الیکشن کمیشن کا سات حلقوں پر عمران خان کو کامیاب قرار دینے کا فیصلہ

الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو ضمنی انتخابات میں جیتی تمام سات نشستوں سے کامیاب قرار دیا ہے اور اس حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. زمان پارک لاہور سے بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو

  2. ’اقتدار کے لیے صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنا سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے معاشی بحران مزید گہرا کرنے کی سازش ہے‘ خواجہ سعد رفیق

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    مسلم لیگ کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ اقتدار کے لیے صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنا سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے معاشی بحران مزید گہرا کرنے کی سازش ہے۔

    اپنی ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’اب مقابلہ میدان میں ہو گا بدنیتی سازش اور جھوٹ چکنا چور ہوں گے انشا اللّٰہ۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن انشا اللہ فرنٹ فٹ پر لڑے گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  3. ’آپ تو وفاقی حکومت ختم کرنے نکلے تھے اپنی ہی حکومت کا خاتمہ کر کے خوشیاں منا رہے ہیں‘ احسن اقبال

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کے پنجاب اسمبلی تحلیل کیے جانے والے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپ تو وفاقی حکومت ختم کرنے نکلے تھے اپنی ہی حکومت کا خاتمہ کر کے خوشیاں منا رہے ہیں۔‘

    اپنی ٹویٹ میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’شکریہ عمران نیازی! پنجاب کے عوام عرصہ سے پی ٹی آئی حکومت سے نجات کے خواہاں تھے جسے 2018 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن کا مینڈیٹ چرا کر مسلط کیا گیا تھا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. ’مسلم لیگ ن کی منفی سیاست کو پنجاب نے مسترد کر دیا، سازشیں دھری کی دھری رہ گئیں‘ پرویز الٰہی

    پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ حقائق مسخ اور عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’رانا ثنا اللہ عدالتی فیصلے کی من مانی تشریح کر رہے ہیں۔ رانا ثنا اللہ اور ان کی قیادت جھوٹ بولنے کے ماہر ہیں، عوام میں ان کی کوئی ساکھ نہیں‘G

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ’رانا ثنا اللہ اور عطا تارڑ کو پنجاب میں عبرتناک شکست ہوئی۔ پنجاب کے تخت پر قبضے کی خواہش رکھنے والوں کو راتوں رات فرار ہونا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے سرخرو کیا، آئندہ بھی سرخرو ہوں گے۔‘

    پرویز الہی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی منفی سیاست کو پنجاب نے مسترد کر دیا، سازشیں دھری کی دھری رہ گئیں۔ پنجاب اسمبلی پر شب خون مارنے کی کوشش کرنے والے اب روتے رہیں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. بریکنگ, پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی توڑنے کی سمری پر دستخط کر دیے، فواد چوہدری

    pmlq

    ،تصویر کا ذریعہpmlq

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پرویز الہی نے پنجاب اسمبلی توڑنے کی سمری پر دستخط کرکے گورنر کو بھجوا دی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ گورنر نے دو دن میں اسمبلی نہ توڑی تو خودبخور تحلیل ہو جائے گی۔

    فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ 48 گھنٹوں میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو خط لکھ کر عبوری حکومت بنانے کا کہیں گے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں بھی پرسوں اسمبلی توڑ دی جائے گی اور 90 دنوں کے اندر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

  6. ایم کیو ایم دھرنا دے یا پھر شاہراہ فیصل پر سرکس کرے الیکشن تو ہوں گے: خرم شیر زمان

    ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم دھرنا دے یا پھر شاہراہ فیصل پر سرکس کرے الیکشن تو ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام متحدہ کی چکنی چپڑی باتوں میں نہیں آنے والے۔ ’زیادتی کے شکوے،حقوق کی باتیں کرتے ہوئے ان ڈرامے بازوں کو اوسکر ملنا چاہیے۔‘

    خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ ’رونا دھونا کرنے کے بجائے ایم کیو ایم پیپلز پارٹی سے اپنا اتحاد ختم کرے، دل سوز مایوس کن پریس کانفرنس نے ظاہر کردیا یہ اپنی شکست تسلیم کرچکے۔‘

    خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ ’بلدیاتی الیکشن میں رکاوٹیں ڈالنا توہین عدالت کے مترادف ہے، مصطفیٰ کمال جنہیں را کا ایجنٹ کہتے تھے آج اپنے بیان پر یوٹرن لیکر بھی شرمندہ نہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بلدیاتی الیکشن میں ایم کیو ایم کو منہ کی کھانا پڑے گی۔ پی ٹی آئی کراچی میں ہر صورت اپنا مئیر لیکر آئے گی۔‘

  7. کراچی شہر کو اس لیے آزاد نہیں کرایا تھا کہ آصف علی زرداری اس پر قبضہ کرلیں: مصطفی کمال

    متحدہ قومی موومنٹ کے دہڑوں نے بالاخر انضمام کا اعلان کردیا ہے، پاک سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کو ایم کیو ایم پاکستان میں ضم کردیا گیا ہے۔

    پاک سرزمین کے سربراہ مصطفیٰ کمال اور بحالی کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز پہنچے جہاں خالد مقبول صدیقی، عامر خان اور وسیم اختر نے ان کا استقبال کیا۔ خالد مقبول صدیقی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’گذشتہ پانچ سال میں ایم کیوایم ہر سطح پر اپیل کرتی رہی کہ حالات سنگین سے سنگین تر ہورہے، ہم سب کی مشترکہ کاوشیں رنگ لائی مصطفی کمال انیس قائم خانی اور ڈاکٹر فاروق ستار بہت سے امید لیکر آج یہاں آئے ہیں۔‘

    ’قومی جدوجہد میں مل کر ہم سے حصہ ڈالیں گے۔‘

    مصطفی کمال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پہلے بھی نہ سمجھنے والے فیصلے کیے تھے جن کی امید نہیں تھی، چودہ اگست 2013 کو ایم کیوایم چھوڑ کر گیا اس وقت کوئی ذاتی رنجش لڑائی نہیں تھی جب صحیح سمجھا قوم کے لیے جان ہھتیلی پر رکھ کر آواز بلند کی۔

    ’ہم کیا شریف ہوئے پورا شہر بدمعاش ہوگیا، اس شہر کو اس لیے آزاد نہیں کرایا تھا کہ آصف علی زرداری اس پر قبضہ کرلیں، آصف علی زرداری اپنے وزیروں کو سمجھائیں کہ کراچی کو مخالفت کرکے بلاول کو وزیراعظم نہیں بناسکتے۔آصف زرداری کراچی و حیدرآباد کے دکھوں کا مداوا کرنا پڑے گا۔‘

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ پاکستان چلانے والوں سے کہتے ہیں کہ کراچی کے نوجوانوں کے لیے ایمنسٹی اسکیم لائے جائے لاپتہ نوجوانوں کو ان کے ماؤں کے حوالے کیا جائے۔

    ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے عوام کو اگر امید کی کوئی کرن نظر آتی ہے تو وہ صرف ایم کیوایم پاکستان ہے، آج ایک متحد منظم ایم کیوایم قائم ہونے جارہی ہے ایک سیاسی ٹولے نے پورے پاکستان پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ ماضی کا جواب اور جواز نہیں دینا صرف کراچی و پاکستان کی ترقی کیلئے کام کرنا ہے۔‘

  8. وقت آ گیا ہے کہ وفاقی حکومت سے بھی الگ ہو جائیں: فاروق ستار

    نیوز کانفرنس کے دوران سوالات کے جواب دیتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ’وقت آ گیا ہے کہ وفاقی حکومت سے بھی الگ ہو جائیں اور صوبائی حکومت کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہیے۔‘

    تاہم اس موقعے پر حالد مقبول نے انھیں ٹوکٹتے ہوئے کہا کہا ’ابھی پالیسی سٹیٹمنٹ نہ دیں۔‘

    تاہم انھوں نے واضح کیا کہ جو کچھ ایم کیو ایم کے ساتھ کراچی میں ہوگا وفاقی حکومت کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا۔

  9. بریکنگ, ایم کیو ایم کے دھڑوں کا ایک بار پھر متحد ہونے کا اعلان

    متحدہ قومی موومنٹ کے مختلف دھڑوں نے دوبارہ ایک ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ایم کیو ایم، پی ایس پی اور تنظیم بحالی کمیٹی کے قائدین نے کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا۔

    اس موقعے پر پاک سر زمین پارٹی کے رہنما مصطفیٰ کمال نے پی ایس پی کو ایم کیو ایم میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب خالد مقبول صدیقی کے زیر قیادت کام کریں گے۔

    انھوں نے لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کا مطالبہ کیا۔ انھوں بے کہا کہ یہ شہر صردف مہاجروں کا نہیں، یہاں پٹھان، ہزارہ اور پنجاپی اور سندھی بستےہیں۔ یہاں اگر برا ہوا تو سب کے ساتھ برا ہو گا۔

    اس موقعے پر فاروق ستار نے کہا کا کہنا تھا ایم کیو ایم کو توڑنے کے لیے نہ صرف بیرونی سازشیں ہوئیں بلکہ ہم میں خود بھی اندورنی کمزوریاں تھیں اور سخت گیر موقف تھا۔

    تاہم انھوں نے کہا کہ کوئی بھی جماعت کی کی جگہ نہیں لے سکی۔

  10. متحدہ عرب امارات کے صدر پاکستان کو مزید قرض دینے پر رضا مند

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات کی جس میں متحدہ عرب امارات کے صدر نے دو ارب امریکی ڈالرز کے موجودہ قرض کو رول اوور کرنے اور ایک ارب امریکی ڈالر اضافی قرض فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ وزیر اعظم شہبازشریف نے آج ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی۔

    دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان موجودہ برادرانہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا اور خاص طور پر تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے کی خواہش کا اظہار کیا۔

    مریم اورنگزیب کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں فریقوں نے سرمایہ کاری کے تعاون کو مزید گہرا کرنے، شراکت داری کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے انضمام کے مواقع کو فعال کرنے پر اتفاق کیا۔

    اس موقعے پر وزیراعظم شہباز شریف نے یو اے ای کے صدر کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔ اس دورے کی تاریخوں کا فیصلہ سفارتی ذرائع سے کیا جائے گا۔

  11. پرویز الٰہی فلور ٹیسٹ میں کامیاب، گورنر پنجاب نے وزیر اعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفیکیشن واپس لیا: عدالت

    بلیغ الرحمان، پرویز الہی

    ،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے اعتماد کے ووٹ کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں ’ڈی نوٹیفائی‘ کرنے کا نوٹیفیکیشن واپس لے لیا۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الہی کی جانب سے اس حکم کے خلاف دائر درخواست نمٹا دی ہے۔

    وکیل گورنر پنجاب نے سماعت کے دوران بتایا کہ ’گورنر پنجاب نے مجھے ہدایات دی ہیں۔ گورنر کو وزیر اعلی کے اعتماد کا ووٹ لینے کی رپورٹ موصول ہو گئی ہے۔‘ منصور عثمان اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’گورنر پنجاب نے وزیر اعلی پنجاب پرویز الٰہی کو ہٹانے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے۔‘

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ ’جب نوٹیفکیشن واپس ہو گیا تو پھر یہاں اس کیس کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔‘

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے مزید کہا کہ ’کوشش یہی ہونی چاہیے کہ عدالت کی ایسے معاملات میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ اب سارا کچھ آئین کے مطابق ہو گیا ہے۔‘

    جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ سپیکر نے جیسے عمل کیا ویسے عمل کرے۔ سپیکر نے سارا عمل غیر قانونی طور پر کیا۔ سپیکر کو غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ ’پرویز الٰہی کی درخواست تو آج ثنر آور ثابت ہو گئی ہے۔‘

    عدالت نے فیصلے میں بتایا کہ ’پرویز الٰہی نے وزارت اعلی سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا تھا۔ پرویز الٰہی کو ہٹانے کے نوٹیفیکیشن کو معطل کیا گیا اور دوران سماعت آج گورنر پنجاب نے واپس لے لیا۔‘

    عدالت نے گورنر پنجاب کے وکیل کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ’گورنر پنجاب کے وکیل نے اب وزیر اعلی پنجاب کے خلاف مزید کارروائی نہ کرنے کا بیان دیا۔ پرویز الٰہی فلور ٹیسٹ میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ پرویز الٰہی کی درخواست ثمر آور ہو گئی۔‘

    جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ وہ اس کیس میں اضافی نوٹ دیں گے۔ ’کیس میں معاملے پر انصاف کرنے کے نکتے پر نہیں جائیں گے۔‘

    عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کا وزیر اعلی پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کا 22 دسمبر کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم کر دیا ہے۔

  12. ’پی ٹی آئی کے پانچ ارکان پنجاب اسمبلی کے خلاف نااہلی ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا جائے گا‘

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے میڈیا کوارڈینیٹر اظہر مشوانی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے پانچ رکن صوبائی اسمبلی کو اعتماد کے ووٹ کے اجلاس میں نہ آنے پر ان کے خلاف نااہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ان میں خرم لغاری، مومنہ وحید، فیصل فاروق چیمہ، دوست مزاری اور چوہدری مسعود شامل ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. اعتماد کے ووٹ کے بعد اب یہ معاملہ رہ گیا کہ گورنر کا نوٹیفیکیشن ٹھیک تھا یا نہیں: لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ

    ،تصویر کا ذریعہLHC

    لاہورہائیکورٹ کا پانچ رکنی بینچ گورنر پنجاب کی جانب سے پرویز الہی کو وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹانے سے متعلق درخواست پر سماعت کر رہا ہے جس میں پرویز الہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں دلائل دیے کہ ’رات کو اعتماد کا ووٹ لے لیا ہے۔‘ اس پر جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا ’کتنے ارکان تھے رات کو؟‘

    بیرسٹر علی ظفر نے بتایا ’186 ارکان نے اعتماد کا اظہار کیا۔ 186 ارکان کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔‘

    وکیل گورنر پنجاب نے کہا کہ ’فلور ٹیسٹ ہو گیا ہے۔ وزیر اعلی نے اعتماد کا ووٹ لے لیا ہے۔‘

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا کہ ’کیا گورنر اعتماد کے ووٹ سے مطمئن ہیں؟‘ اس پر گورنر کے وکیل نے جواب دیا ’اعتماد کے ووٹ کے ریکارڈ کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دینا چاہیے۔‘

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے پوچھا کہ ’بیرسٹر علی ظفر، آپ کیا کہیں گے۔ فلور ٹیسٹ ہو گیا ہے۔ کیا اپ اس درخواست کی سماعت پر زور دیں گے؟‘

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا ’بظاہر تو درخواست غیر مؤثر ہو گئی ہے۔ گورنر کا نوٹیفیکیشن قانون کے مطابق نہیں تھا۔‘

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ ’ووٹ لینے کے بعد ایک معاملہ تو حل ہو گیا ہے۔ اب معاملہ یہ رہ گیا ہے کہ گورنر کا نوٹیفیکیشن ٹھیک تھا یا نہیں۔ آپ نے آرٹیکل 137 کے تحت اعتماد کا ووٹ لے لیا ہے۔‘

    جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ ’اگر آپ یہ کہیں گے کہ گورنر کا حکم غیر قانونی ہے تو معاملہ آخر تک جائے گا۔‘

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ ’اگر گورنر کے حکم کو دیکھنا ہے تو پھر ہمیں سب کچھ دیکھنا پڑے گا۔ آپ نے اس کا حل ٹھیک نکالا۔ گورنر کے اطمینان کے لیے آپ نے اعتماد کا ووٹ لے لیا۔‘

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا ’گورنر کی جانب سے ہٹائے جانے کا اقدام تو غیر قانونی تھا۔‘ اس پر جسٹس عابد عزیز نے پوچھا ’کیا عدالت اتفاق رائے سے ایک فیصلہ کر دے؟‘

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا ’عدالت اس پر اپنی فائنڈنگ دے۔‘

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ ’جب اجلاس نہ ہو تو کیا وزیر اعلی کو اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر گھر بھیج سکتے ہیں؟‘

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’گورنر کی جانب سے تاریخ مقرر کرنے کے نکتے کا سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔‘

  14. مسلم لیگ ن کم از کم مذاق والے پارٹی الیکشن ہی کروا لے: چیف الیکشن کمشنر

    الیکشن کمشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن نے حکمراں اتحاد کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کو 14 مارچ تک انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کی مہلت دی ہے۔

    درخواست پر سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے ریمارکس دیے کہ مسلم لیگ ن ’کم از کم مذاق والے پارٹی الیکشن ہی کروا لے۔‘

    الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے مسلم لیگ ن کے انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے کے کیس کی سماعت کی۔

    وکیل ن لیگ نے مؤقف اپنایا کہ انٹراپارٹی انتخابات کرانا چاہتے ہیں لیکن حالات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ مارچ 2022 سے شہباز شریف اور ان کی جماعت سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف تھے، شہباز شریف کے وزیراعظم بننے سے پارٹی انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے، سیکرٹری جنرل احسن اقبال 14 جنوری کو جنیوا سے آئیں گے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے ’اگر پارٹی صدر وزیراعظم ہے تو کسی اور کو صدر بنا لیتے۔ ن لیگ کو یہ بھی نہیں پتا کہ پارٹی انتخابات کب ہوں گے۔‘

    وکیل ن لیگ نے یقین دہانی کروائی 31 جنوری تک پارٹی انتخابات کروا دیں گے جس پر ممبر پنجاب بابر بھروانہ نے ریمارکس دیے ’یکم فروری تک پارٹی الیکشن نہ ہوئے تو انتخابی نشان واپس لے لیں گے۔‘

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا ’کئی سیاسی جماعتوں کو ایک سال تک بھی مہلت دے چکے ہیں۔ ٹھوس وجہ ہو تو مہلت دی جا سکتی ہے۔‘

    چیف الیکشن کمشنر نے مزید ریمارکس دیے کہ ’شہباز شریف مصروف آدمی ہیں تو کسی اور کو ذمہ داری دے دیں۔ چند سیاسی جماعتوں کے علاوہ سب کے پارٹی الیکشن مذاق ہی ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کم از کم مذاق والے پارٹی الیکشن ہی کروا لے۔‘

    الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ ن کو 14 مارچ تک پارٹی الیکشن کرانے کی مہلت دے دی ہے۔

  15. سندھ کے بلدیاتی الیکشن میں فوج، رینجرز کی تعیناتی ممکن نہیں: وزارت داخلہ

    وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک خط میں کہا گیا ہے کہ سرحد اور سکیورٹی کی اندرونی تعیناتیوں کے پیش نظر سندھ کے شہر کراچی، حیدرآباد اور ٹھٹھہ میں بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کے دوران 2395 اتنہائی حساس پولنگ سٹیشنز کے باہر فوج اور رینجرز کے 20 ہزار اہلکاروں کی تعیناتی ممکن نہیں۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ تاہم آئین کے آرٹیکل 220 کے مطابق رینجرز اور فوج کے دستے کیو آر ایف موڈ اور سٹینڈ بائی رول میں دستیاب ہوں گے۔

  16. فواد چوہدری کا پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں تحلیل کرنے کا عندیہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے جماعت کے نائب سربراہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر کوئی قانونی رکاوٹ نہ ہوئی تو ایجنڈے کے مطابق کل پنجاب اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی اور اس کے ساتھ خیبر پختونخوا اسمبلی بھی تحلیل کر دی جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کا ایجنڈا نئے عام انتخابات ہیں۔ ’یہی ہمارا مقصد ہے اور اسی کی طرف ہم بڑھیں گے۔‘

  17. پرویز الہٰی نے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا

    پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے کہا ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی نے پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ پرویز الہٰی نے 186 ووٹ حاصل کیے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. مسلم لیگ (ن) کا اعتماد کے ووٹ کو تسلیم کرنے سے انکار، ’عدالت میں جانے کا حق رکھتے ہیں‘

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں ملک احمد خان، رانا ثنااللہ خان اور عطااللہ تارڑ نے پنجاب اسمبلی کے باہر گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اعتماد کے اس ووٹ کو تسلیم نہیں کرتے اور صبح کے وقت اس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ جائیں گے۔

    رانا ثنااللہ نے اس موقع پر کہا کہ یہ ووٹ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے اور اعتماد کا ووٹ ایوان کے ذریعے بلڈوز کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل پی ڈی ایم جماعتوں نے پنجاب اسمبلی سے واک آؤٹ کر دیا تھا۔

  19. بریکنگ, وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی پہنچ گئے

    PMLQ

    ،تصویر کا ذریعہPMLQ

    وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی پہنچ گئے ہیں اور اپنے حمایتی اراکین سے ملاقات کر رہے ہیں۔

    یاد رہے اب سے کچھ دیر قبل پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے اجلاس کے وقت میں مزید ایک گھنٹے کا اضافہ کیا تھا اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی آج رات ہی اعتماد کا ووٹ لیں گے۔

  20. بریکنگ, وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کا آج رات ہی اعتماد کا ووٹ لینے کا امکان

    پنجاب اسمبلی

    ،تصویر کا ذریعہ@MashwaniAzhar

    وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کا آج رات ہی اعتماد کا ووٹ لینے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے اجلاس کے وقت میں مزید ایک گھنٹے کا اضافہ کر دیا ہے۔

    ایم این اے اور مسلم لیگ ق کے رہنما حسین الٰہی نے اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارے ارکان پورے ہیں اور اگر سپیکر پنجاب اسمبلی نے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا تو ضرور لیں گے۔‘

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ پرویز الہی کے اعتماد کے ووٹ کے لیے حکومت کے نمبر پورے ہیں۔

    اب سے کچھ دیر قبل وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی اور ایم این اے حسین الٰہی نے زمان پارک میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی ہے جس میں سیاسی صورتحال اور اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔