حکومت اگر اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر دے تو ہم ایک ساتھ انتخابات کے لیے تیار ہیں: عمران خان
سابق وزیر اعظم عمران خان نے لاہور میں ایک ریلی سے خطاب ہوئے کہا ہے کہ ’کل مذاکرات میں ہمیں صرف ایک بات کہنی ہے کہ حکومت اگر 14 مئی سے پہلے اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر دے تو ہم ایک ساتھ انتخابات کے لیے تیار ہیں۔
لائیو کوریج
پنجاب میں انتخابات کے لیے فنڈز ملے یا نہیں؟ سپریم کورٹ کی الیکشن کمیشن کو آج رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پنجاب میں الیکشن کے انعقاد کے لیے درکار فنڈز پر پیش رفت کا جواب طلب کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کروانے کے لیے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ الیکشن کمیشن کو درکار فنڈز جاری کرے۔
اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں سوال کیا گیا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے لیے فنڈز ملے یا نہیں۔
سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ جمعے کے دن عدالت کو رپورٹ دی جائے۔
طاقتور اور خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے والوں نے میرے خلاف ایف آئی آر درج کروائی: عمران خان, شہزاد ملک بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے خلاف تھانہ رمنا میں درج ’بغاوت پر اکسانے‘ کی دفع کے تحت درج مقدمے میں زمانت قبل از گرفتاری حاصل کرنے کے لیے پیش ہوں گے۔
عمران خان کی جانب سے اس حوالے سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’کل میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک انتہائی عجیب ایف آئی آر کے حوالے سے پیش ہوں گا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم جنگل کے قانون تلے جی رہے ہیں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’طاقتور اور خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے والوں نے میرے خلاف پاکستان کے خلاف بغاوت کرنے کے حوالے سے ایف آئی آر درج کروائی ہے۔‘
پی ٹی آئی رہنما مسرت جمشید چیمہ کے مطابق اس دوران پی ٹی آئی کارکنان کی کثیر تعداد بھی ان کے ساتھ ہو گی۔
پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کا رجحان، دس ارب ڈالر سے زائد ہو گئے, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کا رجحان مسلسل دوسرے ہفتے بھی جاری رہا اور ملک کے پاس مجموعی زرمبادلہ ذخائر دس ارب ڈالر سے زائد ہو گئے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران تین کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا جس کے بعد یہ زخائر 4.462 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
کمرشل بینکوں کے پاس موجود 5.561 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں
مرکزی بینک کے مطابق ملک کے پاس مجموعی طور پر 10.024 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم، کل دوبارہ بات ہو گی: یوسف رضا گیلانی
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کا اختتام ہو گیا ہے اور کل تین بجے دوبارہ دونوں فریق بیٹھیں گے۔
مذاکرات کے بعد اسحاق ڈار، یوسف رضا گیلانی اور شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے بات کی۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا، اب اس حوالے سے کل دوبارہ بات چیت ہو گی۔
بریکنگ, الیکشن کے معاملے پر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا آغاز
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان الیکشن کے انعقاد کے معاملے پر مذاکرات کا پہلا دور شروع ہو گیا۔ مذاکرات پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم میں ہو رہے ہیں۔
حکومتی وفد میں اسحاق ڈار، اعظم نذیر تارڑ، سعد رفیق، یوسف رضا گیلانی، نوید قمر اور کشور زہرا شامل ہیں جبکہ پی ٹی آئی وفد میں شاہ محمود قریشی، علی ظفر اور فواد چوہدری شامل ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان تحریک انصاف کا وفد حکومتی مذاکراتی وفد سے ملاقات کے لیے روانہ
،تصویر کا ذریعہPTI
پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تشکیل دی گئی تین رکنی کمیٹی میں فواد چوہدری، سینیٹر علی ظفر اور شاہ محمود قریشی شامل ہیں اور آج ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے حکمت عملی طے کی گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کا وفد حکومتی مذاکراتی وفد سے ملاقات کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔
بریکنگ, عدلیہ کی آئین کی خلاف ورزی پر پارلیمان صدائے احتجاج بلند کرے تو توہینِ عدالت کے وار کی دھمکی دی جاتی ہے: شہباز شریف
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے بعد تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آئین کو بنانا اور اس میں ترمیم کرنا پارلیمان کا اختیار ہے، عدلیہ کو آئین ری رائٹ کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔‘
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’یہ آج ہاؤس نے اپنا فیصلہ دے ددیا ہےیہ ہو نہیں سکتا پارلیمان قانون بنائے اور عدلیہ اس پر سٹے دے دے۔‘
شہباز شریف نے اپنی تقریر میں مزید کہنا تھا کہ ’آج ایوان کے فیصلوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے لیکن پارلیمان نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔ ہم تین رکنی بینچ کا فیصلہ نہیں مانتے۔‘
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر پارلیمان اس قانونی خلاف ورزی پر صدائے احتجاج بلند کرتی ہے تو اس پر توہینِ عدالت کی تلوار لٹکتی رہتی ہے۔‘
شہباز شریف کا مزید کہنا ہے کہ ’فیصلہ کیا ہے کہ سینیٹ میں مذاکرات کے لیے اپنے نمائندے بھیجیں گے لیکن اس کا ایجنڈا کیا ہو گا یہ اصل سوال ہے، اس کا ایجنڈا ملک میں ایک ساتھ انتخبات ہو گا۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’عدلیہ کی آئین کی خلاف ورزی پر پارلیمان صدائے احتجاج بلند کرے تو توہینِ عدالت کے وار کی دھمکی دی جاتی ہے۔‘
بریکنگ, وزیرِ اعظم شہباز شریف قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے بلاول بھٹو کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریک پر ووٹنگ کے بعد اعلان کیا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پارلیمان میں 180 ووٹ حاصل کر کے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد تمام ممبران کا شکریہ ادا کیا ہے۔
بریکنگ, بلاول بھٹو زرداری نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا اعتماد کا ووٹ لینے کے حوالے سے قرارداد پیش کر دی
پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان وزیرِ اعظم شہباز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں گذشتہ سماعت پر جسٹس منیب اختر کی جانب سے ریمارکس دیے گئے تھے کہ کیونکہ پارلیمان نے فنڈ جاری کرنے کے حوالے سے قرار داد منظور نہیں کر سکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وزیرِ اعظم تو پارلیمان کا اعتماد ہی کھو چکے ہیں۔
بریکنگ, آج ہی مذاکرات کے لیے تیار ہیں، حکومت فرار اختیار کر رہی ہے: شاہ محمود قریشی
پاکستان
تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے ہم آج
شام چار بجے بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔ حکومت مذاکرات کے ذریعے الیکشن سے فرار کا
راستہ اختیار کر رہی ہے۔
ملک
میں ایک ہی روز میں انتخابات کروانے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے
باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو ہم کہتے ہیں
کہ آج ہی مذاکرات ہوں۔ انھوں نے کہا کہ آج ہم نے عدالت میں وضاحت دے دی ہے۔
انھوں
نے کہا کہ ہم نے ٹکٹ دینے کا معاملہ مکمل کر لیا ہے اور اگر آج فیصلہ نہیں ہوا تو 14
مئی کو الیکشن ہو گا۔ شاہ محمود قریشی نے
کہا کہ سیاسی قیادت کا امتحان ہے۔
اس
موقع پر فواد چوہدری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی آئین سے ماورا
نہیں ہے اور نوے روز میں الیکشن ہونا لازمی ہیں۔ میں، شاہ محمود قریشی اور علی ظفر
یہاں موجود ہیں۔ حکومت آئے اور مذاکرات کرے۔ اگر مذاکرات سنجیدہ ہوئے تو زیادہ وقت
نہیں لگے گا۔
عدالت مناسب حکم نامہ جاری کرے گی: چیف جسٹس
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا ’سیاستدانوں کو خود سے مسائل ک حل نکالنا چاہیے، مذاکرات کے زریعے حل نہ نکلا تو آئین بھی موجود ہے اور ہمارا فیصلہ بھی۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے’نام دینے میں کیا سائنس ہے، کیا حکومت نے اپنے 5 نام دیے ہیں۔‘
جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ’پی ٹی آئی چاہے تو 3 نام دے دے، پانچ لازمی دیں۔ حکومت کے نام تین چار گھنٹے میں فائنل ہو جائیں گے۔‘
تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے دلائل میں کہا ’ماحول سازگار ہو گا تو مذاکرات ممکن ہوں گے، مذاکرات کے لیے وقت مقرر کرنا لازمی ہے ورنہ ںاخیر سے مقصد سے فوت ہو جائے گا۔‘
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا’ 1977 میں سیاسی حالات اتنے کشیدہ نہیں تھے جتنے آج ہیں۔‘
پورے ملک ایک ہی دن الیکشن کروانے سے متعلق کیس کی آج کی سماعت مکمل ہو گئی۔
عدالت نے ریمارکس میں کہا ’ ہم نہ کوئی ہدایت جاری کر رہے ہیں او نہ ہی کوئی ٹائم لائن جاری کر رہے ہیں۔ اس کیس کا تحریری فیصلہ جاری کریں گے۔
عدالت مناسب حکم نامہ جاری کرے گی۔‘
بریکنگ, قومی مفاد اور آئین کے تحفظ کے لیے اتفاق نہ ہوا تو جیسا ہے ویسے ہی چلے گا: چیف جسٹس, شہزاد ملک، اسلام آباد
چیف جسٹس نے تمام ملک میں ایک ہی روز انتحابات کروانے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران شاہ محمود قریشی کی استدعا پرریمارکس میں کہا کہ ’یہ سیاسی باتیں ہیں، ہم کیس کے بارے میں بات کر رہے ہیں، آپ کہہ رہے ہیں کہ سنجیدگی کے ساتھ رابطہ نہیں کیا گیا۔‘
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ہم آج ہی بیٹھنے کو تیار ہے ،حکومت نے آئین اورعدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کا فیصلہ کر رکھا ہے۔‘
فاروق ایچ نائیک نے دلائل میں کہا کہ ’شاہ محمود قریشی نے جو تقریر کی ایسے اتفاق رائے نہیں ہوسکتا، چیئرمین سینیٹ کو نام دیں کل ہی بیٹھنے کو تیار ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ’مذاکرات کے معاملے میں صبر اور تحمل سے کام لینا ہوگا۔ آج توقع تھی کہ دونوں فریقین کی ملاقات ہوگی۔ عدالت کا کوئی حکم نہیں صرف تجویز ہے، قومی مفاد اور آئین کے تحفظ کے لیے اتفاق نہ ہوا تو جیسا ہے ویسے ہی چلے گا۔‘
اٹارنی جنرل نے عدالت کے روبرو کہا ’کوشش ہوگی کہ دونوں کمیٹیوں کی آج پہلی ملاقات ہوجائے۔
رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری نے کہا کہ ’سپریم کورٹ بھی آئین تبدیل نہیں کرسکتی، سیاسی جماعتوں کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں ملنا چاہیے،ایسا ہوا تو کوئی بھی حکومت الیکشن کے لیے فنڈز جاری نہیں کرے گی، سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے بھی آئین تبدیل نہیں کرسکتا۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ’مذاکرات تو پہلے ہی ہوجانے چاہیے تھے،عدالتی فیصلے، آئین اور قانون موجود ہے۔‘
بریکنگ, پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا: شاہ محمود قریشی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
شاہ محمود قریشی نے سماعت کے دوران روسٹرم پر کہا کہ ’حکومت کے اصرار پر سپرپم کورٹ نے وقت دیا۔ پی ڈی ایم میں آج کے مذاکرات کے حوالے سے کوئی اتفاق رائے دکھائی نہیں دے رہا۔‘
انھوں نے کہا کہ جے یو آئی آج بھی مذاکرات سے انکاری ہے اور ایسے میں کیسے سمجھا جائے کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے۔
انھوں نے عدالت میں کہا ’ہم تو عدالتی حکم کے مطابق یہ لکھ کر لائے تھے کہ کن شرائط پر مذاکرات ہوں گے لیکن یہاں کوئی سنجیدہ نہیں۔‘
انھوں نے حکومت کی جانب سے اسد قیصر سے رابطے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے اسد قیصر سے رابطہ کیا گیا اور رابطہ کرنے والوں سے کہا گیا کہ مجھ سے رابطہ کیا جائے ۔ ابھی تک حکومت نے رابطہ نہیں کیا ہے۔‘
انھوں نے گذشتہ روز پارلیمنٹ کی کارروائی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کل ایوان میں رول31 کے حوالے سے بات کی گئی اور عدلیہ اور ججز کے حوالےس ے بات کی گئی۔ اس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘
مذاکرات کرنے پرعدالت مجبور نہیں کر سکتی،عدالت صرف آئین پر عمل چاہتی ہے: چیف جسٹس کے ریمارکس
ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کروانے سے متعلق کیس کی سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا ہے کہ ’فاروق نائیک نے کہا تھا چیئرمین سینٹ سہولت کاری کریں گے۔
چیئرمین سینیٹ نہ حکومت کے نمایندے ہیں نہ اپوزیشن کے۔‘
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ’حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو خود اقدام اٹھاتی، مذاکرات کرنے پر عدالت مجبور نہیں کر سکتی۔ عدالت صرف آئین پر عمل چاہتی ہے تا کہ تنازعہ کا حل نکلے۔‘ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’عدالت کو کوئی وضاحت نہیں چاہیے صرف حل بتائیں،چیئرمین سینٹ اجلاس بلائیں گے اس میں بھی وقت لگے گا۔‘
پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق اچ نائیک نے کہا کہ ’تمام حکومتی اتحادی جماعتیں پی ٹی آئی سے مذاکرات پر آمادہ ہیں۔ سینٹ واحد ادارہ ہے جہاں تمام جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے۔
چیئرمین سینیٹ کو کس حیثیت سے رابطہ کیا گیا: چیف جسٹس کے ریمارکس
سپریم کورٹ میں ملک بھر میں ایک دن الیکشن کرانے کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں جاری ہے۔
سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے روسٹرم پرآ کر عدالت کے روبرو بتایا کہ 19 اپریل کو حکومت اور اپوزیشن میں پہلا رابطہ ہوا۔ 26 اپریل کو ملاقات پر اتفاق ہوا تھا۔‘
اٹارنی جنرل کے مطابق ’25 اپریل کو ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق کی اسد قیصر سے ملاقات ہوئی،اسد قیصر نے بتایا کہ وہ مذاکرات کے لیے با اختیار نہیں ہیں۔‘
اٹارنی جنرل نے کہا’ گزشتہ روز حکومتی اتحاد کی ملاقاتیں ہوئیں،جنرل
دو جماعتوں کو مذاکرات پر اعتراض تھا لیکن راستہ نکالا گیا، چیئرمین سینیٹ نے ایوان بالا میں حکومت اور اپوزیشن کو خطوط لکھے ہیں۔‘
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا ’چیئرمین سینیٹ نے حکومت اور اپوزیشن سے چار چار نام مانگے ہیں۔‘
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’اسد قیصر کے بعد کیا کوشش کی گئی کہ کون مذاکرات کے لیے با اختیار ہے؟
جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ’منگل کو میڈیا سے معلوم ہوا کہ شاہ محمود قریشی مذاکرات کیلئے با اختیار ہیں۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’چیئرمین سینیٹ کو کس حیثیت سے رابطہ کیا گیا؟‘جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سینیٹ وفاقی کی علامت ہے اس لیے چیئرمین سینیٹ کو کہا گیا۔
بریکنگ, چیف جسٹس کی سربراہی میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت شروع
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا ہے۔
مزاکرات کے لیے کل بھی تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں: شاہ محمود قریشی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
رہنما پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ’پی ٹی آئی عدالت کے حکم پر آج پھر حاضر ہے اور اگر چیف جسٹس نے کہا تو اپنا موقف پیش کردیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے عمران حان نے تین رکنی کمیٹی بنا دی ہے۔
شاہ محمود قریشی کے مطابق ’پچھلی سماعت پرعدالت نے چار بجے تک کا وقت دیا تھا اور پی ڈی ایم نے چیف جسٹس سے درخواست کی تھی کہ وقت بڑھایا جائے۔‘
ان کے مطابق ’ہم ساڑھے پابچ بجے تک انتظار کرتے رہے میں حاضرہوا مگر پی ڈی ایم کا کوئی فرد نہیں آیا۔‘
شاہ محمود نے دعویٰ کیا کہ ’حکومت کی جانب سے ہمیں پھر وہی آئیں بائیں شائیں دکھائی دے رہا ہے۔ اگرحکومت سنجیدہ ہے جو کہ دکھائی نہیں دیتی تو ہم مذاکرات کے لیے کل بھی تیار تھے آج بھی تیار ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کیا کہتی ہے۔‘
سیاحوں، مقامی کمیونٹیز اور کاشتکاروں کے لیے بارشوں، ژالہ باری اور لینڈ سلائیڈنگ سے محتاط رہنے کا الرٹ جاری, بلال احمد، بی بی سی اردو، پشاور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبرپختونخوا کے آفات سے نمٹنے کے ادارے نے بارش کے رواں سلسلوں کے پیش نظر الرٹ جاری کیا ہے جس میں صوبے میں متوقع گرج چمک کے ساتھ بارشوں، ژالہ باری اور لینڈ سلائیڈنگ کے پیش نظر صوبے کے تمام ضلعی انتظامیہ اورمتعلقہ اداروں کوخصوصی ہدایات جاری کردی ہیں۔
الرٹ کے مطابق حساس بالائی علاقوں میں مسافروں، سیاحوں اور مقامی کمیونٹیز کو پیشگی الرٹس اورایڈوائزری کی ترسیل کو وسیع پیمانے پریقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اورمتعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات اٹھانے کی ہدایات کی ہے۔
الرٹ میں ادارے نے کاشتکاروں اور کسانوں کو اپنی سرگرمیوں کے لیے مناسب انتظام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں اور ژالہ باری سے فصلوں (خاص طور پر گندم) کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
موسم کے پیشن گوئی کے پیش نظر الرٹ میں مویشیوں کا مناسب طریقے سے انتظام کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
الرٹ میں تمام متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس روڈ لنکس کی بحالی میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ’موسمی نالوں میں ممکنہ تیز بہاؤ کی روشنی میں، ایل ای اے کو مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر لیول کراسنگ پوائنٹس اور ٹریفک کا رخ موڑنے کو یقینی بنایا جائے۔‘
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے 26 اپریل سے مئی کے پہلے ہفتے تک ملک میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارش اور بعض علاقوں میں آندھی اور ژالے باری کی پیش گوئی کی ہے۔
ادارے کے مطابق اس دوران بالائی خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان، کشمیر، مری اور گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔
محکمہ مومسیات نے موسلا دھار بارشوں سے مانسہرہ، ایبٹ آباد، چترال، دی، سوات، کوہستان، گلگت بلتستان اور کشمیر میں یکم سے 04 مئی اور بلوچستان کے کچھ حصوں اور ڈی جی خان کے پہاڑی علاقوں میں 28 اپریل سے 02 مئی تک مقای ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے اس دوران دن کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمات کی تعداد 29 ہے: سرکاری رپورٹ
عمران خان کی گرفتاری سے بچنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے کی۔
عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں درج کیسز کی تفصیل عدالت میں پیش کی گئی۔
سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمات کی تعداد 29 ہے۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ’عدالت کے حکم پر کیسز کی تفصیل عمران خان کو فراہم کر دی گئی ہے۔عمران خان نے تفصیلات کی فراہمی کے لیے ابھی تک قانون کے مطابق رابطہ نہیں کیا۔‘
سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ ’عمران خان کو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے تحت متعلقہ اداروں سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔‘
بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی درخواست نمٹاتے ہوئے عمران خان کو اپنے خلاف درج کیسز کے حوالے سے متعلقہ فورم پر رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔
عمران خان کے خلاف جج دھمکی کیس پر نظرثانی اپیل پر سماعت تین مئی تک ملتوی
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس میں عدالتی نوٹس جاری ہونے پر نظرثانی اپیل پر سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایڈیشنل سیشن جج طاہرعباس سِپرا کی عدالت میں ہوئی۔
عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل گوہرعلی خان پیش ہوئے جبکہ تھانہ مارگلہ کے تفتیشی افسر صغیرعلی ریکارڈ سمیت عدالت کے روبرو حاضر ہوئے۔
عمران خان کے وکیل گوہرعلی خان نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان کی جانب سے وکیل نعیم پنجوتھہ نے پیش ہونا ہے جو اس وقت لاہور ہیں اور آج دستیاب نہیں ، سماعت ملتوی کی جائے۔‘
ایڈیشنل سیشن جج طاہرعباس سِپرا نے کیس کی سماعت 3 مئی تک ملتوی کردی۔