یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو سروس کا یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
نو جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
وزارت داخلہ نے امریکی سفارتخانے کی درخواست پر نو مئی کے پرتشدد واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے باعث گرفتار ہونے والی معروف ڈیزائنر خدیجہ شاہ کو قونصلر رسائی دینے کی منظوری دے دی ہے۔
بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو سروس کا یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
نو جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ آج انھوں نے کرکٹ کے کھیل میں نہیں بلکہ ایک ہی دن میں قتل اور دہشت گردی سے لے کر بغاوت جیسے 20 مختلف مقدمات میں عدالتوں کے سامنے پیش ہو کر نیا عالمی ریکارڈ بنایا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ ’قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہوئے، میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک دوسرے سے دوسری جگہ دوڑتا رہا ہوں کہ میں اپنے اوپر بنائے گئے 150 مقدمات کی ایک بھی عدالتی سماعت میں پیش ہونے سے محروم نہ رہوں۔‘
انھوں نے اس حد درجے ظلم نے ’امپورٹڈ حکومت‘ کی قلعی مکمل طور پر کھول کر رکھ دی ہے اور اب یہ واضح ہے کہ یہ سب پی ٹی آئی سے الیکشن ہارنے کے خوف میں مبتلا ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ’بدقسمتی سے یہ ہمارے نظام انصاف پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ جس طرح سے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے قوانین کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ آزاد اور جمہوری معاشروں میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی اس طرح خلاف ورزی ناقابل فہم ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
وزارت داخلہ نے امریکی سفارتخانے کی درخواست پر نو مئی کے پرتشدد واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے باعث گرفتار ہونے والی معروف ڈیزائنر خدیجہ شاہ کو قونصلر رسائی دینے کی منظوری دے دی ہے۔
خدیجہ شاہ کے معاملے پر امریکی سفارتخانے نے وزارت داخلہ کو درخواست کی تھی وزارت خارجہ کے ذریعے وزارت داخلہ کو قونصلر رسائی کی درخواست موصول ہوئی تھی۔
خیال رہے کہ خدیجہ شاہ پولیس سے بچنے کے لیے کئی روز روپوش بھی تھیں۔ وزارت داخلہ کا ہوم ڈپارٹمنٹ پنجاب کو امریکی کونسلیٹ لاہور سے تعاون کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
پاکستان تحریکِ انصاف کے سابق رہنما نے نئی سیاسی جماعت استحکامِ پاکستان پارٹی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے، قوم کو امید دلوانے کے لیے نئی جماعت بنا رہے ہیں۔
جہانگیر ترین نے جماعت کا اعلان ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’سیاست میں آنے کے بعد میرا ایک ہی مقصد رہا ہے اور وہ یہ کہ ملک کو فائدہ پہنچایا جائے۔
’میں ایک روایتی سیاست دان نہیں تھا اور ملک کے لیے کچھ کرنے کا خواہش مند تھا۔ اس لیے میں تحریکِ انصاف کا حصہ بنا اور جماعت کو مضبوط بنانے کے لیے دن رات محنت کی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آنے والے دنوں میں کچھ حقائق آپ کے سامنے آئیں گے کہ ہم نے جماعت کو مضبوط بنانے کے لیے کیا کیا۔
’معاملات ویسے نہ چل سکے جیسا ہم چاہتے تھے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ہم نو مئی کے منصوبہ سازوں کو کیفرِ کردار تک نہ پہنچایا تو سیاست دانوں کے گھروں پر حملہ بھی قابلِ قبول سمجھا جائے گا۔‘
جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی معاشرہ اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا۔ گذشتہ چند سالوں میں ہماری معاشرت اور معیشت کو بہت نقصان پہنچایا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کو مسائل کے دلدل سے نکالنے کے لیے کوشش کرنا چاہتے۔ پاکستان کو ایسی قیادت چاہیے جو قوم کو امید کا قومی بیانیہ دے، اس لیے ہم ایک نئی جماعت کا سنگِ میل رکھتے ہیں۔
’ہمارا جمہوری نظام اس وقت مضبوط ہو سکتا ہے جب حکومت اور اپوزیشن اپنے کردار کو سمجھیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آنے والے دنوں میں اپنا سیاسی ایجنڈا اور منشور سامنے لائیں گے۔ آنے والے الیکشن میں ہم بہتر سے بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔
’ہماری ذراعت پر توجہ دینی ہے، آئی ٹی سیکٹر کو جدت دینی ہے، ان افراد کی دیکھ بھال کرنی ہے جن کی ریاست پر ذمہ داری ہے۔‘
اقتصادی سروے میں پاکستان کی فی آمدنی موجودہ مالی سال میں 11.2 فیصد کمی کے بعد 1568 ڈالر تک گر گئی ہے یہ گذشتہ مالی سال میں 1765 ڈالر تھی۔
مالی سال 23-2022 کے اکنامک سروے کے بعد ملک میں فی کس آمدنی میں کمی کی وجہ روپے کی قدر میں کمی، ملکی معاشی ترقی میں کمی ہے۔
پاکستان کی معاشی ترقی موجودہ مالی سال میں 20.9 فیصد رہی جو گذشتہ مالی سال میں 6.1 فیصد رہی۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے پیش کیے جانے والی مالی سال 23-2022 کے اکنامک سروے کے مطابق موجودہ مالی سال زرعی شعبے میں ترقی 1.55 فیصد رہی جو گذشتہ مالی سال 4.27 فیصد رہی۔
صنعتی شعبے کی ترقی موجودہ مالی سال میں منفی 2.94 رہی جو گذشتہ مالی سال میں 6.83 فیصد رہی۔ موجودہ مالی سال میں خدمات کے شعبے میں 0.86 فیصد رہی جو گذشتہ مالی سال میں 6.19 فیصد تھی۔
اکنامک سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ترقی منفی 3.91 فیصد رہی جو گذشتہ مالی سال میں 10.86 فیصد تھی۔ تعمیراتی شعبے میں میں گروتھ 5.53 فیصد منفی رہی جو گذشتہ مالی سال میں میں 1.90 فیصد سے بڑھی تھی۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملک میں روپے کی قدر میں کمی مصنوعی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ڈالر کی قیمت میں 40 سے 50 روپے کا اضافہ مصنوعی ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 278 روپے اور اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت 300 روپے سے زیادہ ہے۔
اسحاق ڈار نے اکنامک سروے پیش کرتے ہوئے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بیرونی کمٹمنٹ پوری کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنی مالی پوزیشن کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا۔ عالمی مارکیٹ میں اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ موجودہ مالی سال بہت چیلنجنگ تھا۔ انھوں نے موجودہ مالی سال کا اکنامک سروے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت کو 2017 والی پوزیشن پر واپس لانا ہے جب ملک دنیا کی 24ویں معیشت تھا جو گذشتہ چند سال میں 47 ویں پر چلا گیا۔
انھوں نے کہا میکرو اکنامک استحکام کے ساتھ دیرپا اور شمولیتی معاشی گروتھ کا ہدف حاصل کرنا ہے جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو مالی دباو تھا اور مہنگائی اور کرنٹ اکاونٹ خسارہ بڑھ رہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بیرونی فنانسنگ کا شعبہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کہا جاتا ہے کہ ڈیفالٹ کر جائیں گے لیکن معیشت میں گراوٹ رک چکی ہے اور معیشت کی بحالی کے لیے تیزی سے کام ہو رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’موجودہ حکومت نے سات فیصد سے زیادہ مالی خسارہ چھوڑا۔ کرنٹ اکاونٹ چار فیصد سے زیادہ ہو گیا اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری گر گئی۔ پاور سیکٹر میں گردشی قرضہ چار سال میں 2400 ارب سے زیادہ ہو گیا۔‘
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں جمعرات کے روز مندی کا رجحان رہا اور اس کے انڈیکس میں تقریباً 500 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار تقریبآ پورے روز فروخت کے دباؤ کا شکار رہا۔ سٹاک مارکیٹ بروکرز کے مطابق سٹاک ایکسچینج بجٹ سے پہلے دباؤ کا شکار نظر آئی جس کی وجہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کا اب تک نہ ہونا ہے جو ملک کے لیے اگلے مالی سال میں مالی مشکلات پیدا کر سکتا پے۔
ان کے مطابق اس فیکٹر کی وجہ سے مارکیٹ میں منفی رجحان پیدا ہوا
پاکستان میں نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی‘ سے وابستہ مقتول اینکر ارشد شریف کی والدہ نے اپنے بیٹے کے قتل کے کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، فیصل واوڈا، سلمان اقبال، مراد سعید اور یوٹیوبر عمران ریاض کو شامل تفتیش کرنے کی درخواست دائر کر دی ہے۔
ارشد شریف کی والدہ نے یہ متفرق درخواست سپریم کورٹ میں اس معاملے میں زیر التوا ازخود نوٹس کیس میں دی ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ارشد شریف کے قتل سے متعلق ان تمام افراد سے شواہد حاصل کیے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کے قتل کی تحقیقات پاکستان میں ہونے والی سازش سے شروع کی جائیں کیونکہ کئی افراد نے ارشد شریف کے قتل کی سازش کے بارے میں جاننے کا دعویٰ کیا ہے۔
ارشد شریف کی والدہ نے دعویٰ کیا کہ انھیں حکام کی طرف نہ تو فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی رپورٹ اور نہ ہی جے آئی ٹی رپورٹ فراہم کی گئی ہے۔
لاہور میں دہشت گردی کی ایک عدالت نے خدیجہ شاہ سمیت دیگر گرفتار خواتین ملزمان کے جسمانی ریمانڈ پر سماعت کے بعد عدالت انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
دوران سماعت سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خدیجہ شاہ، صنم جاوید سے جسمانی ریمانڈ کے دوران ڈنڈا برآمد کروایا ہے۔
پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ایستھر پریز روئز کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کو بتایا گیا ہے کہ ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے جون میں خاتمے تک صرف ایک بورڈ میٹنگ باقی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ موجودہ ای ایف ایف کے تحت حتمی نظرثانی کے لیے پاکستانی حکومت کو ایکسچینج مارکیٹ کی ضروری بحالی اور پروگرام کے مقاصد سے مطابقت رکھنے والے بجٹ کی منظوری درکار ہے جبکہ چھ ارب ڈالر کے خسارے کو پُر کرنے کے لیے فنانسنگ کے قابل اعتماد معاہدے لانا ہوں گے۔
آئی ایم ایف کا بورڈ اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرے گا کہ آیا اسے پروگرام بحال کرنے کی صورت میں بقیہ 2.5 ارب ڈالر میں سے کچھ رقم پاکستان کو جاری کرنی ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ پیشی کے دوران کمرہ عدالت میں کورٹ رپورٹرز سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جو سیاستدان پارٹی چھوڑ کر نئی جماعت میں گئے انھیں گڈ لک کہتا ہوں۔‘
تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سے گذشتہ شام ہوئی ان کی میٹنگ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’شاہ محمود سے میٹنگ کیسی رہنی تھی وہ ایک ماہ جیل گزار کر آئے ہیں۔‘
اس موقع پر عمران خان نے ایک مرتبہ پھر نو مئی کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کہ افر شفاف انکوائری ہوتی ہے تو وہ ثبوت پیش کریں گے۔
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ پرامن احتجاج کرنا تو آئینی حق ہے لیکن جن افراد نے نو مئی کو عمارتیں جلائیں، ان کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ مسائل کا حل صرف اور صرف صاف اور شفاف انتخابات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی لیڈر کو کوئی اور طاقت نہیں بلکہ صرف ووٹرز اور عوام مائنس کرتے ہیں۔
اس سوال کے جواب میں چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ وہ کبھی باہر جانے کا نہیں سوچ سکتتے۔ انھوں نے کہا کہ ’میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ باہر جاؤں۔‘
عمران خان نے دیگر سیاستدانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے تو مال بنایا ہوا ہے، ان کی تو باہر جائیدادیں ہیں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں عملی طور پر جمہوریت ختم ہو چکی ہے، عدلیہ سمیت تمام ادارے ایک سازش کے تحت کمزور کیے جا رہے ہیں۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے کوئٹہ میں وکیل کے قتل پر نامزد کیے جانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں عبوری ضمانت کے لیے درخواست دائر کی ہے۔
عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کے مطابق سابق وزیر اعظم اسلام آباد ہائیکورٹ میں آٹھ مقدمات میں ضمانت میں توسیع کی استدعا کر رہے ہیں جبکہ وکیل کے قتل کے مقدمے کی حفاظتی ضمانت ڈویژن بینچ میں لگی ہوئی ہے۔ اب تک یہ طے نہیں ہوا کہ اس کی سماعت کون سے جج کریں گے۔
خیال رہے کہ 6 جنوری کو کوئٹہ پولیس نے سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل عبدالرزاق کے قتل کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو نامزد کیا تھا۔
یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 109 اور 34 کے علاوہ انسداد دہشتگردی ایکٹ 6 اور7 کے تحت عمران خان کے خلاف درج کیا گیا۔ عبدالرزاق کو گذشتہ منگل اس وقت عالمو چوک کے علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا جب وہ گھر سے ہائیکورٹ کی جانب آ رہے تھے۔
مقتول کے بیٹے ایڈووکیٹ سراج احمد کی مدعیت میں جمیل کاکڑ پولیس سٹیشن میں درج مقدمے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد نے عمران خان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی۔ ’مجھے قوی یقین ہے عمران خان اور پی ٹی آئی کے کارکنان نے اسی رنجش کی بنیاد پر ایئرپورٹ روڈ بالمقابل سوزوکی شوروم میرے والد کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے بوقت نو بج کر 20 منٹ آتشی اسلحہ سے اندھا دھند فائرنگ کر کے ناحق قتل کرکے عوام میں خوف و ہراس اور دہشت پھیلائی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان جن کے مبینہ ایما پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے میرے والد کو قتل کیا، ان کے خلاف آئینی درخواست کی پیشی بدھ کو تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس پیشی کی مناسبت سے والد نے مجھے بتایا تھا کہ اس کیس کے حوالے سے انھیں سنگین دھمکیاں بھی دی جارہی تھیں۔اس لیے وہ رپورٹ کرتے ہیں تاکہ اس سلسلے میں قانونی کارروائی کی جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہJIMFBLEAK
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان میں تلور آئبیکس اور دیگر نایاب پرندوں اور جانوروں کے شکار پر پابندی عائد کر دی ہے۔
وزیراعلیٰ کے اعلان کے مطابق کسی بھی ملکی اور غیر ملکی شخص کو بلوچستان میں تلور سمیت دیگر پرندوں کا شکار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
وزیراعلیٰ کے مطابق ’یو این چارٹر اور بلوچستان وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔‘ انھوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے افسران و اہلکاران کو جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق جس علاقے میں پرندوں اور جانوروں کے شکار کی اطلاع ملی اس ضلع کے ڈی سی اور متعلقہ عملہ کے خلاف کاروائی ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹرافی ہنٹنگ سمیت شکار کے الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ
بلوچستان حکومت نے پرندوں کے شکار کے علاقوں کی تمام الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے آئین میں متعارف کی جانے والی 18 ویں ترمیم کے تحت علاقوں کی الاٹمنٹ اور منسوخی صوبائی حکومت کا اختیا ر ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اپنے اس حق اور اختیار کا بھرپور دفاع کریں گے۔‘ ان کے مطابق حکومت کو اپنے اس اختیار کے استعمال کا آئینی و قانونی تحفظ حاصل ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق صوبائی حکومت کے فیصلے کو کسی قانونی فورم پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے یہ واضح کیا ہے کہ صوبے میں ٹرافی ہنٹنگ پر بھی پابند عائد رہے گی۔
ان کے مطابق معصوم پرندوں اور جانوروں کی جان کی قیمت پر پیسوں اور تعلقات قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر کسی کو حکومت کے فیصلے پر ابہام ہے تو وہ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات سے رابطہ کرے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنگلی حیات کا تحفظ قومی زمہ داری
وزیراعلی بلوچستان نے صوبے کے عوام سے بھی درخواست کی ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنی زمہ داری ادا کریں۔ انھوں نے کہا کہ کاروبار کی غرض سے نایاب پرندے پکڑنے اور انھیں دکانوں اور گھروں میں رکھنے والوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ’بلوچستان کو جنگلی حیات کے لیۓ محفوظ خطہ بنائیں گے۔‘
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب عرفان قادر نے کہا ہے کہ جن اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے معاملے میں کرپشن کا عنصر ملتا ہے ان کے خلاف نیب قانون کے تحت بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ ’یہ کنفیوژن پیدا کی گئی کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے معاملات (صرف) سپریم جوڈیشل کونسل میں جائیں گے۔ آج میں اس چیز کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔‘
’جہاں کرپشن کا ایسا عنصر ملتا ہے، جس میں کرپشن کے فوجداری قوانین عائد ہوتے ہیں، وہاں اس قانون (نیب) کے ذریعے ان (ججز) کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔‘
عرفان قادر نے کہا کہ ’بیوروکریٹس کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی ہوتی ہے، سیاستدانوں کے خلاف نااہلی ہوتی ہے۔ ہماری عدلیہ نے ہی کہا ہے کہ آپ ان کے خلاف قومی احتساب میں جائیں۔
’اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے معاملے سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی جائیں گے اور اگر اس میں کرپشن کا عنصر ہے تو قومی احتساب بیورو میں بھی جورسڈکشن ہے، وہ بھی اسے دیکھ سکتے ہیں۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ ’نیب قانون میں کوئی مقدس گائے نہیں۔۔۔ کچھ جج صاحبان کی آڈیو لیکس آئی ہیں جن میں کرپشن کا عنصر ہے۔‘
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ’پنجاب کے سابق گورنر لطیف کھوسہ مجھ پر لگائے جانے والے قتل کے الزام کے جھوٹے ہونے کی تصدیق اور (اس بےجا الزام تراشی کی) مذمت کرتے ہوئے۔ انھوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ عبدالرزّاق شر کو ذاتی دشمنی اور مخاصمت کی بنا پر قتل کیا گیا۔‘
انھوں نے لطیف کھوسہ کے اس بیان کی ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام