کور کمانڈر ہاؤس حملہ: پنجاب پولیس کا یاسمین راشد کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر نو مئی کو ہونے والے حملے کے الزام میں پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما یاسمین راشد کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کیا جا رہا ہے کیونکہ ’عدالت نے پولیس کو کیس کی فرانزک شہادتیں پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔

لائیو کوریج

  1. اسلام آباد ہائی کورٹ نے پرائیویٹ اشخاص کی ٹیلی فونک گفتگو کی ریکارڈنگز اور آڈیو لیکس پر اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پرائیویٹ اشخاص کی ٹیلی فونک گفتگو کی ریکارڈنگز اور آڈیو لیکس پر اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی ہے۔

    عدالت نے وفاق، وزارت داخلہ، وزارت دفاع اور پی ٹی اے کو بھی پٹیشن میں فریق بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    سیکرٹری قومی اسمبلی سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور پٹیشن پر پیراوائز کمنٹس جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    عدالت نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کو آڈیو لیک پر خصوصی کمیٹی میں طلبی کا سمن معطل کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔

    اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے سات صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔

    اعتزاز احسن، مخدوم علی خان، میاں رضا ربانی اور محسن شاہنواز رانجھا کو عدالتی معاونین مقرر کیا گیا ہے۔

    دورانِ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آئین اور قانون شہریوں کی کالز کی سرویلنس اور خفیہ ریکارڈنگ کی اجازت دیتا ہے؟

    عدالت نے سوال کیا کہ اگر فون ریکارڈنگ کی اجازت ہے تو کون سی اتھارٹی یا ایجنسی کس میکنزم کی تحت ریکارڈنگ کر سکتی ہے؟

    عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ آڈیو ریکارڈنگ کو خفیہ رکھنے اور اس کا غلط استعمال روکنے کے حوالے سے کیا سیف گارڈز ہیں؟ اور اگر اجازت نہیں تو شہریوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی پر کون سی اتھارٹی ذمہ دار ہے؟

    عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ غیر قانونی طور پر ریکارڈ کی گئی کالز کو ریلیز کرنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟ اور عدالت نے مزید سوال کیا کہ بتائیں کہ پارلیمنٹ کسی پرائیویٹ شخص کے معاملے پر انکوائری کر سکتی ہے؟

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا رولز اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ اسپیکر پرائیویٹ اشخاص کی گفتگو لیک ہونے پر خصوصی کمیٹی بنائیں؟

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ کے احترام میں تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے خصوصی کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن معطل نہیں کیا جا رہا۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ پٹیشنر نجم الثاقب کو خصوصی کمیٹی کی جانب سے طلب کرنے کا 25 مئی کا سمن آئندہ سماعت تک معطل رہے گا۔

  2. سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023: ترامیم کالعدم قرار دینے کی درخواستوں پر سماعت آج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل میں ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے حوالے سے درخواستوں پر سماعت آج ہو گی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بنچ دن بارہ بجے اس کی سماعت کرے گا۔

    یاد رہے پاکستان تحریک انصاف نے بطور فریق جواب سپریم کورٹ میں جمع کرایا تھا جس میں استدعا کی گئی تھی کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل قانون کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔

    مزید یہ بھی استدعا ک کی گئی تھی کہ قانون کی شقوں 2،3،4،5،7 اور 8 کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔

    جواب میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل قانون عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔ اور اس قانون سے عدلیہ کے اندرونی انتظامی امور میں مداخلت کی گئی یے۔

    سپریم کورٹ نے سپیکر قومی اسمبلی سے اس سے متعلق پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی کا ریکارڈ طلب کر رکھا ہے لیکن قومی اسمبلی نے قرارداد کے ذریعے سپیکر کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ اس کا ریکارڈ سپریم کورٹ کو نہ دیا جائے۔

  3. جیل میں موجود پی ٹی آئی کی 17 خواتین کی شناخت پریڈ سے پہلے رشتہ داروں سے ملاقات ممکن نہیں: حکومتِ پنجاب

    پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ پنجاب بھر میں 9 مئی کی تخریب کاری میں ملوث 300 خواتین میں سے گرفتار ہونے والی خواتین کی کل تعداد 46 تھی جن میں سے اب تک 29 ضمانت پر رہا ہو چکی ہیں جبکہ شناخت پریڈ کے لیے جیل میں موجود خواتین کی تعداد 17 ہو چکی ہے۔

    ٹویٹر پر حکومتِ پنجاب کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق ان خواتین کی شناخت پریڈ ہونے سے پہلے رشتہ داروں سے ملاقات ممکن نہیں۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام گرفتار ملزمان کے لیے پاکستانی قوانین کا اطلاق ایک جیسا ہے۔ قانون کے مطابق نہ تو کسی سے زیادتی ہوگی اور نہ ہی کسی کو کوئی رعایت ملے گی۔

    مزید کہا گیا ہے کہ گرفتار ملزمان کی شناختی پریڈ کا طریقہ کار بھی قانون میں دیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق ملزم کو شناخت سے پہلے گواہ یا کسی اور کو دیکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

    پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ شناخت سے پہلے ملزم کی کسی بھی شخص سے ملاقات بھی نہیں کروائی جاتی۔ چہرے کو چھپانے جیسے قانونی تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکامی پراسیکیوشن کی ناکامی کا باعث بن سکتی ہے۔ ایک نام نہاد سیاسی جماعت پوائنٹ سکورنگ کے لیے خواتین کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کا دعویٰ ہے کہ پنجاب میں 9 سے 15 مئی کے دوران 400 سے زائد خواتین کو حراست میں لیا گیا۔

    سابق وزیراعظم عمران حان کے فوکل پرسن فار سوشل میڈیا اظہر مشوانی نے گذشتہ روز دعویٰ کیا کہ اکثریت کو دو سے تین ہفتوں کی قانونی جدوجہد اور اور ہائی کورٹس میں پٹیشنز کے بعد رہا کیا گیا جبکہ ملیکہ بخاری، سینیٹر چترالی اور مسرت چیمہ جیسی چند خواتین رہنماؤں کو پریس کانفرنس کے بعد رہا کیا گیا۔

    اظہر مشوانی نے دعویٰ کیا کہ اب بھی کم از کم 17 خواتین ’انسداد دہشت گردی کے الزامات‘ میں جیلوں میں ہیں۔ انھوں نے ان خواتین کے ناموں کی فہرست بھی شئیر کی ہے۔

    ان کا دعویٰ ہے کہ دو خواتین اغوا کی گئیں ہیں اور ان کی درخواستیں ہائی کورٹس میں زیر التوا ہیں۔

    MashwaniAzhar

    ،تصویر کا ذریعہMashwaniAzhar

  4. ’عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف بھڑکانے والوں کو ایئر ٹائم نہ دیں‘، پیمرا کی ٹی وی چینلز کو ہدایت

    نو مئی، لاہور

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا نے کہا ہے کہ ’سیاسی جماعتوں کے نمائندہ‘ نفرت پھیلانے والے عناصر عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف بھڑکا رہے ہیں لہذا ملکی امن کے لیے نقصان دہ ایسی سرگرمیوں کا میڈیا پر مکمل بائیکاٹ ہونا چاہیے۔

    31 مئی کو جاری کردہ اپنی ہدایات میں پیمرا نے کہا ہے کہ نو مئی کو ریاستی و عوامی املاک پر حملے کیے گئے، معصوم لوگوں کی جانیں خطرے میں ڈالی گئیں اور ریاست مخالف جذبات ابھارے گئے جس کا مقصد پاکستان کے اداروں کو کمزور کرنا تھا۔

    اس نے کہا ہے کہ ’تمام ریاست مخالف سرگرمیوں کے پیچھے سیاسی جماعت کے جتھے تھے جو سیاسی کارکنان کو اشتعال دلانے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

    پیمرا نے کہا ہے کہ ’تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینل لائسنس ہولڈر کو ہدایت دی جاتی ہے کہ کسی نفرت پھیلانے والے شخص، جرم میں شریک یا سہولت کار کو فروغ نہ دیں۔‘

    اس کی جانب سے تمام لائسنس ہولڈرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ ’ایسے افراد کو ایئر ٹائم دینے سے گریز کریں جو نفرت پھیلاتے ہیں یا عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔‘

    چیئرمین پیمرا کی منظوری کے ساتھ جاری کردہ اس ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ ٹی وی چینلز قومی ہم آہنگی کو فروغ دیں اور نفرت پھیلانے والوں، ہنگامہ آرائی کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کو میڈیا سے ’پوری طرح سکرینڈ آؤٹ کیا جانا چاہیے۔‘

    اس حوالے سے دو نجی چینیلز کے نیوز رومز میں کام کرنے والے ذمہ داران نے بی بی سی کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ پیمرا کا نوٹیفیکیشن آنے کے بعد انھیں چینل انتظامیہ نے ہدایات دی ہیں کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا نہ تو ذکر کریں اور نہ ہی انھیں ٹی وی پر دکھائیں۔

    نیوز روم میں کام کرنے والے ایک صحافی کے مطابق ’حتیٰ کہ ان کی ٹکر بھی چلانے سے منع کیا گیا ہے۔‘ اس نوٹس کی وضاحت سے متعلق پیمرا نے بی بی سی کے سوالوں کے جواب نہیں دیے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں آٹھ اور پانچ روپے فی لیٹر کمی کا اعلان

    وفاقی حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں پانچ روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے۔

    نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جون سے ہو گا جس کے تحت پیٹرول کی قیمت 270 روپے فی لیٹر سے 262 روپے فی لیٹر ہو جائے گی جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 253 روپے ہو جائے گی۔

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے نئی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک ماہ کے دوران ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 30 سے 20 روپے کا ریلیف دیا گیا ہے۔‘

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پچھلے 15 دن میں قیمتوں میں زیادہ رد و بدل نہیں ہوئی نہ ہی روپے کی قدر میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن ہم نے کوشش کی ہے کہ کچھ گنجائش نکال کر عوام کو سہولت دی جائے۔‘

  6. نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سابق وفاقی وزرا کے بیانات قلمبند

    نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سابق وفاقی وزرا علی زیدی، خالد مقبول صدیقی اور فروغ نسیم نے ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو اپنے بیانات قلمبند کروائے۔

    واضح رہے کہ نیب راولپنڈی نے آج سابق وفاقی وزرا اسد عمر، علی زیدی، خالد مقبول صدیقی اور فروغ نسیم کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔

    علی زیدی، خالد مقبول صدیقی اور فروغ نسیم ذاتی حیثیت میں بطور گواہ نیب راولپنڈی دفتر میں پیش ہوئے اور انھوں نے علیحدہ علیحدہ نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔

    تاہم سابق وفاقی وزیر اسد عمر آج نیب طلبی پر نیب راولپنڈی دفتر میں پیش نہیں ہوئے اور ان کی جانب سے وکلا نے بھی کوئی تحریری جواب جمع نہیں کروایا۔

    نیب نے 13 دسمبر 2019 کے کابینہ اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام وزراء کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

  7. عمران خان کی عدالت میں پیشی کا احوال: ’جج تھری ورکنگ ڈیز کا کیوں کہہ رہا ہے‘

  8. خواجہ آصف کا مفتاح اسماعیل سے گلہ

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنی ہی پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملک کا معاشی عدم استحکام اس وقت ان کی جانب سے میڈیا پر نکتہ چینی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘

    سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے خواجہ آصف نے لکھا کہ ’محترم برادرم مفتاح اسماعیل جب سے وزارت سے سبکدوش ہوئے ہیں، ان کا پاکستان کے معاشی حالات پہ تبصرے سننے کو ملتے ہیں۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ ’وہ ن لیگ کا حصہ ہیں، جماعت ان کے علم سے براہ راست استفادہ کر سکتی ھے، ان کی قابلیت مسلمہ ہے لیکن ملک کا معاشی عدم استحکام اس وقت ان کے میڈیا پر نکتہ چینی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ ’مفتاح اسماعیل کی نکتہ چینی حکومت کے لیے مفید بھی ہو سکتی ہے اگر وہ بھی جماعت کو اعتماد میں لیں اور اچھے وقت اور رفاقت کو یاد رکھیں۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ ’جماعت نے ان کو دو دفعہ وزارت خزانہ سے نوازا، ان کو وزارت سے ہٹائے جانے کا گلہ تو ہو سکتا ھے مگر پارٹی کو ٹارگٹ کرنے کا جواز نہیں ہو سکتا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. آئی ایم ایف کو کسی ملک کی اندرونی سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، وزیر مملکت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کو کسی ملک کی اندرونی سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے نیتھن پورٹر کی جانب سے حال ہی میں یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ’ہم حالیہ سیاسی پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں اور اگرچہ ہم مقامی سیاست پر بات نہیں کرتے، تاہم ہم امید کرتے ہیں کہ آئین اور قانون کی حکمرانی کے دائرے میں ایک پرامن راستہ تلاش کیا جائے گا۔‘

    وزیر مملکت سے جب اس بیان کے بارے میں سوال ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ ’کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔‘

    تاہم انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں پتہ کہ انھوں نے کہا کیا ہے۔ سرکاری طور پر ہمیں کچھ نہیں کہا گیا۔ ہم تو وہی دیکھ رہے ہیں جو باقاعدہ طور پر حکومت سے کہا گیا ہے، اس میں ایسی کوئی بات نہیں کی گئی۔‘

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’مجھے تو لگتا ہے کہ یہ کافی غیر معمولی بات ہے جو آئی ایم ایف کہہ رہا ہے۔ اس طرح کی چیزیں عام طور پر آئی ایم ایف نہیں کہتا۔ جہاں تک رول آف لا اور آئین کی بات ہے تو ہم تو خود یہی چاہتے ہیں۔‘

    آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے آئی ایم ایف سے کہا ہے کہ تاخیر آپ کے لیے بھی اچھی نہیں ہے، غیر یقینی کم ہونی چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم نے ایم ڈی آئی ایم ایف کو شرائط پر عمل درآمد اور پروگرام مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور امید ہے کہ نئے بجٹ سے پہلے سٹاف لیول معاہدہ ہو جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آئی ایم ایف سے ڈیل نہ ہوئی تو وزارت خزانہ آنکھیں بند کرکے نہیں بیٹھی، ہر وقت پلان بی بھی موجود ہوتا ہے۔‘

  10. القادر ٹرسٹ کیس: احتساب عدالت نے عمران خان کو 19 جون تک ضمانت دے دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس میں تحریک انصاف چیئرمین عمران خان کی درخوست منظور کرتے ہوئے ان کو 19 جون تک ضمانت دی ہے۔

    واضح رہے کہ بدھ کے دن اسلام آباد ہائیکورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت میں پانچ جون تک توسیع کرتے ہوئے انھیں تین روز میں وفاقی دارالحکومت کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کا حکم دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن کی سربراہی میں دو رکنی ڈویژن بینچ نے عمران خان کو حکم دیا تھا کہ وہ تین ورکنگ ڈیز میں متعلقہ عدالت، یعنی احتساب عدالت، میں پیش ہوں ورنہ ان کی عبوری ضمانت غیر مؤثر ہو جائے گی۔

    عمران خان کے وکلا کی جانب سے بدھ ہی کے دن احتساب عدالت میں ضمانت کے لیے درخواست دائر کی گئی جس کے بعد عمران خان کو 19 جون تک ضمانت دے دی گئی۔

  11. جو ہوا اسے روکنا ہماری اجتماعی ذمہ داری تھی، فواد چوہدری کی جیل میں شاہ محمود قریشی سے ملاقات

    تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرنے والے چند اہم رہنماؤں نے اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے بعد انکشاف کیا کہ سابقہ رہنماؤں کے درمیان مستقبل کے لائحہ عمل کو طے کرنے کے لیے رابطے جاری ہیں۔

    فواد چوہدری، عمران اسماعیل، عامر کیانی اور مولوی محمود نے اڈیالہ جیل میں شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جس کے بعد انھوں نے میڈیا سے گفتگو کی۔

    فواد چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ ’پاکستان کے اندر معاشی، آئینی، سیاسی غیر یقینی موجود ہے جس کی ذمہ دار پی ڈی ایم حکومت ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ان حالات میں اپوزیشن کی پوزیشن خالی نہیں رہنی چاہیے۔ بحران کو حل کرنے کے لیے ہم کوششیں کریں گے۔‘

    فواد چوہدری نے کہا کہ ان کی سابقہ پی ٹی آئی لیڈر شپ سے بات چیت ہوئی ہے۔ ’ہم نے تمام پی ٹی آئی کی سابقہ لیڈر شپ سے بات کی۔ اسد عمر، پرویز خٹک، اسد قیصر، علی زیدی، حماد اظہر، فرخ حبیب، شہزاد وسیم سمیت لوگوں سے رابطہ کیا۔ ہماری شاہ محمود قریشی سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔‘

    فواد چوہدری نے کہا کہ ’ہمارا ماننا ہے کہ حل نکالنا ہے اور ہم حل کی جانب جائیں گے۔ ہم کارکنوں کو جیلوں سے باہر نکالنے کی کوشش کریں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری اجتماعی ذمہ داری تھی کہ جو ہوا وہ نہ ہوتا۔ لیکن بے گناہوں کو باہر نکالنا اب ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حل کیا نکالنا ہے۔‘

  12. جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف شکایات پر سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا باقاعدہ آغاز, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی

    ،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN

    ،تصویر کا کیپشنجسٹس مظاہر علی اکبر نقوی

    سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کیخلاف شکایات پر سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کیخلاف شکایات جوڈیشل کونسل کے ممبران کو بھجوا دی ہیں۔

    سپریم جوڈیشل کونسل کے اراکین میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد احمد علی شیخ اور لاہور ہائیکورٹ کےچیف جسٹس امیر بھٹی شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے پاس بطور چیئرمین جوڈیشل کونسل اجلاس بلانے کا اختیار موجود ہے۔

  13. پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس میں 300 پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں دو روز کی تیزی کے بعد بدھ کے روز مندی کا رجحان غالب رہا جب سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں 341 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں مندی کی وجہ پرافٹ ٹیکنگ کے ساتھ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے سلسلے میں غیر یقینی صورتحال بھی رہے۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ نے اس سلسلے میں کہا کہ دو روز کی تیزی کے بعد پرافٹ ٹیکنگ ہوئی تو اس کے ساتھ آئی ایم ایف اور بجٹ سے متعلق امور نے بھی سٹاک مارکیٹ میں کاروبار پر منفی اثر مرتب کیا۔

  14. عمران خان نے پمز ہسپتال کے ڈاکٹر کو 10 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا

    عمران خان کی لیگل ٹیم نے ان کی میڈیکل رپورٹ تیار کرنے والے پمز ہسپتال کے ڈاکٹر رضوان تاج کو 10 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھیجا ہے۔

    لیگل نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر رضوان نے عمران خان کی ’جعلی میڈیکل رپورٹ‘ تیار کی اور اب اگر وہ 14 روز میں معافی نہیں مانگتے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا اور تمام دستیاب فورمز سے رجوع کیا جائے گا۔

    عمران خان کا وکلا نے مزید کہا ہے کہ ’جعلی میڈیکل رپورٹ‘ بنانے پر ان کے خلاف پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل میں بھی شکایت درج کروائی جائے گی۔

  15. سپریم کورٹ کی آڈیو لیکس پر بنائے گئے کمیشن پر حکم امتناع میں توسیع, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں ’آڈیو لیکس‘ کمیشن کے خلاف کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کی ہے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ روایت کے مطابق ججز پر اعتراضات کی درخواستیں رجسٹرار آفس نہیں لیتا، ججز پر اعتراضات بینچ کے سامنے اٹھائے جاتے ہیں۔

    عدالت نے آڈیو لیکس پر بنائے گئے کمیشن پر حکم امتناع میں توسیع کی ہے۔

    مبینہ آڈیو لیکس تحقیقاتی کمیشن کے خلاف دائر درخواستوں پر مختصر سماعت چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔

    وکیل ریاض حنیف راہی نے بتایا کہ ’عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، اس لیے میں توہین عدالت کی ایک درخواست دائر کرنا چاہتا ہوں جبکہ بینچ پر اعتراض اٹھایا گیا ہے جسے عدالت پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست آفس میں فائل کریں جو مروجہ طریقہ ہے۔ ’بنچ پر اعتراضات کی درخواستوں پر آئندہ سماعت میں سن کر فیصلہ کریں گے۔‘

    چیف جسٹس نے وفاقی حکومت کی درخواست پر نمبر لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’بینچ پر اعتراض کی حکومتی درخواست کو نمبر الاٹ نہیں ہوا ہے۔ اعتراضات پر مبنی درخواستیں کمرہ عدالت میں دی جاتی ہیں۔ آڈیو لیکس کمیشن کا جواب بھی موصول ہوگیا ہے۔‘

    صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کے وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ’انکوائری کمیشن نے جواب میں ٹاک شوز کا بھی ذکر کیا ہے۔ ٹاک شوز میں ایک سال سے عدلیہ کا دفاع کرنے جاتے ہیں اور وہاں جو گفتگو ہوتی ہے وہ عدالت کے سامنے ہے۔ عدالت کے دروازے پر جو زبان استعمال کی گئی وہ ڈھکی چھپی نہیں۔‘

    چیف جسٹس نے وکیل شعیب شاہین کو ہدایت کرتے ہوئے کہا ’کمیشن کے جواب پر تحریری مؤقف جمع کروا دیں۔ ’تحریری موقف آئے گا تو جائزہ لیں گے۔‘

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

  16. اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمران خان کو نو مئی کے بعد درج مقدمات میں دس روز کی عبوری ضمانت

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو نو مئی کے بعد درج مقدمات میں دس روز کی عبوری ضمانت دی ہے اور ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کی پیشی کے لیے سماعت جوڈیشل کمپلیکس میں منتقل کی جائے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق نو مئی کے بعد سے اب تک عمران خان کے خلاف مختلف الزامات کی بنا پر چھ ایف آئی آرز درج ہوئی ہیں۔

    ہائیکورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ کیسز کی سماعت سکیورٹی خدشات کے پیش نظر جوڈیشل کمپلیکس میں کی جائے اور اس حوالے سے انتظامات کیے جائیں۔ خیال رہے کہ ایف ایٹ کچہری میں سکیورٹی خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔

  17. القادر ٹرسٹ کیس: عمران خان کی عبوری ضمانت میں پانچ جون تک توسیع، احتساب عدالت سے رجوع کرنے کا حکم, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت میں پانچ جون تک توسیع کرتے ہوئے انھیں تین روز میں وفاقی دارالحکومت کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔

    جسٹس میاں گل حسن کی سربراہی میں دو رکنی ڈویژن بینچ نے سماعت کے دوران عمران خان کو حکم دیا کہ وہ تین ورکنگ ڈیز میں متعلقہ عدالت، یعنی احتساب عدالت، میں پیش ہوں۔

    عدالت نے فیصلہ میں کہا ہے کہ تین روز کے اندر احتساب عدالت میں رجوع نہ کرنے پر ان کی عبوری ضمانت غیر مؤثر ہوجائے گی۔

    عمران خان کے وکیل نے ان کی عبوری ضمانت میں آٹھ جون تک توسیع کی استدعا کی تھی جسے ہائیکورٹ نے مسترد کیا۔

  18. حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہی چیز ہے، الیکشن کی تاریخ پر دونوں سے مذاکرات چل رہے تھے: عمران خان, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہی چیز ہے، اسٹیبلشمنٹ حکومت چلا رہی ہے جبکہ ان کے الیکشن کی تاریخ پر دونوں سے مذاکرات چل رہے تھے۔

    کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ صدر عارف علوی دستخط نہ بھی کرتے تو عدالتی اصلاحات کا بل دو دن میں قانون بن جانا تھا۔ انھوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ عارف علوی ان کے سوالوں کے جواب نہیں دیتے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی یہ چاہ رہا ہے کہ ایمرجنسی لگ جائے اور انتخابات نہ ہوں تو یہ ان کی خواہش ضرور ہوسکتی ہے لیکن ہم آئین پر چل رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ملک کی تباہی ہوگی۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہماری ملک کی ایجنسیاں ہمارے کارکنوں کو ڈرا دھمکا رہی ہیں، ان کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہیں اور ان کو کچھ ویڈیوز دکھا کر ان کا مورال گِرا رہی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوتے رہے ہیں اور انھیں پیش ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے تحریک انصاف سے مذاکرات نہ کرنے کا بیان دیا ہے اور اسے دہشتگرد تنظیم کہا ہے تو ان کا جواب تھا کہ ’اگر وہ ہم سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے تو ہم بھی ان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔‘

    عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے الیکشن کی تاریخ پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں سے مذاکرات چل رہے تھے۔ ’ویسے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہی چیر ہے اور اسٹیبلشمنٹ ہی حکومت چلا رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سابق آرمی چیف جنرل باجوہ سے لے کر موجودہ اسٹیبلشمنٹ تک سب سے مذاکرات چل رہے تھے۔

  19. بریکنگ, القادر ٹرسٹ کیس: ’بشری بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں‘ نیب کا احتساب عدالت میں مؤقف

    بشری بی بی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران نیب نے احتساب عدالت کو بتایا کہ انھیں بشری بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں۔

    احتساب عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری نہ ہونے کی وجہ سے بشری بی بی کی درخواست ضمانت غیر مؤثر قرار دی ہے۔

    ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ ’ہماری کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں، ہم نے بشریٰ بی بی کے کبھی وارنٹ جاری نہیں کیے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جب وارنٹ ہی نہیں تو درخواست ضمانت خارج کی جائے۔۔۔ عمران خان نے کہا کہ نیب نے بشریٰ بی بی کے وارنٹ جاری کیے، یہ بدنیتی ہے تاکہ نیب کو دبایا جائے۔

    ’نہ ہم نے چھاپہ مارا، نہ حملہ کیا، نہ بشریٰ بی بی کے وارنٹ جاری کیے گئے، عمران خان نیب کے سامنے پیش ہوئے۔ درخواست گزار ہماری تفتیش میں ملزمہ ہے، ملزمہ ہمارے ساتھ انویسٹی گیشن میں تعاون کرے۔‘

    وکیل خواجہ حارث نے جواباً کہا کہ ’اگر ملزمہ کی گرفتاری مطلوب نہیں، اس کے وارنٹ نہیں تو عدالت نہیں کہے گی تفتیش جوائن کرے۔ ہمیں ایک نوٹس موصول نہیں ہوا اور انویسٹی گیشن شروع کر دی گئی۔

    ’عمران خان کے ساتھ بشری بی بی گئی تو نیب نے کہا ہم نے آپ کو بلایا ہی نہیں۔‘

    نیب کے تفتیشی آفیسر میاں عمر ندیم نے عدالت کو بتایا کہ ’ملزمہ بشری بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں۔‘ احتساب عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری نہ ہونے کی وجہ سے بشری بی بی کی درخواست ضمانت غیر مؤثر قرار دی ہے۔

  20. بریکنگ, القادر ٹرسٹ کیس: عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی احتساب عدالت پہنچ گئیں

    القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی درخواست ضمانت پر سماعت کے لیے احتساب عدالت پہنچ گئی ہیں۔

    درخواست پر سماعت احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر کر رہے ہیں۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عمران خان اور بشری بی بی احتساب عدالت کے اندر موجود ہیں۔ احاطہ عدالت میں صرف عمران خان کی گاڑی کو جانے کی اجازت دی گئی جبکہ دیگر دو گاڑیوں کو احتساب عدالت کے باہر روک لیا گیا۔