الیکشن کمیشن کا سات حلقوں پر عمران خان کو کامیاب قرار دینے کا فیصلہ
الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو ضمنی انتخابات میں جیتی تمام سات نشستوں سے کامیاب قرار دیا ہے اور اس حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل: گورنر نے سمری پر دستخط کر دیے
،تصویر کا ذریعہGovernor KP
گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کر دیے ہیں۔
گورنر کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ:
خیبر پختونخوا اسمبلی وزیر اعلیٰ کی ایڈوائس پر فوری طور پر تحلیل کی جا رہی ہے
خیبر پختونخوا کابینہ بھی تحلیل کی جاتی ہے
نگران وزیر اعلیٰ کی تعیناتی تک محمود خان وزیر اعلیٰ کے عہدے پر رہیں گے
وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر تین روز کی مشاورت سے نگران وزیر اعلیٰ تعینات کریں گے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی نے کہا ہے کہ تین ماہ میں الیکشن ہوں گے اور اس سے متعلق ’چیزیں ابھی پس پردہ مذاکراتی سٹیج پر ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اس دفعہ الیکشن جنرل ہی ہوگا۔۔۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ عام انتخابات ہی ہوں۔ ان بیوقوفوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ ملک ڈیفالٹ کررہا ہے۔ خدانخواستہ کہیں سری لنکا جیسی صورتحال نہ ہوجائے۔
’ایسی صورتحال سے بچانے کے لیے تمام حلقے سرجوڑ کر بیٹھے ہیں اور یہی فیصلہ کر رہے ہیں آج کل۔ انشاء اللہ انھیں جلد الیکشن کرانا پڑے گا اور تین ماہ کے اندر الیکشن ہوں گے۔‘
تحریک انصاف تمام نشستوں پر الیکشن لڑے گی، امیدوار عمران خان ہوں گے: فواد چوہدری
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف تمام نشستوں پر الیکشن لڑے گی اور عمران خان ان تینتیس نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدوار ہوں گے۔
انھوں نے یہ بات سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی جانب سے تحریک انصاف کے 34 اراکین اور عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد کے قومی اسمبلی سے استعفے منظور کرنے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان اراکین کو ڈی نوٹیفائی کی جانے کے بعد کہی۔
ڈی نوٹیفائی کیے جانے والے اراکین میں پرویز خٹک، شہریار آفریدی، علی امین گنڈا پور، شیخ رشید، فواد چوہدری، حماد اظہر ،شاہ محمود قریشی، قاسم سوری، علی زیدی، مراد سعید، زرتاج گل، غلام سرور خان اور نور الحق قادری وغیرہ شامل ہیں۔
فواد چوہدری نے اس ے پہلے یے بھی کہا کہ ’جتنا عرصہ اسمبلی میں رہا پوری ذمہ داری کے ساتھ ملک کے اعلࣿی ترین ایوان میں جہلم کے عوام کی بھرپور نمائندگی کی، قومی اسمبلی کی نشست تحریک انصاف کی امانت تھی وہ امانت لوٹا دی ہے، خود کو اگلے انتخابات میں جہلم کے عوام کے سامنے پیش کروں گا امید ہے وہ مجھے پھر عزت دیں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, وزیراعلی خیبرپختونخوا نے کے پی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری گورنر کو بھجوا دی
وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے کے پی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری دستخط کر کے گورنر کو بھجوا دی ہے۔
،تصویر کا ذریعہ@PTIofficial
’اب دیکھتے ہیں عدلیہ آئین کا تحفظ کرتی ہے یا نہیں‘ حماد اظہر
پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے تحریکِ انصاف کے 34 اراکین کے استعفے منظور کیے جانے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ قانون اور آئین کے مطابق استعفے یا سب کے منظور ہوتے ہیں یہ کسی کے نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اب دیکھتے ہیں عدلیہ آئین کا تحفظ کرتی ہے یا نہیں۔
’امید ہے چیف جسٹس ہمارے زیر التوا کیس میں فیصلہ دیں گے‘ فواد چوہدری
پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے تحریکِ انصاف کے 34 اراکین کے استعفے منظور کیے جانے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے استعفے قبول کرنے کا شکریہ لیکن جب تک آپ 70 اور استعفے قبول نہیں کرتے، لیڈر آف اپوزیشن اور پارلیمانی پارٹی کے عہدے تحریک انصاف کے پاس ہی آنے ہیں اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی تحریک انصاف کا حق ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ امید ہے چیف جسٹس سپریم کورٹ اس ضمن میں ہمارے زیر التوا کیس میں فیصلہ دیں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے 35 اراکین کے استعفے منظور کر لیے
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے 34 اراکین اور عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد کے قومی اسمبلی سے استعفے منظور کر لیے ہیں جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان اراکین کو ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے۔
ڈی نوٹیفائی کیے جانے والے اراکین میں پرویز خٹک، شہریار آفریدی، علی امین گنڈا پور، شیخ رشید، فواد چوہدری، حماد اظہر ،شاہ محمود قریشی، قاسم سوری، علی زیدی، مراد سعید، زرتاج گل، غلام سرور خان اور نور الحق قادری وغیرہ شامل ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پی ٹی آئی کا سپیکر قومی اسمبلی سے لیڈر آف دی اپوزیشن، چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور پارلیمانی لیڈر کے عہدوں کا مطالبہ
پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو سپیکر سے ملاقات کرکے ان سے کہے گی کہ لیڈر آف دی اپوزیشن، چیئرمین پی اے سی (پبلک اکاؤنٹس کمیٹی) اور پارلیمانی لیڈر کے عہدے تحریکِ انصاف کو دیے جائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک سپیکر کو کہیں گے ہمیں یہ تین عہدے پی ٹی آئی کو دیں جس پر عمران خان نامزدگیاں کریں گے۔
فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ چاہتے ہیں وفاقی حکومت ساتھ بیٹھے اور الیکشن ریفارمز پر بات کرتے لیکن ابھی تک پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی سے استعفے تک منظور نہیں کیے اور ہم اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب سے کچھ ہی دیر بعد خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری گورنر کو بھجوا دی جائے گی۔
بریکنگ, مسلم لیگ ن نے نگران وزیراعلیٰ کے لیے سید محسن رضا نقوی اور احد چیمہ کے نام گورنر کو بھجوا دیے
،تصویر کا ذریعہPMLN
پنجاب کے نگران وزیر اعلی کے لیے مسلم لیگ ن نے دو نام گورنر پنجاب بلیخ الرحمن کو بھجوا دیے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی جانب سے نگران وزیر اعلی کے لیے ملک احمد خان کو بھیجے گئے دو ناموں میں سید محسن رضا نقوی اور احد چیمہ کے نام شامل ہیں۔
یاد رہے احد چیمہ ان بیوروکریٹس میں شامل ہیں جو شہباز شریف کے (بطور وزیراعلی) سنہ 2008 سے 2018 تک کے دور میں ان کی ٹیم کا حصہ رہے۔
عمران خان کے دور میں (فروری 2018 سے 2021) تک احد چیمہ نے نیب کے مختلف ریفرنسز کے دوران 38 ماہ جیل میں بھی گزارے اور بالآخر انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
جون 2022 میں اپنے عہدے سے استعفی دینے کے بعد انھیں وزیراعظم شہباز شریف کا معاون تعینات کیا گیا۔
جبکہ سید محسن نقوی صحافی ہونے کے علاوہ ایک نجی میڈیا چینل کے مالک بھی ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے ان دونوں ناموں پر ردِعمل دیتے ہوئے انھیں غیر سنجیدہ نام قرار دیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’احد چیمہ نیب کے کیس میں شہباز شریف کے شریک ملزم ہیں جبکہ محسن نقوی سارا کچھ کرنے کرانے والے تھے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’ملک میں سیاسی عدم استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر‘ سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی, منزہ انوار - بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہhttps://dps.psx.com.pk/
پاکستان میں سٹاک مارکیٹ میں کارروبار کے دوران مسلسل دوسرے روز حصص کی قیمتوں میں زبردست کمی دیکھی گئی۔
کے ایس سی 100 انڈیکس 1378.54 پوائنٹس یا 3.47 فیصد کمی کے بعد .38,342.21 پوائنٹس پر بند ہوا۔
معاشی امور پر رپورٹنگ کرنے والے سینئیر صحافی شہباز رانا نے اس کی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر کو قرار دیا ہے۔
بی بی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج سٹاک مارکیٹ میں جو ’بلڈ باتھ (تباہی)‘ ہوا ہے اس کے پیچھے آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر تو ایک بہت بڑی وجہ ہے ہی لیکن ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام بھی اس کا ذمہ دار ہے۔
شہباز رانا کا کہنا تھا کہ ’نہ تو کم مدت سے لمبے عرصے تک کے لیے اقتصادی پالیسیوں کے حوالے سے کوئی واضح صورتحال ہے اور نہ ہی سیاسی فرنٹ پر کچھ کلئیرٹی ہے۔ اسی وجہ سے سرمایہ کار گھبرا رہا ہے اور اس کی اسی گھبراہٹ کی وجہ سے آج سٹاک مارکیٹ میں تباہی ہوئی ہے۔‘
اس سوال کے جواب میں کیا وہ سٹاک مارکیٹ کی صورتحال میں بہتری کی امید دیکھتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ’لیکن اگر حکومت آج صحیح نیت سے یہ فیصلہ کر لے کہ اس نے آئی ایم ایف پروگرام کرنا ہے اور اس کے حوالے سے جو اقدامات ہیں وہ آج ہی لینا شروع کر دے تو صورتحال بہتر ہوتی نظر آئے گی۔‘
تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس سب سے پہلے سیاسی فرنٹ پر صورتحال کا واضح ہونا ضروری ہے کہ آیا یہ حکومت آگے چل سکتی ہے یا نہیں اور اس حوالے سے کوئی ڈیڈ لائن بھی نہیں ہے کہ یہ سیاسی عدم استحکام کب تک ختم ہو گا، لہذا جب تک سیاسی صورتحال واضح نہیں ہو گی تب تک آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘
،تصویر کا ذریعہhttps://dps.psx.com.pk/
،تصویر کا کیپشنحتیٰ کہ تقریباً دوپہر 3:23 پر انڈیکس 1432.94 پوائنٹس یا 3.74 فیصد کمی کے بعد 38,297.08 پوائنٹس پر پہنچ گیا تھا۔ تاہم دن کے اختتام تک کچھ پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
بریکنگ, پرویز الٰہی کی جانب سے دیے گئے تین ناموں پر کچھ خاص اختلاف نہیں، آصف زرداری سے مشاورت کے بعد اعلان کریں گے: ملک احمد خان
،تصویر کا ذریعہScreen grab local media
اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے نمائندے ملک احمد خان نے کہا ہے کہ ان کی پرویز الٰہی سے ملاقات ہوئی ہے اور حزبِ اختلاف کو ان کی جانب سے تجویز کیے گئے ناموں پر میرٹ کی بنیاد پر دیکھیں تو کوئی خاص اختلاف نہیں ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ان کی وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات ہوئی ہے اور انھوں نے نگراں وزیر اعلی کے لیے وزیر اعظم سے مشاورت مکمل کر لی ہے۔
ملک احمد خان نے بتایا کہ ’وزیراعظم آج شارٹ لسٹ کیے گئے نام آصف علی زرداری کے سامنے رکھیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ اتحادیوں سے مشاورت کے بغیر نام بتانا مناسب نہیں اس لیے ’آصف زرداری سے مشاورت کے بعد آج شام تک تین نام گورنر پنجاب کو بھجوا دیں گے۔‘
خیال رہے کہ آج رات دس بج کر دس منٹ پر وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت کا آئینی وقت ختم ہو جائے گا۔
صحافی سلیم صافی کی درخواست پر ایف آئی اے کا قاسم سوری کو طلبی کا نوٹس
،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/ QASIM KHAN SURI
سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو ایف آئی اے کی جانب سے طلبی کا
نوٹس بھیجا گیا ہے تاہم انھوں نے اس انکوائری کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ صحافی سلیم صافی نے الزام عائد
کیا تھا کہ ٹوئٹر پر ایک کمنٹ کے ذریعے قاسم سوری نے اُن کی ذاتی زندگی پر کیچڑ
اچھالنے کی کوشش کی تھی جس سے ان کی فیملی کی پرائیویسی متاثر ہوئی۔
قاسم سوری نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ سیاسی مخالفت اور عناد کی بنا پر میرے خلاف ایف آئی اے کو شکایت کی گئی تھی۔
قاسم سوری نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’پی ٹی آئی
ورکر ہونے کے باعث عمران خان کی آئیڈیالوجی کا ہر فورم پر دفاع کرتا ہوں اور جس ٹویٹ
کا حوالہ دیا گیا ہے وہ صحافی کے 28 دسمبر کے ٹویٹ کا اگلے روز دیا گیا جواب تھا۔‘
انھوں نے مؤقف اختیار کیا
ہے کہ انھوں نے صحافی سلیم صافی کے
صحافتی کریئر پر کمنٹ کیا جس کا ان کی ذاتی زندگی سے کوئی تعلق نہیں تھا اور ان کے
الزامات سائبر کرائم کے زمرے میں نہیں آتے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’میری درخواست پر فیصلے تک
ایف آئی اے کا نوٹس معطل کیا جائے۔‘
کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے غیرحتمی نتائج: پیپلز پارٹی پہلے، جماعت اسلامی دوسرے پی ٹی آئی تیسرے نمبر پر
،تصویر کا ذریعہECP
الیکشن کمیشن نے کراچی میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات کی تمام 235 یونین کونسلز کے غیرحتمی نتائج جاری کردیے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے جاری نتائج کے مطابق کراچی میں اتوار کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی نے سب سے زیادہ 93 نشستیں حاصل کی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق جماعت اسلامی دوسرے نمبر ہے جس کے پاس 86 نشستیں آئی ہیں۔
جبکہ پاکستان تحریک انصاف 40 نشستوں کے ساتھ تیسرے پر ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اعلامیہ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن 7 نشستوں کے ساتھ چوتھے، جمعیت علمائے اسلام 3 نشستوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ ان انتخابات میں تحریک لبیک پاکستان نے دو جبکہ آزاد امیدواروں نے بھی تین بھی نشتتوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے 11 نشستوں پر امیدواروں کی وفات کے بعد وہاں کی نشستوں پرانتخابات ملتوی کر دیے تھے۔
بریکنگ, چوہدری شجاعت حسین نے چوہدری پرویز الٰہی کی پارٹی رکنیت معطل کر دی
مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے چوہدری پرویز الٰہی کی پارٹی رکنیت معطل کرکے انھیں شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔
چوہدری شجاعت کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ صوبائی صدر پارٹی کو کسی دوسری جماعت میں ضم نہیں کر سکتا۔ انھوں نے پرویز الہی کو سات دنوں کے اندر وضاحت دینے کی ہدایت کی ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پرویزالہیٰ نے دوسری جماعت میں شمولیت کا بیان دیا، وضاحت تک پارٹی رکنیت معطل کی جاتی ہے اور وضاحت قبول نہ ہونے کی صورت میں ان کی بنیادی رکنیت معطل کردی جائے گی۔
،تصویر کا ذریعہPMLQ
’ناصر سعید کھوسہ نے متفقہ کیئرٹیکر وزیراعلیٰ کا عہدہ قبول کرنے سے معذرت کر لی‘
مسلم لیگ کے ن کے رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ناصر سعید کھوسہ نے متفقہ کیئر ٹیکر وزیر اعلیٰ کا عہدہ قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ناصر کھوسہ صاحب کی قابلیت، اصول پسندی اور دیانت داری مسلمہ ہے، بحیثیت بیوروکریٹ ان کا کردار قابل فخر ہے۔ ہم نے ان سے رابطہ کیا کی فریقین کی جانب سےمتفقہ کیئرٹیکر وزیر اعلیٰ کا عہدہ قبول کریں لیکن انھوں نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور معذرت کی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
نگران وزیراعلیٰ کے لیے تین نام موصول ہوئے ہیں جنھیں اپوزیشن لیڈر کو بھیجا جا رہا ہے، گورنر پنجاب
پنجاب کے گورنر بلیغ الرحمن کا کہنا ہے کہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے انھیں وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کی جانب سے تین نام موصول ہوئے ہیں جنھیں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف کو بھیجا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میں چاہتا ہوں کہ دونوں رہنما مقررہ وقت کے اندر کسی بھی نام پر مشترکہ طور پر متفق ہوں۔‘
یاد رہے تحریک انصاف اور ق لیگ نے پنجاب میں نگران وزیر اعلی کے عہدے کے لیے احمد نواز سکھیرا، نصیر احمد خان اور ناصر سعید کھوسہ کے نام تجویز کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے لاہور میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نگران وزیر اعلی کے لیے تین نام مشارت سے فائنل کیے گئے ہیں جن میں پہلا نام احمد نواز سکھیرا کا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
عمران خان اور اسد عمر کے ’توہینِ الیکشن کمیشن‘ سے متعلق وارنٹ گرفتاری معطل
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے توہین الیکشن کمیشن سے متعلق عمران خان اور اسد عمر کے وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے ہیں۔
توہین الیکشن کمیشن پر الیکشن کمیشن کی طرف سے عمران خان فواد چوہدری اور اسد عمر کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے سپریم کورٹ کے حکمنامے کے بعد الیکشن کمیشن نے ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ کسی بھی ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ملزمان کے خلاف کارروائی سے نہیں روکا ہے۔
جماعت اسلامی کے میئر کو منتخب ہونے سے روکا گیا تو ہمارے پاس تمام آپشن موجود ہیں: حافظ نعیم الرحمان
،تصویر کا ذریعہcourtesy JI
امیر جماعت اسلامی کراچی
حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ
اگر جماعت اسلامی کے میئر کو منتخب ہونے سے زبردستی روکا گیا تو ان کی جماعت کے پاس تمام آپشن
موجود ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے الیکشن
کمیشن آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کرتا ہوئے کہا کہ ’جو آر اوز نتیجہ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے ہاتھ ابھی روکے
جائیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ
’یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس فارم 11 پر پورا نتیجہ موجود ہو (اور جب وہی نتیجہ) آر او
سے جاری ہو تو اس میں تبدیلی آ جائے، اس کو بدل دیں گے تو ہم کہاں جائیں گے۔‘
امیر جماعت اسلامی
کراچی نے کہا کہ ’میں عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنھوں نے ہمیں ووٹ دیا، آخری
لمحے تک جب یہ ہو رہا ہو کہ الیکشن نہیں ہو رہا جبکہ یہ چار بار ملتوی ہو چکا ہو۔‘
خیال رہے کہ جماعتِ
اسلامی کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ کراچی میں 100 سے زیادہ نشستوں پر
کامیاب ہوئے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس اس ضمن میں شواہد بھی
موجود ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز
الیکشن کمیشن کی جانب سے نتائج فراہم کرنے میں تاخیر کے بعد بلدیاتی انتخابات کے
حوالے سے تنازع کھڑا ہوا ہے۔
بلدیاتی انتخابات کا عمل پیچیدہ ہوتا ہے، امید ہے شام تک حتمی نتائج سامنے آ جائیں گے: صوبائی الیکشن کمشنر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبائی الیکشن کمشنر سندھ اعجاز انور چوہان کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا عمل پیچیدہ ہوتا ہے اور ابھی اس میں تاخیر کی وجہ آر اوز کے پاس نتائج کی تیار ہے، امید ہے کہ شام تک حتمی نتائج سامنے آ جائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس حوالے سے سخت میکنزم رائج کیا گیا ہے اور تاخیر کی وجہ ایک تو پانچ بجے کے بعد بھی پولنگ سٹیشنز کے احاطے میں موجود لوگوں کا ووٹ ڈالتے رہنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کچھ پولنگ سٹیشنز میں شام سات بجے تک بھی لوگ ووٹ ڈالتے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ نتائج جمع کرنے میں وقت لگا۔
بلدیاتی انتخابات میں آر ٹی ایس نظام رائج نہیں، ہر آر او کے پاس پانچ یونین کونسلز ہیں اس لیے وقت لگ رہا: صوبائی الیکشن کمشنر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبائی الیکشن کمشنر سندھ اعجاز انور چوہان کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں آر ٹی ایس نظام نافذ العمل نہیں ہے اور نتائج کمپیوٹر ایکسل شیٹ پر بن رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ تمام نتائج آر اوز کے دفاتر میں پہنچائے جا رہے ہیں جو ایک گھمبیر مرحلہ ہے کیونکہ ایک یونین کونسل کے نتائج بنانے میں وقت لگتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہر یونین کونسل کے چار وارڈ اور 20 پولنگ سٹیشن ہیں اور اگر ایک بھی پولنگ سٹیشن کا نتیجہ نہیں آتا تو نتیجہ مکمل نہیں ہوتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہر آر او کے پاس پانچ یونین کونسلز ہیں اس لیے وقت لگ رہا ہے۔‘