سابق صدر آصف زرداری کے خلاف الزامات عائد کرنے کے مقدمے میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید گرفتار

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات گرفتار ہونے والے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو آج جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی غرض سے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ شیخ رشید کی گرفتاری کے بعد اُن کے وکیل نے اسلام آباد پولیس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. لاہور: پی ٹی آئی کا نگران وزیر اعلی کی تقرری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

    پی ٹی آئی کی جانب سے نگران وزیر اعلی کی تقرری کے خلاف لاہور میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق یہ احتجاجی مظاہرہ چیف الیکشن کمشنر آفس کے سامنے کیا جانا تھا مگر وہاں جگہ کم ہونے کے باعث مین روڈ سیکریٹیریٹ ایون عدل کے ساتھ جی پی او کے سامنے احتجاج کیا جا رہا ہے۔

    احتجاج میں ڈاکٹر یاسمین راشد، حماد اظہر، میاں اسلم اقبال، اعظم سواتی، مراد راس، مسرت جمشید چیمہ اور ابرارالحق سمیت دیگ قائدین موجود ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. اوگرا کی ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت سے متعلق قیاس آرائیوں کی سختی سے تردید

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کے حوالے سے تردید جاری کی ہے۔

    ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی 18 سے 37 روز تک کی مانگ پوری کرنے کے لیے سٹاکس موجود ہیں۔

  3. تحریک انصاف کے مزید 43 ارکانِ قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہو گئے

    فواد چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے مزید 43 ارکان کے استعفے منظور کر لیے ہیں اور ان اراکین کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی سمری الیکشن کمیشن کو ارسال کر دی گئی ہے۔

    سپیکر قومی اسمبلی نے گذشتہ ہفتے دو مراحل میں تحریک انصاف کے 70 ارکان کے استعفے منظور کیے تھے جبکہ اس سے قبل پہلے مرحلے میں 11 ارکان کے استعفی منظور کیے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے ان تمام ارکان کو ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا۔

    سپیکر آفس کے مطابق ان اراکین کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی سمری بھی الیکشن کمیشن کو بھجوا دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکشن کے بعد اب تمام 124 ارکان ڈی نوٹیفائی ہو جائیں گے۔

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے رد عمل میں اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ راجہ ریاض کو بچانے کے لیے سپیکر کے اقدامات کے نتیجے میں اس وقت 40 فیصد نشستیں خالی ہو چکی ہیں، ملک انتخابات کے مزید قریب آ گیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    فواد چوہدری نے مزید لکھا ہے کہ محدود تعداد میں اسمبلی جانے کا مقصد راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے فارغ کرنا تھا ورنہ اس قومی اسمبلی کی کوئی نمائندہ حیثیت نہیں کہ اس میں واپس جائیں۔

    فواد چوہدری کے مطابق اس وقت شہباز شریف حکومت 172 لوگوں کی حمائیت کھو چکی ہے اور حکومت بچانے کے لیے لوٹوں پر انحصار کر رہی ہے۔

  4. تحریکِ انصاف لاہور میں آج، راولپنڈی میں بدھ کو احتجاج کرے گی: فواد چوہدری

    فواد

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محسن نقوی کی تعیناتی بدترین فیصلہ ہے، الیکشن کو چوری کرنے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔

    اے آر وائے نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا ہے کہ محسن نقوی کے خلاف تحریک انصاف کی جانب سے پانچ بڑے شہروں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔

    ان کے مطابق ’احتجاج کا آغاز آج لاہور سے کیا جائے گا جبکہ بدھ کو راولپنڈی میں پھر فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان میں احتجاج ہو گا۔

    ان کے مطابق اس کے بعد احتجاج کو مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ فواد چوہدری کے مطابق ساری تحریک عمران خان نے خود لیڈ کرنی ہے، وہ صحت یاب ہونے کے قریب ہیں اور ان کا آخری ایکسرے ہونا ہے جس کے بعد وہ خود تحریک کی قیادت کریں گے۔

    ان کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنرز نے آرٹیکل 105 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

    ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل میں واضح لکھا ہے کہ گورنر اسمبلی کی تحلیل کے وقت انتخابات کی تاریخ دیں گے۔

    فواد چوہدری نے بتایا کہ سپیکر پنجاب اسمبلی نے گورنر پنجاب کو خط بھی لکھا ہے کہ آپ آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں تاہم ابھی تک تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا جس کے خلاف ہم سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔

  5. چیف سیکرٹری پنجاب، سی سی پی او لاہور کا تبادلہ

    نگران وزیر اعلی پنجاب کی تعیناتی کے بعد صوبائی بیوروکریسی میں تبدیلی کا عمل چیف سیکریٹری اور سی سی پی او لاہور کے تبادلے سے شروع ہو چکا ہے۔

    پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی جگہ بلال صدیق کمیانہ کو سی سی پی او لاہور تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ زاہد اختر زمان کو چیف سیکریڑی پنجاب تعینات کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ سی سی پی او لاہور غلام محمد ڈوگر تحریک انصاف چیئرمین عمران خان پر حملے کے کیس پر بنائی جانے والی تحققیاتی ٹیم کے کنوینئیر بھی تھے۔

  6. گجرات جیل میں ہنگامہ آرائی: قیدیوں کی طرف سے پتھراؤ، تصادم میں ڈی ایس پی سٹی سمیت متعدد پولیس اہلکار زخمی

    گجرات جیل

    ،تصویر کا ذریعہEhtesham Shami

    صحافی احتشام شامی کے مطابق گجرات جیل میں ہنگامہ آرائی قیدیوں اور اسسٹنٹ سپریٹینڈنٹ کے درمیان تلخ کلامی سے شروع ہوئی۔

    کئی گھنٹے گزرنے کے بعد بھی جیل انتظامیہ اور پولیس قیدیوں پر قابو نہ پاسکی جن کے پتھراؤ سے ڈی ایس پی سٹی پرویز گوندل سمیت متعدد قیدی و پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ قیدیوں پر قابو پانے کے لیے ڈنڈہ بردار پولیس دستے جیل میں بھیجے گئے۔

    مشتعل قیدیوں نے بیرکوں کو آگ لگائی اور جیل کی چھتوں پر چڑھ گئے۔

    گجرات جیل

    ،تصویر کا ذریعہEhtesham Shami

    اطلاعات کے مطابق جیل کے اندر قیدیوں نے گودام کو آگ لگائی، اسسٹنٹ سپریٹینڈنٹ کو یرغمال بنایا اور فائرنگ کی۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس نے جیل کو حصار میں لیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ قیدیوں کے ساتھ تصادم میں ڈی ایس پی سٹی سمیت متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

    آر پی او گوجرانوالہ منیر مسعود مارتھ کا کہنا ہے کہ جیل کے اندر حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تاحال قیدیوں کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں۔ ’صورتحال پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔‘

    گجرات جیل میں ہنگامہ آرائی

    ،تصویر کا ذریعہEhtesham Shami

  7. نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کا گجرات جیل میں قیدیوں کی ہنگامہ آرائی کے واقعے کا نوٹس

    نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے ’گجرات جیل میں قیدیوں کی ہنگامہ آرائی کے واقعے‘ کا نوٹس لیا ہے۔

    ایک سرکاری بیان میں وہ کہتے ہیں کہ نگران وزیر اعلی محسن نقوی کی کمشنر گجرات اور آر پی او گجرات کو فی الفور گجرات جیل پہنچنے کی ہدایت دی ہے۔ ’ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’ہنگامہ آرائی کے ذمہ دار قیدیوں کا تعین کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔‘

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کے لیے پولیس، ریسکیو اور ایدھی اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ اندر سے فائرنگ کی آوازیں آنے کے بعد پولیس نے جیل کو گھیرے میں لیا ہے۔

  8. رمضان سے پہلے الیکشن ہونے چاہییں، الیکشن کی تاریخ کے لیے عدالت جائیں گے: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    عمران خان نے کل سے ’پُرامن احتجاج‘ کی کال دی ہے اور لوگوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ’آپ کو اپنے حق کے لیے نکلنا ہوگا۔‘

    ’ابھی تک پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنرز نے الیکشن کی تاریخ نہیں دی ہے۔ آئین کے تحت 48 گھنٹوں میں الیکشن کی تاریخ دینی ہوتی ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’رمضان سے پہلے الیکشن ہونا چاہیے۔ ہم الیکشن کی تاریخ کے لیے عدالت جائیں گے۔ آئین واضح ہے کہ اسمبلیوں کی تحلیل کے 90 روز کے اندر اندر الیکشن ہونے چاہیں۔‘

    ’آپ سب نے کل سے نکلنا ہے۔ کل لاہور اور بدھ کو راولپنڈی میں نکلیں گے۔‘

  9. بریکنگ, ’محسن نقوی کو نگران وزیر اعلیٰ ان لوگوں نے بنایا جنھوں نے عمران خان پر کاٹا ڈالا ہوا ہے‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ محسن نقوی کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب ان لوگوں نے بنایا ہے جنھوں نے ’عمران خان پر کاٹا ڈالا ہوا ہے۔‘

    تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ رجیم چینج اور سازش کے دوران آئی بی کی رپورٹ آئی تھی جس کے مطابق ’محسن نقوی وہ شخص تھے جنھوں نے ہماری حکومت گرانے کی سب سے زیادہ کوشش کی۔ انھوں نے نواز شریف اور سابق آرمی چیف سے ملاقاتیں کیں۔ ہر جگہ محسن نقوی کا نام سب سے زیادہ آتا تھا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’آصف زرداری نے اسے اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا۔۔۔ زرداری کو جنرل باجوہ نے این آر او ٹو میں بچایا۔ محسن نقوی نے تینتیس ارب روپے نیب کو واپس کیے۔ وہ (محسن نقوی) غیر جانبدار نہیں۔ چینل 24 پر مسلسل تحریک انصاف کے خلاف پروپیگنڈا چلتا ہے۔ ہماری حکومت گرانے میں اس کا بڑا ہاتھ تھا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’محسن نقوی کو نگران وزیر اعلیٰ بنانے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے عمران خان پر کاٹا لگایا ہوا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں سیاست کی سمجھ نہیں۔۔۔ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں سے ملک کو نقصان ہوتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ محسن نقوی ’ہمارے سخت مخالف ہیں۔‘

    عمران خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام لگایا اور کہا ’ان کو خوف ہے تحریک انصاف کی مقبولیت کیا ہے اور الیکشن میں ہمیں ہرا نہیں سکتے۔‘

  10. گورنر پنجاب نے تاحال الیکشن کی تاریخ نہیں دی: اسد عمر

    رہنما تحریک انصاف اسد عمر نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد گورنر نے آئینی ذمہ داری کے تحت تاحال الیکشن کی تاریخ نہیں دی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. بجلی کا نظام رات گئے تک مکمل بحال ہو جائے گا: وزیر توانائی

    وزیر توانائی خرم دستگیر نے اعلان کیا ہے کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب کے دوران ملک بھر میں بجلی کا نظام مکمل بحال ہو جائے گا۔

    انھوں نے کہا ہے کہ ’صبح 7:34 پر ملک کے نارتھ ساؤتھ ترسیلی کاریڈور میں وولٹیج کے غیر معمولی اُتار چڑھاؤ کی وجہ سے نیشنل گرڈ کی سسٹم فریکوئنسی متاثر ہوئی اور پورے ملک میں وسیع بریک ڈاؤن ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ملک کا ترسیلی نظام بالکل محفوظ رہا اور نقصان یا خرابی کی اطلاع نہیں آئی۔‘

    خرم دستگیر کہتے ہیں کہ ’بجلی کے پلانٹس ایک ایک کر کے بتدریج سسٹم میں شامل کیے جاتے ہیں۔ اس لیے پورے سسٹم کی بحالی میں وقت لگ رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ:

    • وارسک ڈیم اور اوچ پاور پلانٹ سے بجلی کی فراہمی موجود ہے
    • جزوی طور پر اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ اور ملتان کی تقسیم کار کمپنیوں میں بجلی بحال کی گئی ہے
    • سیلاب زدہ علاقوں میں بحالی ہو چکی ہے۔ سندھ نوشہرو فیروز، لاڑکانہ اور خیر پور ناتھن شاہ جیسے علاقوں میں بجلی بحال ہے
    • کراچی میں محدود پیمانے پر بجلی بحال ہے
    • تھر کول پاور پلانٹ سے کراچی الیکٹرک کو بجلی کی جزوی فراہمی جاری ہے
    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. وزیراعظم شہباز شریف کا بجلی کے تعطل کا نوٹس، اعلی سطحی تحقیقات کا حکم

    epa

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں بجلی کے تعطل کا نوٹس لیتے ہوئے اعلی سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی کا اتنا بڑا بحران کس وجہ سے پیدا ہوا، آگاہ کیا جائے۔

    انھوں نے وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر سے فوری رپورٹ طلب کی ہے اور تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور ملک میں بجلی کی فوری بحالی یقینی بنائی جائے۔

  13. سٹیٹ بینک نے شرح سود 16 سے بڑھا کر 17 فیصد کر دی

    گورنر سٹیٹ بینک سے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

    شرح سود کو 16 سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا گیا ہے۔

    گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافہ کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے چھ ماہ (جولائی سے دسمبر 2022) میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.7 ارب ڈالر ہے۔

    گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کا اثر ہمارے ریزرو پر آ رہا ہے۔

    انھوں نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ آئی ایم ایف کے نویں جائزے کے بعد ڈالر آنے سے صورتحال بہتر ہوسکے گی۔ انھوں نے کہا کہ انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے ریٹ کا فرق ’عارضی‘ ہے۔

  14. تحریک انصاف نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے سوچ سمجھ کر نام نہیں دیے: خواجہ آصف

    PMLN

    وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے لیے سوچ سمجھ کر نام نہیں دیے تھے۔

    ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی طرف سے دیے گئے ناموں میں سے ایک صاحب دہری شہریت کے حامل تھے جبکہ دوسرے ’سرونگ افسر‘ تھے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ خیبر پختونخوا میں متفہ نگران وزیراعلیٰ کی تقرری عمل میں لائی گئی ہے۔ تاہم ان کے مطابق پنجاب میں تحریک انصاف سے بھی بڑھ کر پرویزالٰہی اس عمر میں تمام رشتہ داروں کے خلاف ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

    انھوں نے چوہدری شجاعت کے ساتھ پرویزالٰہی کے اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ محسن نقوی پرویز الٰہی کے نہایت قریبی رشتہ دار ہیں بلکہ ایک لحاظ سے ان کے داماد ہیں۔

    ’نگران وزیراعلی کی تقرری پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ کسی فورم پر چیلنج نہیں ہوسکتا‘

    وزیر دفاع نے یہ بھی کہا ہے کہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ ’کسی فورم پر چیلنج نہیں ہوسکتا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ محسن نقوی کی بطور نگران وزیراعلی کی تقرری ایک پراسس مکمل ہونے کے بعد ہوئی ہے۔

  15. جس اسمبلی سے گالی گلوچ کر کے نکلے، اب واپسی کے لیے مرے جا رہے ہیں: خواجہ آصف کی تحریک انصاف پر تنقید

    پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا جس اسمبلی کو گالی گلوچ کر کے یہ نکلے تھے اب اسی اسمبلی میں واپس آنے کے لیے مرے جا رہے ہیں۔

    ان کے مطابق عمران خان آہستہ آہستہ سیاست سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ خواجہ آصف کے مطابق عمران خان ہر بار رکن قومی اسمبلی بن کر مستعفی ہوتے رہے ہیں۔

    ایک سال سے استعفے دیے مگر تمام تر مراعات اور سہولیات لے رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ فیصلہ سب کا نہیں تھا۔

    ان کے مطابق ایسے فیصلے جو قسم قرآن اور گالی گلوچ سے کیے گئے ہوں وہ واپس کرنے پڑتے ہیں وہ ذہنی کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

    ان کے مطابق جس چیف الیکشن کمشنر کو گالیاں دے رہے ہیں اس سے ہی اب انصاف بھی مانگ رہے ہیں۔

    خواجہ آصف کے مطابق عمران خان نے اپنے محسنوں کو گالیاں ضرور دی ہیں۔ ان کے مطابق سابق آرمی چیف جنرل جاوید قمر باجوہ کو بھی گالیاں دے رہے ہیں۔

    ان کے مطابق عمران خان کچھ کرنے اور نہ کچھ نہ کرنے کی بھی توجیہہ دیتے ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ان کی خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی کہ عمران خان ایک بار پھر ان کے سامنے اسمبلی واپس آئیں اور وہ ایک بار پھر اپنی پرانی تقریر کی طرز پر ان کا استقبال کریں۔

  16. ہم واپس آئے ہیں تو اب اسمبلی کے دروازے بند کر دیے گئے: تحریک انصاف کا شکوہ

    تحریک انصاف

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلے ہمیں کہا جاتا تھا کہ آپ آئیں آپ کو ویلکم کریں گے اور جب ہم آئے تو دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔‘

    تحریک انصاف کے رہنما عامر ڈوگر نے کہا کہ سپریم کورٹ میرے سامنے ہے جس کے ججز نے یہ ریمارکس دیے تھے کہ جا کر اسمبلی میں اپنا کردار ادا کریں۔

    ان کے مطابق اسمبلی واپس جانے کا مقصد مراعات حاصل کرنا یا وہاں بیٹھنا نہیں ہے بلکہ اپنا حقیقی اپوزیشن لیڈر کا تقرر یقینی بنانا ہے۔

    ان کے مطابق پارلیمانی تاریخ میں ایسے لمحات نہیں دیکھے ہیں اور جن حالات میں الیکشن ہو رہے ہیں، الیکشن کمیشن اپنی ساکھ بحال کرے۔

    عامر ڈوگر نے کہا کہ ’جب ہم نے اسمبلی میں واپسی کی بات کی تو 70 استعفے منظور کر لیے گئے۔‘

    رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے کہا کہ ہم اپنے استعفے ہم واپس لے چکے ہیں۔ ان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کو ہم نے اپنے استعفوں کی واپسی سے متعلق درخواست دے دی ہے اور سپیکر کو بھی یہ درخواست ای میل اور واٹس ایپ پر بجھوا دی ہے۔

  17. سپریم کورٹ میں سائفر کی تحقیقات کے لیے دائر چیمبر اپیلیں سماعت کے لیے مقرر

    سپریم کورٹ میں سائفر کی تحقیقات کے لیے دائر چیمبر اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کر لی گئی ہیں اور ‏جسٹس سردار طارق مسعود 24 جنوری کو ان چیمبر سماعت کریں گے۔

    ‏نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کو ہٹانے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں اور ‏رجسڑار آفس نے درخواستیں اعتراضات عائد کر کے واپس کر دی تھیں۔ یہ اپیلیں ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ سمیت دیگر نے رجسٹرار کے اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔

  18. کے الیکٹرک کا عملہ نیشنل گرڈ سے ہونے والی ٹرپنگ کے بعد بجلی کی بحالی میں مصروف ہے: ترجمان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    ترجمان کے الیکٹرک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کےالیکٹرک کا عملہ نیشنل گرڈ سے ہونے والی ٹرپنگ کے بعد بجلی کی بحالی کے لیے مصروف عمل ہے۔

    انھوں نے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ ’سسٹم کو جلد از جلد مستحکم بنایا جا رہا، پہلی ترجیح سٹریٹیجک تنصیبات بشمول ہسپتال، ایئرپورٹ وغیرہ کو بجلی کی بحالی ہے۔

    ’شہر کی بجلی کی فراہمی جلد معمول پر لائی جائے گی۔‘

  19. تحریک انصاف کا قومی اسمبلی واپس جانے کا اعلان، 44 اراکین کے استعفے واپس لینے کے لیے سپیکر کو ای میل

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER/@FAISALJAVED

    پاکستان تحریک انصاف کے 44 اراکین قومی اسمبلی نے اپنے استعفے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے اراکین نے اس حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی کو استعفے واپس کرنے سے متعلق درخواست کر دی ہے۔ تحریک انصاف کے اراکین نے قومی اسمبلی کے سپیکر کی رہائش گاہ کا رخ کیا مگر انھیں منسٹر کالونی کے گیٹ پر ہی روک دیا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق تحریک انصاف کے یہ اراکین کالونی کے گیٹ پر ہی دھرنا دے کر بیٹھ گئے ہیں۔

    تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کے مطابق اس سلسلے میں اپنی درخواست سپیکر قومی اسمبلی کو ای میل کر دی ہے، پی ٹی آئی کا اگلا قدم اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی ہو گا۔

    پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے لکھا کہ کیونکہ سپیکر قومی اسمبلی ابھی تک ہمارے تمام اسمبلی ارکان کے استعفے قبول نہیں کر رہے، اس لیے پارٹی چیئرمین عمران خان کی ہدایات کے مطابق 44 ارکان اسمبلی نے اپنے استعفے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس وقت تک پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کی قومی اسمبلی میں مجموعی تعداد 70 بنتی ہے۔

    سپیکر قومی اسمبلی اب تک شیخ رشید سمیت اب تک 80 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کر چکے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    تحریک انصاف کے استعفے، منطوری اور استعفوں کی واپسی تک کیا کہانی

    جب بطور وزیراعظم عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑا تو اپریل 2022 میں تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں نشستوں کی مجموعی تعداد 155 بنتی تھی۔

    عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی تو تحریک انصاف کے اراکین نے اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے ابھی تک صرف 79 اراکین کے استعفے قبول کیے ہیں۔

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے جمعے کے روز پاکستان تحریک انصاف کے 35 ارکان کے استعفے منظور کیے تو الیکشن کمیشن نے انھیں ڈی نوٹیفائی کر دیا یعنی ان کی رکنیت ختم کر دی۔

    اس سے قبل 17 جنوری کو سپیکر نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے استعفے منظور کیے تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے جولائی 2022 میں بھی پی ٹی آئی کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے، جس میں سے کراچی سے رکن قومی اسمبلی شکور شاد نے عدالت میں درخواست دائر کر کے اپنے استعفے کی درخواست واپس لے لی تھی۔

    ضمنی انتخابات ہوئے تو پھر ان میں سے سات پر سابق وزیراعظم عمران خان نے الیکشن میں حصہ لیا اور چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ مگر قومی اسمبلی میں یہ ایک سیٹ ہی شمار ہو گی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل عمران خان توشہ خانہ ریفرنس میں میانوالی کی نشست سے نا اہل قرار دیے گئے تھے، جس کی وجہ سے یہ نشست خالی قرار دی گئی تھی۔

    اب تک مجموعی طور پاکستان تحریک انصاف کے 79 اور شیخ رشید کا ایک استعفیٰ ملا کر 80 اراکین کے استعفے منظور ہو چکے ہیں۔

    اب اگر 155 میں سے 79 استعفے منظور ہو چکے ہیں تو قومی اسمبلی میں اس وقت تحریک انصاف کے باقی اراکین کی تعداد 70 بنتی ہے۔

  20. پاکستان میں بجلی کا بریک ڈاؤن: ’12 گھنٹوں کے اندر بحالی کی کوشش کریں گے‘

    khurram

    ،تصویر کا ذریعہMinistry of Energy

    پاکستان بھر میں بجلی کے بریک ڈاؤن کی تصدیق کرتے ہوئے وزیرتوانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ ’وولٹیج کی فلیکچوئیشن‘ کی وجہ سے بریک ڈاؤن ہوا ہے۔

    نجی ٹی وی جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’تربیلا اور وارسک سے کچھ گرڈ بحال کر دیے ہیں۔¬

    ان کے مطابق اب ایک ایک کر کے سسٹم کو دوبارہ آن کرنا ہے۔

    ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا معاملہ پیچیدہ ہے۔ کراچی کا بجلی کا اپنا سسٹم بھی موجود ہے۔ آئندہ چند گھنٹوں میں کراچی کو بجلی کی فراہمی بحال کر دی جائے گی۔

    ان کے مطابق یہ جنوب سے شمال تک بریک ڈاؤن آیا ہے، اب اسے بحال کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق پوری کوشش ہو گی کہ 12 گھنٹوں تک پورے میں ملک بجلی کے نظام کو بحال کر دیا جائے۔