الیکشن کمیشن کا سات حلقوں پر عمران خان کو کامیاب قرار دینے کا فیصلہ

الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو ضمنی انتخابات میں جیتی تمام سات نشستوں سے کامیاب قرار دیا ہے اور اس حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’پنجاب اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ کے لیے حکومت کے نمبر مکمل‘ فواد چوہدری کا دعویٰ:

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ پرویز الہی کے اعتماد کے ووٹ کے لیے حکومت کے نمبر پورے ہیں یعنی انھیں 187 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اس سے قبل انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے لیے 177 ممبران اسمبلی پہنچ چکے ہیں، قاف لیگ کے دس ارکان کچھ دیر میں پہنچ رہے ہیں اور اجلاس میں 187 ارکان شامل ہوں گے۔‘

  2. وفاقی حکومت سیاسی انتقام میں اندھی ہو چکی ہے: عمران خان

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی اور ایم این اے حسین الٰہی زمان پارک میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اور سیاسی صورتحال اور اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے مشاورت کی۔

    اس موقعے پر عمران خان نے کہا کہ ’فرحان خان کو انڈین ایجنٹ سمجھ کر سارا جسم زخمی کیا۔ ایک محب وطن پاکستانی کا قصور کیا ہے۔ پوری قوم کے لیے سوالیہ نشان ہے۔‘

    عمران خان نے وزیر اعلی چودھری پرویز الٰہی کے خاندان کے افراد کو نو فلائی لسٹ میں شامل کرنے کے اقدام کی مذمت کی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’وفاقی حکومت سیاسی انتقام میں اندھی ہو چکی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’امپورٹڈ حکومت نے آئین و قانون کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔پنجاب میں وفاقی حکومت کی شب خون مارنے کی سازش ناکام ہو گی۔ پی ٹی آئی اور ق لیگ کے اراکین اسمبلی متحد ہیں اور وفاقی وزرا کو منہ کی کھانا پڑے گی۔‘

    اس موقعے چودھری پرویز الٰہی ’سیاست میں کبھی انتقامی کارروائی کی اور نہ یقین رکھتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’چاہے فرحان خان پر تشدد کی بات ہو یا بندے اٹھانے کی بات ہو۔ شہبازشریف اور رانا ثناء اللہ کی ہر سازش ناکام ہو گی۔‘

    وزیر اعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ ’وفاقی حکومت اقتدار کے لالچ میں بدترین انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے‘۔

  3. ’ضروری نہیں قانون کو کالعدم قرار دیا جائے، عدالت کے پاس اور آپشن بھی موجود ہیں‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیالنےنیب ترامیم سے متعلق عمران خان کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ یہضروری نہیں قانون کو کالعدم ہی قرار دیا جائے بلکہ اس کے علاوہ بھی عدالت کے پاس آپشن موجود ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ عدالتیں سیاسی فیصلے کرنے کی جگہ نہیں ہیں اور عدالت متنازع معاملات پر فیصلے کرنے لگے تو کیا مزید تنازعات پیدا ہوتے ہیں؟

    انھوں نے کہا کہ ججز عوامی اعتماد کے ضامن اور قابل احتساب ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے نیب ترامیم کےخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔

    دوران سماعت عمران خان کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ نیب قانون میں ترمیم کے وقت ارکان اسمبلی کی اکثریت نے منظوری دی۔نیب ترامیم کی منظوری کے وقت 159 ممبران اسمبلی موجود تھے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سوال یہ ہے کہ ’قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ عدالت نے آئین کا دفاع اور تحفظ کیسے کرنا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ فیصلہ کرنے میں عدالت کہاں اور کس حد تک جا سکتی ہے ا ور اس کے ساتھ ساتھ پبلک آفس ہولڈرز قابل احتساب ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر حالیہ نیب ترامیم سے احتساب کا معیار گرا ہوا ہے تو عدالت ان کو برقرار کیسے رکھ سکتی ہے؟

    انھوں نے کہا کہ موجودہ کیس میں نیب قانون کی بہتری دیکھ رہے ہیں۔

    بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ’ہمارا معاشرہ کرپشن کی بیماری کا شکار ہے اور عوامی مفاد اور انفرادی فائدہ اٹھانے والوں کے درمیان توازن ہونا چاہئے انھوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ عدالت نے آئین کا دفاع اور تحفظ کیسے کرنا ہے۔‘

    بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’اگر نیب ترامیم بنیادی حقوق سے متصادم ہوئیں تو ہی عدالت آپشنز پر غور کرے گی۔ وفاق کے وکیل نے کہا کہ کوئی بھی ایسا قانون قائم نہیں رہ سکتا جو بنیادی حقوق سے متصادم ہو۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’اس کیس میں سیاسی تنازع بھی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جب سے پاکستان بنا انسداد کرپشن قوانین بنے ہوئے ہیں۔انسداد کرپشن قوانین کی وجہ سے ہی عوامی عہدیدار قابل احتساب ہیں۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’عدالت کو پارلیمنٹ پر اعتماد ہے مگر عوام کا اعتماد عدلیہ پر ہے۔کچھ بنیادی لوازمات ہیں جس پر عدالت نے بھی عمل کرنا ہے۔‘

  4. گورنر پنجاب کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد پر حکم امتناع میں توسیع، سماعت 12 جنوری تک ملتوی

    پرویز الہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کے روبرو اپنے دلائل میں کہا کہ وزیر اعلی پرویز الٰہی کے وکیل کو اعتماد کا ووٹ لینے میں کوئی دقت نہیں، لیکن بات اصول کی ہے۔

    عدالت نے گورنر پنجاب کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد پر حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 12 جنوری صبح نو بجے تک ملتوی کر دی۔

    پرویز الہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کے دلائل جمعرات کو بھی جاری رہیں گے۔

  5. گورنر اور سپیکر جماعتوں کے ترجمان بنے ہوئے ہیں: جسٹس عاصم حفیظ کے ریمارکس

    وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی کو عہدے سے ہٹانے کے خلاف درخواست پر سماعت لاہور ہائی کورٹ میں جاری ہے۔ دوران سماعت چوہدری پرویز الہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل میں کہا کہ گورنر اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتا ہے لیکن اجلاس کی تاریخ مقرر کرنے کا اختیار سپیکر کو ہے اور سپیکر پنجاب اسمبلی پہلے سے اجلاس کر رہے ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ ’سپیکر کو اعتماد کے ووٹ کے لیے اجلاس بلانے کا وزیر اعلی بھی نہیں کہہ سکتے اور سپیکر کے اجلاس نہ بلانے پر وزیر اعلی کو سزا نہیں دی جا سکتی۔‘

    جسٹس عاصم حفیظ ریمارکس دیے کہ ’آئین کےتحت گورنر اور سپیکر غیر جانبدار ہوتے ہیں، یہاں گورنر اور سپیکر جماعتوں کے ترجمان بنے ہوئے ہیں، گورنر پہلے سے جاری سیشن میں اعتماد کے ووٹ کی تاریخ مقرر کر سکتا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو پھر وزیر اعلی کہے گا کہ میں اعتماد کا ووٹ ہی نہیں لیتا کیونکہ اجلاس جاری ہے۔ سپیکر الگ تاریخ دے سکتا تھا۔‘

    عدالت کے استفسار پر سپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل حیدررسول مرزا کہا کہ سپیکر نے اس پر رولنگ جاری کی تھی۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے سپیکر سے کہا کہ ’سپیکر کی رولنگ عدالت کے سامنے نہیں ہے، ہم آپ کو بھی سن لیں گے۔`

  6. عدالت نے پرویز الہی کو ریلیف دیا جو پنجاب کے عوام کو بہت مہنگا پڑا: وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

    رانا ثنا اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ وزیراعلی چوہدری پرویز الہی کو 20 سے 22 دن ملے تھےجس میں انہوں نے روزانہ اربوں روپے کی کرپشن کی۔ ان کی ساری توجہ ماسٹر پلان کی منظوری پر رہی۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’معززعدالت نے پرویز الہی کو ریلیف دیا جو پنجاب کے عوام کو بہت مہنگا پڑا۔ ہماری عدالت سے استدعا ہے کہ اس کیس کا جلد فیصلہ دے تاکہ اقلیتی حکومت عوام پر مسلط نہ رہے۔‘

    رانا ثنا اللہ نے دعوی کیا کہ عمران خان نے لوگوں کو بدتمیزی سکھائی ۔ ان کے مطابق ’ افسوس ہے کی میری گاڑی پر جوتا مارا گیا جسے ہمارے کارکنوں نے خوب مارا۔ لیکن وہ بیچارہ تو مظلوم اور بے شرم انسان کے ہاتھوں گمراہ ہوا ہوا تھا، ضرورت اس بات کی ہے کہ اصل فتنہ کا خاتمہ کیا جائے۔‘

  7. اگر خرد برد کا خدشہ ہوتا تو پاکستان کے لیے 10 ارب ڈالر امداد کا اعلان نہ ہوتا: وزیر اعظم شہباز شریف

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ جنیوا کانفرنس انتہائی کامیاب ثابت ہوئی ہے جس میں پاکستان کے لیے مجموعی طور پر 9.7 ارب ڈالر کی امداد کے وعدے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’اسلامی ڈویلپمنٹ بینک نے سب سے زیادہ رقم 4.2 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے جس پر بہت حیرانی اور خوشی ہوئی ہے۔یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے جس کے لیے پاکستان کے 22 کروڑ عوام اور ان کے ساتھ ساتھ حکومتی اتحاد کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ’ اگر اس امدادی رقم میں خرد برد کا خدشہ ہوتا تو 10 ارب ڈالر کا اعلان نہ ہوتا۔ مخالفین نے ہمارے خلاف بدترین پروپیگنڈا کیا تاہم دنیا نے ہم پر بھروسہ کیا ہے ۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس امداد کی ایک ایک پائی عوام کی ترقی اور حوشحالی پر نچھاور کی جائے گی۔ان کے مطابق سیلاب متاثرین کی دوبارہ آباد کاری تک تمام کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

  8. وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹانے کے خلاف درخواست کی دوبارہ سماعت وقفہ کے بعد دوبارہ شروع

    لاہور ہائی کورٹ میں وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹانے کے خلاف درخواست کی سماعت ایک وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ عدالت میں اس وقت پرویز الہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر دلائل دے رہے ہیں

  9. اپوزیشن کے ہر غیر آئینی اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ پرعزم ہیں: وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی

    pervaiz elahi

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی فرخ حبیب ملاقات کے دوران کہا ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد ہر آنے والے لمحے مضبوط تر ہو رہا ہے۔ بے پرکی اڑانے والے اپنے مذموم عزائم میں ہمیشہ کی طرح ناکام ر ہیں گے۔ بدقسمتی سے کچھ عناصر نے سیاست کو بیوپار بنا لیا ہے۔

    چودھری پرویزالٰہی کا کہنا تھا کہ قوم دیکھ رہی ہے کہ کس طرح ضمیروں کے سودے کئے جا رہے ہیں۔اپوزیشن کے ہر غیر آئینی اقدام کا مقابلہ کرنے کیلئے پہلے سے زیادہ پرعزم ہیں۔

    پرویز الہی نے دعوی کیا کہ ن لیگ انتشار کا ایجنڈا لے کر چل رہی ہے جبکہ وہ عوامی خدمت کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

  10. پرویز الہی ووٹ لیں یا گھر جائیں: مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڈ نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ پرویز الہی کو اعتماد کا ووٹ لینا ہو گا۔ وہ اب اعتماد کا ووٹ لینے سے بھاگ سکتے ہیں نہ چھپ سکتے ہیں۔ پرویز الہی ووٹ لیں یا گھر جائیں ۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ پرویز الہی کے لیے اعتماد کا ووٹ لینا لازم و ملزوم ہیں۔وہ جتنا تاخیر کا شکار ہوں گے اتنے ان کے ممبران اتنے ہی کم ہوتے جائئں گے۔

    عطا تارڑ نے دعوی کیا کہ یہ بھی خبریں ہیں کہ پرویز الہی ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں، ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ ایسا نہ سوچیں۔

  11. پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے پاس 24 گھنٹے 186 ارکان کی سپورٹ ہونی چاہیے: جسٹس عاصم حفیظ

    LHC

    ،تصویر کا ذریعہLHC

    لاہور ہائی کورٹ میں پرویزالہی کو وزیراعلی کے عہدے سے ہٹانے کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس عابد عزیزشیخ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کررہا ہے۔

    دوران سماعت جسٹس عابد عزیزنے پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر سے استفسار کیا،’اب کیا صورت حال ہے؟معاملہ ابھی حل نہیں ہوا؟‘ جس پروزیراعلی پرویز الہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ تمام مسائل عدالت میں حل ہوں گے۔

    گورنرپنجاب بلیغ الرحمان کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ 'عدالت نے پرویزالہی کو کافی وقت دیا ہے ۔ان کا نکتہ یہی تھا کہ مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ ان کے لیے عدالت نے اعتماد کا ووٹ لینے کا راستہ بھی کھلا رکھا تھا۔

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ ’گورنر وزیراعلی کو اعتماد کے ووٹ کا کہہ تو سکتا ہے۔ آخر میں تو اراکین نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ کون وزیر اعلی بن رہ سکتا ہے۔ بیرسٹر علی ظفر بتا دیں کہ اعتماد کے ووٹ کے لیے کتنا وقت مناسب ہو سکتا ہے۔ ہم ایک تاریخ مقرر کر دیتے ہیں۔ ‘

    جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کے پاس پوراموقع تھا کہ اتنے دن میں اعتماد کا ووٹ لے لیتے۔ وزیر اعلی کے پاس 24 گھنٹے 186 ارکان کی سپورٹ ہونی چاہیے۔ کوئی فریق بھی نمبرز کو ہاتھ لگانے کو تیارنہیں۔ سب سوچ رہے ہیں کہ پہلے جو کرے گا وہ بھرے گا۔‘

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ یہ گورنر کا اختیار ہے کہ وہ وزیر اعلی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہے۔اب تو معاملہ مناسب وقت سے باہر آ چکا ہے۔

    کیس کی سماعت ایک وقفہ کے بعد ڈیڑھ بجے دوبارہ شروع ہو گی۔

    واضح رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے گورنر کی جانب سے ہٹائے جانے کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا ہے۔ پانچ رکنی بینچ نے 23 دسمبر کو گورنر پنجاب کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد معطل کیا تھا۔

  12. اوگرا کی گیس کی قیمتیں 74 فیصد تک بڑھانے کی منظوری

    gas

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے گیس کی قیمت بڑھانے سے متعلق سوئی گیس کمپنیوں کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کردیا ہے۔

    اس کے تحت سوئی ناردرن کے لیے گیس 74 فیصد سے زیادہ جبکہ سوئی سدرن کے لیے گیس کی قیمتوں میں 67 فیصد سے زیادہ اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔

    اوگرا کی ویب سائٹ پر موجود اس فیصلے میں سوئی ناردرن کے لیے گیس کی نئی قیمت 952 روپے 17 پیسےفی ایم ایم بی ٹی یو جبکہ سوئی سدرن کے لیے نئی قیمت 1161 روپے 91 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

    decision

    ،تصویر کا ذریعہOGRA

    اوگرا کے اس فیصلے پر وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد اطلاق گذشتہ سال جولائی سے ہوگا۔

    رولز کے مطابق وفاقی حکومت 40 روز کے اندر اس فیصلے پر منظوری دے گی بصورت دیگر ادارے کے فیصلے پر ازخود عمل درآمد ہوجائے گا جس کے بعد اوگرا اس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کرے گا۔

  13. ملک کے بالائی علاقوں میں برفباری سے سڑکوں کی بندش، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

    پاکستان، برفباری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے 13 جنوری کے دوران مری، گلیات، ناران، کاغان، دیر، سوات، کوہستام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، شانگلہ، استور، ہنزہ، سکردو، وادی نیلم، باغ، پونچھ اور حویلی میں شدیدبرفباری سے سڑکیں بند اور گاڑیوں کی آمد ورفت میں خلل کا امکان ہے۔

    اس دوران بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔

    ممکنہ اثرات کے حوالے سے متنبہ کیا گیا ہے کہ ’بارش کے دوران سیاحوں کو محتاط رہنے کی ہدایت ہے۔ اس دوران دھند کی شدت میں کمی کا امکان ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بارش فصلوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ بارش کے دوران اور بعد میں درجہ حرات میں نمایاں کمی ہوسکتی ہے۔‘

  14. اب تک کی اہم خبریں۔۔۔

    • چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجہ نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو سندھ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی نگرانی کے لیے کراچی پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ منگل کو ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سندھ میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کی نگرانی کے لیے سیکریٹری الیکشن کمیشن کراچی میں موجود رہیں گے۔ سندھ میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ کا دن 15 جنوری ہے۔
    • وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری اور عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے 9 ارب ڈالر سے زائد رقم دینے کا وعدہ کیا ہے، توقع ہے کہ اب اس عمل میں تیزی لائی جائے گی۔
    • بلاول کا کہنا تھا کہ ’عالمی برداری سے 50 فیصد فنڈز کی درخواست کی تھی مگر ہم نے جنیوا میں کامیاب کانفرنس کے دوران توقعات سے بڑھ کر ایک ہی دن میں اپنے ہدف سے زائد فنڈز اکٹھے کر لیے۔‘
    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    • عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب کے بعد تعمیرنو اور بحالی کے عمل میں عالمی بینک پاکستان کے ساتھ تعاون میں پرعزم ہے۔ یہ بات جنوبی ایشیا کے لیے عالمی بینک کے نائب صدر مارٹن ریزر نے اپنے ٹویٹس میں کہی۔ انھوں نے کہا کہ سیلاب کے بعد پیدا ہونے والے بحران میں پاکستانی عوام کی مدد کے حوالہ سے عالمی بینک پرعزم ہے۔
    • وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ جنیوا کانفرنس میں 9.7 بلین ڈالر امداد کا اعلان پاکستان کی تاریخی کامیابی ہے۔ ’یہ امدادی فنڈز سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور ملک بھر کے لوگوں کی تعمیر نو اور بحالی پر خرچ کیے جائیں گے۔‘
  15. سب کو پتا تھا کہ ٹی ٹی پی کے جنگجو واپس آئیں گے تو مشکل ہو گی لیکن کیا کرتے: عمران خان

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جب طالبان نے ٹی ٹی پی سے کہا پاکستان واپس چلے جاؤ تو یہ موقع تھا کہ ہم ایک حل نکالتے۔

    انھوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان آنے والے 30 سے 45 ہزار افراد میں سے پانچ، سات ہزار جنگجو تھے اور ان کو ہم نے دوبارہ آباد کرنا تھا اور خیبرپختونخوا میں مالاکنڈ کے ہمارے رہنماؤں نے کہا تھا کہ ان کی وہاں دشمنیاں ہو گئی ہیں اور جب واپس آئیں گے تو مشکل ہو گی۔

    ’یہ سب پتا تھا لیکن کیا کرتے، اتنے لوگ افغانستان میں نہیں رکھے جارہے تھے تو ان کو واپس آنا تھا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ یہی وقت وہاں ان پر توجہ دینے کا تھا لیکن ایسا نہیں ہواں۔ دہشت گردی اس لیے بڑھ رہی ہے کیونکہ موجودہ حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی اور سب سے زیادہ خطرہ خیبرپختونخوا میں ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کے پاس مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے، کراچی میں اس وقت بھی رینجرز ہے حالانکہ وہاں کے حالات بالکل مختلف ہیں۔

  16. طالبان کی حکومت وہ پہلی حکومت تھی جو پاکستان کی حامی تھی: عمران خان

    ik

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا فیصلہ تمام سٹیک ہولڈرز نے کیا تھا۔

    اسلام آباد میں پاکستان میں دہشت گردی کی لہر میں اضافے کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ یہ اس وقت پاکستان کا اہم مسئلہ ہے، اگر اس کا حل نہ نکالا گیا تو اس کے اثرات بڑھ سکتے ہیں اور معیشت ایسے حالات برداشت نہیں کر سکتی۔‘

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’طالبان کی حکومت پہلی حکومت تھی جو پاکستان کی حامی تھی اور ہمارے ان کے ساتھ تعلقات تھے کیونکہ امریکہ اور اشرف غنی کی حکومت سے مذاکرات کے لیے پاکستان نے ثالثی کی تھی۔‘

  17. بدھ سے بالائی علاقوں میں بارش اور مری گلیات سمیت بلند پہاڑوں پرشدید برفباری کی پیشگوئی، سیاح محتاط رہیں: محکمہ موسمیات کا الرٹ

    snow fall

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور پہاڑی مقامات پر برف باری کی پیش گوئی کی ہے ۔ ادارے کے جاری اعلامیہ کے مطا بق مغربی ہوائیں شمالی بلوچستان کے علاقوں میں آج رات (10 جنوری) سے داخل ہوں گی جوکل (بدھ) ملک کے بالائی علاقوں پر اثر انداز ہو نگی ۔ادارے نے11سے 13 جنوری کے دوران مری، گلیات، ناران، کاغان، دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، شانگلہ، استور، ہنزہ، اسکردو، وادی نیلم، باغ، پونچھ اور حویلی میں شدیدبرفباری کی پیش گوئی کی گئی ہے ۔

    rain

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    محکمہ موسمیات نے بارش اور برف باری کے دوران سیاحوں کو خصوصی طور پرمحتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برف باری کے باعث سڑکوں پرگاڑیوں کی آمد ورفت میں خلل کا امکان ہے جبکہ بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بعض مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ بھی ہو سکتی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق سرما کی بارش کے اس سلسلہ کے دوران دھند کی شدت میں کمی کا امکان ہے جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بارش فصلوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔دوسری جانب بارش کے دوران اور بعد میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی ہو گی اور سردی بڑھے گی۔

    winter

    ،تصویر کا ذریعہRescue1122

    ادارے کے مطابق مغربی ہواوں کے زیر اثر 10 اور 11 جنوری کے دوران کوئٹہ، ژوب، بارکھان، زیارت، نوکنڈی، دالبندین، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ ، چمن ،مسلم باغ اور پشین میں بارش اور برفباری ہو گی جبکہ چند مقا مات پر تیز بارش اور شدید برف باری کا بھی امکان ہے ۔

    11 سے 13جنوری کے دوران ہی اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار ، چارسدہ، باجوڑ،کرم، وزیرستان ،کوہاٹ، بنوں ، کرک، پشاور، نوشہرہ، صوابی ،سرگودھا، میانوالی، خوشاب، بھکر، لیہ، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، گوجرانوالہ، گجرات، حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، قصور، ساہیوال، اوکاڑہ اور لاہور میں ہلکی سے درمیانی بارش کی توقع ہے۔جبکہ 11اور 12 جنوری کو مکران کے ساحلی علاقوں،ڈیرہ اسماعیل خان، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، ملتان، خانیوال اور پاکپتن میں ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔

  18. الیکشن کمیشن نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن نے سابق وزیر اعظم عمران خان، پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف چیف الیکشن کمشنر کو مبینہ طور پر متنازعہ بنانے کے معاملے میں تینوں افراد کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے درخواستوں کی سماعت کے دوران تینوں افراد کی حاضری سے استثنی کی درخواستوں کو بھی مسترد کر دیا۔

    الیکشن کمیشن کے رکن نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ بھی الیکشن کمیشن کو ان کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کے بارے میں کہہ چکی ہے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ملک کی کسی ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کارروائی سے نہیں روکا۔

    الیکشن کمیشن اس معاملے میں مزید کارروائی 17 جنوری کو کرے گا۔

  19. آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات

    جنرل عاصم منیر

    ،تصویر کا ذریعہUAE Embassy in Islamabad, Pakistan

    پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے منگل کے دن متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید ال نہیان سے ملاقات کی۔

    پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات كے صدر شیخ محمد بن زاید نے پاكستان كے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر كا ابوظبی میں استقبال كیا۔

    بیان کے مطابق اس ملاقات میں علاقائی صورتحال اور دونوں ملكوں كے درمیان دوطرفہ تعاون وشراكت داری كو بڑھانے كے طریقوں پر تبادلہ خیال كیا گیا۔

    واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اس سے قبل سعودی عرب کا دورہ بھی کر چکے ہیں جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔

  20. محمد بن سلمان کی پاکستان میں سرمایہ کاری 10 ارب،سٹیٹ بینک میں ڈیپازٹ 5 ارب ڈالر تک بڑھانے پر غور کرنے کی ہدایت

    saudi pak

    ،تصویر کا ذریعہ@Saudi_Gazette

    سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان نے ہدایات جاری کی ہیں کہ سعودی عرب کی پاکستان میں جاری سرمایہ کاری کو ایک ارب سے بڑھا کر دس ارب ڈالر تک کرنے کے منصوبے پر غور کیا جائے۔

    سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’سعودی پریس ایجنسی‘ کے مطابق ولی عہد نے سٹیٹ بینک آف پاکستان میں سعودی ڈیپازٹ کی رقم کو بڑھا کر پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے پر غور کرنے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ ان اقدامات کا اعلان آج (منگل) صبح کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیران دنوں سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ہیں اور گذشتہ روز ان کی سعودی ولی عہد سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ تاہم سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ولی عہد کی جانب سے ان اقدامات کا اعلان پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور محمد بن سلمان کے درمیان جاری رابطوں کے پس منظرمیں کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ 25 اگست 2022 کو پاکستان کے لیے اعلان کردہ سعودی سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر تک محدود تھی جسے اب 10 ارب تک بڑھانے کی بات کی گئی ہے۔