات کا حصہ بننے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان پر ’وزیر آباد میں ایک نہایت خطرناک قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے‘ اور ان کی جان کو ’سنگین خطرات لاحق ہیں‘ جن کے باوجود عدالتوں میں ان کی پیشی ناگزیر ہے۔

    عمران خان کا موقف ہے کہ ’ان خطرات اور سکیورٹی کے انتظامات پر اٹھنے والے نجی اور سرکاری اخراجات کے پیش نظر زمان پارک سے ان تحقیقات میں شمولیت اختیار کی جا سکتی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ویڈیو لنک یا سوالنامے کے ذریعے تحقیقات میں شمولیت کی راہ میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں۔‘

    عمران خان نے پیشکش کی کہ ’خطرات کی موجودگی میں غیر ضروری نقل و حرکت کی بجائے سوالنامے یا زمان پارک سے بذریعہ ویڈیو لنک تحقیقات میں شمولیت مناسب رہے گی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. تحریک انصاف رہنما شہریار آفریدی اڈیالیہ جیل سے رہائی کے بعد پھر گرفتار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    شہریار آفریدی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک انصاف رہنما شہریار آفریدی کو پولیس نے اس وقت ایک بار پھر گرفتار کر لیا جب انھیں اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق پولیس شہریار آفریدی کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہو گئی جس کی بنیاد ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کی جانب سے انھیں مذید 15 دن کے لیے حراست میں لینے کا حکم ہے جو تین ایم پی او کے تحت جاری کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ 16 مئی کو پولیس نے شہریار آفریدی کو ان کی اہلیہ سمیت اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔