حکومت اگر اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر دے تو ہم ایک ساتھ انتخابات کے لیے تیار ہیں: عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان نے لاہور میں ایک ریلی سے خطاب ہوئے کہا ہے کہ ’کل مذاکرات میں ہمیں صرف ایک بات کہنی ہے کہ حکومت اگر 14 مئی سے پہلے اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر دے تو ہم ایک ساتھ انتخابات کے لیے تیار ہیں۔

لائیو کوریج

  1. اٹارنی جنرل وزیراعظم سے ملاقات کے لیے سپریم کورٹ سے روانہ

    SC

    وزیراعظم شہباز شریف نے انتخابات سے متعلق کیس میں مشاورت کے لیے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو طلب کر لیا ہے۔

    اٹارنی جنرل وزیراعظم سے ملاقات کے لیے سپریم کورٹ سے روانہ ہو گئے۔

    اٹارنی جنرل وزیراعظم سے ہدایات لے کر انتخابات کیس میں پیش ہوں گے اور سپریم کورٹ کے حکم پر آج اب تک سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والی پیش رفت سے آگا کریں گے۔

  2. سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہوا تو فیصلہ سڑکوں پر ہو گا‘

    asad umer

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ’کل پارلیمنٹ میں اعلان بغاوت کیا گیا اور ذاتی حملے کیے گئے۔ آئین صرف سپریم کورٹ کے لیے نہیں بنا، عوام آئین کے تحفظ کے لیے باہر نکلیں گے۔‘

    اسد عمر نے کہا ’اگر آئین کو توڑا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ عوام کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔‘

    اسد عمر کا دعویٰ تھا کہ آصف ذرداری، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان فیصلہ کر چکے ہیں کہ وہ شہباز شریف کی گرفتاری کی قربانی کے لیے تیار ہیں۔

    اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں رہنما پی ٹی آئی فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ ’حکومت انتخابات سے فرار حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اگر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہوا تو پاکستانی عوام فیصلہ سڑکوں پر کرے گی۔‘

  3. چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ ملک بھرمیں ایک ساتھ انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت آج کرے گا, شہزاد ملک

    SC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ آج کرے گا۔

    رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری نئے روسٹر کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال آج صبح ساڑھے گیارہ بجے تک چیمبرورک کریں گے جس کے بعد چیف جسٹس عمر کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ کیسز کی سماعت کرے گا۔

    واضح رہے سپریم کورٹ نے20 اپریل کو ہونے والی سماعت کے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ’ 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات سے متعلق فیصلہ برقرار ہے۔‘ عدالت حکم نامے کے مطابق سیاستدانوں کے آپس کے تمام اختلافات پر مذاکرات کا اصل فورم سیاسی ادارے ہیں، عدالت کو ایک ہی دن پورے ملک میں انتخابات کے لیے مذاکراتی عمل پر کوئی اعتراض نہیں۔‘

    عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ ’تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کے فیصلے پر عملدرآمد کرانے کی پابند ہیں۔‘

    سپریم کورٹ نے حکم نامہ میں سیاسی رہنماوں کی مزید ملاقات کے لیے 26 اپریل کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 27 اپریل تک ملتوی کی تھی۔

    حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ ’27 اپریل تک سیاسی رابطوں اور ڈائیلاگ کی پیش رفت رپورٹ جمع کروائی جائےگی۔‘

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو حکم دیا تھا کہ ’27 اپریل تک پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے لیے 21 ارب روپے جاری کیے جائیں۔‘

  4. ڈیڈ لائن دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا، عدالت کو آج بتائیں گے: رانا ثنا اللہ

    rana sana ullah

    وفاقی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے انتخابات کی تاریخ پر پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر کہا ہے کہ ’عدالت کو یہ بتائیں گے کہ اس طرح ڈیڈ لائن دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔‘

    رانا ثنا اللہ نے جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت کے ڈیڈ لائن دینے سے یا اس طرح سے وقت مقرر کرنے سے کہ ابھی جائیں اور کل آ کر بتائیں تو اس طرح یہ مذاکرات نہیں ہو سکتے بلکہ عدالت کے اس عمل کی وجہ سے مذاکرات کی جو آمادگی تحریک انصاف میں تھی وہ ختم ہو گئی۔‘

    وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ یہ طرزعمل مذاکرات نہ کرنے اور نہ کروانے والی بات ہے۔

    ان کے مطابق ’جس دن انھوں نے دیکھا کہ عدالت نے اپنے 14 مئی کے فیصلے کو نافذ کرنے اوراس کے اٹل ہونے کی بات کی ہے، تو اس کے بعد وہ جو پہلے کہتے تھے کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور ہم بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، انھوں نے باہر آ کر کہا کہ ہم جو بات کریں گے وہ سپریم کورٹ میں کریں گے اور ہم 14 مئی سے آگے جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

    رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ نے جو کام پہلے مسترد کیا وہ بعد میں اس کی اجازت کیسے دے گی۔

    رانا ثنا اللہ کے مطابق ’آئین میں درج ہے کہ کوئی اخراجات حکومت پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر نہیں کر سکتی 14 مئی کا انتحاب تو سب کو نظر آ رہا ہے کہ نہیں ہو سکتا۔‘

  5. ’تین رکنی بینچ نے قومی اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی کی‘ سپیکر قومی اسمبلی کا چیف جسٹس کو خط

    راجہ پرویز اشرف

    ،تصویر کا ذریعہNA

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھے خط میں کہا کہ الیکشن فنڈز کا اجرا قومی اسمبلی کا اختیار ہے جس میں اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے مداخلت کی گئی ہے۔

    پانچ صفحات پر مشتمل اس خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے، جس میں سٹیٹ بینک کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے انتخابی اخراجات کی مد میں منتقل کیے جائیں، سے قومی اسمبلی کے قانون سازی اور بجٹ کے اختیار میں مداخلت کی گئی ہے۔

    خط میں راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ تین رکنی بینچ نے آئینی پراسس کو نظر انداز کیا، اس نے وفاقی حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے جو کہ قومی اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی ہے۔

    ’عدالتوں کے پاس یہ اختیار نہیں کہ آئین کو دوبارہ لکھیں یا پارلیمان کی خودمختاری کو نظر انداز کریں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ سیاسی معاملات میں پڑنے سے گریز کرے اور انھیں پارلیمان و سیاسی جماعتوں کو حل کرنے دے۔

    ’میں معزز چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز سے مطالبہ کرتا ہوں کہ پارلیمان کے قانونی سازی کے اختیار کا احترام کریں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہمیں آئین کی بالادستی کے لیے ایک ساتھ کام کرنا ہوگا اور اپنی اپنی آئینی حدود میں رہنا ہوگا۔

  6. اغواکاروں سے فائرنگ کے تبادلے میں بلوچستان پولیس انسپیکٹر سمیت چھ اہلکار ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    طیب عمرانی

    ،تصویر کا ذریعہAziz Marri

    ،تصویر کا کیپشنفائرنگ کے تبادلے میں بلوچستان پولیس کے انسپیکٹر طیب عمرانی (درمیان میں) سمیت چھ اہلکار ہلاک ہوئے

    بلوچستان اور سندھ کے سرحدی علاقے میں اغواکاروں سے فائرنگ کے تبادلے میں بلوچستان پولیس کے ایک انسپیکٹر سمیت چھ اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

    ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کا تعلق جعفعرآباد پولیس ہے۔

    جعفرآباد پولییس کے ایس ایس پی سردارحسن موسیٰ خیل نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز ضلع میں ڈیرہ مراد جمالی سے ایک رائس مل مالک کے بیٹے فرقان سومرو کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جعفرآباد پولیس مغوی کی بازیابی کے لیے اغوا کاروں کا پیچھا کر رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ضلع جعفرآباد سے متصل سندھ کے ضلع جیکب آباد کے علاقے جاگیرمیں پولیس اہلکاروں اوراغواکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے تبادلے میں پولیس کے انسپیکٹر طیب عمرانی سمیت چھ اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ دو اہلکار زخمی ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ زخمی اہلکاروں کو علاج کے لیے لاڑکانہ منتقل کردیا گیا ہے۔

    درایں اثنا وزیراعلی بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو اور وزیر داخلہ بلوچستان میرضیا اللہ لانگو نے پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

    انھوں نے الگ الگ اپنے بیانات میں کہا کہ پولیس اہلکاروں نے جرات و بہادری کے ساتھ سماج دشمن عناصر کا مقابلہ کیا۔ انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لائے گی۔

  7. اتحادی جماعتوں کا ایک ہی دن ملک بھر میں الیکشن کرانے کا متفقہ فیصلہ

    اتحادی جماعتیں

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    حکمران جماعتوں نے موجودہ حکومت کی آئینی مدت کی تکمیل پر ایک ہی دن ملک بھر میں الیکشن کرانے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

    آج کے اجلاس کے بعد اتحادی جماعتوں نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ حکومت کی آئینی مدت کی تکمیل پر ایک ہی دن ملک بھر میں انتخابات کرائے جائیں۔ ’اجلاس نے وزیراعظم شہباز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔۔۔ شہباز شریف جو بھی فیصلہ کریں گے، اتحاد کی تمام جماعتیں اس کا بھرپور ساتھ دیں گی۔‘

    اتحادی جماعتوں نے ’افسوس کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئینی طریقہ کار کو پس پشت ڈالتے ہوئے پھر حکم جاری کر دیا کہ وفاقی حکومت قومی اسمبلی کی منظوری کے بغیر رقم جاری کرے جو آئین میں دی گئی سکیم سے متصادم ہے۔

    ’سپریم کورٹ کے فیصلے میں اس آبزرویشن پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ وزیراعظم ایوان کی اکثریت اور اعتماد کھو چکے ہیں۔ یہ آبزوریشن پارلیمان اور وزیر اعظم کی توہین کے مترادف اور قابل مذمت ہیں۔ سپریم کورٹ پارلیمان اور ایوان کی رائے کا احترام کرے۔ پارلیمان وزیراعظم کے ساتھ کھڑی ہے اور اُن پر مکمل اعتماد کرتی ہے۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’اجلاس نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، وکیل خواجہ طارق رحیم اور ان کی اہلیہ سے متعلق سامنے آنے والی آڈیوز پر بھی غور کیا اور ان میں سامنے آنے والی گفتگو کے نکات کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اس گفتگو سے سازش آشکار ہوگئی ہے۔ اجلاس نے قرار دیا کہ ان آڈیوز نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ فیصلے آئین کے مطابق نہیں بلکہ ذاتی عناد، پسند و ناپسند کی بنیاد پر ہو رہے ہیں۔‘

  8. بریکنگ, توہین پارلیمان کا معاملہ استحقاق کمیٹی میں اٹھایا جائے، عدالت اپنے اندر مذاکرات کرائے: بلاول

    بلاول بھٹو

    ،تصویر کا ذریعہNA

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پارلیمان کے فیصلے کو اعلیٰ عدلیہ نے جس طرح نظر انداز کیا ’یہ توہین پارلیمان ہے‘ اور اس معاملے کو استحقاق کمیٹی میں اٹھایا جانا چاہیے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پارلیمان کو نظر انداز کرنے کے حکم کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ یہ جمہوریت کے خلاف ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ آئین کے تحت نوے روز میں الیکشن کی شق ہم نے نہیں، کسی اور نے توڑی ہے۔ ’ارکان نے استعفے دیے جو سپیکر نے منظور کیے۔ جب آپ نے استعفے منظور کیے تو ان نشستوں پر ساٹھ روز میں ضمنی الیکشن ہونے تھے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہماری اعلیٰ عدلیہ نے اپنا فیصلہ سنایا اور ضمنی الیکشن نوے روز سے بھی آگے چلے گئے۔ سپریم کورٹ کا اقلیتی فیصلہ پنجاب کے لیے ہے، خیبر پختونخوا کے لیے نہیں۔‘

    ’ہم آئین کی خلاف ورزی نہیں چاہتے۔ وہ ادارہ جس نے آئین کی پاسداری کرنی ہے وہ کیسے عندیہ دے سکتے ہیں کہ پارلیمان اور اس کے فیصلے کو بھول جائیں اور عدالت کے اقلیتی بینچ کا فیصلہ مان لیں۔

    ’ہم پارلیمان کو نظر انداز کرنے کے حکم کو ماننے کو تیار نہیں۔ یہ جمہوریت کے خلاف ہے۔ ہم فیصلہ کریں گے کہ عوام کا پیسہ کہاں خرچ ہوگا۔ ہم صرف پارلیمان کے حکم کے پابند ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’اگر اعلیٰ عدلیہ اپنے فیصلے سے غیر آئینی فیصلہ لینا چاہتی ہے تو یہ توہین پارلیمان ہے۔ سپریم کورٹ کے اقلیتی بینچ نے پارلیمان کی توہین کی ہے۔‘

    انھوں نے ’توہین پارلیمان‘ کا معاملہ استحقاق کمیٹی میں اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رائے ہے کہ ’جب بھی کوئی معزز رکن یا پورے ایوان کی توہین کرتا ہے تو اس کے لیے کمیٹی موجود ہے۔ عدلیہ کی جانب سے کی گئی توہین استحقاق کمیٹی میں اٹھانی چاہیے۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ پورے ملک میں ایک روز عام انتخابات ہوں۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’اگر اس بات پر لوگ اڑے ہوئے ہیں کہ عدالت کی پنچایت میں مذاکرات کیے جائیں تو اس کی کامیابی کے امکان کم ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ عدالت اپنے حکم سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کرانے کے بجائے اپنے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع کرے۔

  9. سپیکر قومی اسمبلی چیف جسٹس، سپریم کورٹ کے دیگر ججز کو خط لکھیں گے

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ وہ ارکان قومی اسمبلی کے خیالات چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے باقی ججز کو خط کے ذریعے بتائیں گے۔

    انھوں نے اجلاس کے دوران کہا کہ ملک ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہے۔ انھوں نے خط لکھنے کی تجویز پر ایوان سے رائے لی اور اس پر ارکان نے ان کی حمایت کی۔

    ’میں آج ہی کوشش کروں گا کہ آپ کے جذبات کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے خط لکھوں۔‘

  10. ڈیفالٹ کی آوازیں آ رہی تھیں مگر ایک ادائیگی میں بھی تاخیر نہیں ہوئی: اسحاق ڈار

    اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا مزید کہنا ہے کہ اس ایوان کو فیصلے کا حق دینا ہوگا اور ’ہم کابینہ کو کبھی غیر آئینی کام کا نہیں کہیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایوان میں بیٹھے لوگ کیا غلام ہیں؟ ہم ان پیسوں کی ادائیگی نہیں کرسکتے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے معاشی مسائل اس حکومت نے جنم نہیں دیے۔ مسائل کے حل کے لیے وقت لگے گا، ڈیفالٹ کی آوازیں آ رہی تھیں، اللہ کے فضل سے ایک ادائیگی میں بھی تاخیر نہیں ہوئی۔

    ’کیا ہو جائے گا اگر الیکشن کچھ ماہ تاخیر سے ہوگا۔ الیکشن اکتوبر میں ہونے دیں۔ ’ایک سیاسی جماعت نے تماشہ لگایا ہوا ہے۔ مگر اللہ کے فضل سے ہم ناامید نہیں ہے۔ دنیا پریشان ہے کہ ہم تمام وعدے کیسے پورے کر رہے ہیں۔‘

    ان کے مطابق آئی ایف ایم کی تمام شرائط پوری کر دی گئی ہیں مگر ایجنڈا کچھ اور ہے۔ ’ہم نے ملک کو کھڑا کرنا ہے، یہاں صلاحیت ہے۔ صرف کچھ مہینوں کی بات ہے۔ آدھے سے زیادہ وقت مقدمات میں لگ رہا ہے۔‘

    ’اس ملک کو تباہ کرنے والوں کو منظر عام پر لانا چاہیے۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ آئین کے تحت 90 روز میں الیکشن نہ ہوئے ہوں۔‘

  11. سٹیٹ بینک عدالت کے حکم پر الیکشن کے لیے فنڈز جاری نہیں کر سکتا: اسحاق ڈار

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سٹیٹ بینک کے پاس یہ اختیار نہیں کہ عدالت کے حکم پر الیکشن کے لیے فنڈز جاری کرے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’اگر عدالت کا فیصلہ ہے کہ پیسے دے دیں تو اس کے باوجود کوئی پیسے دینے پر مجبور نہیں کر سکتا۔‘

    ان کے مطابق ہاؤس نے بل پیش کیا جسے کابینہ نے منظور کیا مگر ایوان نے مسترد کر دیا، سٹیٹ بینک کو سپریم کورٹ کے حکم پر رقم کی منتقلی کا اختیار نہیں کیونکہ آئین میں ایسا کوئی نظام نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش تھی۔

    ان کے مطابق پورے ملک میں ایک ہی روز الیکشن پر 47.4 ارب کے اخراجات آئیں گے جبکہ الگ الگ الیکشن کرانے پر اضافی 14 ارب روپے کے اخراجات آئیں گے۔

  12. الیکشن فنڈز کا اجرا پارلیمان کا استحقاق ہے: وزیر قانون

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ الیکشن فنڈز کا اجرا پارلیمان کا استحقاق ہے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سپریم کورٹ کے اقلیتی فیصلے پر عملدرآمد کے پابند نہیں۔ ’ایوان کا آئینی اختیار ہے کہ اپنے پہلے کیے گئے فیصلوں پر نظرثانی کرے۔ یہ اختیار کسی حکومت یا ادارے کا نہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’ایک شخص کی انا پر پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں توڑ دی گئیں۔‘

  13. صوبائی اسمبلیوں میں الیکشن کا معاملہ: کابینہ نے وزارت خزانہ کی سمری پارلیمنٹ کو بھیجنے کی منظوری دے دی

    وفاقی کابینہ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے عام انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے کی فراہمی کے حوالے سے وزارت خزانہ کی سمری پارلیمنٹ کو بھیجنے کی منظوری دی ہے۔

    خیال رہے کہ آج وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا تھا۔

  14. آئین کو نہ ماننے کا رویہ ناقابل قبول ہے: فواد چوہدری

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے آئین کو نہ ماننے کا رویہ ان کی جماعت کے لیے ناقابل قبول ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’شہباز شریف کہہ رہے ہیں کہ انتخابات اکتوبر میں ہونے چاہییں، آئین کہتا ہے کہ اسمبلیاں ٹوٹنے کے نوے دن کے اندر الیکشن ہونے ہیں۔ کابینہ اپنا فیصلہ پارلیمان کو بھیج دے اور دو تہائی اکثریت سے آئین کو بدل لے، دوسری صورت میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق الیکشن کروائیں۔ وفاق کا معاملہ بعد میں آئے گا۔

    ’آئین کو صرف بیانوں اور قراردادوں سے معطل نہیں کیا جا سکتا، آئین کو نہ ماننے کا رویہ ناقابل قبول ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. بریکنگ, پی ٹی آئی کے مستعفی ارکانِ اسمبلی کو پارلیمنٹ ہاؤس داخلے سے روک دیا گیا

    پارلیمنٹ ہاؤس کی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے مستعفی ارکان قومی اسمبلی کو عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ پر ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کے مستعفی ارکان قومی اسمبلی پارلیمنٹ ہاؤس کے دروازے پر کھڑے ہیں جو کہ بند رکھا گیا ہے۔ وہ حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں اور اجلاس میں شرکت میں مطالبہ کر رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ ترجمان قومی اسمبلی نے واضح کیا تھا کہ پی ٹی آئی کے مستعفی ارکان کو اجلاس میں شرکت کے لیے داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ اس بیان میں کہا گیا تھا کہ اب وہ اسمبلی کے رکن نہیں رہے اور کسی اجنبی کو اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں۔

    دریں اثنا وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو کوئی ڈکٹیشن نہیں دے سکتا اور ’ہماری حدود میں تجاوز کیا گیا تو آئین میں رہتے ہوئے اقدامات کیے جائیں گے۔‘

    ’ہم پارلیمان اور عدلیہ کے درمیان ٹکراؤ نہیں چاہتے۔ اس سے ملک کا نقصان ہوگا۔‘

  16. چیف جسٹس کی سربراہی میں خصوصی بینچ کل انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کرے گا

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ نئی کاز لسٹ کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں کل تین رکنی خصوصی بینچ عام انتخابات کے حوالے سے درخواست کی سماعت کرے گا۔

    اس بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی شامل ہیں۔ ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کل دن ساڑھے گیارہ بجے ہوگی۔

  17. بریکنگ, عام انتخابات کے حوالے سے ثالثی اور پنچایت لگانا سپریم کورٹ کا کام نہیں: شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں عام انتخابات کے حوالے سے ثالثی اور پنچایت لگانا سپریم کورٹ کا کام نہیں بلکہ آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے۔

    اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے اجلاس میں وزیر اعظم نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے پاس ثالثی اور پنچایت کا حق نہیں۔ اس بارے میں کہ ایک روز الیکشن ہونے چاہییں اور کب ہونے چاہییں، اتحادی جماعتوں میں اتفاق ہے کہ الیکشن نومبر میں ہوں گے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’13 اگست کو پارلیمان کی مدت ختم ہوگی۔ تین ماہ بعد نومبر میں عام انتخابات کی تاریخ بنتی ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی کی قیادت نے ملکی چیلنجز کے حل کرنے کے لیے تجاویز کرنے کے بجائے ان کا استحصال کیا ہے۔‘

    ’ہم چاہتے ہیں پارلیمان کے فیصلے کا احترام کیا جائے۔۔۔ حکومت نے تین رکنی بینچ کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔‘

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’ملک کے اندر انتشار پیدا کرنے میں کوئی کمی نہیں کی گئی، معاشرے میں تقسیم کی گئی۔۔۔ حتی کہ افواج پاکستان اور ان کی قیادت کو بھی معاف نہیں کیا گیا۔ بیرون ملک پی ٹی آئی کے ایجنٹوں نے جو کردار ادا کیا وہ کوئی دشمن بھی نہیں کرسکتا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’فیصلے پارلیمان نے کرنے ہیں۔ بات چیت کے بارے میں ایک رائے ہے کہ گفتگو کا راستہ بند نہیں کرنا چاہیے۔ اس کا طریقہ طے کرسکتے ہیں۔ ایک رائے ہے کہ سپیکر کے ذریعے بات پہنچائیں اور پارلیمانی کمیٹی اس میں گنجائش پیدا کر سکتی ہے تاکہ قوم جان سکے کہ اتحادی جماعتوں نے ایک روز ہی پورے میں الیکشن کرانے کی کوششیں کیں۔

  18. صوبائی اسمبلیوں کی بحالی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی کی اسمبلیوں کی بحالی کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ دونوں اسمبلیاں وزرائے اعلی کے صوابیدی اختیار پر تحلیل نہیں ہوئیں، عمران خان نے اعتراف کیا کہ دونوں اسمبلیاں جنرل باجوہ کے کہنے پر توڑی ہیں مگر جنرل باجوہ اور عمران خان کا اسمبلی تحلیل کے وزیر اعلی کے اختیار سے کوئی تعلق نہیں۔

    اس میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ پنجاب اور کے پی کی اسمبلیاں بحال کرنے کا حکم دے۔ ’ سپریم کورٹ سمجھتی ہے کہ الیکشن ضروری ہے تو انتخابات کے 21 ارب کے فنڈز تحریک انصاف سے وصول کیے جائے۔‘

  19. ’پی ٹی آئی کے مستعفی ارکان قومی اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوسکتے‘

    قومی اسمبلی

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیا نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی اجلاس میں تحریک انصاف کے مستعفی ارکان شریک نہیں ہوسکتے۔

    اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سپیکر قومی اسمبلی کی آئینی ماہرین کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں سے متعلق سندھ ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کیا۔‘

    ترجمان قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ ’سندھ ہائیکورٹ نے سپیکر قومی اسمبلی کے فیصلے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ مستعفی ہونے والے ارکان اب رکن قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے۔

    ’کسی بھی مستعفی رکن کو ایوان میں آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ قومی اسمبلی رولز کے مطابق کوئی اجنبی ایوان میں داخل نہیں ہوسکتا۔‘

  20. جائزے کے بعد پی ٹی آئی کا پنجاب اسمبلی کے 21 حلقوں میں انتخابی امیدوار تبدیل کرنے کا اعلان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان تحریکِ انصاف نے جائزے کے بعد پنجاب اسمبلی کے 21 حلقوں پر امیدوار تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ نو ایسے حلقوں پر بھی امیدواروں کا اعلان کیا گیا جن پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکا تھا۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ ’21 ٹکٹ تبدیل کیے گئے ہیں اور نو ان سیٹوں پر ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں جب پر پہلے ٹکٹ جاری نہیں ہوئے تھے۔‘

    جن سیٹوں پر ٹکٹس تبدیل کیے گئے ہیں یا نئے جاری کیے گئے ہیں ان کی تفصیل درجِ ذیل ہے:

    • پی پی 7 سے کرنل شبیر کی جگہ طارق مرتضی کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے
    • پی پی 10 سے طیبہ ابراہیم کی جگہ کرنل اجمل صابر کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے
    • پی پی 11 سے چوہدری عدنان کی جگہ عارف عباسی کوٹکٹ دیا گیا ہے
    • پی پی 73 سے خالق داد کی جگہ سہیل گجر کو پی ٹی آئی ٹکٹ دیا گیا ہے
    • پی پی 79 سے فیصل گھمن کی جگہ نذیر صوبی کو ٹکٹ دیا گیا ہے
    • پی پی 50 سے عرفان عابد کی جگہ افضل مہیس کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے
    • پی پی 57 سے علی وکیل خان کو ٹکٹ دیا گیا ہے
    • پی پی 61 سے رانا نذیر کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے
    • پی پی 62 سے طارق گجر کی جگہ محمد علی کو ٹکٹ دیا گیا ہے
    • پی پی 137 سے ملک اقبال کی جگہ ابوذر چدھڑ کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے
    • پی پی 162 لاہورسے فیاض بھٹی کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے
    • پی پی 101سے احسان مشتاق طور کی جگہ شہیر داؤد کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے
    • پی پی 108 سے حافظ عطا اللہ کی جگہ ندیم آفتاب سدھو کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے
    • پی پی 185 سے راؤ حسن سکندر کی جگہ سلیم صادق کو ٹکٹ جاری کر دیا گیا ہے
    • پی پی 189سے فیاض قاسم وٹو کی جگہ چاند بی بی کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے
    • پی پی 194 سے خان امیر حمزہ کی جگہ سلمان صفدر کو ٹکٹ جاری کیا گیا
    • پی پی 197 سے رانا آفتاب کی جگہ شکیل نیازی کو ٹکٹ دیا گیا
    • پی پی 198 سے ارشاد حسن کی جگہ محمد دمرہ کو ٹکٹ مل گیا
    • پی پی 201 سے عادل سعید گجر کی جگہ میجر سرور کو ٹکٹ جاری کر دیا گیا
    • پی پی 234 سے زاہد اقبال کو ٹکٹ دیا گیا
    • پی پی 251 سے احمد یار کو ٹکٹ جاری
    • پی پی 253 سے اصغر جوئیہ کو ٹکٹ دیا گیا ہے
    • پی پی 257 سے چوہدری جاہنزیب کی جگہ راجہ سلیم کو ٹکٹ جاری
    • پی پی 266 سے رئیس کمال کی جگہ غلام محمد سولنگی کو ٹکٹ جاری
    • پی پی 269 سے پیر مزمل جعفر کی جگہ احسان الحق نولٹھیہ کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے
    • پی پی271 سے نیاز کشگوریہ کی جگہ نادیہ کھر کو ٹکٹ دیا گیا
    • پی پی 272 سے جان یونس کو ٹکٹ جاری کیا گیا
    • پی پی 273 سے اقبال پتافی کی جگہ عمران کو ٹکٹ جاری
    • پی پی 276 سے ڈاکٹر زرینہ کی جگہ معظم جتوئی کو ٹکٹ جاری کر دیا گیا
    • پی پی 176 سے اشفاق کمبوہ کی جگہ مہر سلیم کو ٹکٹ جاری کر دیا گیا ہے
    • پی پی 177 سے بیرسٹر شاہد مسعود کو ٹکٹ جاری۔

    تحریک انصاف کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پی پی 118 سے تاحال کوئی ٹکٹ نہیں جاری نہیں کیا گیا۔