پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج، عدم اعتماد پر ووٹنگ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ نہیں

پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر دو بجے منعقد ہو گا تاہم گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کی ہدایت کے برعکس پرویز الہٰی کے اعتماد کا ووٹ لینے کا عمل آج کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔

لائیو کوریج

  1. شہباز شریف: وفاق، صوبائی حکومت اور ادارے مل کر دہشتگردی کا مقابلہ کریں گے

    وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں دہشتگردی کے واقعات ایک مرتبہ پھر سر اٹھا رہے ہیں اور وہ اس حوالے سے اگلے دو سے تین روز میں ایک ’جامع میٹنگ‘ کریں گے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب میں اُنھوں نے کہا کہ یہ ’ناسور‘ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ صوبائی حکومت، وفاق اور ادارے مل کر دہشتگردی کا مقابلہ کریں گے تاکہ بھتہ خوری سمیت دیگر بدامنی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

  2. توشہ خانہ: قیام پاکستان سے لیکر اب تک سربراہان مملکت کے تحائف کی تفصیلات فراہم کرنے سے متعلق کیبنٹ ڈویژن کو نوٹس جاری, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    ISBHC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے قیام پاکستان سے اب تک صدور اور وزرائے اعظم کو ملنے والے تحائف کی تفصیل فراہم کرنے کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس درخواست میں سرکاری اداروں کے ملازمین کو شامل کیوں نہیں کیا گیا کیونکہ بیرون ممالک دوروں کے دوران ان سرکاری ملازمین کو بھی تحفے تحائف ملتے ہیں۔

    عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صرف صدر اور وزیر اعظم کو دوسرے ممالک سے ملنے والے تحائف کی معلومات تک محدود رکھنے سے درخواست گزار کے عزائم کا پتا چلتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس عدالت میں جو بھی پٹیشن آتی ہے وہ وزیر اعظم کو بیرون ممالک سے ملنے والے تحائف کی معلومات ملنے سے متعلق ہوتی ہیں جبکہ ان کے علاوہ دیگر شخصیات کو بھی بیرون ممالک دوروں کے دوران تحائف ملتے ہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس عدالت کے حکم پر پاکستان انفارمیشن کمیشن نے 29 جون کو وزیر اعظم کو ملنے والے تحائف کی معلومات فراہم کرنے کے بارے میں کہا تھا لیکن کیبنٹ ڈویژن کی طرف سے ان معلومات کو کلاسیفائیڈ قرار دے کر اس کو شئیر کرنے سے انکار کر دیا۔

    عدالت نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر کابینہ ڈویژن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کابینہ ڈویژن سے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لی۔

    درخواست گزار ابو زر سلمان نیازی کی طرف سے قیام پاکستان سے لے کر اب تک وزیر اعظم اور صدور کو بیرون ممالک کے دوروں کے دوران ملنے والے تحائف کی تفصیلات مانگی گئی ہیں

  3. بریکنگ, عمران خان پر حملہ: تحقیقات میں ثابت ہوا ملزم کے بیان میں سچائی نہیں، یہ سوچی سمجھی سازش تھی، پنجاب حکومت

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ اور مشیر وزیر اعلیٰ مصدق عباسی کا کہنا ہے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران عمران خان پر حملے کے واقعے میں گرفتار ملزم نوید کا پولی گرافک ٹیسٹ کروایا گیا ہے۔ پولی گرافک ٹیسٹ سے ثابت ہو گیا کہ ملزم کے بیان میں سچائی نہیں ہے۔ اب تک کی تحقیقات میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ سوچی سمجھی سازش تھی۔

    عمر سرفراز چیمہ اور مشیر وزیر اعلی پنجاب مصدق عباسی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فرانزک میں گارڈز کا اسلحہ کلیئر ہو گیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جے آئی ٹی سے تعاون کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے عمران خان پر حملے کی مذمت نہیں کی گئی۔ اور مسلم لیگ کے رہنماؤں نے عمران خان کو دھمکیاں دی تھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب تک کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوا ہے کہ نوید اکیلا حملہ آور نہیں تھا اس میں اور لوگ بھی شامل تھے۔ یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔

    یاد رہے کہ رواں برس اکتوبر کے اواخر میں پی ٹی آئی کے حکومت مخالف لانگ مارچ کے دوران پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان پروزیر آباد کے قریب فائرنگ کی گئی تھی۔ اس واقعے میں ایک شخص ہلاک جبکہ تحریکِ انصاف کے سربراہ سمیت پانچ افراد گولی لگنے سے اور نو دیگر وجوہات کی بنا پر زخمی ہوئے تھے۔

  4. اعظم سواتی کی ضمانت بعد از گرفتاری: اسلام آباد ہائی کورٹ کا وفاق کو نوٹس, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    Azam Swati

    ،تصویر کا ذریعہ@PTIOfficial

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔

    ملزم سینیٹر اعظم سواتی کی ضمانت بعد ازگرفتاری کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آئندہ پیر تک فریقین سے جواب طلب کر لیا۔

    ملزم اعظم سواتی کی جانب سے بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔

    واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے21 دسمبر کو اعظم سواتی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی اور عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ملزم نے جو جرم سرزد کیا ہے اس میں انھیں ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ اعظم سواتی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ مبینہ ٹویٹس پوسٹ نہیں کیں ہیں جبکہ تر آئیل کورٹ میں ضمانت کی درخواست کے دوران ملزم کے وکیل کی طرف سے اس بات سے انکار نہیں کیا گیا کہ فوجی کی قیادت کے خلاف اعظم سواتی کے اکاؤنٹ سے ٹویٹ نہیں کی گئی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اعظم سواتی کا کسی ادارے کو بدنام کرنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں تھا پراسیکیوشن کے پاس اعظم سواتی کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹکے چیف جسٹس عامر فاروق نے اس درخواست کی ابتدائی سماعت کے دوران حکم دیا کہ فریقین دو جنوری تک جواب جمع کروائیں اور اعظم سواتی کے وکیل کا کہنا تھا کہان کے موکلکے خلاف مقدمے میں پانچ میں سے تین دفعات قابل ضمانت ہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت دو جنوری تک ملتوی کر دی۔

  5. اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں، اپریل میں الیکشن متوقع ہیں: عمران خان

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہ@PTIOfficial

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ کہا ہے اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں اور وہ 11 جنوری سے پہلے پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے لیں گے۔

    لاہور میں صحافیوں سے گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے اپریل میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں، جب دو اسمبلیاں ٹوٹیں گی تو انتخاب کروانا پڑیں گے، اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد الیکشن تاخیر کا شکار ہوئے تو ہمیں پھر بھی فرق نہیں پڑتا۔

    ان کا کہنا تھاکہ ہم نے فوری اسمبلیاں اس لیے نہیں توڑیں کہ اتحادیوں کو بھی منانا تھا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں ‏قانون کی حکمرانی اور عدل و انصاف ہی تمام شہریوں کو برابر بناتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکی، ملک پر اشرافیہ حکمرانوں نے مافیاز اور اداروں کو قانون سے بالاتر بنایا۔

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہ@PTIOfficial

  6. بلوچستان میں فوجی قافلے پر حملے میں کپتان سمیت پانچ اہلکار ہلاک

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے کاہان میں ایک فوجی قافلے پر حملے میں پانچ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    قاہان ضلع کوہلو میں واقع ہے اور یہ حملہ بلوچستان میں 72 گھنٹوں میں فوج پر دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل کیچ میں ایک حملے میں چار فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

    آج ہونے والے حملے میں کیپٹن فہد، لانس نائیک امتیاز، سپاہی اصغر، سپاہی مہران، اور سپاہی شمعون ہلاک ہو گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ آئی ایس پی آر کے مطابق 24 دسمبر سے انٹیلیجنس بنیادوں پر ایک کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    اس واقعے کی ذمہ دار بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کرتے ہوئے فوجی کپتان سمیت آٹھ فوجیوں کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے تاہم پاکستانی فوج کی جانب سے پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ خان، سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سمیت مختلف شخصیات نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

  7. بریکنگ, بلوچستان: ژوب میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، ایک دہشت گرد ہلاک

    Army

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازا میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد مارا گیا جبکہ ایک سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ضلع ژوب کے علاقے سمبازا میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شروع کیا گیا آپریشن گذشتہ 96 گھنٹوں سے جاری تھا۔

    آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق اس آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کو پاکستان اور افغانستان کی سرحد سے متصل چند مشتبہ راستوں کے استعمال سے روکنا تھا جن کے ذریعے خیبر پختونخوا میں داخل ہو کر شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے کی مسلسل نگرانی کے ذریعے اتوار کی صبح دہشت گردوں کے ایک گروہ کو روکا گیا اور دہشت گردوں کے فرار کے راستے روکنے کے لیے ناکہ بندی کی گئی تو انھوں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کر دی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد مارا گیا جبکہ دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں حق نواز نامی سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق فائرنگ کے دوران دہشت گردوں کو سرحد پار موجود ان کے سہولت کاروں کے ذریعے بھی مدد میسر تھی، دیگر عسکریت پسندوں کو پکڑنے کے لیے علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

  8. سینیٹر اعظم سواتی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پیر کو سماعت کے لیے مقرر

    azam

    ،تصویر کا ذریعہPID

    پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پیر کو سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پیر کو درخواست پر سماعت کریں گے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پٹشنر کی عمر 75 سال ہے اور وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں اور یہ کیس دستاویزی الزامات پر مبنی ہے۔

    درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جیل میں رکھنا ٹرائل سے قبل سزا کے مترادف ہو گا۔

  9. پنجاب اسمبلی کا اجلاس 11 جنوری کو طلب

    پنجاب اسمبلی کے سپیکر سبطین خان نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس 11 جنوری کو دوپہر 1 بجے طلب کر لیا ہے۔

  10. بریکنگ, پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا معاملہ: لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں سقم ہے، سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے: رانا ثنا اللہ

    PMLN

    ،تصویر کا ذریعہ@RadioPakistan

    پاکستان کے وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور کابینہ کی بحالی کے گذشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں خلا ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عدالت عالیہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور عدالت عظمیٰ اس کا ازخود نوٹس لے۔

    لاہور میں مسلم لیگ کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عدالت نے پرویز الہی کو عبوری ریلیف کے طور پر مکمل ریلیف دے دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہماری عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ سے گذارش ہے کہ وزیر اعلیٰ کے اختیارات کو محدود کیا جائے تاکہ یہ ان اٹھارہ دنوں میں لوٹ مار کا بازار گرم نہ کر سکیں۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر اسمبلیاں کسی کی ضد، انا اور گھٹیا سیاست کی نظر ہو رہی ہو تو آئینی عہدیدار یعنی گورنر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایوان سے اکثریت کا ووٹ لینے کا کہے۔

    انھوں نے پرویز الہی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے چند روز قبل ایک حکمنانہ دیا ہے جس میں لاہور میں ترقیاتی کاموں کے نام پر اربوں روپے دیے ہیں اور باپ بیٹے نے دیہاڑی لگائی ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ پرویز الہی کے پاس ایوان میں اکثریت نہیں ہے اور وہ اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان اور ان کے ساتھی ملک میں تباہی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی استحکام چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کا نقصان چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی حکومت نے اپنے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے قربانی دی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں اور ہمارا موقف ہے کہ انتخابات اپنے وقت پر ہونے چاہیں۔

    اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کے گذشتہ روز کے فیصلے میں خامیاں ہیں۔ آئین سے رو گردانی کوئی نہیں کر سکتا، عدالت نے 18 دن کا وقت دیا گیا ہے جس میں ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ ہے۔

    عدالت نے پرویز الہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا عمل ان کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے اگر مگر کی کوئی صورت نہیں ہے۔

    پرویز الہی کے پاس اکثریت نہیں ہے اس لیے انھیں اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا۔ یہ پی ٹی آئی کی بددیانتی پر مبنی ہے اور یہ اب عدالت کے سٹے آرڈر کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی، ان کے ساتھیوں اور سہولت کاروں نے ہمیں کام کرنے نہیں دیا۔

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ آئین پاکستان میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ گورنر جب سمجھے وزیر اعلیٰ کو اعتماد کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان کی عدلیہ سے نظریہ ضرورت دفن نہیں ہوا اور جب تک پسند ناپسند یا نظریہ ضرورت ختم نہیں ہوتا اس وقت تک ملک میں کسی کو انصاف نہیں ملے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اب بھی چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں حصہ لے اور اس حکومت کے تخت پر بیٹھا دیا جائے۔

  11. بریکنگ, پی ٹی آئی پنجاب کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس طلب، اعتماد کے ووٹ اور گورنر پنجاب کو ہٹانے پر مشاورت

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی پنجاب کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔جس میں وزیر اعلیٰ پرویز الہی پر اعتماد کے ووٹ کے لیے جلاس کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

    فواد چوہدری نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹس ٹوئٹر پر اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے اجلاس میں گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کی کارروائی بھی زیر بحث آئے گی اور ہماری کوشش ہے کہ اسی ہفتے صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلا کر اعتماد کے ووٹ کا معاملہ ختم کیا جائے اور اسمبلی کو تحلیل کیا جائے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. موجودہ ہائبرڈ نظام میں معیشت تباہ اور دہشتگردی واپس آ گئی: فواد چوہدرری

    فواد چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت تباہ اور دہشتگردی واپس آ گئی ہے۔

    موجود حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے ٹویٹ کیا کہ موجودہ ہائبرڈ نظام میں کسی ادارے کی عزت نہیں بچی۔ انھوں نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سینئر ترین بیوروکریٹس کو دفترمیں بند کیا جا رہا ہے، ججوں کو ویڈیوز اور آڈیوز کی بلیک میلنگ کا سامنا ہے۔

    حکومت پر تنیقد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان ربڑ سٹیمپ بن چکی ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما اعظم سواتی کی گرفتاری کا حوالے دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک ٹویٹ پر 45 پرچے ہو رہے ہیں، کریمنل جسٹس سسٹم بیٹھ گیا ہے اور ملک میں دہشت گردی واپس آگئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. اسمبلیوں کی تحلیل کا فیصلہ حتمی ہے عمران خان کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد ہو گا: پرویز الٰہی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پنجاب کے وزیرِ اعلٰی پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں گورنر کے خلاف قرار داد کی روشنی میں صدر سے درخواست کر رہے ہیں کہ گورنر کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی کی جائے اور فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ اسمبلیوں کی تحلیل کا فیصلہ حتمی ہے اور عمران خان کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد ہو گا۔

  14. بریکنگ, وزیرِ اعلٰی کی جانب سے دی گئی انڈر ٹیکنگ ایک ٹیکنیکل معاملہ ہے پی ٹی آئی اس سے اتفاق نہیں کرتی: فواد چوہدری

    فواد چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہPID

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ وزیرِ اعلٰی کی جانب سے دی گئی انڈر ٹیکنگ ایک ٹیکنیکل معاملہ پی ٹی آئی اس سے اتفاق نہیں کرتی لیکن اسمبلیاں آج نہیں تو کل تحلیل ہونی ہیں۔

    انھوں نے یہ بات زمان پارک کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے بارے میں بھی تحقیقات کروانی چاہییں کہ چیف سیکریٹری نے کس کے کہنے پر وزیرِ اعلٰی کو ڈی نوٹیفائی کیا تھا۔

  15. بریکنگ, لاہور ہائی کورٹ نے پرویز الٰہی کو وزیرِ اعلٰی پنجاب کے عہدے پر بحال کرنے کا حکم جاری کر دیا

    لاہور ہائی کورٹ نے پرویز الٰہی کو ان کی جانب سے اسمبلی نہ توڑنے کی یقین دہانی کروانے کے بعد وزیرِ اعلٰی کے عہدے پر بحال کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل گورنر پنجاب نے پرویز الٰہی کو بروقت اعتماد کا ووٹ نہ لینے کے باعث ڈی نوٹیفائی کرتے ہوئے پنجاب کابینہ تحلیل کرنے کا حکمنامہ جاری کیا تھا۔

    لاہور ہائی کورٹ نے گورنر پنجاب اور اٹارنی جنرل سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

    لاہور ہائی کورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم انھیں ووٹ آف کانفیڈنس لینے کا پابند نہیں کرتے، وہ چاہیں تو اپنے طور پر اعتماد کا ووٹ لے سکتے ہیں۔

  16. بریکنگ, اگر وزارتِ اعلٰی پر بحال کیا تو اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس نہیں دوں گا: پرویز الٰہی کی عدالت کو یقین دہانی

    pervez

    پرویز الٰہی نے وزارتِ اعلیٰ پر بحال کیے جانے کی صورت میں عدالت کو اسمبلی نہ توڑنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔

    یہ انڈر ٹیکنگ پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر نے عدالت کو پڑھ کر سنائی ہے۔

  17. ملک میں امن و عامہ کی بگڑتی صورتحال حکومت، انٹیلیجنس ایجنسیوں کی مکمل ناکامی ظاہر کرتی ہے: عمران خان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. حق دو تحریک کا دھرنا جاری: ’حکمرانوں نے کئی دنوں سے جاری پرامن احتجاج کو کوئی اہمیت نہیں دی‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گوادر

    haq

    بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ’حق دو تحریک‘ کے زیرِ اہتمام دھرنے کو ایکسپریس وے پر منتقل کیا گیا ہے جس کی وجہ سے گوادر پورٹ کو جانے والے راستے بند ہو گئے ہیں۔

    یہ دھرنا مطالبات پر عملدر آمد نہ ہونے کی وجہ سے 27 اکتوبر سے گوادر شہر میں وائی چوک پر حق دو تحریک کے زیر اہتمام شروع کیا گیا تھا۔

    تاہم جمعرات کے روز دھرنے کو وائی چوک سے گوادر پورٹ کے قریب ایکسپریس وے پر منتقل کیا گیا جس کہ وجہ سے پورٹ کو جانے والے اہم راستے بند ہو گئے۔

    اگرچہ پورٹ کو جانے والے راستے بند ہو گئے ہیں لیکن خود پورٹ کے اندر کسی سرگرمی پر اثر نہیں پڑا ہے۔

    گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین پسند خان بلیدی نے کہا کہ دھرنے کی وجہ سے پورٹ کے اندرونی علاقوں میں کوئی مسئلہ نہیں ہے جبکہ اس وقت پورٹ پر کوئی کارگو شپ بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے دھرنے سے پورٹ کے اندر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

    haqb

    ان کہنا تھا کہ جہاں تک چینی کارکنوں کی بات ہے وہ پورٹ کے اندر ہیں اس لیے ان کے حوالے سے بھی مسئلہ نہیں ہے۔

    27 اکتوبر سے حق دو تحریک کے زیر اہتمام دھرنا وائی چوک پر شروع کیا گیا تھا جہاں سے لوگوں کی آمدورفت کے حوالے سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو رہا تھا۔

    اس دھرنے کے مطالبات اگرچہ بہت زیادہ ہیں لیکن اس کے بڑے مطالبات میں بلوچستان کے سمندری حدود میں غیر قانونی ماہی گیری کو روکنا، لاپتہ افراد کی بازیابی، ایران کے ساتھ سرحدی تجارت میں رعایت اور گوادر سمیت مکران کو منشیات سے پاک کرنا ہے۔

    دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ ’ہم نے 56 روز تک دھرنا دیا لیکن حکمرانوں نے یہاں لوگوں کے کئی دنوں سے جاری اس پر امن احتجاج کو کوئی اہمیت نہیں دی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکمرانوں کے لیے گوادر کے لوگوں کے لیے کوئی اہمیت نہیں بلکہ یہاں کی زمینوں اور سمندر کی اہمیت ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہاں کے لوگوں اور ان کے مسائل کو اہمیت نہ دینے کی وجہ سے ہم نے دھرنے کو ایکسپریس وے پر منتقل کیا کیونکہ جب یہاں کے لوگوں کی اہمیت نہیں ہے تو پھر ایسے منصوبوں کا کیا فائدہ جو کہ یہاں کے لوگوں کے لیے نہیں۔

    اپنے ایک آڈیو پیغام میں انھوں نے کہا کہ ہم نہ چینی کمپنیوں کے خلاف ہیں اور نہ ہی چینی حکومت کے خلاف ہیں۔

    ’ہم چینیوں سے یہ ضرور گزارش کریں گے کہ جب یہاں کے عوام، ماہی گیروں اور نوجوانوں کی عزت اور اہمیت نہیں ہے اور صرف زمینوں کی عزت ہے تو جب تک ہمارا احتجاج چل رہا ہے وہ یہاں کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر اپنا کام بند کریں۔‘

  19. لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کا دوبارہ آغاز چھ بجے ہو گا

    لاہور ہائیکورٹ نے اسمبلی کی تحلیل سے متعلق علی ظفر کو اپنے کلائنٹ سے مشاورت کے لیے مزید ایک گھنٹے کا وقت دے دیا ہے جس کے بعد اب چھ بجے دوبارہ سماعت ہو گی۔

    بیریسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ اسمبلی کی تحلیل نہ کرنے سے متعلق انڈر ٹیکنگ کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر عدالت پرویز الٰہی کو بحال کرتی ہے تو عدالت حکم جاری کر دے کہ اسمبلی تحلیل نہیں ہو گی۔

    اس پر جسٹس عابد عزیز شیخ کا کہنا تھا کہ ’ہم ایسا آرڈر کیسے جاری کر سکتے ہیں یا پھر ہم اپک عبوری ریلیف نہ دیں۔

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ ’ہمیں یہ لگ رہا تھا کہ آپ کہیں گے کہ اسمبلی کی تحلیل نہیں کریں گے۔

    جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ ہم آئین کا مینڈیٹ معطل نہیں کر سکتے۔

  20. یونین کونسلز بڑھانے کا حکومتی فیصلہ مسترد کرنے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار

    isbd

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے دارالحکومت میں بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے سماعت کرتے ہوئے یونین کونسلز بڑھانے کا حکومتی فیصلہ مسترد کرنے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو تمام فریقین کو سن کر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

    اس کے علاوہ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلدیاتی انتخابات 31 دسمبر کو کروانے کا معاملہ الیکشن کمیشن پر چھوڑ دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کا مزید کہنا ہے کہ ’الیکشن کمیشن 27 دسمبر کو فریقین کو سن کر فیصلہ کریں۔‘