حکومت اگر اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر دے تو ہم ایک ساتھ انتخابات کے لیے تیار ہیں: عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان نے لاہور میں ایک ریلی سے خطاب ہوئے کہا ہے کہ ’کل مذاکرات میں ہمیں صرف ایک بات کہنی ہے کہ حکومت اگر 14 مئی سے پہلے اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر دے تو ہم ایک ساتھ انتخابات کے لیے تیار ہیں۔

لائیو کوریج

  1. آرمی چیف جنرل عاصم منیر چار روزہ دورے پر چین پہنچ گئے

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر چین کے چار روزہ دورے پر بیجنگ پہنچے ہیں۔

    پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آی) کے مطابق دورہِ چین کے پہلے دن جنرل عاصم منیر کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انھیں پیپلز لیبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ہیڈ کوارٹر میں گارڈ آف آنر پیش گیا۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق جنرل عاصم منیر نے چاق و چوبند دستے کا جائزہ لیا جس کے بعد ان کی پی ایل اے آرمی کے کمانڈر کے ساتھ تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں باہمی سلامتی کے امور اور فوجی تعاون کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں فوجی کمانڈروں نے خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے اور فوجی تعاون بڑھانے کا عزم دہرایا۔

    پاکستان کے آرمی چیف نے پی ایل اے کے دستوں کی آپریشنل صلاحیتوں کا مظاہرہ دیکھا اور انھوں نے تربیت کے اعلیٰ معیار اور فوجیوں کی طرف سے دکھائی گئی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف بھی کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، پاکستان اور چین کی افواج کے درمیان دیرینہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے جنرل عاصم منیر چین میں فوجی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہISPR

  2. چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی عدم دستیابی کے باعث بنچ نمبر ایک ڈی لسٹ کیا گیا: ترجمان سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ کی جانب سے آج کی کاز لسٹ میں تبدیلی کی گئی ہے اور بنچ نمر ایک کے مقدمات ڈی لسٹ کر دیے گئے ہیں۔ ترجمان سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ایسا چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی عدم دستیابی کے باعث کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ بنچ نمبر ایک نے چیف جسٹس کی سربراہی میں مقدمات سننا تھے اور اس کے سامنے 12 مقدمات سماعت کے لیے مقرر تھے۔

    ‏اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے بنچ نمبر دو کے مقدمات کی فہرست بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔ جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل بینچ کی کاز لسٹ بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔ اب بنچ نمبر دو کے تمام مقدمات کی سماعت کے لیے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل نیا بنچ تشکیل دیا گیا ہے۔

  3. ایک ساتھ الیکشن پر ’سیاسی اتفاق رائے‘، سپریم کورٹ کی مہلت کا آخری دن آج

    ایک ساتھ الیکشن کی تاریخ پر اتفاق کے لیے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سپریم کورٹ کی دی گئی مہلت کا آج آخری دن ہے۔

    سپریم کورٹ نے ملک بھر میں انتخابات ایک ساتھ کروانے کی درخواستوں پر گذشتہ سماعت میں الیکشن کی تاریخ پر سیاسی اتفاق رائے کے لیے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو مشاورت کا حکم دیا تھا۔

    19 اپریل کی سماعت میں سیاسی قائدین نے عدالت کا بتایا تھا کہ سینیئر سیاسی قیادت عید الفطر کے باعث اپنے آبائی علاقوں کو چلی گئی ہے، اب 26 اپریل کو سینیئر سیاسی قیادت میں اس حوالے سے مشاورت ہو گی جس کی رپورٹ 27 اپریل کو عدالت میں پیش کر دی جائےگی۔ اس پیش رفت کے بعد مزید سماعت 27 اپریل تک ملتوی کر دی گئی تھی۔

  4. جنھوں نے ملک کی حفاظت کرنی ہے وہ مجھے مروانے کی کوشش کرتے ہیں: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے یوم تاتیس کے موقع پر ایک کارکن کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نیوٹرل ہونا تو دور کی بات ہے، اسٹیبلشمنٹ نے ان سے کھلی دشمنی کر رکھی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے کبھی اپنی فوج کے خلاف سیاست نہیں کی۔ یہ جھوٹ ہے کہ 2018 کا الیکشن انھوں نے ہمیں جتوایا۔ ہم نے کبھی ان کی مدد نہیں مانگی۔

    ’میں نیوٹرل امپائر لانے والا کپتان تھا۔ گذشتہ ایک سال میری زندگی کا سب سے مشکل سال تھا۔ ہمارے ملک کی اسٹیبلشمنٹ نے مجھ سے کھلی دشمنی کی۔ نیوٹرل تو دور کی بات ہے، انھوں نے میرے سے دشمنی کی جس کی مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’ہم آزاد پاکستان کے لیے فوج کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ میری پارٹی سے دشمنی، مجھ پر قاتلانہ حملہ اس کی مجھے سمجھ نہیں آ رہی۔

    ’یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہی لوگ جنھوں نے ملک کی حفاظت کرنی ہے وہ مجھے مروانے کی کوشش کریں۔ 27 سال کی جدوجہد میں یہ سب سے مشکل مرحلہ رہا ہے۔۔۔ آپ چوروں سے لڑتے ہو مگر ملک کی اسٹیبلشمنٹ سے کون لڑ سکتا ہے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’جو بھی چاہتا ہے یہ ملک ایک عظیم قوم بنے، وہ چاہے گا کہ یہاں قانون کی حکمرانی ہو۔‘

  5. ’یہ الیکشن نہیں ہونے دے رہے کہ کہیں عمران خان نہ آ جائے‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت اس لیے الیکشن سے بھاگ رہی ہے کیونکہ انھیں ڈر ہے کہیں دو دوبارہ اقتدار میں نہ آجائیں۔

    تحریک انصاف کی یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ’جنرل باجوہ نے مدت ملازمت میں توسیع لینے کے لیے ہمارے اوپر چوروں کو مسلط کیا۔‘

    ’کہیں عمران خان نہ آ جائے تو ڈر سے یہ (حکومت) الیکشن نہیں ہونے دے رہے۔ یہ آئین توڑنے کو تیار ہے۔ چیف جسٹس زبردست سٹینڈ لے کر بیٹھا ہوا ہے، یہ اس کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’انھوں نے انصاف کے نظام کو تباہ کیا، عدلیہ میں تقسیم کرتے ہیں، ججز پر دباؤ ڈالتے ہیں، انھیں بلیک میل کرتے ہیں یا خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    ’ہر وہ ادارہ جو چوری روک سکتا ہے، اسی تباہ کیا جاتا ہے۔‘

  6. ’سوات دھماکے پر سیاسی بیان بازی افسوسناک ہے‘

    سوات دھماکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اعلی اعظم خان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ سوات میں واقع سی ٹی ڈی پولیس سٹیشن سوات میں دھماکے کی تحقیقات جاری ہے اور ابھی تک دھماکے کی وجوہات کا حتمی طور پر تعین نہیں ہوا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ دھماکہ دہشتگردی کا واقعہ ہے یا کسی حادثے کا نتیجہ، فی الحال حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔‘

    ’بظاہر دھماکہ کسی حادثے کا نتیجہ لگتا ہے۔‘

    اعظم خان کہتے ہیں کہ ’تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی دھماکے کی صحیح وجوہات کا تعین ہو سکتا ہے۔ اس وقت کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہے۔ اس سلسلے میں بعض عناصر کی طرف سے سیاسی بیان بازی قابل افسوس ہے۔

    ’بعض سیاسی عناصر واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے لواحقین، شہدا کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔

    نگران وزیر اعلی نے کہا کہ ’وجوہات کا تعین کیے بغیر واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شہدا کی قربانیوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔‘

  7. سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ’آڈیو‘ سُن کر دُکھ ہوا: خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ انھیں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے منسوب کی گئی مبینہ آڈیو لیک سن کر ’بہت دکھ ہوا۔‘

    ٹوئٹر پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’میاں ثاقب صاحب آپ کی آڈیو سنی بہت دکھ ہوا۔ آپ نواز شریف دشمنی میں بہت دور چلے گئے۔ آپ نے 14/15 سال قبل اپنے نواز و شہباز شریف کے ساتھ 2 گلے مجھ سے بیان کیے جو سراسر بے بنیاد ہیں۔

    ’میں میڈیا پہ حقیقت بیان کر سکتا ہوں۔ آپ نے نواز شریف سے بدلہ لے لیا اس کو سزا سنائی۔ اب کتنی دیر اور اس زہر کو پالتے رہیں گے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. فوج کے نظام میں افواہوں کی بنیاد پر محکمانہ کارروائی نہیں ہوتی: ڈی جی آئی ایس پی آر

    عمران خان، باجوہ، فیض

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    ،تصویر کا کیپشنسابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ دائیں جانب، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید بائیں جانب، سابق وزیر اعظم عمران خان درمیان میں

    ایک صحافی نے فوج کے ترجمان سے پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا کہ ’کہا جاتا ہے کہ کمان کی تبدیلی کے ساتھ احتساب بھی ہوتا ہے۔۔۔ تحریک انصاف کہتی ہے کہ جنرل باجوہ کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے جبکہ پی ڈی ایم کہتی ہے کہ جنرل فیض کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے۔۔۔ تو کیا واقعی ان دونوں جرنیلوں نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا، جس پر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی ہونی چاہیے؟‘

    اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر کہتے ہیں کہ فوج سے متعلق کسی بھی خبر کے لیے اپنی نظریں صرف آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز پر رکھیں۔ وہی واحد ذریعہ ہیں۔

    ’آئی ایس پی آر کے کئی فیک اکاؤنٹ سوشل میڈیا پر متحرک ہیں، صرف مصدقہ اکاؤنٹ پر توجہ رکھیں۔ اس طرح آپ اضطرابی قسم کے سوال اور مفروضوں پر نہیں جائیں گے۔‘

    میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’فوج کا اپنا مفصل نظام موجود ہے۔۔۔ اگر کوئی تنقید ہو تو اس پر کارروائی ہوتی ہے مگر یہ نظام حقائق اور ڈیو پراسس پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد تمام فریقین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔‘

    ’اس کا مقصد افواہوں کی بنیاد پر کارروائی نہیں۔‘

  9. ’فوج کی تعیناتی کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس‘

    الیکشن میں فوج کی تعیناتی کیا دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشنز کی وجہ سے فی الحال ممکن نہیں، اس پر وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا تفصیلی مؤقف سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کو بتایا ہے۔ ’آئین کے تحت افواج پاکستان کی تعیناتی کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے۔‘

  10. ’ابتدائی شواہد کے مطابق سوات دھماکہ دہشتگردی کا واقعہ نہیں تھا‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    ،تصویر کا کیپشنمیجر جنرل احمد شریف چوہدری

    سوات میں سی ٹی ڈی تھانے میں دھماکے سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آئی جی کے پی نے بریفنگ میں بتایا کہ سوات دھماکے کے شواہد سے پتا چلتا ہے کہ یہ دہشتگردی کا واقعہ نہیں مگر تفتیش کے بعد حقائق پتا چلیں گے۔ ’پہلی منزل پر مال خانے میں برآمد شدہ گولہ بارود رکھے گئے تھے۔ فوج نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’وہاں بہت سے گولہ بارود کو ڈفیوز کرنا ضروری ہے جس کے لیے ٹیمیں موجود ہیں۔ انکوائری سے صورتحال واضح ہوگی۔‘

    دریں اثنا ان کا کہنا تھا کہ ’چینی شہریوں کی سکیورٹی اولین ترجیح ہے۔ فوج کے لیے یہ ایک حساس معاملہ ہے۔ سی پیک کی سکیورٹی سے چینی حکام مطمئن ہیں۔‘

    پنجاب حکومت کی جانب سے ہزاروں ایکڑ پر محیط زمین فوج کو دیے جانے سے متعلق سوال پر وہ کہتے ہیں کہ فوڈ سکیورٹی پاکستان کے لیے ایک چیلنج ہے۔ ’باقی ترقی یافتہ ملکوں میں بھی حکومتوں نے فوج کو زراعت کے شعبے میں بہتری کے لیے استعمال کیا ہے۔ افواج پاکستان کیا بہتری لا سکتی ہیں، یہ فیصلہ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے کرنا ہے۔‘

  11. حکومت اور فوج میں آئین کے مطابق موجود غیرسیاسی رشتے کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈئ جی

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں اگر کسی فوج کو کسی خاص سیاسی یا مذہبی سوچ کے لیے استعمال کیا گیا تو اس سے انتشار ہی پھیلا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام اور فوج دونوں یہ نہیں چاہیں گے کہ فوج کسی مخصوص سیاسی جماعت سے جڑے۔ ’سیاسی رہنماؤں کو چاہیے کہ ہماری سوچ کو تقویت بخشیں۔ فوج اور سیاستدانوں کو غیر سیاسی رشتہ ہوتا ہے، اسے سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں ہو گا۔‘

    ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب کی گرفتاری سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’ویٹرن (ریٹائرڈ فوجی) ہمارا اثاثہ ہیں۔ افواج پاکستان کے لیے ان کی قربانیاں ہیں۔ ویٹرن گروہ سیاسی تنظیمیں نہیں ہوتیں بلکہ فلاحی کام کرتی ہیں۔ انھیں سیاست نہیں کرنی چاہیے۔‘

    پنجاب میں انتخابات کے لیے فوجی جوان فراہم کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’افواج پاکستان کی تعیناتی آرٹیکل 245 کے تحت وفاقی حکومت کرتی ہے۔ وزارت دفاع نے (اس معاملے میں) الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کو ہمارا جو موقف بتایا ہے وہ زمینی حقائق پر مبنی ہے۔‘

    جب ان سے موجودہ آرمی چیف کے پارلیمان میں دیے گئے بیان ’نئے، پرانے پاکستان کے بجائے ہمارے پاکستان کی بات کرنی چاہیے‘ کی بابت پوچھا گیا تو وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’آرمی چیف نے کہا ہے کہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز اتفاق رائے قائم کریں۔‘

    کیا عمران خان سکیورٹی رسک بن چکے ہیں اور کیا عید کے بعد ملک میں ایمرجنسی یا مارشل لا لگنے جا رہا ہے؟ اس سوال پر جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر آئے روز فوجی حکام کے خلاف صبح شام نامی و بے نامی اکاؤنٹس سے پروپیگنڈا جاری ہے۔ اب آپ پر ہے کہ آپ اسے کس نظر سے دیکھتے ہیں۔‘

  12. ’فوج کے عہدیداروں کے خلاف کچھ باتیں غیر ذمہ دارانہ اور غیر آئینی ہیں‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں مزید کہا ہے کہ فوج کے عہدیداروں کے خلاف کچھ باتیں غیر ذمہ دارانہ اور غیر آئینی ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’آئین پاکستان ہر شہری کو آزادی رائے کا حق دیتا ہے۔ مگر چند قوانین اور بندشیں ہیں۔ فوج کے عہدیداروں کے خلاف کچھ باتیں غیر ذمہ دارانہ اور غیر آئینی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اس کے پیچھے ذاتی اور سیاسی مقاصد ہوں۔‘

    ’فوج کی تربیت اسے اجازت نہیں دیتی کہ ہر بات کا جواب دیا جائے۔ اگر یہی بات چیت صحافیوں یا سیاسی رہنماؤں کے بارے میں کی جائیں تو انھیں جواب کا حق ہے۔ ججز کے لیے ہتک عزت کا قانون موجود ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’اداروں کے بارے میں باتوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔‘

  13. بریکنگ, ’ہمارے لیے تمام سیاستدان، تمام جماعتیں قابل احترام‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری کہتے ہیں کہ ’پاکستانی فوج ایک قومی فوج ہے۔ ہمارے لیے تمام سیاستدان، تمام جماعتیں قابل احترام ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہر شخص کو رائے کا حق ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اعادہ کرتے ہیں کہ اصل طاقت کا محور عوام پاکستان ہیں۔ جہاں تک سیاست کا تعلق ہے، پاکستانی فوج قومی فوج ہے۔ ہمارے لیے تمام سیاستدان، تمام جماعتیں قابل احترام ہیں۔‘

    ’فوج یہ نہیں چاہے گی کہ کسی ایک نظریے یا جماعت کی طرف جائے۔ فوج میں ہر علاقے کی نمائندگی ہے۔۔۔ فوج کا ان سے تعاون دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی حد تک ہوتا ہے۔‘

  14. ’پاکستان اور انڈیا کے دفاعی بجٹ میں فرق ہے‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے دفاعی بجٹ میں فرق ہے، کئی دہائیوں سے ان کا بجٹ زیادہ ہے مگر پاکستانی فوج کا ایک، ایک سپاہی جذبے سے سرشار ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’بھارت کے جارحانہ عزائم اور بے بنیاد الزامات تاریخ کو نہیں بدل سکتے۔ کشمیر کی علامی تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو نہیں بدل سکتے۔ کشمیر نہ کبھی بھارت کا اٹوٹ حصہ رہا ہے، نہ رہے گا۔ آرمی چیف نے پہلا دورہ لائن آف کنٹرول کا کیا اور پیغام دیا کہ پاکستانی فوج دفاع کی صلاحیت رکھتی ہے، ضرورت پڑنے پر لڑائی دشمن کے علاقے میں لے جائی جاسکتی ہے۔‘

    ’کسی بھی مہم جوئی کے خلاف بھرپور جواب دیا جائے گا۔ پلوامہ میں انڈین حکام نے خود منصوبہ بندی کے ساتھ حملہ کروایا۔‘

  15. بریکنگ, پاکستان میں آج کوئی نو گو ایریا نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج، احمد شریف چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ آج پاکستان میں کوئی نو گو ایریا نہیں ہے۔

    منگل کو پریس کانفرنس کے دوران وہ کہتے ہیں کہ اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود پاکستانی فوج کی کامیابیاں ڈھکی چھپی نہیں جنھیں دنیا نے تسلیم کیا ہے، آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔

    ’دہشتگردی کے خلاف جنگ دو دہائیوں کا طویل سفر ہے۔ تمام حکومتوں نے ان آپریشنز کی حمایت کی۔‘

  16. کوشش کی جا رہی ہے کہ ایسا کام کیا جائے کہ توہین عدالت ہو جائے: وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ

    Azam Tarar

    ،تصویر کا ذریعہSENATE.GOV.PK

    وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے کہا ہے کہ ’ایک تکلیف دہ صورت حال ہے کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پارلیمان اور عدلیہ آمنے سامنے آ جائیں اورکوشش کی جا رہی ہے کہ ایسا کام کیا جائے کہ توہین عدالت ہو جائے۔‘

    اعظم نزیر تارڑ نے لاہور میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ ’سابق چیف جسٹس اور ایک سینیئر وکیل کی آڈیو ٹیپ ایک اہم معاملہ ہے۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں سب سے زیادہ متنازعے فیصلے ہوئے اور ماضی کے متنازعہ فیصلوں سے بہت نقصان ہو چکا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’سیاسی معاملات کو عدالت میں نہیں لے جانا چاہیے اورپس پردہ ہونے والی چیزوں کا دور تک شائبہ کورٹ کی پروسیڈنگ پر نہیں پڑنا چاہیے۔‘

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی کے لیے ضروری ہےکہ اداروں پر لوگوں کا اعتماد ہو ۔ اور اس میں عدالت پر لوگوں کا اعتماد سب سے بڑی بات ہے کہ لوگوں میں یہ اعتماد ہو کہ عدالتوں میں فیصلے شفافیت کی بنیاد پر ہوں گے۔

  17. نو پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن سوات میں ادا کردی گئی

    Swat

    ،تصویر کا ذریعہswat Police

    سوات میں گزشتہ روز ہونیوالے دھماکہ کے ہلاک نو پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن سوات میں ادا کردی گئی ہے۔

    حکام کے مطابق جنازہ میں پولیس سربراہ اور سیکورٹی ایجنسی کے افسران نے شرکت کی۔

    جنازے کے بعد میتوں کو ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کے ذریعے آبائی علاقوں میں روانہ کردیا گیا ہے۔

    ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کا تعلق ملاکنڈ، بونیر، شانگلہ، مردان اور سوات سے تھا۔

  18. ’تفتیشی ادارے کھلے ذہن سے تفتیش کررہے ہیں لیکن فی الحال وجہ شارٹ سرکٹ ہی سامنے آرہی ہے‘, بلال احمد، بی بی سی اردو، پشاور

    Swat

    ،تصویر کا ذریعہKPK Police

    سوات کے علاقے کبل میں پیر کے روز ہونے والے دھماکے کے حوالے سے آئی جی پولیس خیبر پختونخوا اخترحیات نے کہا ہے کہ ’ہمارے تفتیشی ادارے کھلے ذہن سے تفتیش کررہے ہیں کہ آیا اتنا نقصان مال خانے میں موجود بارودی مواد یا دہشتگردی کی وجہ سے ہوا ہے لیکن فی الحال شارٹ سرکٹ سے وجہ سامنے آرہی ہے۔‘

    دھماکہ سے متاثرہ سی ٹی ڈی تھانہ کبل کے دورہ کے دوران صحافیوں سے بات چیت میں آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ مال خانہ میں راکٹ لانچر، بارودی سرنگ اور دیگر قسم کا مواد تھا جن کے کیسز مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

    آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے بھی انکوائری کی جائے گی کہ آیا اتنا بارودی مواد یہاں رکھا بھی جاسکتا ہے یا نہیں۔

    دہشت گردی کے متعلق سوال پر پولیس سربراہ کا کہنا تھا ’ابھی تک جو سی سی ٹی وی کیمرہ کی ریکارڈنگ حاصل کی گئی ہے اس میں کسی مشکوک شخص کی شناخت نہیں ہوئی۔‘

    ان کے مطابق ’اس عمارت ہر آنے کے لیے دو گیٹ سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ انتہائی سخت چیکنگ سے گزر کر آتے ہیں۔ حتمی طور پر ریسکیو آپریشن مکمل ہوتے ہی پتہ چل سکے گا۔

    انھوں نے بتایا کہ جو افراد زخمی ہوئے ہیں ان میں بھی کوئی دھماکے کے نشانات رپورٹ نہیں ہوئے۔

  19. بریکنگ, سوات کے علاقے کبل میں دھماکے سے ہلاکتوں کی تعداد 17ہو گئی: ترجمان سوات پولیس

    police

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    سوات میں دھماکے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 17ہوگئی ہے۔

    سوات پولیس کے ترجمان ناصر اقبال کریمی کے مطابق ’ہلاک ہونے والوں میں پولیس اہلکار شامل ہیں جبکہ پانچ میتوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق ’تین سویلین میں دو بچے اور ایک خاتون شامل ہیں۔‘

    ترجمان پولیس کے مطابق ’51 زخمیوں میں سے 47 پولیس اہلکار ہیں جبکہ چار سویلین شامل ہیں۔‘

    پولیس کے مطابق ’عمارت کے ساتھ ملحقہ گھر کو بھی نقصان پہنچا ہے جن کی وجہ سے ان کی اموات ہوئی ہیں ۔‘