الیکشن کمیشن کا سات حلقوں پر عمران خان کو کامیاب قرار دینے کا فیصلہ

الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو ضمنی انتخابات میں جیتی تمام سات نشستوں سے کامیاب قرار دیا ہے اور اس حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. جماعت اسلامی اور حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی انتخابی نتائج میں غیر معمولی تاخیر کی شکایات

    سندھ بلدیاتی انتخابات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امیر جماعت اسلامی کراچی اور میئر کے امیدوار حافظ نعیم نے حکومت سندھ پر بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نتائج مکمل ہونے کے باوجود قانون کے مطابق فارم 11 اور فارم 12 فراہم نہیں کیے جارہے ہیں۔

    حافظ نعیم نے کراچی میں میڈیا سے گفتگور کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق پریزائیڈنگ افسر فارم 11 اور فارم 12 دستخط اور انگوٹھا لگا کر اور اپنا شناختی کارڈ نمبر لکھ کر دینے کے پابند ہیں۔

    ان کے مطابق حکومت سندھ مداخلت کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اور حکومت سندھ کو خبردار کرتا ہوں کہ اگلے ایک گھنٹے میں فارم 11 اور فارم 12 دستخط کرکے، انگوٹھا لگا کر اور شناختی کارڈ نمبر لکھ کر ایک کاپی سیل کرکے ہمیں فراہم نہیں کیے اور آر اوز نے نتیجے کا اعلان نہیں کیا تو ہم ایک گھنٹے میں یا تو شہر بھر میں دھرنے شروع کردیں گے یا پھر الیکشن کمیشن کے دفتر میں بیٹھ جائیں گے۔

    Karachi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حافظ نعیم نے کہا کہ ہم ابھی مشورہ کرکے طے کریں گے کہ ہمیں کیا کرنا ہے، آپ کسی صورت ہمارے مینڈیٹ پر حملہ نہیں کرسکتے ہیں، ہمیں لوگوں نے ووٹ دیے ہیں، شہر کراچی نے بڑی امیدوں کے ساتھ جماعت اسلامی کو ووٹ دیا ہے۔

    جماعت اسلامی کے بعد سندھ میں حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر سعید غنی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انتخابی نتائج جاری کرنے میں تاخیر برتی جا رہی ہے۔ انھوں نے بھی اس تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ آخر یہ تاخیر کر کون رہا ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟

    تحریک انصاف سمیت تمام سیاستی جماعتیں ان انتخابات میں اپنی اپنی فتح کے دعوے بھی کر رہی ہیں۔ خیال رہے کہ ایم کیو ایم نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان انتخابات میں ٹرن آؤٹ انتہائی کم رہا ہے۔ ان کے مطابق عوام کا ان کے بائیکاٹ کے حق میں ریفرنڈ آ چکا ہے۔

    یوں ایم کیو ایم بھی ان انتخابات سے اپنی مقبولیت کے دعوے کرتی نظر آتی ہے۔

  2. نگران وزیر اعلی پنجاب کے لیے تین نام فائنل کر لیے، پرویز الہی

    تحریک انصاف اور ق لیگ نے پنجاب میں نگران وزیر اعلی کے عہدے کے لیے احمد نواز سکھیرا، نصیر احمد خان اور ناصر سعید کھوسہ کے نام تجویز کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔

    وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے لاہور میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نگران وزیر اعلی کے لیے تین نام مشارت سے فائنل کیے گئے ہیں جن میں پہلا نام احمد نواز سکھیرا کا ہے۔

    پرویز الہی نے کہا کہ یہ نام گورنر پنجاب کو بھجوائے جائیں گے اور امید ہے کہ کسی ایک نام پر اتفاق ہو سکتا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ق لیگ نے تحریک انصاف میں ضم ہونا ہے یا نہیں، اس پر مشاورت جاری ہے۔

    انھوں نے کہا کہ مونس الہی کی خواہش ہے کہ ق لیگ پی ٹی آئی میں ضم ہو جائے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. بلدیاتی انتخابات میں کم ووٹنگ ٹرن آؤٹ ہمارے مؤقف کی فتح ہے، ایم کیو ایم

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنماؤں نے کراچی اور حیدر آباد کے بلدیاتی انتخابات میں کم ووٹنگ ٹرن آؤٹ کو اپنے مؤقف کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’آج کراچی میں دھاندلی ہار گئی اور کراچی جیت گیا، عوام نے گھر بیٹھ کر ایم کیوایم کے فیصلے پر ریفرنڈم دے دیا۔‘

    ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال سمیت دیگر نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن نے جانبداری کا مظاہرہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک ادارہ شفاف الیکشن نہیں کروا سکتا تو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

  4. خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے سمری منگل کو بھجوائی جائے گی، وزیر اعلی محمود خان

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ کے پی اسمبلی کی تحلیل کے لیے سمری منگل کو ارسال کر دی جائے گی۔

    واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی پہلے ہی تحلیل ہو چکی ہے جہاں نگران وزیر اعلی کے انتخاب کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وزیر اعلی محمود خان نے کہا کہ ’قائد عمران خان کے حکم کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل کیلئے سمری بروز منگل گورنر کو ارسال کر دی جائے گی۔‘

    انھوں نے دعوی کیا کہ ’تحریک انصاف دوتہائی اکثریت سے دوبارہ حکومت میں آئے گی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ: کراچی، حیدرآباد سمیت صوبے بھر میں ووٹوں کی گنتی جاری

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں پولنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور کچھ سٹیشنز سے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج سامنے آنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    خیال رہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے گذشتہ شب کراچی اور حیدرآباد کے بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔

  6. فوج مثبت رول ادا کرے تو ملک کو آگے جانے سے کوئی نہیں روک سکتا، عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ اگر پنجاب میں ان کی پارٹی کا مینڈیٹ کم کرنے کی کوشش کی گئی تو مزاحمت کی جائے گی۔

    عمران خان لاہور میں ٹی وی چینلز کے پروڈیوسرز سے ملاقات میں گفتگو کر رہے تھے۔

    اس دوران عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ ایک حقیقت ہے اور قانون سے بالاتر ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حالات تب بہتر ہوں گے جب اسٹیبلشمنٹ قانون کی بالادستی کے لئے کام کرے گی۔

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جتنی طاقت فوج کے پاس ہے اتنی کسی اور ادارے کے پاس نہیں۔

    ’فوج مثبت رول ادا کرے تو ملک کو آگے جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘

    عمران خان نے دعوی کیا کہ جنوبی پنجاب میں پارٹی کے لوگوں کو ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

    ’ہمارے لوگوں کو بلا کر کہا گیا کہ عمران خان کا کوئی مستقبل نہیں۔‘

    عمران خان نے معاشی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت ہم یا ڈیفالٹ ہیں یا آئی ایم ایف کا آپشن ہے۔ بہتر ہو گا ہم اس صورتحال میں آئی ایم ایف کی طرف چلے جائیں۔‘

    عمران خان نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ موجودہ آرمی چیف شفاف انتخاب کروائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ این ار او کے علاوہ وہ ہر بات کیلئے تیار ہیں۔

  7. سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ: کراچی، حیدرآباد سمیت صوبے بھر میں پولنگ کا عمل جاری

    local

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں پولنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

    صوبے بھر میں آج صبح آٹھ بجے سے پولنگ کا عمل شروع ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہے گا۔

    حیدرآباد ڈویژن کے 9 اضلاع میں بھی آج بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

    خیال رہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے گذشتہ شب کراچی اور حیدرآباد کے بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔

  8. بریکنگ, بلدیاتی الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے، ایم کیو ایم کا انتخابات کا بائیکاٹ کا اعلان

    ایم کیو ایم

    ،تصویر کا ذریعہMQM-Pakistan

    متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کراچی اور حیدر آباد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے رویے پر ان انتخابات کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔

    ان کے مطابق ہمارے الیکشن میں جانے کا مطلب یہ ہوگا کہ کہ ہم نے حلقہ بندیوں کو تسلیم کر لیا ہے۔

    کراچی میں فاروق ستار اور کراچی کے سابق مئیر مصطفیٰ کمال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان، مہاجر قوم اور سندھ کے شہری علاقوں کو دیوار سے لگانے اور دیوار میں چنوانے کے لیے کوئی قومی اتفاق رائے موجود ہے، لہٰذا ہم انصاف نہ ملنے پر الیکشن کمیشن کے رویے پر اور بے حسی پر احتجاجاً آج کے انتخاب سے دستبردار ہو رہے ہیں۔‘

    ’الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی‘

    ایم کیو ایم کے سربراہ کے مطابق آئین اور قانون کے مطابق حلقہ بندیاں صرف الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، جب ہم نے ان کی نظر اس کوتاہی پر ڈالی ہے تو انھوں نے کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ ہمارے اس اعتراض پر یہ اعتراف نہیں کیا کہ ہم سے غلطی ہو گئی ہے، اور ہم غلطی کو درست کریں گے۔

    خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایسے انتخابات جس میں نہ ووٹر لسٹ صحیح ہے، نہ حلقہ بندی صحیح ہے، نہ ہی انتظامات مکمل ہیں، اس پر کس کو جتوانے کی سازش اور کوشش ہے؟

    خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ گھر پر بیٹھ کر ہمارے اس دستبرداری کا ساتھ دیجیے، آپ بھی ووٹ دینے کے حق سے دستبردار ہوں کیونکہ آپ کے ووٹ کو صحیح طور پر گنا ہی نہیں جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کل کے انتخابات کو ہم الیکشن تسلیم نہیں کرتے، اس کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے، ہم اپنے لوگوں کو کھڑا کریں گے، اور بتائیں گے کہ یہ انتخاب آپ کے خلاف ایک سازش ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی میں اب جو بھی میئر آئے گا وہ ایم کیو ایم کی خیرات پر آئے گا، جماعت اسلامی اس سازش کا مکمل طور پر حصہ بنی ہوئی ہے، وہ تسلیم کرتے ہیں کہ بدترین جیری مینڈرنگ ہوئی ہے پھر بھی انتخاب میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔

    ’ایم کیو ایم حکومت سے علیحدہ نہیں ہو گی‘

    خالد مقبول صدیقی نے کہا وہ حکومت کا ساتھ دیتے رہیں گے اور ملک کی معاشی حالات کے پیش نظر اس وقت حکومت کو بلیک میل نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی طرف سے حکومت سے علیحدگی سے غور کرنے سے متعلق بھی خبریں سامنے آئی تھیں۔

  9. اسمبلی کی تحلیل پر آئین کا آرٹیکل 224 کس طرح لاگو ہوتا ہے؟

    آرٹیکل 224 ٹو کے مطابق اسمبلی تحلیل ہونے پر 90 روز میں الیکشن ہوں گے۔ صوبائی اسمبلی تحلیل ہونے پر گورنر نگران کابینہ مقرر کرتے ہیں۔

    اس آرٹیکل کے مطابق گورنر سبکدوش وزیر اعلٰی اور قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے بعد تین روز میں نگران وزیر اعلٰی کا تقرر کرے گا۔ اتفاق نہ ہونے پر اسمبلی توڑنے کے تین دن کے اندر اندر دونوں تین نام کمیٹی کو بھجوائیں گے۔

    کمیٹی سپیکر صوبائی اسمبلی فوری طور پر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے۔ کمیٹی میں سبکدوش ہونے والی اسمبلی کے آٹھ ممبران ہوں گے۔ کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کی برابر تعداد ہوگی۔

    یہ کمیٹی تین روز میں نگران وزیراعلیٰ کا فیصلہ کرے گی۔

    کمیٹی میں اتفاق نہ ہونے پر معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن دو روز کے اندر فیصلہ کرے گا۔

    نگران وزیر اعلٰی کا تقرر نہ ہونے تک سبکدوش وزیر اعلٰی عہدے پر برقرار رہے گا۔

  10. نگران وزیراعلیٰ کی تعیناتی کے لیے مراسلے جاری: گورنر پنجاب

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے کہا ہے کہ ’پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد ایک متفقہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب اور قائدِ حزب اختلاف پنجاب اسمبلی کو مراسلے جاری کر دیے گئے۔‘

    اس مراسلے میں انھوں نے یہ ذکر بھی کیا ہے کہ تین روز یعنی 17 جنوری تک نگران وزیر اعلی کا نام دیا جائے۔

  11. بریکنگ, پنجاب اسمبلی تحلیل، نگران وزیر اعلیٰ کی تعیناتی تک پرویز الہی عہدے پر برقرار رہیں گے

    نامہ نگار ترہب اصغر کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق گورنر پنجاب نے اسمبلی کی تحلیل کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا لہذا وزیر اعلیٰ پرویز الہی کی ایڈوائس پر اسمبلی خود بخود 48 گھنٹے گزرنے کے بعد تحلیل ہوگئی ہے۔

    خیال رہے کہ آئین کے مطابق پنجاب اسمبلی اور کابینہ تحلیل ہوچکے ہیں اور نگران وزیر اعلیٰ کے حلف تک پرویز الہی اس عہدے پر برقرار رہیں گے۔

  12. پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے عمل کا حصہ نہیں بنوں گا: گورنر

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اسمبلی کی تحلیل کے عمل کا حصہ نہیں بنوں گا۔

    ’ایسا کرنے سے آئینی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ کا کوئی اندیشہ نہیں کیونکہ آئین اور قانون میں صراحت کے ساتھ تمام معاملات کے آگے بڑھنے کا راستہ موجود ہے۔‘

  13. وزیر اعظم شہباز شریف کے خلاف اعتماد کے ووٹ پر غور، انھیں پہلی بار امتحان میں ڈالیں گے: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے خلاف اعتماد کے ووٹ کا امکان موجود ہے اور اس حوالے سے جلد فیصلہ کر لیا جائے۔

    ہم نیوز کو دیے انٹرویو میں جب ان سے اس حوالے سے پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ شہباز شریف نے ’ہمیں ٹیسٹ کیا، اب ان کی باری آگئی ہے، امتحان کی۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’کل میٹنگ ہے، اس میں ہم فیصلہ کر لیں گے۔ اس کی پوری منصوبہ بندی کریں گے۔ صرف اعتماد کا ووٹ نہیں ہمارے دوسرے بھی پلانز ہیں۔ پہلی دفعہ انھیں امتحان میں ڈالنا ہے۔‘

    انھوں نے عندیہ دیا کہ ایک ہفتے میں خیبر پختونخوا اسمبلی توڑ دی جائے گی۔

    ’جنرل باجوہ نے ایکسٹینشن کے بعد احتساب کو روکا‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ سیاسی انجینیئرنگ نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے اور اب ملک میں واضح مینڈیٹ کے ساتھ ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو مشکل فیصلے لے سکے۔

    اس وقت کے آرمی چیف جنرل باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ یہ ان کی خواہش نہیں تھی۔ ’جنرل باجوہ نے پیغام بھجوایا تھا کہ میرے خلاف سیاست شروع ہوجائے گی، میں نے اس لیے انھیں توسیع دی۔‘

    ’اگر مجھے پتا ہوتا کہ ہمیں غیر فعال کر دیا جائے تو میں کبھی حکومت نہ بناتا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’مدت ملازمت میں توسیع کے بعد جنرل باجوہ نے احتساب کا نظام روکا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ مدت ملازمت میں توسیع کے بعد ’ایک اور باجوہ نظر آیا۔ وہ این آر او اور معیشت پر زور دینے کی بات کرنے لگے۔ اور کہنے لگے احتساب پر زور نہ دیں۔‘

    ’پہلے پتا ہوتا تو کہتا الیکشن کراؤ۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم میں ملک ٹھیک کرنے کی صلاحیت نہیں تھی کیونکہ ہم بااختیار نہیں تھے۔‘

    چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ایک جنرل باجوہ ایکسٹینشن سے پہلے تھے اور ایک بعد میں۔ ’پہلے جنرل باجوہ بہت مددگار تھے۔ پاکستان کی فوج واحد ادارہ ہے جو ابھی تباہ نہیں ہوا۔ باقی ادارے کمزور ہوگئے ہیں۔‘

    ’لیکن (بعد میں) انھوں نے احتساب نہیں ہونے دیا۔‘

  14. لندن میں نواز شریف کی وزیر اعظم شہباز شریف کو پنجاب میں انتخابات کی تیاری کی ہدایت

    وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کو پنجاب میں الیکشن کی تیاری کی ہدایت دی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ لندن میں منعقدہ پارٹی قیادت کے اہم مشاورتی اجلاس میں نواز شریف نے ’پارٹی صدر محمد شہباز شریف کو پارلیمانی بورڈ قائم کرنے کی ہدایت‘ دی ہے۔

    ان کے مطابق نواز شریف نے ہدایت دی ہے کہ ’پورے جذبے، اعتماد اور بھرپور تیاری اور قوت سے آگے بڑھیں۔ انشا اللہ فتح پاکستان مسلم لیگ ن کی ہو گی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. پنجاب کابینہ کا ممکنہ آخری اجلاس، ایجنڈا میں کن چیزوں کی منظوری دی گئی؟

    پنجاب کے وزیر اعلیٰ پرویز الہی نے ممکنہ طور پر اپنی کابینہ کے آخری اجلاس کی صدارت کی۔

    سرکاری بیان کے مطابق پنجاب کابینہ نے ان منصوبوں کی منظوری دی ہے:

    • پنجاب کابینہ نے بلوچستان کو 21 ہزار میٹرک ٹن گندم دینے کی باقاعدہ منظوری دی
    • میانوالی کو ڈویژن کا درجہ دینے کی مشروط منظوری۔ یونین کونسلوں کی حد بندیوں کا عمل مکمل ہونے کے بعد میانوالی کو ڈویژن کا باقاعدہ درجہ دیا جائے گا
    • جام پور کو ضلع کا درجہ دینے کی مشروط منظوری۔ داجل اور محمد پور کو جام پور کی نئی تحصیلیں بنانے کی مشروط منظوری
    • تلہ گنگ کے علاقے ملتان خورد کوتحصیل بنانے کی مشروط منظوری
    • یونین کونسلوں کی حد بندیوں کا عمل مکمل ہونے کے بعد جام پور کو ضلع اور داجل، محمد پور اور ملتان خورد کو تحصیل کا باقاعدہ درجہ دیا جائے گا
    • میانوالی سے داؤد خیل تک 36 کلو میٹر طویل سڑک کو سی پیک انٹر چینج سے منسلک کرنے کی منظوری
    • میانوالی میں 33 کلومیٹر طویل لکی تھامے والی روڈ کو سی پیک انٹرچینج سے منسلک کرنے کی منظوری
    • اقلیتی قیدیوں کے لیے مذہبی تعلیم مکمل کرنے پر سزا میں معافی کی منظوری
    • ٹیوٹا کورسز کرنے والے قیدیوں کو سزا میں معافی دینے کے فیصلے کی منظوری
    • جیل وارڈنز کی منظور شدہ اڑھائی ہزار اسامیوں پر بھرتیوں کی منظوری
    • پنجاب تھیلے سیمیا اینڈ جینٹک ڈس آرڈر، پری ونشن اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ملازمین کے کنٹریکٹ میں توسیع کی منظوری
    • جی او آر میں سرکاری رہائشگاہوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے فنڈز کے اجرا کی منظوری
    • لاہور ہائی کورٹ کی عمارت کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے فنڈز کی منظوری
    • لاہور ہائی کورٹ میں سائلین اور بزرگ وکلا کے لیے لفٹ نصب کرنے کے فیصلے کی منظوری
    • فیصل آباد میں نئے کورٹ رومز کی تعمیر کی منظوری
    • محکمہ پراسیکیوشن اور ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز کے افسروں اور ملازمین کے لیے 100 فیصد خصوصی الاؤنس کی منظوری
    • محکمہ خوراک میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر، فوڈ انسپکٹر اور فوڈ سپروائزرز کے لیے بھرتیوں کی منظوری
    • سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، شیخوپورہ، تلہ گنگ اور دیگر بار ایسوسی ایشنز کے لیے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری
    • پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے مینجنگ ڈائریکٹر کی تعیناتی کی منظوری
    • پیر مہر علی شاہ ایرڈ ایگری کلچر یونیورسٹی راولپنڈی کے وائس چانسلر کے تقرر کے لیے قواعد وضوابط اورسرچ کمیٹی کی منظوری
  16. ’پنجاب اسمبلی کی تحلیل کو چیلنج نہیں کریں گے، الیکشن کی تیاری کریں گے‘

    پنجاب اسمبلی

    وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن پنجاب اسمبلی کی تحلیل کو چیلنج نہیں کرے گی بلکہ نئے الیکشن کی تیاری کرے گی۔

    سنیچر کی شب صحافیوں سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی ہر صورت تحلیل ہوجائے گی اور اس حوالے سے گورنر پنجاب فیصلہ کر لیں گے۔

    ’پنجاب اسمبلی کی تحلیل کو چیلنج نہیں کیا جائے گا۔ اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہم الیکشن موڈ میں جا رہے ہیں۔‘

    ’اب ہم الیکشن کی تیاری کریں گے، پارلیمانی بورڈ کی تشکیل ہوگی۔ مناسب امیدوار شارٹ لسٹ کیے جائیں گے اور بھرپور انتخابی مہم ہوگی۔‘

    دوسری طرف سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے زمان پارک سے واپسی پر صحافیوں سے بات چیت کی اور کہا کہ نگران سیٹ اپ کے لیے ’دو نام ہم نے دینے ہیں اور دو نام اپوزیشن نے دینے ہیں۔

    ’اگر ہم سے فائنل نہ ہوا تو معاملہ الیکشن کمیشن میں جائے گا۔ پنجاب کے بعد کے پی اسمبلی کا فیصلہ کیا جائے گا۔‘

  17. بلاول کا ایم کیو ایم سے سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا مطالبہ

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیو ایم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی سندھ کے بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیں۔

    انھوں نے جیو نیوز سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’ہم ایم کیو ایم کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے سمجھاتے رہے لیکن ناکام رہے۔ ایم کیو ایم سے درخواست ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ وفاق اتحادیوں کے تحفظات دور کرنا چاہتا ہے اور اس حوالے سے کوششیں جاری ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ حیدر آباد کا میئر پیپلز پارٹی کا ہوگا، امید ہے کراچی کا میئر بھی پیپلز پارٹی کا ہو۔‘

  18. عمران خان کے اشارے پر خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کر دوں گا: وزیر اعلیٰ محمود خان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے اشارے پر اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔

    ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’جب میں سمری موو کروں گا سب کو موبائل پر واٹس ایپ کر دوں گا۔۔۔ میری کیا حیثیت کہ عمران خان کہیں اور میں اسمبلی نہ توڑوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ جب عمران خان کی طرف سے اشارہ ملے گا تو کے پی اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’(میں) تحریک انصاف کا ادنیٰ ورکر ہوں۔ عمران خان کا سپاہی ہوں۔ اسمبلی تحلیل کے لیے قائد عمران خان کا ایک اشارہ کافی ہے۔ جس دن اسمبلی تحلیل کرنی ہو میں سب کو خود بتا دوں گا۔‘

  19. وفاق کو خیبر پختونخوا میں مسلسل بگڑتی امن و امان کی صورتحال پر سخت تشویش ہے: رانا ثنا اللہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے خیبر پختونخوا میں ’امن و امان کی مسلسل بگڑتی صورتحال‘ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور پشاور کے تھانہ سربند پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

    ایک بیان میں رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ’وفاق کو صوبہ خیبرپختونخوا میں مسلسل بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر سخت تشویش ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گرد تھانوں پر حملے کر رہے ہیں۔ پولیس کے جوان اور افسران ٹارگٹ ہو رہے ہیں۔‘

    خیال رہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع تھانہ سربند پر جمعے کی شب شدت پسندوں نے حملہ کیا جس پر پولیس اہلکاروں نے مزاحمت دکھائی۔ اِن شدت پسندوں کے تعاقب میں جانے والے ٹیم میں شامل ایک ڈی ایس پی اور دو پولیس اہلکار مقابلے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’حالیہ واقعے سے لگتا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے بنوں سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹر سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی ساری توانائیاں صوبائی اسمبلی توڑنے پر مرکوز ہیں۔ عوام کے جان و مال کی حفاظت اور صوبے میں امن و امان وزیراعلی خیبر پختونخوا کی ترجیح ہی نہیں ہے۔‘

    وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ’دہشت گردوں کے حملوں میں کے پی پولیس بھی محفوظ نہیں۔ عوام کے تحفظ کا کیا ہوگا؟‘

    دوسری طرف وزیر اعلیٰ کے پی محمود خان نے بھی واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ’ہماری پولیس پوری بہادری سے لڑے، حملے کو پسپا کر دیا۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف پولیس کے ساتھ کھڑی ہے۔‘

    جبکہ ایس ایس پی آپریشنز کاشف آفتاب عباسی کے مطابق شدت پسندوں نے تھانہ سربند پر متعدد اطراف سے آدھی رات کو حملہ کیا جسے کامیابی سے پسپا کیا گیا مگر بعد ازاں ان شدت پسندوں کے تعاقب میں جانے والی ٹیم میں شامل پولیس ڈی ایس پی بڈھ بیر سردار حسین اور دو پولیس اہلکار ارشاد اور جہانزیب ہلاک ہو گئے۔

    ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق شدت پسندوں نے حملے میں دستی بم، سنائپر رائفل اور خود کار اسلحہ استعمال کیا تھا۔

  20. بریکنگ, سندھ حکومت کی درخواست مسترد: کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات 15 جنوری کو ہی ہوں گے

    سندھ حکومت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کراچی اور حیدرآباد میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی الیکشن 15 جنوری (اتوار) کو ہی کروانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    یاد رہے کہ سندھ حکومت نے مختلف وجوہات کی بنیاد پر 15 جنوری کو کراچی اور حیدرآباد میں ہونے والے الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس ضمن میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت ایک اجلاس سنیچر کو ہوا جس میں سندھ حکومت کی درخواست کا جائزہ لیا گیا۔

    اس اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے اور سندھ حکومت پرامن انتخابات کے انعقاد کے سلسلے فول پروف اقدامات کو یقینی بنائے۔

    الیکشن

    ،تصویر کا ذریعہECP