حکومت اگر اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر دے تو ہم ایک ساتھ انتخابات کے لیے تیار ہیں: عمران خان
سابق وزیر اعظم عمران خان نے لاہور میں ایک ریلی سے خطاب ہوئے کہا ہے کہ ’کل مذاکرات میں ہمیں صرف ایک بات کہنی ہے کہ حکومت اگر 14 مئی سے پہلے اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر دے تو ہم ایک ساتھ انتخابات کے لیے تیار ہیں۔
لائیو کوریج
بریکنگ, چین کی حکومت نے خنجراب بارڈر تجارت کے لیے سارا سال کھلا رکھنے کی منظوری دے دی
چین کی حکومت نے خنجراب بارڈر تجارت کے لئے سارا سال کھلا رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔
خنجراب بارڈر پر تجارت کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں میں چین نے پاکستان سے برآمد ہونے والی مختلف مصنوعات پر سے عائد پابندیاں بھی ختم کر دی ہیں اور پاکستان سے برآمدات کے لیے بھی تجارتی دروازے کھول دیے ہیں جس سے تمام تاجران مستفید ہو سکیں گے۔
گذشتہ چار سالوں سے پاک چین سرحدی تجارت بند تھی جس کی وجہ سے تاجران معاشی مشکلات کا شکار تھے اور معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔
ایک اعلامیے کے مطابق پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے مطالبے پر چینی حکومت کے اس فیصلے کے بعد وزیر خارجہ نے برآمدی پابندیوں کے خاتمے پر گلگت بلتستان کے عوام کو مبارکباد پیش کی۔
یاد رہے کہ اس حوالے سے گلگت بلتستان اسمبلی میں گزشتہ دنوں پاک چین سرحدی تجارت کے دوبارہ آغاز پر پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر و قائدِ حزب اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی امجد حسین ایڈووکیٹ کی جانب سے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پیش کی گئی تھی جسے منظور کر لیا گیا تھا۔
اس حوالے سے امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاک چین تجارت کے سارا سال جاری رہنے سے گلگت بلتستان سمیت ملک بھر کی مجموعی تجارت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس کا شیڈول تبدیل، اجلاس اب منگل کو ہوگا
پاکستان کی قومی اسمبلی کا مورخہ 3 مئی 2023 بروز بدھ سہ پہر 4 بجے ہونے والے اجلاس کا شیڈول تبدیل کردیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاس کے شیڈول میں تبدیلی کا مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔
پہلے قومی اسمبلی کا اجلاس مورخہ 3 مئی بروز بدھ سہ پہر 4 بجے ہونا تھا لیکن اب اس کے بجائے یہ اجلاس دو مئی 2023 بروز منگل سہ پہر 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو گا۔
بریکنگ, تحریکِ انصاف بالکل احتجاج کرے تاکہ یہ مذاکرات تو ختم ہوں: خواجہ آصف
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف احتجاج کرے تاکہ یہ مذاکرات تو ختم ہوں۔
انھوں نے یہ بات سیالکوٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔
خواجہ آصف کا مذاکرات سے متعلق مزید کہنا تھا کہ ’پتا نہیں جائز طریقے سے بٹھایا گیا ہے یا ناجائز طریقے سے۔ یہ تو ہم احتمامِ حجت کر رہے ہیں۔ باقی ان سے کیا نتیجہ نکلنا ہے، پچھلے ایک سال میں کیا نتیجہ نکلا ہے۔ عمران خان نے جو کرنا ہے کر لے تاکہ انھیں کوئی گلا نہ رہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عدلیہ کہتی ہے کہ اب آپ بیٹھ کے مذاکرات کریں، کہاں آئین میں لکھا ہوا ہے کہ مذاکرات کروائے جائیں گے۔ یہ عدلیہ کا کام نہیں ہے۔‘
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی جانب سے لانگ مارچ کا عندیہ دینے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’لانگ مارچ کریں، بالکل کریں، موسٹ ویلکم، یہ لانگ مارچ کہاں چلیں گے۔ انھوں نے وزیرِ آباد والا لانگ مارچ بھی کسی کے کہنے پر کیا تھا۔
’انھوں نے پہلے اسمبلیوں سے استعفے دیے، آج اسمبلیوں میں بیٹھے ہوتے تو ہمیں مسئلہ ہوتا، اس کے ہر فیصلے سے ہمیں سیاسی فائدہ ہو رہا ہے۔‘
انھوں نے پرویز الٰہی کے گھر پر چھاپے سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ پنجاب حکومت نے کیا ہے اور کسی سے چھپ کر نہیں کیا ہے، سب کے سامنے ہوا اور وہ اس پر کھڑے بھی ہیں۔‘
نواز شریف کی واپسی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے بارے میں بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’غیر یقینی صورتحال میں میاں صاحب کو نہیں بلانا چاہتے، ہم چاہتے ہیں کہ وہ کسی ایسے وقت پر آئیں جن میں ان کے آنے کا سب سے زیادہ فائدہ ہے۔‘
صدر عارف علوی نے قومی احتساب ترمیمی بل 2023 پارلیمنٹ کو دوبارہ غور کے لیے بھجوا دیا
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے صدر عارف علوی نے قومی احتساب ترمیمی بل 2023 پارلیمنٹ کو دستخط کیے بغیر دوبارہ غور کے لیے واپس بھجوا دیا ہے۔
صدر نےکہا ہے کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں پہلے کی گئی ترامیم سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں اور بل اور وزیراعظم کی ایڈوائس میں اس پہلو کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں مزید ترامیم پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے۔
تحریک انصاف کا ’آئین بچاو ملک بچاو‘ ریلی کل دوپہر ایک بجے لبرٹی چوک سے ناصر باغ تک نکالنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان تحریک انصاف نے ’آئین بچاو ملک بچاو‘ ریلی کو کل دوپہر ایک بجے لبرٹی چوک
سے ناصر باغ تک نکالنے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے لاہور کے عہدے داروں کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’پاکستان تحریک انصاف کل آئین بچا ٶ ملک بچاٶ کے تحت ریلی نکالے گی۔ چیئرمین عمران خان تاریخی ریلی کی قیادت کریں گے۔‘
بیان کے مطابق’ریلی کل بروز پیر دوپہر 1 بجے لبرٹی چوک سے ناصر باغ تک نکالی جائے گی۔ ریلی میں مزدوروں سے اظہار یکجہتی بھی کیا جائے گا۔‘
بیان کے مطابق ’چیئرمین عمران خان الیکشن کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کے بارے میں اہم نکات پر بات کریں گے۔‘
واضح رہے کہ منگل کے روز حکومت اور تحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیم کے درمیان ملاقات ہو گی۔
سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کے خلاف ایک اور مقدمہ درج
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کے خلاف مقدمہ اینٹی کرپشن گوجرانوالہ نے سورس رپورٹ پر اپنی مدعیت میں درج کیا ہے۔
ایف آئی آر میں ترقیاتی سکیم کے ٹھیکے کی مد میں پرویز الہی پر دو ارب روپے رشوت لینے کا الزام ہے۔
مقدمہ میں پہلے سے گرفتار ملزم سہیل اصغر چوہدری سمیت ایس ڈی او ہائی وے گجرات اور دیگر شامل ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق ’10 ارب روپے کی لاگت سے گجرات پرانا جی ٹی روڈ کی تعمیر کی گئی جس کا ٹھیکہ حاجی طارق کی کنسٹرکشن کمپنی کو دیا گیا۔‘
مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ’چوہدری پرویز الہی نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے دو ارب روپے لے کر ٹھیکہ دلوایا تھا۔‘
پاکستانی صحافیوں کے خلاف حملوں اور دھمکیوں میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے: فریڈم نیٹ ورک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں صحافیوں کے حقوق کی تنظیم فریڈم نیٹ ورک نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’پاکستان میں صحافیوں ،میڈیا پروفیشنلز اور
میڈیا تنظیموں پر حملوں اور دھمکیوں کے واقعات میں 60 فیصد سے زائد کا اضافہ
ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’سال
دو ہزار اکیس بائیس میں پاکستان میں رونما ہونے والے 86 واقعات کے مقابلے میں
رواں سال 140 واقعات رونما ہوئے ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق ’سال 2022 میں پاکستان میں صحافیوں،میڈیا پروفیشنلز اور
مختلف میڈیا تنظیموں پر حملوں اور انھیں دھمکیاں دینے کے 140 واقعات رونما
ہوئے ہیں جو گزشتہ سال کے واقعات کے مقابلے میں 60 فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق وفاقی
دارالحکومت اسلام آباد صحافیوں کے لئے زیادہ خطرناک رہا۔
فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو
ڈائریکٹر اقبال خٹک کے مطابق ’پاکستان ایشیا کا واحد ملک ہے جہاں سال 2021 میں صحافیوں کے
تحفظ کے بارے میں قانون سازی کی مگر ڈیڑھ سال بعد بھی وفاق اور سندھ میں مذکورہ قانون پر
عمل درآمد ہوسکا نہ ہی کسی ایک صحافی کی بھی مدد کی۔‘
رپورٹ کے مطابق ’خواتین میڈیا پروفیشنلز بشمول ایک خواجہ
سرا خاتون صحافی سمیت آٹھ خواتین صحافیوں اور میڈیا پرفیشنلز کو بھی نشانہ بنایا گیا،
جن میں ایک خاتون صحافی کو سیاسی جلسے کی کوریج کے دوران مارا گیا۔‘
واضح رہے کہ پاکستان سمیت عالمی سطح پر ہر سال 3 مئی کو
پریس فریڈم ڈے منایا جاتا ہے جس کے تناظرمیں فریڈم نیٹ ورک نے اپنی سالانہ
رپورٹ جاری کی ہے۔
’تحریک انصاف مذاکرات کی کامیابی چاہتی ہے لیکن ناکامی کی صورت میں حکمت عملی مرتب کرلی ہے‘
تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں حکمت عملی ترتیب دے لی ہے، عوام بڑی تحریک کے لیے تیار رہیں۔
ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں فواد چوہدری نے لکھا ’تحریک انصاف مذاکرات کی کامیابی چاہتی ہے لیکن ناکامی کی صورت میں حکمت عملی مرتب کرلی ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ آئین کو ردی کا ٹکڑا اور عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھ لیا جائے اور تحریک انصاف خاموش بیٹھ جائے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا ’مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں عوام بڑی تحریک کے لیے تیار ہو جائیں، تحریک کا آغاز کل لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں ریلی سے ہو رہا ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس (ریلی) کا نقطہ عروج ایک تاریخی لانگ مارچ ہو گا۔
پرویز الہی کے گھر جو کچھ ہوا، وہ نگران وزیراعلی کا کیا دھرا ہے: شیخ رشید احمد
،تصویر کا ذریعہAFP
سابق وفاقی وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے چوہدری پرویز الہی کے گھر چھاپے کا الزام نگران وزیر اعلی محسن نقوی پر عائد کیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ ’سعودی عرب جانا ایک بہانہ ہے، پرویز الہی کے گھرجو کچھ ہوا وہ نگران وزیراعلی کا کیا دھرا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
شیخ رشید نے کہا کہ 10 مئی کو آئی ایم ایف کی ایگزیکٹوبورڈ کی میٹنگ میں پاکستان ایجنڈے میں شامل نہیں۔ ان کے مطابق ’حکمران ریلیف میں اورعوام تکلیف میں ہیں۔‘
شیخ رشید نے حکومت پر الزام لگایا کہ ’مذاکرات سپریم کورٹ کو دھوکہ دینے کا ایک بہانہ ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے بعد انتخابات کے معاملے پر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور منگل کو ہو گا۔
حکومت کا پرویز الہی کے گھر چھاپے سے لاتعلقی کا اظہار، وفاقی وزیرسالک حسین کا وزیر اعظم سے انکوائری کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہMoin Zubair
وفاقی وزیر اور چوہدری شجاعت کے صاحبزادے سالک حسین نے کہا ہے کہ ’یہ وفاقی حکومت کا آپریشن نہیں۔ بلکہ اینٹی کرپشن پنجاب کا آپریشن لگ رہا ہے۔‘
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں بات کرتے ہوئے چوہدری سالک نے کہا ’ پرویز الہی کے گھر چھاپے کی وزیر اعظم نےکال کر کے اس کی مذمت کی ہےاور افسوس کااظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم سے اس کی تحقیقات کا اعلان کرنے کی درخواست کروں گا۔
ان کے مطابق’ہرشخص کہہ رہا ہے کہ شاید ہم نے یہ آپریشن خود کروایا ہے۔ پرویز الہی یا کسی کے بھی خلاف ایسا کام ہو، میں نہیں کروا سکتا۔
مجھے سات ٹانکے لگے ان کو خراش بھی نہیں آئی اور مظلوم بھی وہ بن گئے ہیں۔‘
اسی معاملے پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پرویز الہی کے گھر پر ہونے والی کارروائی سے وفاقی حکومت کا تعلق نہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا جس میں اسحاق ڈار نے کہا ’پرویز الہی کے گھر پر ہونے والی کارروائی سے وفاقی حکومت کا تعلق نہیں، واقعے کی وجوہات کا ابھی علم نہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف کے جذبات سے اپنی قیادت کو آگاہ کروں گا۔‘
دوسری جانب نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ’کسی کو غیر قانونی کام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ ’میں مدینہ میں ہوں اور تمام تفصیلات حاصل کر رہا ہوں۔ یہ جان کر افسوس ہوا کہ ٹیم چوہدری پرویز الہی کو گرفتار کرنے گئی لیکن چوہدری شجاعت کے گھر پر دھاوا بول دیا جس میں چوہدری سالک حسین زخمی ہو گئے۔ قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
خیال رہے کہ تحریک انصاف نے صدر پرویز الہی کے گھر میں پولیس آپریشن کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔
پولیس آپریشن کے خلاف پرویز الٰہی کے بیٹے راسخ الٰہی نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں پنجاب حکومت، اینٹی کرپشن اورآئی جی پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب پنجاب پولیس نے پرویز الٰہی سمیت دیگر افراد کے خلاف دہشت گردی کی دفعات پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پرویز الٰہی کے گھر پر چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان میں جنگل کا قانون ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اگر سابق وزیراعظم کو انصاف نہیں مل سکتا تو کسے ملے گا۔‘
عمران خان نے نے یکم مئی کو اسلام آباد، پشاور اور لاہور میں مزدودوں اور آئین کے لیے ریلی نکالنے کا اعلان بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ لاہور کی ریلی کی قیادت وہ خود کریں گے۔
واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان انتخابات کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کا تیسرا دور اب منگل کو ہو گا۔
اس حوالے سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان واضح کر چکے ہیں کہ اگر حکومت اسمبلیاں توڑ دیتی ہے تو وہ ایک ساتھ انتخابات کے لیے تیار ہیں۔
عمران خان کے مطابق ’14مئی سے پہلے اسمبلی تحلیل کردی تو ہم پورے پاکستان میں الیکشن کے لیے تیار ہیں، بجٹ کے بعد اسمبلی تحلیل کرنے کی بات میں مجھے بدنیتی نظر آتی ہے۔‘
بریکنگ, ’صرف سپریم کورٹ ہماری مدد کر سکتی ہے‘ عمران خان
عمران خان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے 15 ججوں سے کہتا ہوں خدا کے لیے ایک ہو جائیں، آپس میں اتحاد پیدا کریں اور آئین کے ساتھ کھڑے ہوں اور اس ملک کو بچائیں۔
زمان پارک میں کارکنوں سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ صرف سپریم کورٹ ہماری مدد کر سکتی ہے۔
انھوں نے سپریم کورٹ کے ججوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اپنی ذاتی لڑائی چھوڑ دیں۔
انھوں نے پرویز الٰہی کے گھر پر چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان میں جنگل کا قانون ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر سابق وزیراعظم کو انصاف نہیں مل سکتا تو کسے ملے گا۔
انھوں نے یکم مئی کو اسلام آباد، پشاور اور لاہور میں مزدودوں اور آئین کے لیے ریلی نکالنے کا اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ لاہور کی ریلی کی قیادت میں خود کروں گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’اسحاق ڈار نے بتایا کہ پرویز الٰہی کے گھر پر چھاپہ وفاقی حکومت کا کام نہیں، یہ پنجاب حکومت نے کیا ہے‘ شاہ محمود قریشی
تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار سے ٹیلیفونگ رابطہ کیا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے پرویز الٰہی فیملی سے ملاقات کے حوالے سے اسحاق ڈار کو آگاہ کیا ہے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار نے کل کے واقعہ سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
ان کے مطابق اسحاق ڈار نے بتایا کہ ’یہ وفاقی حکومت کا کام نہیں، یہ پنجاب حکومت نے کیا ہے۔‘
شاہ محمود قریشی کے مطابق ’اسحاق ڈار نے بتایا کہ اس پر رانا ثنا اللہ سے بھی بات کی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نے پرویز الٰہی کے گھر پر پر چھاپے پر افسوس کیا۔
بریکنگ, عوام اور فوج کے درمیان دشمن دراڑ ڈالنے کی سازشوں میں سرگرم ہے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر
،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 147ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن عوام اور مسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی سازشوں میں سرگرم ہے۔
پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خظاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل کا کہنا تھا کہ ریاست کا محور پاکستان کے عوام ہیں، ہماری پہلی اور اہم ذمہ داری ریاست سے وفاداری اور پاکستان کی مسلح افواج کے آئینی کردار سے وابستگی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی فرض مادر وطن کی حفاظت سے زیادہ اہم نہیں ہے۔‘
آرمی چیف نے اپنی تقریر کے دوران دہشتگردی کے خلاف جنگ، افغانستان میں امن اور مسئلہ کشمیر پر تفصیل سے بات کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’امن کے لیے ہماری کوششوں کو کسی صورت کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم اپنے وطن کے دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔‘
جنرل عاصم منیر کا مزید کہنا تھا کہ ’دشمن ریاستی اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنا چاہتا ہے، دہشت گردی کی جنگ میں عوام اور ریاست کا کلیدی کردار ہے۔
’افواج پاکستان دشمن کی تعداد یا وسائل سے مرعوب نہیں ہوتی، ظاہری اور چھپے دشمن کو پہچاننا ہو گا اور اس ضمن میں حقیقت اور ابہام میں فرق رکھنا ہو گا۔‘
پاکستان فوج کے سربراہ کا کہنا تھا ’دشمن عوام اور مسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی سازشوں میں سرگرم ہے، عوام اور پاکستان فوج کے باہمی رشتے کو قائم و دائم رکھا جائے گا۔‘
انھوں نے افغانستان میں امن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان میں استحکام ہماری سلامتی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔‘
جنرل عاصم منیر نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے ان کی تاریخی جدوجہد اور حَقِ خود ارادیت کے لیے اُن کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گا۔
’عالمی برادری کو جان لینا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے بغیر علاقائی امن ہمیشہ مبہم رہے گا۔‘
پنجاب پولیس نے پرویز الٰہی سمیت دیگر افراد کے خلاف دہشت گردی کی دفعات پر مقدمہ درج کر لیا
،تصویر کا ذریعہTwitter/PTI
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی کی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران ’پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ اور پیٹرول بم پھینکنے‘ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
یہ ایف آئی آر تھانہ غالب مارکیٹ میں دہشت گردی کی 13 دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔
ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’آپریشن کے دوران ہونے والی مزاحمت کے پیش نظر پولیس نے مقدمے کا اندراج کیا ہے.‘
پرویز الٰہی کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ اس مقدمے میں ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ چھاپے کے دوران مزاحمت پر 19 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔
ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’اینٹی کرپشن ٹیم نے پرویز الٰہی کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر پر چھاپہ مارا تو اس دوران رہائشگاہ میں موجود 40 سے 50 افراد نے پتھراؤ اور تشدد شروع کر دیا، چھاپہ مار ٹیم پر پیٹرول پھینکا گیا اور اس دوران پرویز الٰہی فرار ہو گئے۔‘
خیال رہے کہ تحریک انصاف نے صدر پرویز الٰہی کے گھر میں پولیس آپریشن کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔
پولیس آپریشن کے خلاف پرویز الٰہی کے بیٹے راسخ الٰہی نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں پنجاب حکومت، اینٹی کرپشن اورآئی جی پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔
عمران خان کی صدارت میں آج اجلاس میں مذاکرات جاری رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کریں گے: فواد چوہدری
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چودہری نے ایک ٹویٹ میں پی ڈی ایم حکومت کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’پرویز الہیٰ کے گھر پر حملہ، علی امین گنڈا پور کو ضمانت کے باوجود حبس بے جا میں رکھنا اور ورکرز کی گرفتاریاں مذاکراتی عمل کو بے معنی بنا رہی ہیں۔
’اگر حکومتی مذاکراتی ٹیم یقین دہانی کے بعد ماحول بہتر رکھنے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی تو وہ بڑے فیصلے کیسے کرے گی؟‘
انھوں نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ ’عمران خان کی صدارت میں آج اجلاس میں مذاکرات جاری رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کریں گے۔‘
یہ کون لوگ ہیں جو گرفتاری سے پہلے ہی مظلوم بن رہے ہیں: عطا تارڑ
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کے معاونِ خصوصی عطا تارڑ نے پرویز الٰہی کے گھر پر چھاپے کے بعد ایک ٹویٹ میں ان کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ ’بیٹی کو جیل سے باپ کے سامنے جھوٹے کیس میں گرفتار کیا گیا، کسی کی گاڑی میں منشیات ڈالی گئی، کسی کو تین سال کے لئے بند کر دیا گیا، کسی کو صاف پانی میں بلا کر آشیانہ میں گرفتار کیا۔‘
’یہ کون لوگ ہیں کہ جو اربوں روپے لوٹنے کے باوجود گرفتاری سے پہلے ہی مظلوم بن رہے ہیں۔ ضمانت نہیں ہے۔‘
خیال رہے کہ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
عمران خان کا بلٹ پروف سر اور ہمارا شوق شہادت: محمد حنیف کا کالم
پولیس پرویز الہی کو گرفتاری کرنے میں ناکام
لاہور میں پولیس اور اینٹی کرپشن کی مشترکہ ٹیم پی ٹی آئی کے صدر چوہدری پرویز الہی کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ رات پولیس اور اینٹی کرپشن کی ٹیم نے لاہور میں پی ٹی آئی صدر چوہدری پرویز الہی کے گھر پر چھاپا مارا تھا تاہم کئی گھنٹوں کے بعد بھی ان کو گرفتار نہیں کر سکی۔
اس دوران پولیس نے گھریلو ملازمین سمیت 15 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے جانے والے افراد سے تصدیق ہوئی کہ پرویز الہی گھر میں موجود ہیں۔
واضح رہے کہ پرویز الہی کا گھر ایک بڑے کمپاؤنڈ میں واقع ہے جہاں حکومتی اتحادی چوہدری شجاعت حسین کے خاندان کے گھر بھی موجود ہیں۔
ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چھٹہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ لوگ ہم سے تعاون نہیں کر رہے۔ پولیس اور ہماری ٹیم پر پتھراو کیا گیا اور پیٹرول بم مارے گئے۔‘
کل قوم کو نیا روڈ میپ دوں گا، عمران خان
تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے لاہور میں سابق وزیر اعلی اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کے گھر پر پولیس کے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کل ’قوم کو جمہوریت اور آئین کی تباہی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا روڈ میپ دیں گے۔‘
عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’ملک میں آئین، سپریم کورٹ کے فیصلوں یا بنیادی انسانی حقوق کا کوئی احترام نہیں اور صرف جنگل کا قانون باقی رہ گیا ہے۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’چوہدری پرویز الہی کے گھر پر غیر قانونی چھاپے میں اس بات کا خیال بھی نہیں رکھا گیا کہ وہاں خواتین موجود ہیں۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’بس بہت ہو گیا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پرویز الہی کے گھر پر پولیس کا چھاپہ، سات ملازمین کو حراست میں لے لیا گیا
،تصویر کا ذریعہMOIN ZUBAIR
لاہور میں پولیس اور اینٹی کرپشن کی ٹیم کی جانب سے سابق وزیر اعلی پنجاب اور پاکستان تحریک انصاف رہنما چوہدری پرویز الہی کے گھر سے سات ملازمین کو حراست میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پولیس چوہدری پرویز الہی کے خلاف جمعے کے دن ہی گجرانوالہ میں درج ہونے والے ایک مقدمے میں ان کو گرفتار کرنے پہنچی تھی جس کے بعد ان کے گھر کے مرکزی گیٹ کو بکتر بند گاڑی کی مدد سے توڑا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق گھر سے سات ملازمین کو حراست میں لیا گیا ہے تاہم پولیس کے مطابق کسی خاتون کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
اس موقع پر ایڈیشنل ڈی جی اینٹی کرپشن وقاص حسن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چوہدری پرویز الہی کے خلاف ایک رات قبل ہی مقدمہ درج ہوا تھا۔
پولیس کے چھاپے کے دوران پی ڈی ایم حکومت کے اتحادی چوہدری شجاعت حسین کے گھر کو بھی نقصان پہنچا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری شافع حسین کا کہنا تھا کہ ’پولیس کو پتہ ہی نہیں ہے کہ کیا کرنا ہے۔‘