پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج، عدم اعتماد پر ووٹنگ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ نہیں
پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر دو بجے منعقد ہو گا تاہم گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کی ہدایت کے برعکس پرویز الہٰی کے اعتماد کا ووٹ لینے کا عمل آج کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔
لائیو کوریج
گندی ویڈیوز، آڈیوز نکالی جا رہی ہیں صرف اس لیے کہ ہمیں کسی طرح بلیک میل کیا جائے: عمران خان
،تصویر کا ذریعہYoutube/PTI
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ جس ایک آدمی نے فیصلہ کیا ان چوروں کو مسلط کرنے کا اور پھر ہمارے سے یہ چور ہضم کروانے میں ہم کتنا اور نیچے گریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’گندی ویڈیوز، آڈیوز نکل رہی ہیں، بچے ہمارے سوشل میڈیا پر گند دیکھ رہے ہیں صرف اس لیے کہ کسی طرح بلیک میل کیا جائے اور ہم ان چوروں کو ہضم کر لیں۔‘
عمران خان نے کہا کہ میں پاکستان میں اداروں سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کو فکر کرنی چاہیے یا نہیں کہ ہمارا ملک آج وہاں پہنچ رہا ہے جہاں سے اسے واپس لانا بہت مشکل ہو جائے گا۔
ایک آدمی نے جس طرح ہمارے ساتھ دشمنی کی جیسے میں کوئی غدار، ملک دشمن ہوں: عمران خان
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے گورنر ہاؤس کے باہر موجود مظاہرین سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں خوف ہے کہ اگر اس ملک
میں جلدی الیکشن نہ کروائے گئے تو بہت جلدی یہ ملک ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک آدمی نے جس طرح کی دشمنی
کی ہمارے ساتھ ہے، مجھے کبھی ایسا احساس نہیں ہوا، جیسے میں کوئی غدار، ملک دشمن
ہوں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ساری قوم ایک پیغام دے رہی
تھی کہ ہم اس چوروں کے ٹولے کو قبول نہیں کرتے۔ آج 70 فیصد پاکستانی کہتے ہیں کہ
ملک کے مسائل کا حل الیکشن ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’وہ ایک آدمی کہتا تھا کہ
عمران خان کے خلاف کیسز کرنے ہیں، اسے اقتدار سے ہٹانا ہے۔ آخر میں پلان بنایا گیا
کہ مجھے مار کر راستے سے ہٹایا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’لوگوں کی امید
ختم ہو رہی ہے پاکستان میں، کیونکہ سارے بیرونِ ملک نہیں جا سکتے۔‘
بریکنگ, تحریکِ عدم اعتماد کی رکاوٹ کے باعث کل پنجاب اسمبلی تحلیل نہیں ہو گی: سپیکر پنجاب اسمبلی
،تصویر کا ذریعہPunjab Assembly
سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین
خان کا کہنا ہے کہ ’ہم تو کل اسمبلی تحلیل کرنی تھی لیکن انھوں نے جو رکاوٹیں ڈال دی
ہیں اس کے بعد معاملہ جنوری کے پہلے ہفتے تک جا سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ کیونکہ تحریکِ
عدم اعتماد اور اعتماد کے ووٹ کی رکاوٹ آ گئی ہے اس لیے کل اسمبلی نہیں ٹوٹ سکتی ہے۔
’اب تحریکِ عدم اعتماد پر
ووٹنگ کے بعد ہی اسمبلی ٹوٹے گی۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’اب اس
حوالے سے نوٹس جاری ہوں گے اور فی الحال ہم صدر کو خط لکھنے کے حوالے سے رک گئے
ہیں۔‘
جیسے آپ کو پتا ہے کہ گورنر
صاحب نے تین الزامات عائد کیے لیکن ان میں سے کسی بھی الزام کا تعلق ان کی ذات سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔‘
پاکستان کا واحد وزیر خارجہ ہوں جو اپنا ٹکٹ اور ہوٹل کا بل خود ادا کرتا ہے: بلاول بھٹو
پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے واحد وزیرِ خارجہ ہیں جو اپنے ہوٹل کا بل خود ادا کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں اپنے بیرون ملک دوروں کے اخراجات کا بوجھ قومی خزانے پر نہیں ڈالتا اور اگر ایسا کرتا بھی تو بطور وزیر خارجہ یہ میرا استحقاق ہے۔
’میرے بیرون ملک دوروں کا فائدہ میری ذات کو نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کو ہوا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
شہباز گل اگلی تاریخ میں پیش نہ ہوئے تو ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جائیں گے: عدالت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہScreenshot
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں پیش نہ ہونے پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے کہا ہے کہ اگر آئندہ سماعت پر ملزم عدالت میں پیش نہ ہوئے تو ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے جائیں گے۔
ایڈشنل سیشن جج طاہر عباس کا کہنا تھا کہ ملزم کو جب سے اس مقدمے میں ضمانت ملی ہے اس کے بعد وہ ہشاش بشاش دکھائی دینے کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے ہیں۔
ملزم کے وکیل شہریار طارق نے عدالت کو بتایا کہ ’ان کے موکل دمے کے مرض میں مبتلا ہیں اور لاہور میں ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’لاہور میں چونکہ سموگ ہے اور ان کے اہلخانہ کے مطابق شہباز گل کا آکسیجن لیول بڑھتا اور کم ہوتا رہتا ہے۔
’عدالت نے ملزم کے وکیل سے استفسار کیا کہ ملزم کو کتنے عرصے کا آرام تجویز کیا گیا ہے جس پر ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا اس مقدمے کی سماعت کو لامحدود مدت کے لیے ملتوی نہ کردیا جائے جس پر ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ ٹرائیل سے نہیں بھاگ رہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’شہباز گل عدالت کے ’بلیو آئیڈ‘ ہیں جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ ’بلیو آییڈ‘ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ٹرائل سے بھاگتے پھریں۔
’اس مقدمے کے پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی طرف سے اس مقدمے میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ملزم کی طرف سے عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دراصل عدالت سے مذاق کرنے کے مترادف ہے۔
انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم شہباز گل کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔
’عدالت نے ملزم کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انھیں چھ جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔‘
جج زیبا چوہدری کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں عمران خان کو 18 جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہPTI
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے اسلام آباد کی ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انھیں اٹھارہ جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
اس مقدمے میں عدالت عمران خان کی ضمانت کی درخواست منظور کر چکی ہے۔
سینیئر سول جج رانا مجاہد رحیم نے سابق وزیراعظم عمران خان کو نوٹس جاری کر دیے اور اسلام آباد پولیس نے اس مقدمے کا چالان متعقلہ عدالت میں جمع کروا دیا ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان نے اسلام آباد میں جلسے کے دوران خاتون جج زیباچوہدری کو دھمکی دی تھی جس پر اسلام اباد ہائی کورٹ نے انھیں توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا تاہم عمران خان کی طرف سے خاتون جج کی عدالت میں پیش ہونے اور ان کی عدم موجودگی میں ان سے معافی مانگنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کا نوٹس واپس لے لیا تھا۔
بریکنگ, امید ہے فوج سیاست میں مداخلت نہ کرنے پر قائم رہے گی، ہم اسٹیبلشمنٹ نہیں عوام کی طرف دیکھ رہے ہیں: اسد عمر
پاکستان
تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے موجودہ حکومت عوام کے خوف سے الیکشن سے
بھاگ رہے ہیں۔
اسلام
آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران جمہوریت کے بنیادی اصول
پامال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ کھلم
کھلا آئین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
حکومت
پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکمران عمران خان اور عوام سے حوفزدہ ہیں
اور یہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے تمام حربے ناکام ہو
چکے ہیں۔
موجودہ
حکومت وفاق میں بلدیاتی انتخابات میں حلقہ بندیاں بڑھا کر الیکشن ملتوی کرنے کی
کوشش کر رہی ہے اور پنجاب میں بھی اسمبلی کی تحلیل کو روکنے کے لیے کے گئے اقدامات
بدنیتی پر مبنی ہے۔
اسد
عمر کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اپنا اقتدار بچانے کے لیے آخری حربے استعمال کر
رہے ہیں جس میں انھیں ناکامی ہو گی۔ پہلے یہ حکومت کراچی اور پشاور میں انتخابات
سے بھاگے اور اب یہ اسلام آباد سے بھاگ رہے ہیں۔
ان
کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن و عامہ کی صورتحال بہت خطرناک ہے اور اس رجیم
چینج آپریشن نے پاکستان کو گذشتہ آٹھ ماہ میں بہت نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ پنجاب میں اسمبلی تحلیل روکنے اور اسلام
آباد میں بلدیاتی انتخابات روکنے کا معاملہ عدالت میں جاتا دکھائی دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فوجی قیادت کہہ چکی ہے کہ فوج کا ادارہ ملکی سیاست میں مداخلت نہیں کرے گا اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی بات پر قائم رہیں گے۔ ہم صرف عوام کی طرف دیکھ رہے ہیں ہم نہ کسی قوت نہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے دیکھ رہے ہیں۔
این ایف سی ایوارڈ: وفاق سے 27 ارب روپے کم ملنے پر بلوچستان حکومت مالی مشکلات کا شکار
،تصویر کا ذریعہBalochistan Government
رواں
مالی سال کے دوران وفاق سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت 27 ارب روپے کم ملنے سے
بلوچستان حکومت کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
ایک
سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ ،وزرا اور اراکین اسمبلی کے ہمراہ مالی بحران
پر بات کرنے کے لیے وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے اسلام آباد جائیں گے۔
وزیراعظم
سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کے حصے کی فنڈز کے فوری اجرا کی بات کی جائے
گی۔
اعلامیہ
کے مطابق کوئٹہ میں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور سینیٹرمولانا عبدالغفور حیدری
کو بھی مالی بحران سے آگاہ کیا گیا۔
وزیر
خزانہ بلوچستان انجنئیر زمرک خان نے ان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال
میں اب تک وفاق سے بلوچستان کو27 ارب روپے کم موصول ہوئے۔
جبکہ
گزشتہ مالی سال کے دوران 11ارب روپے کم ملے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی
صورتحال برقرار رہی تو بلوچستان حکومت کے پاس تنخواہوں کے لیے بھی فنڈز نہیں ہوں
گے۔
اعلامیہ
کے مطابق بحران سے نمٹنے کے لیے بلوچستان حکومت پی پی ایل کے ذمے 30ارب روپے کے
واجب الادا رقم کی فوری وصولی بھی چاہتی ہے۔
بلوچستان ہائی کورٹ: سابق فوجی سربراہ کے خلاف ریمارکس دینے پر شہباز گل پر مقدمہ ختم کرنے کا حکم
،تصویر کا ذریعہYoutube
بلوچستان
ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل پر پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل
قمر باجوہ کے خلاف ریمارکس کے حوالے سے قائم مقدمے کو ختم کرنے کا حکم دیا ہے ۔
یہ
مقدمہ شہباز گل کے خلاف راولپنڈی میں تحریک انصاف کے جلسے میں خطاب کے حوالے سے
بلوچستان کے افغانستان سے متصل قلعہ عبداللہ میں دائر کیا گیا تھا۔
اس
مقدمے کے خاتمے کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔
درخواست
پر بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بینچ نے فیصلہ سناتے
ہوئے مقدمے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے پولیس سے
استفسار کیا کہ ایک ہی کیس میں کیسے قلعہ عبداللہ میں مقدمہ درج کیا گیا۔ عدالت نے
کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ ایک ہی واقعے کے دو مقدمات نہیں ہو سکتے۔
شہبازگل
کی پیروی انصاف لائرز فورم سے تعلق رکھنے والے وکلاءنے کی۔
بریکنگ, پی ٹی آئی کا استعفوں کے معاملے پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق
حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین جمعرات کو ہونے والے قومی
اسمبلی کے اجلاس میں اپنے اجتماعی استعفے پیش کرنے کے لیے حاضر نہیں ہوں گے اور
پاکستان تحریک انصاف اس معاملے کو سپریم کورٹ لے کر جا رہی ہے۔
پاکستان
تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شبلی فراز کا
کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو سپریم کورٹ لے کر جائیں گے۔
واضح
رہے کہ شبلی فراز نے اس بیان سے پہلے قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف سے
پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی تھی تاہم اس ملاقات کے بعد ان کا موقف تھا کہ انھوں
نے قومی اسمبلی کے سپیکر سے ذاتی حیثیت میں ملاقات کی تھی۔
پاکستان
تحریک انصاف کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے
کر جا رہے ہیں لیکن چونکہ سپریم کورٹ میں اس وقت دسمبر کی تعطیلات ہیں اس لیے کوئی
بینچ بھی دستیاب نہیں ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے
ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے
سامنے موجود ہے اور بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ
شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ چونکہ
مذکورہ بینچ دستیاب نہیں ہے اس لیے اس معاملے پر مزید مشاورت ہو رہی ہے کہ اب اس
معاملے کو کیسے سپریم کورٹ میں لے جایا جائے۔
سپیکر
قومی اسبملی راجہ پرویز اشرف کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ وہ
ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کے لیے کوئی دباؤ قبول نہیں کریں گے۔
اس بیان میں انھوں نے
کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان توشہ خانہ کیس میں نااہل ہو چکے
ہیں اوروہ رکن اسمبلی بھی نہیں ہیں اس لیے
ان کے بیان کی بھی حثیت نہیں ہے۔
جمعرات کو قومی اسمبلی
کے اجلاس میں جو ایجنڈا جاری ہوا ہے اس میں پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفے منظور
کرنے یا پیش کرنے کا ایٹم موجود نہیں ہے۔ قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں اسلام آباد میں
بلدیاتی انتخابات میں یونین کونسل میں اضافے کا معاملہ بھی شامل ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق متفرق درخواستوں کو یکجا کر دیا, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے یونین
کونسلز میں اضافہ تک موخر کرنے، ووٹرز کے غلط حلقوں میں اندراج، اور الیکشن ملتوی
کرانے پر توہین عدالت کی درخواستوں کو یکجا کر دیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں جاری سماعت
کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون اور درخواستگزاران
کے وکیل عادل عزیز قاضی کے علاوہ دیگر عدالت پیش ہوئے۔
پی ٹی آئی رہنما علی نواز اعوان کی جانب سے دائر توہین
عدالت کی درخواست میں درخواست گزار وکیل نے کہا کہ پانچ مہینے پہلے وفاقی حکومت نے
یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ کیا، بلدیاتی انتخابات سے 12 دن قبل ایک بار پھر
حکومت نے یونین کونسلز کی تعداد بڑھا دی۔
اس پر اٹارنی جنرل اوشتر اوصاف نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ درخواست
گزار کی جانب سے یونین کونسلز کی تعداد بڑھائے جانے کا نوٹیفکیشن چیلنج نہیں کیا گیا۔
عدالت نے ڈی جی الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ یونین
کونسلز سے متعلق کوئی نیا نوٹیفکیشن آیا ہے، جس پر ڈی جی الیکشن کمیشن نے بتایاکہ
جی نوٹیفکیشن تو آیا تھا لیکن ہم نے اس پر آرڈر بھی کردیا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد
ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ آپ نے کیا آرڈر جاری کیا ہے، جس پر ڈی جی الیکشن کمیشن
نے کہا کہ ہم نے آرڈر کیا ہے کہ اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات وقت پر ہوں گے۔
وکیل الیکشن کمیشن نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی نوٹیفکیشن
کے بعد بھی الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے، ڈی جی الیکشن
کمیشن نے کہا کہ حکومتی نوٹیفکیشن کے باوجود الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات
کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
عدالت نے علی نواز اعوان کے وکیل سے استفسار کیاکہ انتخابات
ہورہے ہیں تو توہین عدالت کیسے ہو گئی؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آج میں وفاقی حکومت کو روک دوں
کہ آئندہ کوئی قانون پاس نہیں کرنا؟
چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی سے کیسے روک
سکتے ہیں؟
اس حوالے سے ایک اور پٹیشن بھی ہے جس میں ووٹرز عدالت
آئےہوئے ہیں، لوکل گورنمنٹ الیکشن کے حوالے سے تمام درخواستوں کو یکجا کر کے ایک
سماعت کریں گے
چیف جسٹس نے کہاکہ یونین کونسلز بڑھانے کی منظور ی کابینہ
نے دی تو درخواست صرف وزیر اعظم کیخلاف کیوں؟
عدالت قانون سازی کو نہیں روک سکتی ، کابینہ کو قانون سازی
سے کیسے روک سکتے ہیں اگر کوئی مسئلہ ہے بھی تو امید ہے کہ حکومت اور الیکشن کمیشن
مل کر حل کر لیں گے، ووٹرز نے بھی ووٹ تبدیلی کے خلاف درخواست دی ہوئی ہے، میرے خیال
میں وہ معاملہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
بلدیاتی انتخابات روکنے سے متعلق ن لیگ کے امیدوار شہزاد
اورنگزیب کی درخواست پر وکیل درخواست گزار عادل عزیز قاضی روسٹرم پر آگئے اور
کہاکہ وفاقی حکومت کی جانب سے یونین کونسلز کی تعداد بڑھا دی گئی ہے، یونین کونسلز
کی تعداد 101 سے بڑھا کر 125 کر دی گئی ہے، الیکشن کمیشن کو پرانی ووٹرز لسٹ کے مطابق
الیکشن کرانے سے روکا جائے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ الیکشن کب ہے، جس پر عادل عزیز قاضی
ایڈووکیٹ نے کہاکہ الیکشن 31 دسمبر کو ہوں گے،
الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن 101 یونین کونسلز کی حد تک
تھا،اب ان 101 یونین کونسلز کا وجود باقی نہیں رہا، وفاقی حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ
میں ترامیم بھی تجویز کی ہیں۔
اس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون کی جانب سے الیکشن
کمیشن کا یونین کونسلز کی تعداد میں اضافے سے متعلق وفاقی حکومت کا نوٹیفکیشن
مسترد کرنے کا فیصلہ بھی چیلنج کر دیا گیا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین
کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا اور بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواستوں پر سماعت
کل تک کے لیے ملتوی کردی ہے
بریکنگ, پرویز الہی نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا، وہ آئینی وزیر اعلیٰ نہیں رہے: رانا ثنا اللہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ گورنر
کو آئینی طور پر یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کو کسی بھی وقت اعتماد کا ووٹ
لینے کا کہہ سکتے ہیں۔
لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چوہدری
پرویز الہی نے گورنر کے بلائے گئے اجلاس میں اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کیا لہذا وہ اب
آئینی طور پر وزیر اعلیٰ نہیں ہیں اور اس کا صرف ایک رسمی نوٹیفکیشن جاری ہونا ہے۔
اور گورنر پنجاب کی جانب سے انھیں ڈی نوٹیفائی کرنے کا نوٹیفکیشن آج جاری ہونا
چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں کوئی سیاسی بحران نہیں ہے اور آج
جب گورنر پنجاب وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کریں گے اور وہ وزیر اعلیٰ آئینی حکم پر
عمل نہیں کرتے تو گورنر پنجاب وفاق کو لکھ سکتے ہیں۔
اگر ایسا ہوا تو صوبے میں تو ماہ تک گورنر راج لگ سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ میں گورنر کو ہدایات دینے کا اختیار نہیں رکھتا
تاہم میرا خیال ہے کہ آج وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا نوٹیفکیشن آنا چاہیے۔
ان کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثنا اللہ کوئی آئینی و
قانونی اتھارٹی نہیں ہے اور وہ مسلسل آئین کی آرٹیکل پانچ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پرویز الہی تب تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ
رہیں گے جب تک انھیں اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ یہ حکومت صرف انتخابات سے بھاگ رہی ہے۔
جبکہ رانا ثنا اللہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا مسلم لیگ ن انتخابات سے بھاگ
نہیں رہی اور ہم انتخابات کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی
اسمبلیاں ٹوٹ جاتیں تو الیکشن 90 روز میں ہوتے لیکن اب ہو سکتا ہے کہ عام انتخابات
اگلے برس اکتوبر میں ہو گے۔
اعظم سواتی نے فوج کے ایک اعلیٰ افسر کے خلاف ٹویٹ کیا، ری ٹویٹ کرنے والوں کا شکریہ بھی ادا کیا
،تصویر کا ذریعہYoutube
اسلام آباد کےسپیشل جج سینٹرل کی عدالت نے متنازع ٹویٹ کیس میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعظم سواتی کی ضمانت مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اعظم خان سواتی نے 26 نومبر کو پاکستانی فوج کے ایک اعلیٰ افسر کے خلاف ٹویٹ کیا، جسے مختلف ٹوئٹر اکاؤنٹس سے ری ٹویٹ کیا گیا۔ فیصلے کے مطابق اعظم سواتی نے اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرنے پر دیگر اکاؤنٹس کا شکریہ بھی ادا کیا۔
جج محمد اعظم خان کے فیصلے کے مطابق اعظم سواتی کے خلاف ریاستی اداروں کے خلاف ٹویٹ کرنے پر پہلے بھی پیکا کی سیکشن 20 کے تحت ایک مقدمہ درج ہے۔
فیصلے کے مطابق اعظم سواتی کو پہلے مقدمے میں 21 اکتوبر کو ضمانت ملی۔ 26 نومبر کو انھوں نے پھر وہی جرم دہرایا، بادی النظر میں اعظم سواتی نے ضمانت پر رہا ہونے کے باوجود دوبارہ اسی جرم کا ارتکاب دوبارہ کیا۔
چھ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت اعظم سواتی کو ضمانت پر رہا کرنے کے لیے قائل نہیں ہے۔ اعظم سواتی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔
بریکنگ, گورنر پنجاب کے پاس وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا اختیار نہیں ہے: مسرت جمشید چیمہ
،تصویر کا ذریعہ@MusarratCheema
ترجمان وزیر اعلیٰ و پنجاب حکومت مسرت جمشید کا کہنا ہے کہ گورنر
پنجاب کے پاس وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اور نہ ہی اسمبلی
سیشن کے دوران اسمبلی اجلاس بلانے کا اختیار ہے۔
ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا
کہ اگر کوئی غیر آئینی قدمہوا، تو گورنر
پنجاب پر آئین شکنی کا مقدمہ ہو گا۔
انھوں نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ پر تنقید کرتے
ہوئے کہا کہ وہ اپنے بیان سے بھاگ چکے ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ پر تنز
کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ان کی گیدڑ بھبھکیوں کا جواب مل گیا ہو گا۔
،تصویر کا ذریعہ@MusarratCheema
مسرت جمشید چیمہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو نہ صرف ان کے ارکان بلکہ تحریک انصاف کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
انھوں نے کہا کہ عوام کو عدم اعتماد وفاقی حکومت پر ہے۔پنجاب اسمبلی کی بجائے ملک بھر کی عوام کے اعتماد کا فیصلہ کیا جائے۔
انھوں نے مسلم لیگ ق اور پی ٹی آئی کی جانب سے گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کی کال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج گورنر ہاؤس کے باہر عوامی اعتماد کا فیصلہ ہو جائے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی جھنگ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی سے ملاقات
وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے جھنگ سے تعلق رکھنے
والے اراکین اسمبلی رائے تیمور بھٹی اور صاحبزادہ محبوب سلطان سے ملاقات کی ہے۔
اس ملاقات میں سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی اور صوبائی وزیر
راجہ بشارت بھی موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی نے اس موقع پر منڈی شاہ
جیونہ کو تحصیل کا درجہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’رائے تیمور بھٹی
اور صاحبزادہ محبوب سلطان کے مطالبے پر منڈی شاہ جیونہ کو تحصیل کا درجہ دیا ہے۔ تحصیل
بننے سے منڈی شاہ جیونہ کے انتظامی امور میں بہتری آئے گی۔‘
ان کا کا کہنا تھا کہ تعلیم، صحت اور دیگر سہولتوں میں
اضافہ ہو گا۔
رائے تیمور بھٹی اور صاحبزادہ محبوب سلطان نے منڈی شاہ جیونہ
کو تحصیل کا درجہ دینے پر وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی کا شکریہ ادا کیا۔
صاحبزادہ محبوب سلطان کا کہنا تھا کہ منڈی شاہ جیونہ تحصیل
بننے سے علاقے کے عوام کی محرومیاں دور ہوں گی۔
بریکنگ, وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے صوبائی کابینہ کا ساتواں اجلاس طلب کر لیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے صوبائی کابینہ کا ساتواں
اجلاس جمعرات کو طلب کر لیا
کابینہ کے ساتویں اجلاس کا ایجنڈا 21 نکاتی ہے۔
کابینہ اجلاس میں صوبے میں جاری ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ
صوبے میں پیدا سیاسی بحران پر بھی مشاورت کی جائے گی۔
صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی،چیف سیکرٹری اور اعلی
حکام اجلاس میں شرکت کریں گے۔
گورنر ہاؤس پنجاب کی سکیورٹی کے لیے رینجرز تعینات
وزارت داخلہ نے ڈی جی رینجرز پنجاب کو مراسلہ جاری کیا ہے جس کے مطابق رینجرز کو گورنر ہاؤس پنجاب کی حفاظت کے لیے مامور کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ نے حکم دیا کہ رینجرز کو گورنرہاؤس کی سکیورٹی کے لیے فوری طور پر تعینات کیا جائے۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف نے لاہور میں گورنر ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرے کا اعلان کر رکھا ہے۔
اجلاس نہ بلانے کا معاملہ: گورنر نے سپیکر کی رولنگ کو ’غیر آئینی‘ قرار دے دیا
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان سے کہا ہے کہ ان کی اجلاس نہ بلانے کی رولنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے واقعات نے وزیراعلٰی پرویز الہی کو آئین کے مطابق اعتماد کا ووٹ لینے سے روکا ہے، لہذا اس غیر آئینی حکم کو مسترد کیا جاتا ہے۔
سپیکر کو بھیجے گئے خط میں بلیغ الرحمان نے کہا ہے کہ آئین کے تحت وہ غیر جانبدار رہنے کے پابند ہیں، ورنہ وہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب بنیں گے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ان کی رولنگ پنجاب اسمبلی کے رولز کے خلاف ہے کیونکہ 20 دسمبر کے دوران ہاؤس میں کسی پوائنٹ آف آرڈر کا اعلان نہیں کیا گیا۔
خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر سبطین خان نے گورنر پنجاب کی جانب سے وزیر اعلی کے اعتماد کے ووٹ کے لیے صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے حکم کو غیرقانونی قرار دیا تھا۔ اور اجلاس کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
جنرل باجوہ کے متعلق متنازع ٹویٹس کے مقدمے میں اعظم سواتی کی درخواستِ ضمانت مسترد, شہزاد ملک، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہYouTube
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعلق متنازع ٹویٹس کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعظم سواتی کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔
عدالت نے ملزم اعظم سواتی کی ضمانت کی درخواست ’ایک ہی جرم دو بار کرنے‘ پر مسترد کی ہے۔
اعظم سواتی کی درخواستِ ضمانت پر اس مقدمے کے پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے حتمی دلائل دیتے ہوئے ٹویٹر پر اکاؤنٹ ویریفیکیشن کا طریقہ کار بتایا اور ان کا کہنا تھا کہ ملزم اعظم سواتی کے اکاؤنٹ پر بلو ٹِک ہے اور ملزم اعظم سواتی کو فالو کرنے والوں میں مشہور سیاسی اور صحافتی شخصیات شامل ہیں۔
پراسیکیوٹر رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ ملزم اعظم سواتی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کبھی انکاری نہیں ہوئے، اور اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ٹوئٹر اکاؤنٹ اعظم سواتی کا ہے۔
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی نے افواجِ پاکستان کے خلاف ایک بیانیہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
انھوں نے اس معاملے کو ایک سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو اس مقدمے میں ضمانت نہیں ملنی چاہیے۔
ملزم اعظم سواتی کے وکیل سہیل سواتی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹویٹس کے سکرین شارٹس پر سائبر کرائم کا مقدمہ نہیں بنتا۔
انھوں نے کہا کہ ان کے مؤکل کی طرف سے کی گئی ٹویٹ کے بارے میں درخواست متاثرہ فریق کو دینی چاہیے تھی لیکن اس معاملے میں ایسا نہیں ہے۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے اعظم سواتی کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسی قسم کے مقدمے میں اسلام اباد ہائی کورٹ نے اعظم سواتی کو ضمانت پر رہا کردیا تھا۔
محمود خان: عمران خان جو فیصلہ کریں گے، اس پر عملدرآمد ہو گا
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ وہ اسمبلی کی تحلیل سے متعلق اپنے عزم پر قائم ہیں، عمران خان جو بھی فیصلہ کریں گے اس پر عملدرآمد ہو گا۔
میڈیا سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا توانائی پیدا کرنے والا صوبہ ہے اور پن بجلی کے خالص منافعے کی مد میں صوبے کے اربوں روپے وفاق کے ذمہ واجب الادا ہیں جبکہ وفاق نے ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈز بھی روک رکھے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف اگلی حکومت تین چوتھائی اکثریت کے ساتھ بنائی گی۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ صوبے کے فنڈز کے حصول کے لیے سپریم کورٹ جائیں گے اور اپنا حق نہیں ملا تو اراکین صوبائی اسمبلی سمیت قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے۔