سابق صدر آصف زرداری کے خلاف الزامات عائد کرنے کے مقدمے میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید گرفتار
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات گرفتار ہونے والے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو آج جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی غرض سے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ شیخ رشید کی گرفتاری کے بعد اُن کے وکیل نے اسلام آباد پولیس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
لائیو کوریج
تحریک انصاف اپنے اراکین اسمبلی استعفوں کو عدالت میں چیلنج کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی: فواد چوہدری
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اپنے اراکین اسمبلی کے استعفوں کو عدالت میں چیلنج کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہے۔
ان کے مطابق تمام اراکین نے استعفے ملک میں عام انتخابات کی راہ ہموار کرنے کے لیے دیے تھے اور وہ منزل اب قریب ہے۔ فواد کے مطابق اس وقت 64 فیصد نشستیں خالی ہو چکی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اعظم خان کا بطور نگراں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری
گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے سابق بیوروکریٹ محمد اعظم خان کی بطور نگراں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ رات خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ کے نام پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہو گیا تھا۔ وزیراعلیٰ محمود خان اور اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی میں باہمی مشاورت سے سابق بیوروکریٹ اعظم خان کے نام پر اتفاق کیا تھا۔
سلمان شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کے شواہد نہیں ملے: ایف آئی اے کا عدالت میں بیان جمع
،تصویر کا ذریعہSocial Media
فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف
آئی اے) نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں وزیراعظم کے بیٹے سلیمان شہباز کو کلین چٹ دیتے
ہوئے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ ملزم کے خلاف منی لانڈرنگ اور کک بیکس وصول کرنے کے
شواہد نہیں ملے۔
ایف آئی اے کی جانب سے عدالت
میں جمع کروائے گئے اس بیان کی بنیاد پر سیلمان
شہباز نے سپشل سینٹرل کورٹ میں دائر کردہ اپنی عبوری ضمانت کی درخواست واپس لے لی
ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف کے
صاحبزادے سلیمان شہباز سنیچر کی صبح منی لانڈرنگ کے مقدمے میں عبوری ضمانت کی معیاد
ختم ہونے پر سپشل سینٹرل کورٹ میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت ایف آئی اے نے سیلمان
شہباز اور شریک ملزم طاہر نقوی کی حد تک عبوری چالان جمع کروایا جس میں کہا گیا کہ
ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ اور کک بیکس کے شواہد نہیں ملے۔
سیلمان شہباز کو اس کیس میں پیش
نہ ہونے پر 15 جولائی 2022 کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا تاہم حال ہی میں وطن واپسی
پر وہ ایف آئی اے کی اس انکوائری میں شامل تفتیش ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ ایف آئی اے نے نومبر 2020 میں شہباز شریف اور
ان کے صاحبزادوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کے خلاف کرپشن کی روک تھام کے قانون
اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
اس مقدمے میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ شریف فیملی کے ان
افراد نے بے نامی بینک اکاؤنٹس کو استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر 16 ارب روپے کی
منی لانڈرنگ کی تھی۔ اس کیس میں شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔
ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق تحقیق کاروں نے 17 ہزار سے
زائد کریڈٹ ٹرانزیکشنز یعنی پیسوں کی منتقلی کی منی ٹریل کا جائزہ لیا۔ اس دوران
تحقیقاتی ٹیم نے شریف خاندان کے 28 بے نامی اکاونٹس کا پتہ چلایا جن کے ذریعے ایف
آئی اے کے مطابق مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا
گیا تھا کہ مبینہ رقم خفیہ اکاونٹس میں رکھی گئی تھی جسے بعد میں ذاتی حیثیت میں
شہباز شریف کو دیا گیا۔
خیبر پختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ اعظم خان ہوں گے: تحریک انصاف نے اپوزیشن کی تجویز مان لی
،تصویر کا ذریعہSocial Media
خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ کے نام پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہو گیا ہے۔ وزیراعلیٰ محمود خان اور اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی میں باہمی مشاورت سے سابق بیوروکریٹ اعظم خان کے نام پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔
اعظم خان کا نام اپوزیشن کی طرف سے تجویز کیا گیا تھا۔ اعظم خان صوبے کے سابق چیف سیکریٹری رہ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ سپیکر ہاوس میں سابق وفاقی وزیر پرویز خٹک، سپیکر مشتاق احمد غنی، اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی اور وزیر اعلیٰ محمود خان کی ملاقات ہوئی۔ نگران وزیراعلی کے انتخاب پر طویل مشاورت ہوئی۔ مشاورت کے بعد متفقہ طورپرسابق اعظم خان کونگران وزیراعلیٰ کے لیے منتخب کیا گیا۔
اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی کا کہنا تھا کہ اعظم خان ہمارے متفقہ امیدوار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسے آدمی کا چناﺅ کیا کہ جو ہم سب کے لیے قابل قبول ہے۔
وزیراعلی محمودخان کا کہنا تھا کہ اکرم درانی کے لیے تومشکل ہو گا کہ وہ اپنے پارٹنر کو راضی کرے، ہم نے اپنے لیڈر کی مشاورت سے اعظم خان پر اتفاق کیاہے۔
،تصویر کا ذریعہKPK Govt
تحریک انصاف کے 79 اراکین کے استعفے منظور، قومی اسمبلی میں عمران خان کے کتنے اراکین باقی بچ گئے ہیں؟, اعظم خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہIMRAN KHAN/FACEBOOK
جب بطور وزیراعظم عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑا تو اپریل 2022 میں تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں نشستوں کی مجموعی تعداد 155 بنتی تھی۔
عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی تو تحریک انصاف کے اراکین نے اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے ابھی تک صرف 79 اراکین کے استعفے قبول کیے ہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے جمعے کے روز پاکستان تحریک انصاف کے 35 ارکان کے استعفے منظور کیے تو الیکشن کمیشن نے انھیں ڈی نوٹیفائی کر دیا یعنی ان کی رکنیت ختم کر دی۔
اس سے قبل 17 جنوری کو سپیکر نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے استعفے منظور کیے تھے۔
سپیکر قومی اسمبلی نے جولائی 2022 میں بھی پی ٹی آئی کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے، جس میں سے کراچی سے رکن قومی اسمبلی شکور شاد نے عدالت میں درخواست دائر کر کے اپنے استعفے کی درخواست واپس لے لی تھی۔
ضمنی انتخابات ہوئے تو پھر ان میں سے سات پر سابق وزیراعظم عمران خان نے الیکشن میں حصہ لیا اور چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ مگر قومی اسمبلی میں یہ ایک سیٹ ہی شمار ہو گی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل عمران خان توشہ خانہ ریفرنس میں میانوالی کی نشست سے نا اہل قرار دیے گئے تھے، جس کی وجہ سے یہ نشست خالی قرار دی گئی تھی۔
اب تک مجموعی طور پاکستان تحریک انصاف کے 79 اور شیخ رشید کا ایک استعفیٰ ملا کر 80 اراکین کے استعفے منظور ہو چکے ہیں۔
اب اگر 155 میں سے 79 استعفے منظور ہو چکے ہیں تو قومی اسمبلی میں اس وقت تحریک انصاف کے باقی 76 اراکین رہ جاتے ہیں۔ مگر اس وقت قومی اسمبلی کی ویٹ سائٹ کے مطابق تحریک انصاف کے موجودہ اراکین اسمبلی کی تعداد 70 بنتی ہے، جن میں عام نشستوں کی تعداد 44، مخصوص نشستوں کی تعداد 21 اور اقلیتی برادری کی نشستوں کی تعداد 5 بنتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان اپنی نشست سے نا اہل ہو گئے تھے جبکہ دوبارہ منتخب ہونے کے بعد ابھی تک انھوں نے حلف نہیں اٹھایا ہے۔ ملتان سے شاہ محمود قریشی کے فرزند زین قریشی اپنی قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہو کر رکن پنجاب اسممبلی بن گئے۔ ان کی خالی کردہ نشست پر بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے موسیٰ گیلانی کامیاب ہوئے۔
تحریک انصاف کے رکن میاں محمد سومرو 40 سے زائد بار جب قومی اسمبلی نہیں آئے تو ایک مشترکہ قرارداد کے ذریعے انھیں اسمبلی کی نشست سے فارغ قرار دیا گیا تھا۔ ان کا معاملہ ابھی عدالت میں زیر التوا ہے۔ مگر قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں ان کی نشست خالی نظر آ رہی ہے۔
ایک مقدمے میں عدالت نے سرگودھا سے تحریک انصاف کے ایم این اے عامر سلطان چینہ کی جگہ گذشتہ برس نومبر میں مسلم لیگ ن کے ذوالفقار احمد بھٹی کو ایم این اے کو قرار دیا گیا تھا۔ یوں تحریک انصاف کی مزید ایک نشست کم ہو گئی۔ تحریک انصاف کے رکن اسمبلی شکور شاد نے اگرچہ عدالت جا کر اپنا استعفیٰ رکوا لیا مگر ابھی تک انھیں دوبارہ قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں ایم این اے کے طور پر درج نہیں کیا گیا ہے۔
رکن اسمبلی جعفر خان لغاری کے فوت ہونے سے تحریک انصاف کی مزید ایک نشست کم ہو گئی۔
یوں اس وقت تحریک انصاف کے قومی اسمبلی میں موجودہ اراکین کی تعداد صرف 70 ہے۔
ان اراکین میں 20 وہ اراکین بھی شامل ہیں جنھوں نے استعفے نہیں دیے ہیں اور قومی اسمبلی کی کارروائی کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ ان میں اس وقت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نورعالم بھی شامل ہیں۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ کچھ مزید اراکین بھی اپنے استتعفے واپس لینے کے سپیکر سے رابطے کر رہے ہیں۔ تاہم مستعفی نہ ہونے کے باوجود ان اراکین کا شمار ابھی تحریک انصاف کی فہرست میں ہی ہو گا کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا تھا اور کوئی ایسی خلاف ورزی نہیں کی کہ تحریک انصاف ان کے خلاف ریفرنس دائر کر کے الیکشن کمیشن سے ان کی رکنیت ختم کرا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اب یہی بات تحریک انصاف کے لیے پریشانی کا باعث ہے کہ اگر تحریک انصاف کے ان 20 اراکین کے علاوہ سپیکر نے باقی اراکین کے استعفے قبول کر لیے تو پھر پارلیمنٹری پارٹی یہی بچ جانے والے 20 اراکین ہی شمار ہوں گے یعنی وہ منحرف اراکین کی فہرست میں آ کر نااہلی کا سامنا کرنے سے بھی بچے رہیں گے۔
خیال رہے کہ ابھی تک ہزارہ ریجن، فیصل آباد ریجن اور جنوبی پنجاب سے تحریک انصاف کے متعدد اراکین کے استعفے منظور نہیں کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر سپیکر قومی اسمبلی نے تحریک انصاف کے تمام اراکین کے استعفے منظور کر لیے تو پھر باقی بچ جانے والے 20 اراکین پارلیمنٹری پارٹی تحریک انصاف کہلائیں گے۔
اب تحریک انصاف تین وجوہات پر ان کو پارٹی سے نکال سکتی تھی ان میں سے ایک یہ کہ انھوں نے اگر وزیراعظم کے الیکشن، وزریراعظم کے خلاف قرارداد میں پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ دیا ہو یا فنانس بل میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹنگ میں حصہ لیا۔
دوسری وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ یہ اراکین کسی آئینی ترمیم میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیتے یا تیسری صورت میں یہ تحریک انصاف کی رکنیت سے ہی استعفے دے دیتے۔
سیاسی ماہرین کا کہننا ہے کہ ان 20 اراکین نے اس وقت تک نہ تو کوئی آئینی خلاف ورزی کی ہے اور نہ پارٹی کی رکنیت سے استتعفے دے ہیں تو ایسے میں اب عمران خان یا کسی اور رہنما کے بجائے راجہ ریاض تحریک انصاف پارلیمنٹری پارٹی کے سربراہ بن جائیں گے۔
سعودی عرب نے بھی شرائط عائد کر دی ہیں، ملک میں منصوبہ بندی سے بحران پیدا کیا گیا: عمران خان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کی صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ اب سعودی عرب جیسے ملک نے بھی پاکستان کو مدد دینے کے لیے شرائط عائد کر دی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی حالت سری لنکا جیسی ہو گئی ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے وکلا سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو آج جس بحران کا سامنا ہے وہ تاریخ میں پہلے کبھی نہیں آیا اور یہ بحران قدرتی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بندی کے تحت پیدا کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے ہوئے سب فیل ہوچکے ہیں کیونکہ ان کے پاس معیشت ٹھیک کرنے کے لیے کوئی حل نہیں رہ گیا ہے، سب نے امید لگائی ہوئی کہ کسی طرح سعودی عرب یا چین پیسہ دے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنیوا میں موسمیاتی تبدیلی کانفرنس کے لیے سارے چلے گئے اور سب نے کوشش کی کہ ہم سیلاب سے متاثر ہیں اور ہمیں پیسہ دیں لیکن کوئی پیسہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
عمران خان نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط مان لی گئیں تو مہنگائی مزید 50 فیصد بڑھ جائے گی۔
بریکنگ, پارلیمانی کمیٹی کا پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ پر اتفاق نہیں ہو سکا: کمیٹی اراکین
سپیکر کی طرف سے بنائی جانے والی چھ رکنی پارلیمانی کمیٹی نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے نام پر متفق نہیں ہو سکی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف اور پی ڈی ایم اتحاد سے تعلق رکھنے والے اراکین نے اس بات کی تصدیق کی کہ کسی نام پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے اور اب فیصلہ الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما ملک محمد احمد خان نے کہا کہ بدقسمتی سے آج سیاسی سطح پر یہ اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ ہم آج نگران وزیراعلیٰ کے نام پر متفق نہیں ہو سکے ہیں اور کسی فیصلے پر پہنچے بغیر اٹھ گئے ہیں۔
ان کے مطابق اب فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا۔
پاکستان سپر لیگ 8 کے شیڈول کا اعلان کردیا گیا، 40 سے زائد بین الاقوامی کھلاڑی بھی ٹورنامنٹ کا حصہ ہوں گے
ایچ بی ایل پی ایس ایل 8 کے شیڈول کا اعلان کردیا گیا ہے۔ لیگ کا آغاز 13 فروری کو دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز کے مابین ملتان سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ سے ہوگا۔
34 میچز پر مشتمل ایونٹ کے 11 میچز راولپنڈی، 9، 9 لاہور اور کراچی جبکہ 5 ملتان میں کھیلے جائیں گے۔ ایونٹ میں کل 36 غیرملکی کھلاڑی شرکت کریں گے
لاہور قلندرز، کراچی کنگز، ملتان سلطانز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیمیں اپنے اپنے ہوم گراؤنڈز پر پانچ پانچ میچز کھیلیں گی۔
ٹورنامنٹ کا فائنل 19 مارچ کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔
سربراہ پی سی بی منیجمنٹ کمیٹی نجم سیٹھی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹورنامنٹ کے شیڈول کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کررہا ہوں۔ ان کے مطابق ٹورنامنٹ کے دوران ویمنز کرکٹ کے تین نمائشی میچز منعقد کیے جائیں گے۔
اس بار اس پی ایس ایل میں 40 بین الاقوامی کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہPCB
بلوچستان میں ریلوے لائن پر بم دھماکے سے جعفر ایکسپریس کی چھ بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، چھ مسافر زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے بولان میں جمعہ کے روز ریلوے لائن پر بم دھماکے کے باعث جعفر ایکسپریس کی چھ بوگیاں پٹری سے اترگئیں۔ حکام کہنا ہے کہ دھماکے میں چھ مسافر زخمی ہوئے ہیں۔
اسسٹنت کمشنر ڈھاڈر فہد شاہ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ بولان میں پنیر کے علاقے میں نامعلوم افراد نے ریلوے ٹریک پر دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ جب پشاور سے مچھ کی جانب جانے والی جعفر ایکسپریس اس علاقے سے گزررہی تھی تو ریلوے ٹریک پر نصب مواد زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے باعث ریل گاڑی میں سوار کم ازکم چھ افراد زخمی ہوگئے جن کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔
کوئٹہ میں ریلوے کنٹرول روم کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں جعفرایکسپریس کی چھ بوگیاں پٹڑی سے اترگئیں۔
اہلکار کے مطابق دھماکے کے باعث فی الحال ٹریک پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہوگئی ہے۔
پاکستان دوست ممالک کی کرنسی میں روس سے توانائی کی درآمدات خریدے گا: روسی وزیر توانائی
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روسی وزیر توانائی نے کہا ہے کہ مارچ کے اواخر سے پاکستان دوست ممالک کی کرنسی میں روس سے توانائی کی درآمدات حاصل کر سکے گا۔
اسلام آباد میں دو طرفہ بات چیت کے بعد روسی وزیر توانائی نے کہا کہ دونوں ملکوں نے مارچ کے اواخر سے خام تیل کی تجارت پر اتفاق کیا ہے۔
’عمران خان کی منظوری کے بعد نگران وزیر اعلیٰ کے پی کے لیے دو نام گورنر کو بھجوائیں گے‘
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ محمود خان اور سابق گورنر شاہ فرمان نے نگران وزیر اعلیٰ کے لیے دو ناموں پر اتفاق کیا ہے۔
اس کے مطابق محمود خان نے کہا ہے کہ ’چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی منظوری کے بعد نام گورنر کو بھجوائے جائیں گی۔‘
کراچی جیسے انتخابات کرا کر اسمبلی بنائی گئی تو عوام خاموش نہیں رہیں گے: شاہ محمود قریشی
،تصویر کا ذریعہReuters
تحریک انصاف کے نائب سربراہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اگر کراچی جیسے الیکشن کرا کر اسمبلیاں بنائی گئیں تو عوام خاموش نہیں رہیں گے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’تحریک انصاف چاہتی ہے عوام فیصلہ کریں اور نئے عام انتخابات کرائے جائیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کراچی جیسے الیکشن کرا کر اسمبلی بنا لیں گے تو عوام خاموش نہیں رہیں گے۔‘
’آپ نے ایسا کیا تو عوام آپ کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ ہم نے اپنی دو حکومتیں، دو اسمبلیاں قربان کی ہیں۔ اس لیے نہیں کیں کہ آپ جمہوری روایات توڑ دیں۔ ان کے پاس کوئی ایکشن پلان یا روڈ میپ نہیں۔ یہ معیشت اور دہشتگردی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’سپیکر صاحب، آپ کہاں ہیں، ارکان آپ کی تلاش میں ہیں۔ آئیے ہمارے استعفے قبول کریں۔‘
نئے عام انتخابات کے لیے ادارے کردار ادا کریں: اسد عمر
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ تمام ایم این ایز یہاں موجود ہیں لیکن سپیکر پھر فرار ہوگئے ہیں۔ ’ہم فی الفور استعفوں کی منظوری چاہتے ہیں۔ اگر آپ نے عام انتخابات نہ کرائے تو عوام عام انتخابات کرائیں گے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت پاکستان کی نمائندگی نہیں کرتی۔ ’یہ صرف 36 فیصد کی حکومت ہے جو چوری چکاری اور دھاندلی سے بیٹھی ہوئی ہے۔ اسے گھر بھیجنا پاکستان اور اداروں کے مفاد میں ہے۔‘
’اداروں کی غلط پالیسیاں تھیں جس نے امپورٹڈ حکومت کو ہم پر مسلط کیا۔ بند کمروں کے فیصلے کی وجہ سے عوام بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔‘
ادھر اسد عمر نے میڈیا ٹاک کے دوران کہا کہ تمام ارکان جنھیں اب تک ڈی نوٹیفائی نہیں کیا گیا وہ یہاں آئے ہیں تاہم قومی اسمبلی کا پورا عملہ یہاں سے غائب ہے۔
’ہم الیکشن مانگنے کے لیے استعفے پیش کرنا چاہتے ہیں مگر وہ ڈر کر چھپ گئے ہیں۔ انھیں پاکستانی قوم کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہر ادارہ جو پاکستان کی بہتری چاہتا ہے وہ نئے انتخابات کے لیے کردار ادا کرے۔‘
تحریک انصاف یکطرفہ طور پر لائی گئی نگران حکومت کو تسلیم نہیں کرے گی: اسد قیصر
سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے تحریک انصاف کسی صورت یکطرفہ طور پر لائی گئی نگران حکومت کو تسلیم نہیں کرے گی۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے پوچھا کہ کیا سپیکر راجہ پرویز اشرف نے انفرادی طور پر ارکان سے ملاقات اور کارروائی کی۔
’ہم سب یہاں آئے ہیں تاکہ آپ تمام 125 ارکان کی استعفے منظور کریں۔ یہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔ یہ جمہوریت کے نام پر کھلا مذاق ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ایسی نگران حکومت کو نہیں مانیں گے۔‘
آئندہ الیکشن میں دھاندلی، اپنا نگران وزیر اعظم لگانے کے لیے استعفے منظور کیے گئے: تحریک انصاف
تحریک انصاف نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے سپیکر کی جانب سے استعفوں کی منظوری پر ردعمل دیا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ ’کیسے آئندہ انتخابات میں دھاندلی کرنی ہے، یہ سب استعفے اسی لیے منظور کیے جا رہے ہیں! لوٹا راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر کو بچا کر کیسے اپنا نگران وزیر اعظم لگانا ہے، اسی لیے استعفے منظور کیے-‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
خان صاحب کی پکی واپسی ہوگئی: عطا تارڑ
وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ نے ردعمل دیا ہے کہ یہ پی ڈی ایم حکومت کا تحریک انصاف کے لیے ’ایک اور سرپرائز‘ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ادھر خان صاحب میٹنگ کر رہے تھے واپسی کی، ادھر پکی واپسی ہو گئی۔ آنا ہے واپس اسمبلی؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ’امید کی جاتی ہے کہ آئندہ عمران صاحب 35 پنکچر کی اصطلاح سیاسی بیان کے طور پر استعمال کرنے سے باز ہی رہیں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
سپیکر قومی اسمبلی نے مزید 35 پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظور کر لیے
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے 35 ارکان نے 11 اپریل 2022 کو استعفے جمع کرائے تھے جنھیں سپیکر نے منظور کر لیا ہے۔
ان ارکان میں عندلیب عباسی، ملیکہ بخاری، خسرو بختیار، شیر اکبر خان، علی خان جدون، مجاہد علی سمیت دیگر شامل ہیں۔
ان 35 ارکان کی مکمل فہرست درج ذیل ہے:
،تصویر کا ذریعہNA
17 جنوری کو بھی سپیکر نے پی ٹی آئی کے 34 ارکان اور شیخ رشید کا استعفیٰ منظور کیا تھا۔
اس طرح سپیکر کی جانب سے اب تک مجموعی طور پر 80 پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظور کر لیے گئے ہیں۔
لوگ جانتے ہیں ایک میڈ مین نے چار سال پاکستان کا کیا حشر کیا، اب کسی کی شکل چھپی ہے نہ نام: نواز شریف
،تصویر کا ذریعہPMLN
مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ’لوگ جانتے ہیں ایک میڈ مین چار سالوں میں پاکستان کا کیا حشر کر گیا ہے۔‘
لندن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ پاکستان کے مسائل کا ذمہ دار ’جنرل باجوہ اور جنرل فیض کو سمجھتے ہیں، جن کا نام آپ نے گوجرانوالہ کی تقریر میں لیا تھا؟‘ تو انھوں نے مسکراتے ہوئے اس کا جواب دیا کہ ’جی، آپ سب جانتے ہیں، سب واقف ہیں۔ سب جانتے ہیں۔ اب نہ کسی کی شکل چھپی ہوئی ہے نہ نام چھپا ہوا ہے۔ آپ نے پاکستان کو اپنی ذات کے گرد گھمایا ہے۔‘
’اس قوم کے ساتھ گھناؤنا مذاق کیا گیا ہے۔‘
نواز شریف نے کہا کہ ’اس کے چار سالوں کا میرے چار سالوں سے ذرا مقابلہ تو کریں۔ لوگ خود دیکھیں گے ہمارے دور میں کیا حالات تھے، لوگ کتنے خوشحال تھے۔ اور آج اس کے چار سالوں میں لوگ کتنے بدحال ہوئے ہیں۔ ہم نے پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کے لیے حکومت سنبھالی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اس نے پاکستان کے جو حالات پیدا کر دیے تھے، ہم تباہی کے کنارے پہنچ گئے تھے۔‘
’اس کے دور میں آپ میری بہت سی باتیں سن چکے ہیں۔ آپ میرا گوجرانوالہ کا جلسہ بھی یاد کریں جس میں، میں نے کہا تھا کہ یہ خرابی، یہ ذمہ دار ہیں۔۔۔ میں نے ہر بات کھول کر رکھ دی تھی۔‘
’ہمارے ملک کے ساتھ جو ستم ظریفیاں ہوئی ہیں، جو ظالمانہ سلوک کیا گیا ہے۔ اس کو بتانا میری ذمہ داری ہے۔ عوام تک پہنچانا میری ذمہ داری ہے اور اس کو ٹھیک کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔‘
خیال رہے کہ اکتوبر 2020 کے دوران گوجرانوالہ میں ایک تقریر کے دوران نواز شریف نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر اپنی حکومت کو ’رخصت‘ کرانے اور عمران خان کی حکومت کے لیے ’جوڑ توڑ‘ کرنے کا الزام لگایا تھا۔
انھوں نے اس وقت کے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ سب کچھ آپ کے ہاتھوں سے ہوا ہے، جواب بھی آپ کو دینا ہوگا۔‘
ن لیگ الیکشن کے لیے تیار، مریم نواز کی جلد پاکستان واپسی: رانا ثنا
ادھر وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے لندن میں کہا کہ ’حکومت اور مسلم لیگ ن کے رہنما الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ آئینی اور قانونی معاملات جس طرح سے ہیں اسی طرح حل ہوں گے۔ انھیں حل کرنا الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کا کام ہے۔‘
انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کی مشترکہ رائے یہی ہے کہ انتخابی مہم کی کامیابی کے لیے نواز شریف کا پاکستان میں ہونا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب میں جو الیکشن ہونے جا رہا ہے اس میں پاکستان مسلم لیگ ن مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے کامیابی اور اکثریت حاصل کرے گی۔
’نواز شریف کی ہدایات پر ہم اس کے لیے اپنی مہم شروع کریں گے۔ مریم نواز اگلے ہفتے پاکستان جا رہی ہیں۔‘
الیکشن کمیشن کے لگائے گئے چیف منسٹر کے خلاف عدالت میں جائیں گے:پرویز الہی
وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی سوچ اور نیت کا پتہ ہے۔ الیکشن کمیشن روزانہ عمران خان کے خلاف کیسز کر رہا ہے۔ ’الیکشن کمیشن کا لگایا گیا چیف منسٹر نہیں چلنے دیں گے اور اس کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔‘
پرویز الہی نے کہا کہ ’الیکشن جب بھی ہو جائیں ہمیں الیکشن لڑنا ہے۔ عمران خان جب بھی غلطی کرتے ہیں تو ہم ان کو روکتے ہیں۔ تاہم جب دشمن غلطی کرے تو اسے نہیں روکنا چاہیے بلکہ غلطی کرنے دیں وہ خود ہی ڈوبیں گے۔‘
تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس پر ’مشاورت کا عمل جاری ہے، فیصلہ جلد ہو جائے گا۔‘
قومی اسمبلی کے آج کے اجلاس کا شیڈول تبدیل، نوٹیفیکیشن جاری
،تصویر کا ذریعہNational Assembly Secretariat
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری اعلامیہ کے مطابق آج دن 11 بجے ہونے والے اجلاس کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا ہے اور اب یہ اجلاس 20 جنوری کے بجائے مورخہ 27 جنوری بروز جمعہ دن 11 بجے منعقد ہو گا۔