پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج، عدم اعتماد پر ووٹنگ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ نہیں

پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر دو بجے منعقد ہو گا تاہم گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کی ہدایت کے برعکس پرویز الہٰی کے اعتماد کا ووٹ لینے کا عمل آج کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔

لائیو کوریج

  1. متنازع ٹویٹ کیس: سینیٹر اعظم سواتی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت نے متنازع ٹویٹ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعظم سواتی کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

    پیر کے روز سماعت کے دوران اعظم سواتی کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے جبکہ سپیشل پراسیکیوٹر عدالت پیش نہ ہوئے۔

    بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ اعظم سواتی کے بیٹے عدالت کے سامنے اپنا موقف رکھنا چاہتے ہیں۔ اعظم سواتی کے صاحبزادے نے کہا کہ ’میرے والد نے جیل سے ایک خط لکھا تھا۔ کیس کسی اور بنچ کو بھیج دیں۔ میں عدالت کی اجازت سے خط پڑھنا چاہتا ہوں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ خط عدالت کے سامنے موجود ہے۔ ’اس معاملے پر لارجر بینچ تشکیل دیں گے۔ اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے طے کرنا چاہتے ہیں۔ خط آجاتا ہے کہ جج جانبدار ہے۔ اس معاملے کو طے کرنے کے لیے لارجر بینچ تشکیل دے رہے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ اس قسم کے خطوط عدالت عمومی طور پر نہیں دیکھتی۔ بابراعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’عدالت آج ہی اس معاملے کو دیکھ لے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’آج ہی لارجر بینچ کی تشکیل ممکن نہیں۔ سینئر ججز ابھی چھٹی پر ہیں۔ آئندہ ہفتہ کے لیے لارجر بنچ تشکیل دیں گے۔‘

    بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’اعظم سواتی کے بیٹے سے میں نے درخواست کی ہے وہ یہ خط واپس لے لیتے ہیں۔ اس موقع پر وکلا کی مشاورت کے بعد اعظم سواتی کے بیٹے نے عدالت کو لکھا گیا خط واپس لے لیا اور بابر اعوان ایڈووکیٹ نے اعظم سواتی کی درخواست ضمانت پر دلائل دیتے ہوئے حبیب جالب کا شعر پڑھا اور کہا کہ سندھ، بلوچستان کی ہائیکورٹس نے اعظم سواتی کے خلاف مقدمے ختم کر دیے۔ ’میں نے کبھی ایسی ایف آئی آر نہیں دیکھی جس میں ٹائم اور وقوعہ کی جگہ نہ لکھی ہو۔‘

    بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’میں نام نہیں لینا چاہتا لیکن فیصلہ آپ کے سامنے رکھ دوں گا کہ ایک سیاسی شخصیت کو بیماری پر ضمانت دی گئی۔ ایک اور شخصیت کو اس کی تیمار داری کے لیے ضمانت دے دی گئی۔‘

    بابر اعوان کے دلائل مکمل ہونے پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے پر ایف آئی اے کا کیا موقف ہے، جس پر ایف آئی اے وکیل نے کہا کہ سپیشل پراسیکیوٹر نہیں آ سکے۔ ’استدعا ہے کہ سماعت ملتوی کی جائے۔‘

    اس پر عدالت نے ایف آئی اے وکیل کی استدعا مسترد کر دی اور دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  2. رانا ثنا اللہ کا ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف ’افغانستان میں‘ کارروائی کا بیان، افغان حکومت کی مذمت

    رانا ثنا اللہ

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    پاکستانی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں کی موجودگی اور ان کے خلاف کارروائی سے متعلق ایک بیان دیا ہے تاہم افغان طالبان کی حکومت نے اس کی مذمت کی ہے۔

    ایک بیان میں ترجمان افغان وزارت دفاع عنایت الله خوارزمی نے کہا کہ افغانستان میں پاکستانی طالبان کی موجودگی اور انھیں افغانستان کے اندر نشانہ بنانے سے متعلق پاکستانی وزیر داخلہ کا بیان ’اشتعال دلانے کی کوشش‘ اور ’بے بنیاد‘ ہے۔ ’پاکستانی حکام کے ایسے دعوے دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ٹی ٹی پی کے ٹھکانے پاکستان میں ہیں۔‘

    ترجمان افغان وزارت دفاع نے کہا ہے کہ افغانستان لاوارث نہیں اور ماضی کی طرح اپنی خود مختاری اور آزادی کے لیے تیار ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ دنوں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ایکسپریس نیوز کو دیے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’اگر کوئی دہشتگرد اپنے ٹھکانے سے آپ پر حملہ کرتا ہے تو بین الاقوامی قوانین کے مطابق آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ ان کے اوپر حملہ کر سکتے ہیں۔‘

    ’یہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق جو ہمارا حق ہوگا ہم اس پر عمل کریں گے۔‘ اس سوال پر کیا پاکستانی فوج افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کر سکتی ہے، انھوں نے کہا تھا کہ ’سب سے پہلے بردار اسلامی ملک افغانستان کو کہیں گے کہ انھیں ختم کیا جائے، ان لوگوں کو ہمارے حوالے کیا جائے۔

    ’(تاہم) اگر آگے سے تعاون نہیں ہوتا تو یہ ساری چیزیں ممکن ہیں۔‘

    انھوں نے کہا تھا کہ پیر کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس حوالے سے فیصلہ متوقع ہے۔ ’جب کلیئرنس کا فیصلہ ہوجائے گا تو پھر محفوظ ٹھکانے کہیں بھی ہوں۔۔۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت آپ حملہ آور کے اوپر حملہ کر سکتے ہیں۔‘

    ادھر طلوع نیوز کے مطابق افغان طالبان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ نے کہا ہے کہ افغانستان پاکستان سے اچھے تعلقات چاہتا ہے تاہم ’کسی بھی ملک کو کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر قبضہ کرنے کا حق نہیں ہے۔ دنیا میں ایسا کوئی قانون نہیں جو اس طرح کی زیادتی کی اجازت دیتا ہو۔‘

    ’امارت اسلامیہ کے پاس کافی فوج ہے اور وہ اقدامات کر سکتی ہے۔‘

  3. وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا آج دوبارہ اجلاس

    وزیر اعظم شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج دوبارہ وزیر اعظم ہاؤس میں ہوگا جس میں اعلیٰ سول اور عسکری قیادت شامل ہوگی۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس میٹنگ میں جمعے کے روز ہونے والی ملاقات کے دوران معیشت اور سکیورٹی صورتحال پر کی جانے والی تجاویز پر فیصلے متوقع ہیں۔

    خیال رہے کہ جمعے کو وزیراعظم شہبازشریف کی زیرِ صدارتنیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے قومی مفادات پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی اور نہ ہی کسی کو قومی سلامتی کے کلیدی تصور کو نقصان پہنچانے کی اجازت دیں گے۔ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس ایک ایسے موقع پر منعقد کیا گیا جب صوبہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق ’پاکستان کی بقا، سلامتی اور ترقی کے بنیادی مفادات کا نہایت جرات وبہادری، مستقل مزاجی اور ثابت قدمی سے تحفظ کیا جائے گا۔ دہشتگرد پاکستان کے دشمن ہیں۔ پوری قوم دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف ایک بیانیے پر متحد ہے۔ پاکستان کو للکارنے والوں کو پوری قوت سے جواب ملے گا۔‘

  4. بریکنگ, صدر کا لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل پر دستخط سے انکار: ’انتخابی عمل میں تاخیر جمہوریت کے لیے مثبت نہیں ‘

    عارف علوی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 75 کی شق بی ون کے تحت اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) بل 2022 کو بغیر دستخط کے واپس کر دیا ہے۔

    صدرِ پاکستان عارف علوی کے ٹوئٹر ہنڈل سے کی گئی ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’بل کو یہ کہہ کر واپس کر دیا گیا کہ اس سے بلدیاتی انتخابات میں مزید تاخیر ہو گی۔ وفاقی حکومت کے عجلت میں اٹھائے گئے اقدامات کے نتیجے میں انتخابی عمل میں دو بار تاخیر ہوئی، جو کہ جمہوریت کے لیے مثبت نہیں۔‘

    سوشل میڈیا پر جاری اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ’وفاقی حکومت کے ان غلط اقدامات کی وجہ سے اسلام آبادکیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) میں انتخابات نہیں ہو سکے:

    • پچاس یونین کونسلوں کی حد بندی مکمل ہونے کے بعد، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے31 جولائی 2022 کو اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کا فیصلہ کیا۔ پولنگ کی تاریخ کے اعلان کے باوجود، وفاقی حکومت نے یونین کونسلوں کی تعداد 50 سے بڑھا کر 101 کر دی، جس کے نتیجے میں انتخابات التوا کا شکار ہوئے۔
    • 101 یونین کونسلوں کی حد بندی کے بعد، ای سی پی نے 31 دسمبر 2022 کو آئی سی ٹی میں انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا۔ موجودہ بل کا سیکشن 2 آئی سی ٹی میں 125 یونین کونسلوں کا ذکر کرتا ہے۔ اس لیے 31 دسمبر 2022 کو ہونے والے انتخابات دوبارہ ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
    • موجودہ بل کے سیکشن تھری کے مطابق، انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے بعد میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات کا طریقہ تبدیل کر دیا گیا ہے۔‘
    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. لکی مروت میں پولیس چوکی پر حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلا ک

    لکی مروت میں پولیس کا کہنا ہے کہ چوکی شہبازخیل پر شدت پسندوں کے حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا ہے جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور ہلاک ہوگیا۔

    حملہ آور کی شناخت اویس سکنہ عبدالخیل سے ہوئی ہے جوکہ پولیس اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں سی ٹی ڈی بنوں اور لکی مروت پولیس کو دہشت گردی کے مقدمات مِیں مطلوب تھا۔

    تفصیلات کے مطابق رات کوحملہ آوروں نے پولیس چوکی شہبازخیل پر کئی اطراف سے خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کر دی۔

  6. سنگل رکنی بینچ کا فیصلہ نہ تو قانون اور نہ ہی حقائق پر پورا اترتا ہے: الیکشن کمیشن کی اپیل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سےوفاقی حکومت کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی گئی اپیل میں پی ٹی آئی کے علی نواز اعوان ،الیکشن کمیشن ،چیف کمشنر اور ایم سی آئی کو فریق بنایا گیا ہے۔

    اپیل گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہےاس اپیل میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل رکنی بینچ کا فیصلہ نہ تو قانون اور نہ ہی حقائق پر پورا اترتا ہے، اس کے علاوہ اس میں یہ بھی موقف اپنایا گیا ہے کہ سنگل رکنی بینچ نے شام پانچ بجے حکم دیا کہ اگلے روز انتخابات کروائے جائیں جبکہ وقت کی کمی کے باعث سنگل رکنی بینچ کے فیصلے پر عملدرآمد ناممکن تھا۔

    اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ سنگل رکنی بینچ نے معاملے کے حقائق اور قانونی پہلوں کو مدنظر نہ رکھتے ہوئے فیصلہ سنایا جبکہ سنگل رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی آئینی حیثیت کو بھی ملحوظ خاطر نہ رکھا اور الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے ایگزیکٹیو ادارہ نہیں ، اس انٹرا کورٹ اپیل میں وفاق کا انٹراکورٹ اپیل میں سنگل بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

    اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے انٹرا کورٹ اپیل پر آج ہی سماعت کی بھی استدعا کر دی ہے۔

    وفاق کی طرف سے جمع کروائی گئی انٹرا کورٹ اپیل میں کہا گیا ہے کہ سنگل رکنی بینچ نے حکومت کو اپنا جواب جمع کرانے کے لیے مناسب وقت نہیں دیا، اس کے علاوہ یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سنگل رکنی بینچ کا فیصلہ قانون اور حقائق کی غلط تشریح پر مبنی ہے اور سنگل رکنی بینچ کا فیصلہ قانون اور حقائق کے لحاظ سے برقرار رکھنے کے قابل نہیں ہے۔

  7. بریکنگ, الیکشن کمیشن امپورٹڈ حکومت اور سہولت کاروں کی بی ٹیم ہے: عمران خان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل نہ کر کے الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر ظاہر کیا کہ وہ امپورٹڈ حکومت اور اس کے سہولت کاروں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔

    ٹوئٹر پر ان کا کہنا ہے کہ ’پی ڈی ایم خوفزدہ ہو کر الیکشن سے بھاگ رہی ہے۔ ووٹ ایک جمہوری حق ہے اور پی ٹی آئی پُرعزم ہے۔‘

  8. ’عدالت اپنے فیصلے پرُعملدرآمد کروائے، توہین عدالت کی کارروائی کی جائے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ووٹر پولنگ سٹیشن کے باہر کھڑے ہیں لیکن عدالت کے واضح احکامات کے باوجود انتخابات روک دیے گئے ہیں۔

    ’ووٹ سے خوفزدہ حکومت اپنے کٹھ پتلی الیکشن کمشنر کے ساتھ مل کرعوام اور آئین کا مذاق اڑا رہی ہے۔ عدالت اپنے فیصلے پرُعملدرآمد کروائے اور توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔‘

  9. اسلام آباد بلدیاتی انتخابات: حکومت جمہوریت کا جنازہ نکال رہی ہے، اسد عمر

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ حکومت ایسا نظام بنانے کی کوشش کر رہی ہے جس میں’جمہوریت ہو اور کوئی الیکشن نہ ہو، کہیں ان کو اور قوم کو مہنگا نہ پڑ جائے۔‘

    وہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات کرانے سے متعلق ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کا فیصلہ کے باوجود الیکشن کمیشن کی جانب انتخابات کا انعقاد نہ کرنے پر بات کررہے تھے۔

    سوشل میڈیا پر ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف اسلام آباد کی ٹیمیں الیکشن کے لیے گراونڈ پر موجود لیکن ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود الیکشن کمیشن کا عملہ غائب، جمہوریت کا جنازہ نکال رہی ہے یہ امپورٹد حکومت‘

    یاد رہے کہ آج صبح ہی الیکشن کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات: الیکشن کمیشن کی ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل

    الیکشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات کرانے سے متعلق ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کا فیصلہ چیلنج کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے۔

    درخواست میں رہنما جماعت اسلامی میاں اسلم اور علی نواز اعوان کو فریق بنایا گیا ہے۔

    ادھر وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی الیکشن کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ ’الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بل صدر کو بھیج دیا گیا ہے۔ وفاق اور نہ ہی الیکشن کمیشن اپنے ریکارڈ سے ظاہر کر سکے کہ صدر کی طرف سے بل کی منظوری دے دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے مجوزہ قانون پر انحصار کیا۔ الیکشن کمیشن موجودہ قانون پر عملدرآمد کا پابند ہے۔‘

    گذشتہ روز جسٹس ارباب محمد طاہر نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو شیڈول کے مطابق 31 دسمبر کو الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا اور صدر مملکت کی طرف سے بل پر دستخط نہ کرنے کو بنیاد بنایا تھا۔

  11. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلدیاتی انتخابات 31 دسمبر کو کروانے کا حکم دے دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات کل یعنی 31 دسمبر کو ہی کروائے جائیں گے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا نوٹیفیکیشن ملتوی کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس ارباب محمد طاہر نے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی جانب سے دائر درخواستوں پر سنایا ہے۔

    وفاقی حکومت نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایڈشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دُگل نے بی بی سی کو بتایا کہ نظرثانی کی درخواست تیار کر لی گئی ہے اور اسے اب سے کچھ دیر کے بعد دائر کی جائے گی انھوں نے کہا کہ اتنے کم وقت میں انتخابات کروانا ممکن نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کے درمیان بات چیت جاری ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھی اس ضمن میں آگاہ کیا گیا ہے۔‘

    ادھر عمران خان نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے عدالتی حکم پر اسلام آباد کی عوام کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ اس عدالتی فیصلے کے نتیجے میں اسلام آباد کے عوام ووٹ کے ذریعے اپنی مقامی حکومت منتخب کر پائیں گے۔

  12. بریکنگ, قوم دہشت گردی کے خلاف بیانیے پر متحد ہے، پاکستان کو للکارنے والوں کو پوری قوت سے جواب ملے گا: قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ

    shehbaz

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیرِ صدارت جمعے کو نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قومی مفادات پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی اور نہ ہی کسی کو قومی سلامتی کے کلیدی تصور کو نقصان پہنچانے کی اجازت دیں گے۔

    خیال رہے کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس ایک ایسے موقع پر منعقد کیا گیا ہے جب صوبہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق ’پاکستان کی بقا، سلامتی اور ترقی کے بنیادی مفادات کا نہایت جرات وبہادری، مستقل مزاجی اور ثابت قدمی سے تحفظ کیا جائے گا۔

    ’دہشتگرد پاکستان کے دشمن ہیں۔ پوری قوم دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف ایک بیانیے پر متحد ہے۔ پاکستان کو للکارنے والوں کو پوری قوت سے جواب ملے گا۔‘

    خیال رہے کہ نینشل سکیورٹی کمیٹی میں وفاقی وزرا، سروسز چیفس اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان نے شرکت کی اور اجلاس نے ملکی معیشت اور امن وامان کا تفصیل سے جائزہ لیا۔

    اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک کی معاشی صورتحال اور چیلنجز سے آگاہ کیا اور اس ضمن میں حکومت کی طرف سے اختیار کی گئی معاشی حکمت عملی اور اقدامات کے بارے میں شرکا کو بریفنگ دی۔

    دوسری جانب انٹیلی جنس اداروں نے ملک میں امن وامان کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی اور دہشت گردی کی حالیہ لہر سے متعلق عوامل اور ان کے سدباب کے اقدامات سے اجلاس کو آگاہ کیا۔

    وزیر مملکت خارجہ محترمہ حنا ربانی کھر نے افغانستان کی صورتحال پر اجلاس کو بریفنگ دی اور پاکستان کے افغانستان کی عبوری حکومت سے ہونے والے رابطوں سے آگاہ کیا۔

    اعلامیے کے مطابق نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بروز پیر 2 جنوری 2023 کو جاری رہے گا جس میں سامنے آنے والی تجاویز کی روشنی میں مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

  13. گوادر میں گرفتاریوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کو تشویش

    ایمنسٹی انٹرنینشل کا کہنا ہے کہ اسے گوادر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور دفعہ 144 کے نفاذ پر تشویش ہے۔ ’لوگوں کو پُرامن احتجاج کا حق ہے اور ریاست پر فرض ہے کہ انھیں اس حق کے اظہار کی اجازت دے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. گوادراحتجاج: شہر میں کاروباری مراکز کھلنے کے باوجود کشیدگی برقرار

    گوادر

    ،تصویر کا ذریعہJAVED BALOCH

    بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں کئی ماہ سے جاری حقوق کی فراہمی کے لیے احتجاج کے باعث علاقے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

    پولیس نے گذشتہ چار دنوں میں تقریباً 100 مظاہرین کو گرفتار کیا ہے، جبکہ جمعرات کو صوبائی حکومت نے گوادر میں ایک ماہ کے لیے ضابطہ فوجداری کے تحت دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

    تاہم سرکاری حکام کے مطابق جمعے کو گوادر شہر میں کاروباری مراکز کھلنے شروع ہو گئے ہیں۔

    پیر کے روز سے گوادر شہر اور متعدد دیگر علاقوں میں کاروباری مراکز بند تھے جس کی وجہ سے بعض اطلاعات کے مطابق اشیا خوردو نوش کی قلت پیدا ہو گئی تھی۔

    تاہم لینڈ لائن پر رابطہ کرنے پر ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ پانچویں روز شہر میں کاروباری مراکز کھلنے شروع ہو گئے ہیں۔

    ضلع بھر میں پیر سے انٹرنیٹ سروس اورموبائل فون سروس بدستور بند ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو رابطوں میں شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جماعت اسلامی ضلع گوادر کے نائب امیر سعید احمد کے اہلخانہ کے افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

    تربت میں حق دو تحریک کی خواتین کے جلسے سے خطاب کے بعد حق دو تحریک کے رہنما صبغت اللہ اور معروف معذور رہنما وسیم سفر زامرانی اور فتح زامرانی بھی گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

    کوئٹہ میں آئی جی پولیس عبدالخالق شیخ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمان نے ایک ہڑتال کر کے پورے ضلع کو یرغمال بنایا تھا۔

    آئی جی پولیس عبدالخالق شیخ نے کہا کہ پر امن احتجاج کرنا ہر ایک کا حق ہے لیکن اس کا ایک طریقہ ہوتا ہے اور بعض شرائط دونوں طرف لاگو ہوتی ہیں۔

    انٹرنیٹ سروس اور موبائل فون سروس بند ہونے کی وجہ سے مولانا ہدایت الرحمان اور حق دو تحریک کے رہنماﺅں سے وزیر داخلہ اور آئی جی پولیس کے الزامات پر موقف نہیں لیا جا سکا۔

    تاہم ایک ویڈیو پیغام میں مولانا ہدایت الرحمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے گوادر میں صورتحال خراب کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد کی ۔

    جمعہ کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام حق دو تحریک کے رہناﺅں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

  15. پاکستان میں ایک منصوبے کے تحت جمہوریت ختم کی جا رہی ہے: فواد

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’الیکشن کمیشن عملی طور پر وفاقی حکومت میں ضم ہو چکا ہے۔ پاکستان میں ایک پلاننگ کے تحت جمہوریت مکمل ختم کی جا رہی ہے۔

    ’پہلے بنیادی حقوق معطل کیے گئے، اب ادارے ختم کیے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمشنر اور ان کے ساتھی پاکستان کے عوام کے ولن ہیں۔‘

  16. عمران خان نے سپیکر سے علیحدہ ملنے والے پارٹی ارکان کے نام مانگ لیے, سحر بلوچ، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف سے پی ٹی آئی ارکان کی استعفوں سے متعلق ملاقات کے بعد پارٹی کے سینیئر ارکان کی غیر موجودگی زیرِ بحث ہے۔

    جماعت کے مطابق پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک کو سپیکر سے ملنے والے وفد میں عین موقع پر شامل نہ ہونے کے نتیجے میں لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر بلایا ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے اس بات کو رد کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا ہے کہ ’شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک کو عدم اعتماد کی تحریک پر بات کرنے کی غرض سے بلایا گیا ہے۔‘

    دوسری جانب عمران خان نے سپیکر قومی اسمبلی سے علیحدہ ملنے والے پارٹی ارکان کے نام بھی مانگ لیے ہیں۔ پی ٹی آئی کے گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں شامل ارکان نے بتایا ہے کہ اسد قیصر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو سپیکر سے رابطہ کرنے والے ارکان کے نام عمران خان کو بتائے گی۔

    واضح رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پی ٹی آئی کے وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا تھا کہ چند پی ٹی آئی ارکان نے انھیں کہا کہ انھیں استعفے دینے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

    جبکہ اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق زبیدہ جلال، غلام بی بی بھروانہ اور غلام محمد لالی کی اسمبلی میں حاضری بھی لگ چکی ہے۔

    اسی بات پر فواد چوہدری نے کہا کہ ان ارکان کی جانب سے ویڈیو پیغامات کے ذریعے پہلے سے ہی بتا دیا گیا تھا کہ وہ استعفی دینا چاہتے ہیں اور سپیکر سے گزارش کی کہ ان کے استعفے منظور کرلیں۔

    عمران خان نے اس سے پہلے بھی کہا تھا کہ پی ٹی آئی ارکان کے فرداً فرداً استعفے قبول کرنے کے بجائے ایک ساتھ 127 ارکان کے استعفے منظور کرلیے جائیں۔

    لیکن سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کے بعد کہا کہ ارکان ان سے فرداً فرداً آکر ملیں اور ملاقات کے دوران بھی کہا کہ وہ اپنا موقف اسمبلی میں حاضر ہوکر دیں۔

  17. بریکنگ, قومی سلامی کمیٹی کا اجلاس وزیر اعظم ہاؤس میں شروع

  18. کلاچی: نامعلوم افراد کا راکٹ لانچرز سے حملہ، چار پولیس اہلکار زخمی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    صوبہ خیبرپختونخوا میں رات نامعلوم افراد نے کلاچی میں ٹکواڑہ چوکی پر راکٹ لانچرز سے حملہ کیا جس پر پولیس نے جوابی کارروائی کی ہے۔ اس کارروائی میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں پولیس نے زخمی اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ فائرنگ کا یہ سلسلہ رات ساڑھے بارہ بجے شروع ہوا اور کوئی ڈیڑھ بجے تک جاری رہا۔

    پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کا یہ سلسلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا اور اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں نے مختلف سمت سے 16 سے 17 راکٹ داغے ہیں اور دیگر اسلحے سے فائرنگ کی ہے۔

    پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ پولیس نے جوابی کارروائی کی ہے جس میں حملہ آوروں کا نقصان ہوا ہے۔

    ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس حافظ عدنان نے بتایا کہ حملہ آوروں کے فرار کے بعد موقع پر خون کے نشانات دیکھے گئے ہیں۔ گذشتہ روز فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ قبائلی علاقے کرم میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں تین اہلکار اور دو شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اس جھڑپ میں سکیورٹی فورسز نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دو شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔ اس کارروائی میں تین سکیورٹی اہلکار صوبیدار شجاع محمد، نائک محمد رمضان، اور سپاہی عبدالرحمان جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند اس علاقے میں تشدد کی مختلف کارروائیوں میں ملوث تھے۔ اس کارروائی کے بعد اس علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا تاکہ شدت پسندوں کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ اسی طرح دو روز پہلے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ کیا گیا جس میں مقامی لوگوں کے مطابق پانچ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

  19. مودی کی والدہ کی وفات پر وزیر اعظم شہباز شریف کا ٹویٹ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج جمعے کو متوقع ہے۔

    اس اجلاس میں پاکستان میں حالیہ دنوں میں بڑھنے والے دہشتگردی کے واقعات ایجنڈے کا حصہ ہیں جبکہ اس اجلاس میں اعلیٰ سول و عسکری قیادت شرکت کرے گی۔

    ڈی جی آئی ایس آئی ملک کی حفاظتی صورتحال جبکہ وزیرِ خزانہ ملک کی معاشی صورتحال پر بریفنگ دیں گے۔