پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج، عدم اعتماد پر ووٹنگ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ نہیں
پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر دو بجے منعقد ہو گا تاہم گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کی ہدایت کے برعکس پرویز الہٰی کے اعتماد کا ووٹ لینے کا عمل آج کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔
لائیو کوریج
جنھوں نے سندھ ہاؤس میں منڈی لگائی تھی وہ اب لاہور پہنچ چکے ہیں: شاہ محمود قریشی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ حکومت کی ترجیحات میں معیشت نہیں ہے اور ملک کا تاجر اور صنعت کار طبقہ پریشان ہیں۔
انھوں نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ کس طرح چیف سیکریٹری نے گورنر پنجاب کے فیصلے پر نوٹیفیکیشن جاری کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنھوں نے سندھ ہاؤس میں منڈی لگائی تھی وہ اب لاہور پہنچ چکے ہیں۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم اپنی اکثریت ثابت کرنے کی پوزیشن میں آج بھی ہیں۔
اعتماد کے ووٹ کے لیے سیشن اب بھی بلا کر پراسس کیا جا سکتا ہے: جسٹس عابد عزیز شیخ کا پرویز الٰہی کے وکیل سے مکالمہ
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ، جو پانچ رکنی بنچ کی سربراہی کر رہے ہیں، نے پرویزالٰہی کے وکیل علی ظفر سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہتے ہیں سیشن بلائے بغیر چیف منسٹر کو ڈی سیٹ کر دیا گیا، یہ سارا پراسس تو اب بھی ہو سکتا ہے۔
جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ یہ سارا بحران حل ہو سکتا ہے اگر ووٹنگ کے لیے مناسب وقت دے دیا جائے۔
علی ظفر نے کہا کہ یہ تو تب ہو گا جب ڈی سیٹ کا نوٹیفیکیشن کالعدم ہو گا۔ جسٹس عابد عزیز نے ریمارکس دیے کہ یہ ہم دیکھیں گے جو قانون کے مطابق ہوا فیصلہ کریں گے۔ ان کے مطابق پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔
علی ظفر نے کہا کہ صوبے میں کابینہ ہے، مخلتف پراجیکٹس چل رہے ہیں۔
جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ گورنر کے احکامات میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگلے چیف منسٹر تک وزیر اعلیٰ کام جاری رکھیں گے۔
علی ظفر نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ رہے گا تو کابینہ بھی رہے گی کابینہ کے بغیر وزیر اعلیٰ نہیں رہ سکتا۔ ان کے مطابق گورنرمتخب ہو کر نہیں آتا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ق کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس
وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ق کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس
اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے حوالے سے حکمت عملی طے کی گئی۔
اجلاس میں اراکین پنجاب اسمبلی نے شرکت کیا ہے۔
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہارکیا ہے۔
گورنر پنجاب کے ’غیر آئینی وغیر قانونی‘ اقدام کی مذمت کی گئی۔ پارلیمانی کمیٹی نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ گورنر کے اس اقدام کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
اجلاس سپیکر نے بلانا ہے، وزیر اعلیٰ نے اعتماد کا ووٹ لینے سے انکار نہیں کیا ہے: وکیل پرویز الٰہی
پنجاب کے وزیراعلیٰ بیرسٹر علی ظفر لائی ہائی کورٹ کے لارجر بنچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ سپیکر ووٹنگ کے لیے دن مقرر کرے اور وزیر اعلیٰ کہے کہ اعتماد کا ووٹ نہیں لیتا تو گورنر کوئی آرڈر پاس کر سکتے ہیں۔
گورنر نے اعتماد کے ووٹ کے لیے سپیکر کو خط لکھا۔ وزیر اعلیٰ نے اعتماد کا ووٹ لینے سے انکار نہیں کیا۔
وکیل کے مطابق اجلاس سپیکر نے بلانا ہے۔ وزیر اعلیٰ خود سیشن نہیں بلا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ اجلاس ہوا ہی نہیں تو پھر گورنر نے خود سے کیسے فیصلہ کرلیا۔
علی ظفر کے مطابق یہ تو ایسے ہی کہ دو افراد کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں سزا تیسرے کو دے دی جائے۔
جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا ہے کہ اگر گورنر نے اعتماد کے ووٹ کا کہا ہے تو اس پر عملدرآمد تو ہونا چاہیے۔
اس مقمدے کی سماعت ابھی جاری ہے۔
گورنر وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں مگر عدم اعتماد کے لیے الگ سے سیشن بلایا جاتا ہے: وکیل پرویز الٰہی
،تصویر کا ذریعہFacebook/Pervaiz Elahi
لاہور ہائی کورٹ میں چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل نے اپنے مؤکل کی برطرفی سے متعلق پانچ رکنی لارجر بنچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہ کہ اگر گورنر سمجھے کہ وزیر اعلی اکثریت کھو چکے ہیں تو وہ اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتے ہیں مگر علی ظفر عدم اعتماد کے لیے الگ سے سیشن بلایا جاتا ہے۔
علی ظفر نے کہا کہ چیف منسٹر کو اسمبلی منتخب کرتی ہے۔ چیف منسٹر کو تعنیات نہیں کیا جاتا۔
علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ پرویز الٰہی رواں برس 22 جولائی کو چیف منسٹر منتخب ہوئے۔ ان کے مطابق پرویز الٰہی نے مطلوبہ تعداد میں ووٹ حاصل کیے لیکن ڈپٹی سپیکر نے دس ووٹ نکال دیے۔
علی ظفر کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں گیا اور سپریم کورٹ نے 27 جولائی کو ڈپٹی سپیکر کے فیصلے کو غلط قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی ہوں گے۔
بیرسٹر علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ وزیر اعلیٰ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا جا سکتا ہے۔
علی ظفر
20 اراکین اسمبلی کے دستخط کے ساتھ تحریک جمع ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعظم سواتی کے فارم ہاؤس کو سیل کرنے کا نوٹس معطل کر دیا
،تصویر کا ذریعہYoutube
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما سینیٹر اعظم سواتی کے فارم ہاؤس پر سی ڈی اے آپریشن اور نوٹس کے خلاف درخواست میں فارم ہاؤس کو سیل کرنے کا نوٹس معطل کرکے فریقین کو نوٹس جاری کردیا ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں متعلقہ حکام کو مزید کسی قسم کی کارروائی سے روکنے کا کہا ہے۔
جمعے کے روز اعظم سواتی کی اہلیہ طاہرہ سواتی کی جانب سے سی ڈی اے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے ان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ہمارے خلاف سی ڈی اے نے آپریشن کیا اور فارم ہاؤس میں توڑ پھوڑ کے ساتھ اسے سیل کردیا، کارروائی سے پہلے کسی قسم کا نوٹس نہیں دیا گیا، سی ڈی اے کو مزید کارروائی سے روکا جائے۔
عدالت نے سی ڈی اے کا 16 نومبر 2022 کا نوٹس معطل کردیا اور سماعت ملتوی کردی گئی۔ یاد رہے کہ سی ڈی اے نے اعظم سواتی کا فارم ہاؤس کو قانون کی مبینہ خلاف ورزی پر سیل کیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق متفرق درخواستوں کا فیصلہ محفوظ کر لیا, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام
آباد ہائی کورٹ نےوفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات
سے متعلق درخواستوں میں وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جمعے
کے روز سماعت کے دوران پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف
سب سے بڑی جماعت ہے اور ایڈووکیٹ جنرل کی طرف سے ہمیں فریق ہی نہیں بنایا گیا۔
چیف
جسٹس کا اس پر کہنا تھا کہ یہ عدالتی کارروائی ہے، یہاں تقریر نہیں کرنی، ایڈووکیٹ
جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے کہا کہ وزارت داخلہ نے 19 دسمبر کو یونین کونسلز
بڑھانے کا نوٹی فکیشن کیا۔ الیکشن کمیشن نے سو موٹو پاور استعمال کرتے ہوئے اس نوٹی
فکیشن کو مسترد کر دیا۔
الیکشن
کمیشن نے وفاقی حکومت اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سمیت کسی کو نوٹس کر کے سنا بھی
نہیں، عوام سے تجاویز اور اعتراضات طلب کیے بغیر یونین کونسلز میں تبدیلی نہیں کی
جا سکتی۔
یونین
کونسلز کی تعداد میں اضافے کا معاملہ اس سے الگ ہے، پورے اسلام آباد کو 125 یونین
کونسلز میں تقسیم کیا گیا،حلقہ بندیوں کا اختیار الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ہے۔
چیف
جسٹس نےریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام
آباد کے سرکل کا سائز تو مقرر ہے، یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے سے ہر یونین کونسل
کا سائز کم ہو گا۔
ایڈووکیٹ
جنرل کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں آبادی کے حساب سے کی جائیں گی جو الیکشن کمیشن نے
کرنی ہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ سے لوکل ایریا
ڈسٹرب نہیں ہو گا؟، جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہاکہ کوئی ایریا ڈسٹرب نہیں
ہو گا،اس موقع پر درخواستگزار وکیل عادل عزیز قاضی نے کہا کہ لوکل ایریا سے مراد
پوری میٹروپولیٹن کارپوریشن ہے جس میں تمام یونین کونسلز آتی ہیں۔
حکومت
کے پاس تو یہ بھی اختیار ہے کہ دو میٹروپولیٹن کارپوریشنز بنا دے، اگر حکومت کوئی
سیکٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن سے الگ کرنا چاہے تو اس میں یونین کونسل بھی نہیں آئے
گی۔
چیف
جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ ایک مرتبہ ہے طے کر لیں کہ یونین کونسلز کی
تعداد کتنی بڑھانی ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جس طرح لندن میں مئیر کا الیکشن
ڈائریکٹ ہوتا ہے اسلام آباد میں بھی وہی ہو گا۔
اس
سے قبل مئیر کو چیئرمین یونین کونسلز منتخب کرتے تھے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یونین
کونسلز کی تعداد میں اضافہ کے بعد الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں کرنے کی پابند ہے۔
جس
پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حلقہ بندیاں تبدیل ہونے کے بعد ووٹرز لسٹوں میں بھی
تبدیلی ہو گی؟
جس
پر اٹارنی جنرل نےعدالت کو بتایا کہ جی
بالکل، ووٹرز لسٹوں میں بھی تبدیلی ہو گی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ لوکل
گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کر کے یونین کونسلز کی تعداد 125 کر دی گئی ہے۔
اگر
آئندہ یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ یا کمی کرنی ہوئی تو نوٹی فکیشن سے ایسا
ممکن ہو گا،قومی اسمبلی سے بل پاس ہو گیا، سینیٹ سے پاس ہو گا، میئر اور ڈپٹی میئر
کا الیکشن بھی اب براہ راست ہو گا۔
سوال
یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کو نہ
مانے،چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ کہنا ہے کہ الیکشن شیڈول کے اعلان کے
بعد حلقہ بندیوں میں تبدیلی ہوئی۔
چیف
جسٹس نے کہاکہ ایک معاملہ ووٹر لسٹوں میں درستگی کا بھی ہے،جب یونین کونسلز کی
تعداد 101 ہوئی تو کیا ووٹر لسٹوں میں تبدیلی کا پراسیس کیا گیا؟
اس موقع پر ڈی جی لیگل الیکشن کمیشن نے کہاکہ جی
بالکل، پراسیس کیا گیا تھا، چیف جسٹس نے کہاکہ اس متعلق کوئی ڈاکومنٹ ہے تو وہ بھی
دکھائیں،دوران سماعت الیکشن کمیشن نے ووٹرز لسٹوں میں تبدیلی کا ریکارڈ عدالت میں
پیش کر دیا۔
چیف
جسٹس نے کہا کہ کیا ووٹرز نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پراسیس کے دوران اپنا ووٹ
درست نہیں کرایا؟
کیا آپ ووٹوں کی درستگی کے لیے الیکشن کمیشن کے پاس گئے؟
اس
پر انعام امین منہاس ایڈووکیٹ نے کہا کہ روات کے ووٹرز گولڑہ میں اور گولڑہ کے
ووٹرز روات میں شامل ہیں،ووٹرز الیکشن کمیشن کے پاس گئے تو انھوں نے کہا الیکشن شیڈول
کے اعلان کے بعد تبدیلی نہیں ہو سکتی۔
ڈی
جی الیکشن کمیشن نے کہاکہ یہ ووٹوں کی درستگی کے لیے پراسیس کے دوران نہیں آئے اور
جب آئے تو بہت دیر ہو چکی تھی، وکیل نے کہا کہ اگر ووٹرز کو ان کے حق سے محروم
رکھا جائے تو پھر لوکل گورنمنٹ الیکشن کرانے کا مقصد ہی نہیں،اتنی بڑی غلطیوں کے
ساتھ الیکشن کرائے گئے تو وہ فری اینڈ فیئر نہیں ہوں گے۔
چیف
جسٹس نے کہاکہ اقتدار میں کوئی بھی سیاسی جماعت ہو، بلدیاتی انتخابات کرانے میں ان
کی دلچسپی نہیں، پولیٹیکل اینالسٹ بہتر بتا سکتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟
اگر
2020 میں مدت پوری ہوئی تو اس وقت الیکشن ہو جانا چاہئے تھا،کبھی کورونا، کبھی سیلاب،
کبھی سردی، کبھی گرمی، یہ سب تو چلتا رہتا ہے۔
اسلام آباد کے مسائل تب حل ہوں گے جب یہاں دہلی ماڈل کی اپنی پارلیمنٹ لائیں گے،ڈی
جی الیکشن کمیشن نے کہاکہ الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ انتخابی شیڈول کے بعد یونین
کونسلز کی تعداد بڑھائی گئی،31دسمبر کو بلدیاتی انتخابات پرانے شیڈول کے مطابق ہونے
چاہئیں،چیف جسٹس نے کہاکہ الیکشن کمیشن خود مختار آئینی ادارہ اور ریگولیٹری باڈی
ہے جسے ہدایات نہیں دے سکتے، وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ
کر لیا۔
بریکنگ, پرویز الٰہی کی درخواست پر سماعت کے لیے لاہور ہائی کورٹ کا نیا لارجر بنچ تشکیل، جسٹس فاروق حیدر کی جگہ جسٹس عاصم حفیظ شامل
،تصویر کا ذریعہPervaiz Elahi/Facebook
گورنر پنجاب کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کو عہدے سے ہٹانے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے لیے لاہور ہائی کورٹ کا نیا لارجر بنچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
اس سے قبل تشکیل دیے گئے پانچ رکنی بنچ میں شامل جسٹس فاروق حیدر نے پرویز الٰہی کی درخواست سننے سے معذرت کر لی تھی، جس کے بعد بنچ تحلیل ہو گیا تھا۔
بنچ کے سربراہ جسٹس عابد عزیز شیخ کا کہنا ہے کہ جسٹس فاروق حیدر درخواست گزار کے وکیل رہ چکے ہیں۔
جسٹس عابد عزیز شیخ کا کہنا تھا کہ ہم کیس کی فائل نئے بنچ کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا رہے ہیں۔لاہور ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے کیس کی فائل چیف جسٹس امیر بھٹی کو بھجوا دی تھی۔
اس موقع پر وکیل پرویز الہی کا کہنا تھا کہ ’ہماری استدعا ہے کیس کو آج ہی سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔‘
جس پر جسٹس عابد عزیز شیخ کا کہنا تھا کہ ’ہم آپ کی یہ استدعا بھی چیف جسٹس کو بھجوا دیتے ہیں۔‘
اب نئے بنچ میں جٹس فارق حیدر کی جگہ جسٹس عاصم حفیظ کو شامل کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ یاد رہے کہ گذشتہ روز رات گئے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکامی پر وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ کو عہدے سے ہٹا تھا۔ گورنر پنجاب نے رات گئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا آرڈر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کیا تھا۔
چوہدری پرویز الٰہی نے گورنر پنجاب کی جانب سے خود کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے کا اقدام لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ سپیکر کے اجلاس نہ بلانے پر وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کرنا غیر آئینی ہے۔
درخواست میں لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت گورنر کا نوٹفکیشن کالعدم قرار دے۔
پنجاب میں آئینی بحران پرویز الہی کا خود پیدا کردہ ہے: مراد علی شاہ
پاکستان
کے صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں آئینی بحران
وزیر اعلیٰ پرویز الہی کا خود کا پیدا کردہ ہے۔
لاڑکانہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ مراد
علی شاہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اکثریت کا ووٹ کھو چکے ہیں اور انھیں گورنر
کی ہدایت پر اعتماد کا ووٹ لینا چاہیے تھا۔
انھوں نے کہا کہ صوبے میں آئینی بحران پرویز الہی کا خود کا
پیدا کردہ ہے کیونکہ اگر بطور وزیر اعلیٰ انھیں مطلوبہ ووٹ ملنے کا یقین ہے تو وہ
عدالت میں جانے کی بجائے صوبائی اسمبلی ارکان سے اعتماد کا ووٹ لے کر گورنر کو غلط
ثابت کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ گورنر کے پاس آئینی اختیار ہے کہ وہ وزیر
اعلیٰ سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتا ہے۔
بریکنگ, چوہدری پرویز الٰہی کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کا لارجر بنچ تحلیل
،تصویر کا ذریعہWWW.LHC.GOV.PK
گورنر
پنجاب کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کو عہدے سے ہٹانے کے خلاف دائر
درخواست پر سماعت کے لیے لاہور ہائیکورٹ کا تشکیل لارجر بینچ تحلیل ہو گیا ہے۔
بنچ
کے رکن جسٹس فاروق حیدر نے پرویز الٰہی کی درخواست سننے سے معذرت کر لی ہے۔
بنچ
کے سربراہ جسٹس عابد عزیز شیخ کا کہنا ہے کہ جسٹس فاروق حیدر درخواست گزار کے وکیل
رہ چکے ہیں۔
جسٹس
عابد عزیز شیخ کا کہنا تھا کہ ہم کیس کی فائل نئے بنچ کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا رہے
ہیں۔لاہور ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے کیس کی فائل چیف جسٹس امیر بھٹی کو بھجوا دی۔
اس
موقع پر وکیل پرویز الہی کا کہنا تھا کہ ’ہماری استدعا ہے کیس کو آج ہی سماعت کے لیے
مقرر کیا جائے۔‘
جس
پر جسٹس عابد عزیز شیخ کا کہنا تھا کہ ’ہم آپ کی یہ استدعا بھی چیف جسٹس کو بھجوا
دیتے ہیں۔‘
یاد
رہے کہ یاد رہے کہ گذشتہ روز رات گئے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے اعتماد کا ووٹ لینے
میں ناکامی پر وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ کو عہدے سے ہٹا تھا۔ گورنر پنجاب نے
رات گئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا آرڈر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے
جاری کیا تھا۔
چوہدری
پرویز الٰہی نے گورنر پنجاب کی جانب سے خود کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی
کرنے کا اقدام لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ سپیکر کے
اجلاس نہ بلانے پر وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کرنا غیر آئینی ہے۔
درخواست میں لاہور ہائی کورٹ
سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت گورنر کا نوٹفکیشن کالعدم قرار دے۔
پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ نہیں رہے، اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد واپس لے لی
پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے خلاف اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد واپس لے لی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی طاہر خلیل سندھو نے بی بی سی کے عماد خالق کو اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اب پرویز الٰہی وزیراعلیٰ نہییں رہے تو اس وجہ سے اب تحریک عدم اعتماد واپس لے لی ہے۔
تاہم انھوں نے یہ وضاحت دی ہے کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر کارروائی آگے بڑھائی جائے گی اور وہ تحریکیں واپس نہیں لی جا رہی ہیں۔
خیال رہے کہ گورنر پنجاب نے گذشتہ رات کو وزیراعلیٰ پنجاب کو ان کی ایڈوائس پر اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا۔ گورنر کے اس فیصلے کو پرویز الٰہی نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، جس پر سماعت کچھ دیر بعد لارجر بینچ کرے گا۔
منصور عثمان اعوان کی بطور اٹارنی جنرل آف پاکستان تعیناتی کی منظوری
،تصویر کا ذریعہajuris.com.pk
پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ایڈووکیٹ سپریم کورٹ،
منصور عثمان اعوان کی بطور اٹارنی جنرل آف پاکستان تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
صدر مملکت عارف علوی نے اشتر اوصاف علی کا اٹارنی جنرل کے
عہدے سے استعفیٰ بھی منظور کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ اشتر اوصاف نے چند ہفتے قبل صحت کی خرابی کی بنیاد
پر استعفی دیا تھا۔
صدر مملکت نے منصور عثمان اعوان کی بطور اٹارنی جنرل آف پاکستان تعیناتی کی
منظوری آئین کے آرٹیکل 100 کے تحت دی ہے۔
بریکنگ, چوہدری پرویز الٰہی کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر لارجر بنچ تشکیل، سماعت کچھ دیر میں
،تصویر کا ذریعہTWITTER/@CHPARVEZELAHI
گورنر پنجاب کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کو عہدے
سے ہٹانے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کےلیے لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ
تشکیل دیا گیا ہے۔ لارجر بینچ کچھ دیر بعد سماعت کرے گا۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز رات گئے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے
اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکامی پر وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ کو عہدے سے ہٹا
تھا۔ گورنر پنجاب نے رات گئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا آرڈر
اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کیا تھا۔
چوہدری پرویز الٰہی نے گورنر پنجاب کی جانب سے خود کو وزیر
اعلیٰ پنجاب کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے کا اقدام لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے
ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ سپیکر کے اجلاس نہ بلانے پر وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو ڈی
نوٹیفائی کرنا غیر آئینی ہے۔
درخواست میں گورنر کو بذریعہ پرنسپل سیکریٹری اور چیف سیکریٹری
فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سپیکر کو وزیر اعلیٰ کے
اعتماد کے ووٹ کے لیے اجلاس بلانے کا کہا تھا، درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپیکر
پنجاب اسمبلی کے اجلاس نہ بلانے پر وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کرنا غیر
آئینی ہے، سپیکر کے کسی اقدام پر وزیر اعلیٰ کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی۔
درخواست میں لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت گورنر کا نوٹفکیشن
کالعدم قرار دے۔
بریکنگ, وزیر اعلیٰ پنجاب کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا گورنر کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گورنر پنجاب بلیغ
الرحمٰن کی جانب سے خود کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے کا اقدام
لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
چوہدری پرویز الہی کی جانب سے دائر درخواست پانچ صفحات پر
مشتمل ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ گورنر کو اختیار نہیں کہ وہ غیر آئینی
طور پر وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کر سکیں۔ انھوں نے عدالت میں دائر درخواست میں
موقف اپنایا کہ سپیکر پنجاب اسمبلی کے اجلاس نہ بلانے پر وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو
ڈی نوٹیفائی کرنا غیر آئینی ہے۔
درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ گورنر نے اعتماد کا ووٹ لینے
کے لیے وزیراعلیٰ کو خط نہیں لکھا بلکہ سپیکر پنجاب اسمبلی کو لکھا گیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے ایک اجلاس کے
دوران گورنر دوسرا اجلاس طلب نہیں کر سکتے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت گورنر پنجاب کے نوٹیفیکیشن
کو کالعدم قرار دے۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز رات گئے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے
اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکامی پر وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ کو عہدے سے ڈی نوٹیفائی
کردیا تھا، گورنر نے رات گئے وزیراعلیٰ پنجاب کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا آرڈر اپنے
ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کیا تھا۔
اعتماد کا ووٹ سپیکر پنجاب اسمبلی نے کروانا تھا: مونس الٰہی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی نے اپنے ایک ٹویٹ میں گورنر پنجاب کے اقدام کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق کل رات کو کمال کر دیا ہے کمال کرنے والوں نے۔
ان کے مطابق گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ کو کہنا تھا کہ اعتماد کا ووٹ لو اور اعتماد کا ووٹ سپیکر پنجاب اسمبلی نے کروانا تھا۔
بریکنگ, پرویز الہٰی کی وزارت اعلیٰ سے برطرفی کا نوٹیفیکیشن لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج، گورنر کے اقدامات کو کالعدم قرار دینے کی استدعا
پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی نے اپنے خلاف ڈی نوٹیفکیشن کے گورنر پنجاب کے اقدام کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ گورنر کے خلاف چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے دائر درخواست پانچ صفحات پر مشتمل ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ گورنر نے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے وزیراعلیٰ کو خط لکھا ہی نہیں۔ خط سپیکر کو لکھا گیا وزیراعلیٰ کو نہیں۔‘
ایک اجلاس کے دوران گورنر دوسرا اجلاس طلب نہیں کر سکتے۔
گورنر کو اختیار نہی کہ وہ غیر آٸینی طور پر وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفاٸی کر سکیں۔ گورنر پنجاب کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دے۔
،تصویر کا ذریعہٰPunjab Govt
حکومت میں آئے تو گورنر پنجاب کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کریں گے: ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب
وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی ترجمان مسرت چیمہ نے کہا کہ گورنر پنجاب نے آئین و قانون کو پیروں تلے روند کر پی ڈی ایم کی نوکری کو ترجیح دی ہے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جمعہ کے روز صبح ہی گورنر کا یہ غیر آئینی کام عدالت سے مسترد ہو جائے گا۔
البتہ گورنر کا یہ قدم ان کو آرٹیکل چھ کی طرف لے جاتا ہے اور ہم وفاق میں آ کر اس کے خلاف ضرور کارروائی کریں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پنجاب: چیف سیکریٹری نے گورنر کے حکم پر پرویز الہی کی برطرفی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا
،تصویر کا ذریعہPunjab Admin
چیف سیکریٹری پنجاب عبداللہ سنبل نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے پرویز الہی کو بطور وزیراعلی اور صوبائی کابینہ کی برطرفی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔
اس کے تحت نئے وزیر اعلیٰ کی آمد تک پرویز الہی قائم مقام وزیر اعلی رہیں گے۔
پرویز الہی اور صوبائی کابینہ بدستور اپنے فرائض سر انجام دیتے رہیں گے: فواد چوہدری
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
گورنر پنجاب کے حکم پر ردعمل دیتے ہوئے صوبے میں حکومتی اتحاد کی جماعت تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ موجودہ وزیر اعلی پرویز الہیٰ اور صوبائی کابینہ ’بدستور اپنے فرائض سر انجام دیتے رہیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’گورنر کے خلاف ریفرینس صدر کو بھیجا جائے گا اور ان کو عہدے سے ہٹانے کی کارروائی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔‘
’ڈی نوٹیفیکیشن کرنے کے نوٹیفکیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔‘
’صدر بھی اپنی مرضی سے وزیر اعظم کو گھر بھیج سکتا ہے‘
فواد چوہدری نے یہ بھی کہا ہے کہ ’اگر یہ اصول مان لیا جائے کہ گورنر اپنی مرضی سے وزیر اعلیٰ کو گھر بھیج سکتا ہے تو پھر صدر اپنی مرضی سے وزیر اعظم کو بھی گھر بھیج سکے گا۔
’رات کے اندھیرے میں 58 ٹو بی کو زندہ کرنے کی کوشش ناکام ہو گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
بریکنگ, گورنر پنجاب نے وزیر اعلیٰ پرویز الہی کو عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کر دیا
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کو یہ کہتے ہوئے ڈی نوٹیفیائی کر دیا ہے کہ وہ اعتماد کا ووٹ نہ لینے کے باعث صوبائی اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں۔
اس حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ:
گورنر نے پرویز الہی کو آرٹیکل 130 کلاز 7 کے تحت پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا مگر اضافی 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود انھوں نے ایسا نہ کیا
گورنر مطمئن ہیں کہ ’پرویز الہی کو پنجاب اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں‘
صوبائی کابینہ تحلیل کی جاتی ہے
نئے وزیر اعلی کے آنے تک پرویز الہی قائم مقام وزیر اعلی رہیں گے
ڈی نوٹیفائی کا آرڈر 22 دسمبر 2022 سہ پہر 4 بجے جاری کیا گیا