کور کمانڈر ہاؤس حملہ: پنجاب پولیس کا یاسمین راشد کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر نو مئی کو ہونے والے حملے کے الزام میں پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما یاسمین راشد کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کیا جا رہا ہے کیونکہ ’عدالت نے پولیس کو کیس کی فرانزک شہادتیں پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, فاشسٹ حکومت کا ایک نکاتی ایجنڈا پی ٹی آئی کو کچلنا ہے، عمران خان

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے، اس فاشسٹ حکومت کا ایک نکاتی ایجنڈا ہے کہ پی ٹی آئی کو کچلنا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ پاکستانی معیشت کمزور ہوتی جا رہی ہے جہاں ڈالر اوپن مارکیٹ میں 315 جبکہ غیر سی این آئی سی ہولڈرز کے لیے یہ شرح 320 سے 325 روپے کے درمیان ہے اور اسی طرح آفیشل ریٹ اور اوپن مارکیٹ ریٹ کے درمیان 30 روپے کا فرق ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ڈالر میں اضافے کا مطلب ہےکہ ملک میں کوئی مقامی یا بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. عمران خان:’فوج کا حکمرانی میں کوئی لینا دینا نہ رہے یہ سوچنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے‘

  3. میں خود کمیشن میں شامل نہیں ہوں گا، حکومت آڈیو لیکس کمیشن کی تشکیل کے لیے درست راستہ اختیار کرے: چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ عدالت نے آڈیو لیکس کمیشن کو کالعدم قرار نہیں دیا اور حکومت کمیشن کی تشکیل کے لیے درست راستہ اختیار کرے۔

    جمعرات کو پنجاب میں انتخابات کے بارے میں فیصلے پر الیکشن کمیشن کی نظرِثانی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت نے اٹارنی جنرل کو آڈیو لیکس کمیشن کے بارے میں حکومت سے ہدایات لینے کا حکم بھی دیا۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ معاملات پر ہم سب کو دوبارہ سوچنا چاہیے اور غصہ مدد کرنے کی بجائے حالات مزید مخدوش کرے گا۔ جسٹس بندیال نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا کہ ’آپ آڈیو لیکس کمیشن کے بارے میں ہمارا حکم نامہ ضرور پڑھیے گا اور یہ بات ضرور ذہن میں رکھیں عدالت نے کمیشن کو کالعدم قرار نہیں دیا‘۔

    انھوں نے کہا کہ اس عدالت نے عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کرنا ہے اور خفیہ ملاقاتوں سے معاملات نہیں چل سکتے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت نے میمو گیٹ، ایبٹ آباد کمیشن اور صحافی سلیم شہزاد قتل کے کمیشنز کے نوٹیفکیشن دیکھے اور ان تمام معاملات میں جوڈیشل کمیشنز چیف جسٹس کی مرضی سے تشکیل دیے گئے تھے۔

    چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں خود پر مشتمل کمیشن تشکیل نہیں دوں گا لیکن کسی اور جج سے تحقیقات کروائی جا سکتی ہیں‘۔

  4. عمران خان اور فوج کا ’افیئر‘ کیسے اختتام پذیر ہوا؟

  5. دیرینہ کارکن اور الیکٹیبلز: کیا تحریک انصاف سے راہیں جدا کرنے والے تمام رہنماؤں کی وجوہات ایک جیسی ہیں؟

  6. کوئٹہ: سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے بھائی سمیت پی ٹی آئی کے 24 کارکنوں کی ضمانتیں منظور, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    کوئٹہ میں انسداد دہشتگری کی ایک عدالت نے نو مئی کو پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار پی ٹی آئی کے 24 کارکنان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    پیر کو عدالت نے ان کارکنان کی تین، تین لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

    ان گرفتار کارکنوں میں سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے بھائی بلال سوری کے علاوہ سابق گورنر بلوچستان سید ظہور آغا کے بھتیجے اور بھائی بھی شامل ہیں۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف نو مئی کو ایئرپورٹ روڈ پر جلاؤ گھیراؤ کے الزام میں میں مقدمہ درج ہے۔

  7. سوموٹو فیصلوں پر نظرِثانی کے نئے قانون کے نفاذ کے بعد پنجاب میں الیکشن کے کیس کی سماعت ملتوی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے پنجاب میں چودہ مئی کو انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی طرف سے دائر کی جانے والی نظرثانی کی درخواست کی سماعت عدالتی فیصلوں پر نظرثانی کے نئے قانون کے نفاذ کے بعد یکم جون تک ملتوی کر دی ہے۔

    پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ملک کا موجودہ سیاسی درجۂ حرارت معیشیت اور امن و امان کے لیے بہتر نہیں اور چیزوں کو جوڑنے سے ہی سسٹم میں استحکام آئے گا۔

    پیر کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت شروع کی تو اٹارنی جنرل منصور عثمان روسٹرم پر آئے اور کہا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ عدالت کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے نظرثانی دائرہ اختیار سے متعلق نیا قانون بن چکا جس کی صدر مملکت نے بھی منظوری دے دی ہےا ور اس کا اطلاق جمعہ سے ہو بھی چکا۔

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    واضح رہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے گذشتہ ہفتے ایک بل منظور کیا تھا جس میں از خود نوٹس پر فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا ہے اور فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی سماعت بھی فیصلہ دینے والے بینچ سے بڑے بینچ کو سونپنے کا کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اپیل کندہ کو اپنا وکیل بھی تبدیل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔

    اٹارنی جنرل کی بات پر بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نظر ثانی کے نئے قانون کا سن کر الیکشن کمیشن کے وکیل کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’نظر ثانی سے متعلق اب نیا قانون بھی آ چکا ہے اور ہم بات سمجھ بھی چکے ہیں اور ہمیں نئے قانون کا مکمل ادراک ہے، تاہم تحریک انصاف کو بھی نئے قانون کا علم ہو جائے اس کے بعد ہم سماعت کر لیں گے فی الحال ہم سماعت جمعرات تک ملتوی کرتے ہیں۔‘

    بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا اس ایکٹ کے نافذ ہونے کے بعد پارلیمنٹ کی طرف سے بینچ کی تشکیل اور از خود نوٹس سے متعلق جو قانون پاس کیا گیا تھا وہ کالعدم ہو گیا ہے تاہم اٹارنی جنرل نے اس سوال پر عدالت کو کوئی جواب نہیں دیا۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینچ نے بینچ کی تشکیل اور از خود نوٹس پر نظرثانی کی اپیل کا حق دینے سے متعلق پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے قانون کے خلاف حکم امتناع جاری کر رکھا ہے۔

  8. بریکنگ, صدرِ پاکستان نے سوموٹو کیسز میں اپیل سے متعلق بل کی منظوری دے دی

    نونٹیفیکیشن کا عکس

    ،تصویر کا ذریعہPresident House

    صدر پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈر بل 2023 کی منظوری کے بعد اس قانون کے نفاذ کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    صدر مملکت نے اس نئے قانون کی منظوری گذشتہ جمعہ کو دی تھی۔

    اس نئے قانون کے تحت اب 184 (3) یعنی سپریم کورٹ کے سوموٹو کیسز میں دیے گئے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کی جا سکے گی اور اس قانون کا اطلاق ماضی میں دیے گئے فیصلوں پر بھی ہو گا۔

    نئے قانون کےتحت نظر ثانی کی درخواست کا دائرہ کار اب اپیل جیسا ہی ہو گا اور اب نظرثانی کی درخواست کو فیصلہ دینے والے بینچ سے بڑا بینچ ہی سن سکتا ہے۔

    ماضی میں فیصلے پر نظرِثانی کی درخواست وہی بینچ سنتا تھا جس نے وہ فیصلہ دیا ہوتا تھا۔

  9. پی ٹی آئی کی زیر حراست خواتین کارکنوں پر مبینہ تشدد کے الزامات: پنجاب حکومت نے دو رکنی کمیٹی قائم کر دی

    نو مئی کے واقعات کے تناظر میں گرفتار تحریک انصاف کی خواتین کارکنوں پر تشدد جیسے الزامات کی تحقیقات کے لیے پنجاب کی نگراں حکومت نے دو رکنی کمیٹی قائم کر دیہے جو آج (پیر) کوٹ لکھپت جیل کا دورہ کرے گی۔

    یہ دو رکنی کمیٹی ڈپٹی کمشنر لاہور رافعہ حیدر اور ایس ایس پی انویسٹیگیشن ڈاکٹر انوش مسعود پر مشتمل ہے۔

    پیر کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا ہے کہ نو مئی کے واقعات کے تحت 32 خواتین گرفتار ہوئیں تھیں جن میں 21 خواتین رہا ہو چکی ہیں جبکہ 11 جیل میں زیر حراست ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ بطور وزیر اعلیٰ ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی ماؤں اور بہنوں کو تحفظ فراہم کریں۔

    یاد رہے کہ پنجاب کی نگراں حکومت اور وفاقی حکومت بارہا زیر حراست پی ٹی ائی خواتین کارکنوں پر تشدد جیسے الزامات کی تردید کر چکی ہے۔

  10. جوڈیشل کمپلیکس: تحریک انصاف کے سابق رہنما راجہ خرم نواز کی درخواست ضمانت منظور

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے تحریک انصاف کے سابق رہنما راجہ خرم نواز کی جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ واقعے میں ضمانت منظور کر لی ہے۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد سے تحریک انصاف کے سابق ایم این اے راجہ خرم نواز تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کے ہمراہ جوڈیشل کمپلیکس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی پیشی کے موقع پر ہونے والی توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کیس میں نامزد ہیں۔

    اتوار کے روز راجہ خرم نواز نے نو مئی کے واقعات کے تناظر میں تحریک انصاف کو چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔

    پیر کے روز ہونے والی سماعت کے دوران راجہ خرم نواز اپنے وکیل کے ہمراہ انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئے اور درخواست ضمانت دائر کی۔

    اے ٹی سی جج راجہ جوادعباس نے ضمانتی مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کر لی۔

  11. جمشید دستی کی عمران خان سے زمان پارک میں ملاقات

    تحریک انصاف

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    صوبہ پنجاب کے شہر مظفر گڑھ سے پاکستان تحریکانصاف کے ٹکٹ ہولڈرجمشید خان دستی اور میاں عمران دھنوتر نے زمان پارک میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی ہے۔

    تحریک انصاف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں تحریک انصاف کے خلاف جاری کریک ڈاؤن اور ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق اس موقع پر جمشید دستی نے کہا کہ ’اس مشکل وقت میں پورے پاکستان کی اور خاص طور پر مظفرگڑھ کی عوام خان صاحب کے ساتھ کھڑی ہے۔‘

  12. سٹاک ایکسچنج میں تیزی: انڈیکس میں 550 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    سٹاک

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان سٹاک ایکسچنج میں سوموار کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور 100 انڈیکس 570 پوائنٹس تک بڑھ چکا ہے۔

    سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ کئی دنوں کی مندی کے بعد تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے بجٹ میں کچھ متوقع اقدامات کی وجہ سے تیزی کا رجحان ہے۔

    معاشی تجزیہ کار محمد سہیل کے مطابق حکومت کی جانب سے نئے بجٹ میں سٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ کمپنیوں کو اپنے شیئر ہولڈرز کو زیادہ ادائیگی کے لیے اقدامات اٹھانے جانے کے اقدامات کے امکانات کی وجہ سے تیزی کا رجحان غالب ہے۔

  13. پنجاب انتخابات: الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست پر آج دوبارہ سماعت ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

    پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ آج دوبارہ سماعت کا آغاز کرے گا۔

    اس سماعت کا آغاز سوا 12 بجے ہو گا جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ کا حصہ ہوں گے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی آج بھی دلائل جاری رکھیں گے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر وفاقی حکومت، نگران پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن اس معاملے پر اپنے اپنے جوابات جمع کروا چکے ہیں۔

    سپریم کورٹ کے اس بینچ نے رواں برس چار اپریل کو فیصلہ سناتے ہوئے چودہ مئی کو پنجاب میں انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا تاہم 14 مئی کی ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہو سکا کیونکہ عدالتی حکم کے باوجود وفاقی حکومت نے انتخابات کے لیے درکار 21 ارب روپے کے فنڈز فراہم نہیں کیے تھے اور نہ ہی سکیورٹی۔

    تین مئی کو الیکشن کمیشن نے 14 مئی کو الیکشن کروانے کے عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کی تھی جس پر اب سماعت جاری ہے۔

  14. تحریک انصاف سے اس وقت تک مذاکرات نہیں ہو سکتے جب تک یہ اصلاح پر مبنی اقدامات کا اعلان نہیں کرتی: اسحاق ڈار

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ اس وقت تک مذاکرات نہیں ہو سکتے جب تک یہ جماعت نو مئی کے واقعات پر اصلاح پر مبنی اقدامات نہیں کرتی، جیسا کہ قوم سے معافی مانگنا، اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنا اور وعدہ کرے کہ آئندہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔

    جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں میزبان سلیم صافی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ماضی میں حکومت نے خلوص نیت کے ساتھ تحریک انصاف سے مذاکرات کیے اور تین دن میں مذاکرات کے پانچ راؤنڈ بھی ہوئے، میرے خیال میں آخری راونڈ کے وقت دونوں فریقین نے 75 فیصد ایجنڈے پر متفق ہو چکی تھیں، وہ (پی ٹی آئی) اس بات پر مان چکی تھی کہ صوبوں اور وفاق میں علیحدہ علیحدہ الیکشن نہیں ہو سکتے، پی ٹی آئی اس بات پر بھی مان چکی تھی کہ پورے ملک میں ایک ہی دن انتخابات ہونے چاہییں۔ تاہم تاریخ پر اتفاق نہیں ہو پایا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے کہا گیا کہ وہ جا کر اپنے لیڈر سے بات کریں گے، مگر پھر نو مئی کا واقعہ ہو گیا جس نے حالات کو یکسر بدل کر رکھ دیا، اب مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں جب تک وہ قوم سے معافی نہ مانگیں، انھوں (عمران خان) نے لوگوں کے ساتھ مل کر صرف جناح ہاؤس واقعے کی مذمت کی ہے، باقی جو شہدا کی (یادگاروں) اور فوجی تنصیبات کی بربادی کی ہے اس کی انھوں نے مذمت نہیں کی۔۔۔ میں بہت مفاہمت پر مبنی سوچ کا مالک ہوں، مگر ان حالات میں کیسے مذاکرات ہو سکتے ہیں۔‘

    تحریک انصاف کی خواتین رہنما کے ساتھ ہونے والے مبینہ جبر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسی کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کر رہی ہے۔

  15. کبھی کسی جمہوری ملک میں خواتین کی تذلیل نہیں کی گئی، یہ سب خواتین کو سیاست سے نکال باہر کرنے کی مہم ہے: عمران خان

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج کا اپنا آئینی حق استعمال کرنے پر تو کبھی کسی جمہوری ملک میں خواتین کی تذلیل نہیں کی گئی، کجا یہ کہ یہ سب ایک ایسے جمہوری ملک میں کیا جائے جو (جمہوری ہونے کے ساتھ ساتھ) اسلامی بھی ہو۔

    ٹویئر پر اپنے پیغام میں سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ سب خواتین کو سیاست سے نکال باہر کرنے کی سوچی سمجھی مہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ خواتین کی پکڑ دھکڑ اور انھیں خوفزدہ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ اُن کے مرد (اہلِخانہ) سیاسی سرگرمیوں میں ان کی شرکت کی حوصلہ شکنی کریں۔

    سابق وزیر اعظم نے یہ الزام عائد کیا کہ ’اب یہ اطلاعات تیزی سے موصول ہو رہی ہیں کہ جیلوں میں بعض خواتین کیساتھ (جنسی) چھیڑ چھاڑ کے ساتھ انھیں ہراساں کیے جانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

  16. کسی کی بھی خواہش پر بلوچستان عوامی پارٹی کو ختم نہیں کریں گے: عبدالقدوس بزنجو

    وزیر اعلیٰ بلوچستان اور بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ کسی کی بھی خواہش پر بلوچستان عوامی پارٹی کو ختم نہیں کریں گے۔

    کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کچھ حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی ختم ہو کر ملک کی کسی بڑی سیاسی جماعت میں ضم ہوجائے گی، میں اس کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی پہلے دن کی طرح مضبوط اور مستحکم ہے۔ کسی کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا جو لوگ آنا چاہتے ہیں انھیں خوش آمدید کہیں گے ہمارے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری سمیت تمام سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت سے عزت و احترام کارشتہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی جن مقاصد کے لیے بنائی گئی تھی اس میں ہمیں کافی حد تک کامیابیاں ملی۔

    انھوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے صوبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے قلیل مدت میں ایسے جرات مندانہ تاریخی فیصلے کیے جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

  17. حکومت دو تین ہفتوں میں پی ٹی آئی کے جتنے لوگ توڑنا چاہتی ہے توڑ لے، پھر الیکشن کا اعلان کر دے: عمران خان

    Imran

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پی ٹی آئی سربراہ عمران خان نے حکومت کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دو تین ہفتوں کے دوران پی ٹی آئی کے جتنے لوگ توڑنا چاہتی ہے توڑ لے اور پھر ملک میں الیکشن کا اعلان کر دے۔

    یوٹیوب خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت جب ہمارے لوگ توڑ کر سمجھے کہ پی ٹی آئی اب انتخابات لڑنے کے قابل نہیں رہی تب الیکشن کا اعلان کر دے، قوم کا فیصلہ سب کے سامنے آ جائے گا۔

    انھوں نے کہا میں یہ پیغام سیاست کے لیے نہیں بلکہ اپنے ملک کی خاطر دے رہا ہوں، کیونکہ ملک میں عدم استحکام، مہنگائی، غیر یقینی اور معیشت خراب ہے۔ ایسے میں ملک کے لیے حکومت اگلے چار ہفتوں میں الیکشن کا اعلان کر دے۔

  18. ’لگ رہا ہے سپریم کورٹ آہستہ آہستے اپنی طاقت کھو رہی ہے، عدلیہ ہمارے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے‘: عمران خان

    پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ’ایسا لگ رہا ہے ملک کی سپریم کورٹ آہستہ آہستہ طاقتور کے سامنے اپنی طاقت کھو رہی ہے۔ میں آج پوری قوم اور اپنی جماعت کی طرف سے اپیل کرتا ہوں کہ ان حالات میں ہمارے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں۔‘

    انھوں نے عدلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے بڑی مشکل سے عدلیہ کی آزادی کا سفر طے کیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ آپ کو طاقتور کے سامنے کھڑا ہونا ہو گا۔ ہمارے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’سارا ملک عدلیہ کی طرف دیکھ رہا ہے، تاریخ آپ کے کردار کو یاد رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ نظر نہیں آ رہا کہ اب آپ طاقتور کے سامنے کھڑنے رہنے کے قابل ہیں کیونکہ اب روزانہ ہمارے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور کوئی ان کے تحفظ کرنے والا دکھائی نہیں دیتا۔‘

  19. دہشت گردی کرو گے تو دہشت گردی کے مقدمے بنیں گے: مریم نواز

    مریم نواز نے لاہور میں ایک ریلی سے خطاب میں کہا کہ عمران خان اور ان کے حامی پوچھتے ہیں کہ ان پر دہشت گردی کے مقدمات کیوں قائم کیے گئے؟ ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کرو گے تو دہشت گردی کے مقدمے بنیں گے۔ ‘

    مریم نواز کا کہنا تھا ’وہ جو جرم کریں گے آئین کی وہی شق لگے گی۔‘

    انھوں نے نو مئی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہاں سب کچھ جلا دیا گیا۔ سب کچھ یرغمال بن گیا تو پوچھتے ہیں کہ ہم پر دہشت گردی کے مقدمے کیو ں بنا رہے ہیں؟‘

    مریم نواز نے نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا ’جو آپ کے ہاتھوں سے کتاب لے کر ماچس کی تیلی پکڑا دے اور آپ کو دہشت گردی کی عدالتوں میں چھوڑ دے کیا وہ آپ کا خیر خواہ ہو سکتا ہے؟ ‘

    ’اب کچھ بچے 10 سال کے لیے جیل جائیں گے‘۔

  20. پی ٹی آئی چھوڑنے والوں سے پوچھیں ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے: عمران خان

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا خطاب کرتے ہوئے کہنا ہے کہ جو لوگ پی ٹی آئی کو چھوڑنے کی پریس کانفرنسز کر رہے ہیں ان سے پوچھیں کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انھیں اور ان کے اہلخانہ اور رشتہ داروں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ ایسا کہاں ہوتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت کے دوران میڈیا اور عدلیہ مکمل طور پر آزاد تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے معیشت کو چھ فیصد پر لا کھڑا کیا۔ ہماری حکومت کے دوران میڈیا میں 80 فیصد تنقید ہماری حکومت پر ہوتی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے کورونا وبا کا بھی مقابلہ کیا اور ملکی معیشت کو ترقی دی، بلین ٹری منصوبہ مکمل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کا جو حال اس وقت ہے وہ مشرف دور میں بھی نہیں تھا۔ اس دور میں میڈیا پر ایسی سختی نہیں تھی جیسی اب ہے۔ میڈیا کی زبان بندی کی گئی ہے۔