پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج، عدم اعتماد پر ووٹنگ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ نہیں

پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر دو بجے منعقد ہو گا تاہم گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کی ہدایت کے برعکس پرویز الہٰی کے اعتماد کا ووٹ لینے کا عمل آج کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔

لائیو کوریج

  1. آرمی چیف سات روزہ دورے پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات روانہ

    پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سات روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف دورے کے دوران دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور باہمی دلچسپی کے امور، فوجی تعلقات اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت ہو گی۔ بطور آرمی چیف یہ سید عاصم منیر کا پہلا غیرملکی سرکاری دورہ ہے۔

  2. گوادر: حق دو تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد انٹرنیٹ بدستور بند, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں اگرچہ صورتحال معمول پر آگئی ہے تاہم انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    گوادر میں صورتحال اس وقت خراب ہوگئی تھی جب 26 دسمبر کو علی الصبح حق دو تحریک کے ایکسپریس وے پر قائم دھرنا کیمپ کے خلاف کریک ڈاﺅن اور تحریک کے رہنماﺅں کی گرفتاری کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے باعث نہ صرف گوادر شہر بلکہ ضلع کے دیگر علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی تھیں۔

    گوادر شہر اور ضلع کے دیگر علاقوں میں صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہت بڑی تعداد تعینات کی گئی۔ موبائل فون سروس سمیت انٹرنیٹ سروس کو مکمل طور پر بند کیا گیا تھا جس کی وجہ سے نہ صرف گوادر کے لوگوں بلکہ باہر سے ان کے رشتے داروں کو رابطوں میں شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    اگرچہ جمعہ کے بعد موبائل فون سروس بحال کر دی گئی لیکن انٹرنیٹ سروس بدستور بند ہے۔ گوادر پریس کلب کے صدر نور محسن بلوچ نے بتایا کہ جمعے کے بعد مارکیٹس وغیرہ کھل گئی تھیں جس کے بعد معمولات زندگی بحال ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ معمولات زندگی بحال ہونے کے باوجود انٹرنیٹ سروس بدستور بند ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف عام لوگوں بلکہ ان لوگوں کو گوادر میں اپنے رشتے داروں کے ساتھ رابطے میں پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے جو خلیجی اور دیگر بیرونی ممالک میں ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ رابطوں کا سستا ترین ذریعہ ہے جبکہ فون پر کم آمدنی والے طبقات زیادہ اخراجات کے باعث رابطے نہیں کر سکتے۔

    نور محسن نے کہا کہ سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا میڈیا کے نمائندوں کو کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ انٹرنیٹ سروس کی بندش کے باعث وہ اپنے اداروں کو گوادر کی حقیقی صورتحال سے متعلق خبریں بھیج نہیں پا رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر حکام یہ کہتے ہیں کہ گوادر میں اب کوئی مسئلہ نہیں ہے تو پھر انٹرنیٹ سروس کو بند رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

    نور محسن کا کہنا تھا کہ گوادر میں کتنے لوگ گرفتار ہیں اور حق دو تحریک کے گرفتار رہنما کہاں ہیں ان کے بارے میں نہیں بتایا جا رہا ہے۔

    موبائل فون پر رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر گوادر عزت نذیر بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ گوادر میں صورتحال معمول پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رات کو انٹرنیٹ سروس بحال ہو جائے گی جس کے لیے متعلقہ ادارے کو خط بھیج دیا گیا ہے۔

    گرفتار افراد کی تعداد سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے علم میں نہیں ہے کیونکہ اس معاملے کو ایس ایس پی گوادر ڈیل کر رہے ہیں اور ضمانتی مچلکے جمع کرنے پر لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر چھوڑا بھی جا رہا ہے۔

    حق دو تحریک کے رہنما حسین واڈیلہ اور یعقوب جوسکی سمیت 13 افراد کو گوادر سے کہیں اور منتقل کرنے کی اطلاعات ہیں۔

    بعض اطلاعات کے مطابق ان کو تربت منتقلی کے بعد آج مختصر وقت کے لیے پنجگور پولیس سٹیشن منتقل کیا گیا اور وہاں سے اُنھیں کوئٹہ کے لیے روانہ کر دیا گیا۔

    پنجگور پولیس سٹیشن کی لینڈ لائن پر متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کال وصول نہ کرنے کی وجہ سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی جبکہ حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کا فون بند ہونے کی وجہ سے ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

  3. رانا ثنااللہ: دہشتگردوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، عدم برداشت کی پالیسی ہو گی

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ جمعے اور سوموار کو منعقد ہونے والی نیشنل سکیورٹی میٹنگ میں سیاسی اور عسکری قیادت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے اور تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی رکھی جائے گی۔

    سینٹرل پولیس افسر اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’افغانستان سے جو دراندازی‘ ہوتی ہے اس حوالے سے افغانستان حکومت سے بات کی جائے گی۔

    رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ طالبان پہلے ہتھیار پھینکیں پھر ان سے بات ہو گی۔

    اُنھوں نے کہا کہ دہشت گردی سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے سی ٹی ڈی کو مرکزی سطح پر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 67 فیصد، بلوچستان میں 31 فیصد اور پنجاب اور سندھ میں ایک ایک فیصد واقعات ہوئے ہیں۔

    اُنھوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ پر حملے کی دھمکی دینے والے دو ’دہشتگردوں‘ کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ دہشت گردی کا ایک نیٹ ورک بھی پکڑا گیا ہے۔

    اُنھوں نے یہ بھی بتایا کہ آئی ٹین فور میں خودکش حملے میں ملوث افراد کی شناخت ہو چکی ہے۔

    اس موقع پر رانا ثنااللہ نے آئی ٹین دھماکے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کے خاندان کو ایک کروڑ روپے کا چیک پیش کیا اور کہا کہ اُنھیں مکان کے لیے سوا کروڑ روپے کی گرانٹ مزید دی جائے گی۔

  4. ملزم نوید کو قتل کرنے کے لیے تعینات شوٹر کی گولی سے کارکن ہلاک ہوا: فواد چوہدری

    فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ معظم نامی پی ٹی آئی کارکن کو گولی ایک اور حملہ آور نے ماری جس کا کام مبینہ حملہ آور نوید کو قتل کرنا تھا۔

    اُنھوں نے سابق وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کے قتل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آور کو قتل کروا کر اس معاملے کو دبا دیا جاتا مگر یہ گولی معظم کو جا لگی۔

  5. فواد چوہدری: ایس ایچ او گجرات نے ڈی پی او کے کہنے پر اعترافی ویڈیو بنائی

    فواد چوہدری نے اپنی پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ ایس ایچ او گجرات کو احکامات دیے گئے اور اُنھوں نے مبینہ حملہ آور کی اعترافی ویڈیو بنوائی۔

    اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ایس ایچ او گجرات نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اُنھوں نے ویڈیو ڈی پی او گجرات کے کہنے پر کی۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ڈی پی او گجرات کو تفتیش کے لیے بلوایا گیا مگر وہ پیش نہیں ہوئے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ ایس ایچ او نے یہ ویڈیو ڈی پی او کے کہنے پر بنائی تھی۔

    اُنھوں نے کہا کہ کون اس تحقیقات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہا تھا، کہ آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے منع کر دیا کہ ڈی پی او کا فون شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نہیں دیا جا سکتا۔

  6. فواد چوہدری: عمران خان کو قتل کروانے کی کوشش کر کے مذہبی انتہاپسند پر اس کا الزام ڈالنا مقصد تھا

    سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان پر وزیر آباد میں ہونے والے حملے میں تین حملہ آور شامل ہیں۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ عمران خان پر ایک صحافی وقار ستی نے مبینہ توہینِ مذہب کا الزام لگایا۔

    اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں یہ ویڈیو کس نے بھیجی ان سوالات کی خاطر اُنھیں مقدمے میں شامل کیا گیا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ یہ سوال حل طلب ہے کہ وقار ستی نے کیا یہ ویڈیو خود بنائی یا اُنھیں یہ بھیجی گئی، تاہم اُنھوں نے کہا کہ یہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اُنھیں بھیجی گئی تھی۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ اس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے وقار ستی کی ٹویٹ کی گئی ویڈیو سے ملتی جلتی عمران خان کے خلاف کی اور اس میں کئی وزرا شامل تھے۔

    سابق وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ اس سب کا مقصد عمران خان کو قتل کروانے کی کوشش کر کے مذہبی انتہاپسند پر اس کا الزام ڈالنا تھا اور عمران خان اس سے آگاہ کر چکے تھے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ فورینزک رپورٹ اور ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عمران خان پر حملے میں تین حملہ آور شامل تھے اور 14 گولیاں زمین پر سے برآمد ہوئیں جبکہ نو گولیاں ایک عمارت میں لگی ہیں۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کے گارڈز کے اسلحے کا فورینزک کروایا گیا اور کوئی گولی ان کے اسلحے سے نہیں نکلی جبکہ موقع پر سے ملنے والی گولیاں تین مختلف اسلحوں کی ہیں۔

  7. حکومت پاکستان کے تمام وزرائے اعظم اور صدور کو توشہ خانہ سے ملنے والے تحائف کی تفصیل فراہم کرے: اسلام آْباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو ایک ماہ کے اندر یہ تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے کہ سنہ 1947 سے اب تک آنے والے وزرائے اعظم اور صدور نے توشہ خانہ سے کتنے تحائف لیے؟

    اس حوالے سے دائر کیس میں تحریری حکم جاری کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو مطلوبہ تفصیلات درخواست گزار کو فراہم کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

    تحریری آرڈرز میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے 23 اپریل کو کابینہ ڈویژن کو معلومات فراہمی کی درخواست دی تھی جس کے جواب میں 28 اپریل کو کابینہ ڈویژن نے جواب دیا کہ اس نوعیت کی معلومات کلاسیفائیڈ ہیں، اس لیے فراہم نہیں کی جا سکتیں۔

    کابینہ ڈویژن کے اس فیصلے کے خلاف پاکستان انفارمیشن کمیشن نے اپیل سنی اور کابینہ ڈویژن کو درخواست گزار کو توشہ خانہ کی معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا۔

    یاد رہے ایڈووکیٹ ابوذر سلمان خان نیازی نے توشہ خانہ سے ملنے والے تحائف سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی درخواست دائر کر رکھی تھی۔

  8. بریکنگ, کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے خلاف کارروائی کی دھمکی، عوام کو پارٹی رہنماؤں سے دور رہنے کی ہدایت

    کالعدم شدت پسند جماعت تحریک طالبان پاکستان نے ایک بیان میں حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کو متنبہ کیا ہے وہ ان جماعتوں کے خلاف ’ٹھوس اقدامات‘ کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

    تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کافی عرصے سے تحریک طالبان پاکستان نے کسی سیاسی پارٹی کے خلاف اقدام نہیں کیا ہےـ مگر بد قسمتی سے موجودہ حکومت کی قیادت پر معلوم نہیں امریکہ کا جادو کیسے چل پڑا کہ (وزیرِ خارجہ) بلاول بھٹو زرداری نے ٹی ٹی پی کے خلاف کھل کر اعلان جنگ کیا۔‘

    بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انھوں نے ’نہ جانے کس تصور میں امریکہ کی خوشنودی کی خاطر ٹی ٹی پی کے خلاف طبل جنگ بجا کر اپنی پوری پارٹی کو اس جنگ میں دھکیل دیاـ‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی برسر اقتدار مسلط کردہ ٹولوں کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانے پر غور کر رہی ہے۔‘

    انھوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ دوپارٹیاں اپنے مؤقف پر ڈٹی رہیں تو پھران کے سرکردہ لوگوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

    بیان میں عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ ’ایسے سرکردہ لوگوں کےقریب جانے سے اجتناب کریں۔‘

  9. پاکستان میں نظام انصاف کا بحران پیدا ہو چکا ہے: چوہدری فواد حسین

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں نظام انصاف کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر انھوں نے لکھا کہ ’یہ تاثر کہ عدالتیں فوج کے زیر اثر فیصلے دیتی ہیں اور آرمی چیف فون پر چیف جسٹس کو بتاتے ہیں کہ کیا فیصلہ کرنا ہے انتہائی تباہ کن اثرات کا حامل ہے، اس سلسلے میں سپریم کورٹ کا کوئی موقف سامنے نہ آنا معاملات کی سنگینی کا اظہار ہے‘۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میری رائے میں چیف جسٹس صاحبان فوری اجلاس بلائیں اور اس صورتحال پر غور کریں‘۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ ’اعظم سواتی کیس میں جج کا فیصلے سے پہلے تبدیل کر دیا جانا، ایک ٹویٹ پر درجنوں پرچے ہونا معمول کی بات نہیں ہے جمہوریت کی بنیاد آئین ہے اور اس طرح آئین کا بے وقعت ہونا بہت بڑا بحران ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. بریکنگ, دہشت گردی کے خلاف اپنا دفاع کرنا پاکستان کا حق ہے، امریکی محکمہ خارجہ

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام نے دہشت گرد حملوں کی وجہ سے شدید نقصان اٹھایا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اپنا دفاع کرنا پاکستان کا حق ہے۔

    واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں نیڈ پرائس نے کہا کہ ہم پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے حالیہ بیان سے باخبر ہیں۔

    واضح رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے حالیہ اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنے عوام کے تحفظ و سلامتی کے دفاع کا ہر حق محفوظ رکھتا ہے۔

    اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ دہشت گردی سے پوری ریاستی قوت سے نمٹا جائے گا اور پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

    نیڈ پرائس نے یہ بھی کہا کہ طالبان اپنے وعدوں کو پورا کریں تاکہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

  11. ضمانت منظور ہونے کے بعد اعظم سواتی کی رہائی کا حکم جاری کر دیا گیا, شہزاد ملک، بی بی سی

    اعظم سواتی

    ،تصویر کا ذریعہYouTube

    اسلام آباد کے سپیشل جج سائبر کرائم کی عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کی رہائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    عدالتی روبکار میں کہا گیا ہے کہ ان کی ضمانت منظور ہو چکی ہے چنانچہ اگر وہ کسی اور جرم میں مطلوب نہیں ہیں تو اُنھیں رہا کر دیا جائے۔

    دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ نے منتازع ٹویٹس کیس میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء سینیٹر اعظم سواتی کی درخواست ضمانت منظور کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت سے جاری آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں عدالت کا کہنا ہے کہ اگر اعظم سواتی جرم کو دہرائیں تو فریقین ضمانت کی منسوخی کی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ اس کیس میں چالان جمع ہو چکا ہے اور تفتیش مکمل ہے، چنانچہ اعظم سواتی کو حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔

    عدالتی حکم میں کہا گیا کہ ایف آئی اے نے کیس بناتے ہوئے اپنے ہی بنائے ایس او پیز پر عمل نہیں کیا۔

  12. ’ملک بھر میں تمام مارکیٹیں ساڑھے آٹھ بجے، شادی ہالز 10 بجے بند ہوں گے‘

    توانائی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی حکومت نے توانائی کی بچت کے لیے ملک بھر میں تمام مارکیٹیں ساڑھے آٹھ بجے جبکہ شادی ہالز دس بجے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

    کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزرا نے بتایا کہ معاشی بحران کے پیش نظر ’ہمیں اپنا طرز زندگی بدلنے کی ضرورت ہے۔‘

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ’تمام شادی ہالز رات 10 بجے بند ہوں گے۔ مارکیٹیں رات ساڑھے 8 بجے بند ہوں گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے وفاقی اداروں کے تمام دفاتر میں 30 فیصد بجلی کی کمی لانے کی ہدایت کی ہے۔ ’ملک میں صرف 50 فیصد سٹریٹ لائٹس کو آن رکھا جائے گا۔‘

    خواجہ آصف نے یہ امید ظاہر کی کہ شادی ہالز، ریستوران اور مارکیٹیں جلدی بند کرنے سے ’62 ارب روپے کی بچت ہوگی۔‘

    دریں اثنا انھوں نے یہ بھی کہا کہ توانائی کی بچت کے لیے ملک بھر میں الیکٹرک بائیکس یا ای بائیک کو فروغ دیا جائے گا۔

  13. عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت

    سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔

    سپریم کورٹ میں توہین الیکشن کمیشن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا کہ کمیشن سابق وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں فواد چوہدری اور اسد عمر کے خلاف کارروائی جاری رکھے۔ ’ الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے اعتراضات پر بھی قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔‘

    سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’کسی ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو کارروائی سے نہیں روکا۔ سندھ اور لاہور ہائیکورٹس نے صرف حتمی فیصلہ جاری کرنے سے روکا ہے۔‘

    عدالت نے مزید بتایا کہ ’الیکشن ایکٹ کمیشن کو کارروائی کے لیے بااختیار بناتا ہے۔ تحریک انصاف نے کارروائی کا اختیار دینے کی دفعہ چیلنج کر رکھی ہے۔

    ’رائج قانون چیلنج ہو تو بھی اس پر عملدرآمد سے روکا نہیں جا سکتا۔‘

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے ہائیکورٹس کی جانب سے دیے گئے حکم امتناع سپریم کورٹ میں چیلنج کیے تھے۔

  14. دہشتگردوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائیں گے، امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: شہباز شریف

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کی ملاقات میں طویل بات چیت کے بعد دو فیصلے کیے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’ریاست پاکستان کی رِٹ کو چیلنج کرنے والے دہشتگردوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ دوسرا یہ کہ معاشی منصوبہ بندی کے ذریعے معیشت کو بحال کیا جائے گا اور لوگوں کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔‘

  15. دہشتگردی سے ’پوری ریاستی قوت‘ کے ساتھ نمٹا جائے گا: قومی سلامتی کمیٹی

    قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان اپنے عوام کے تحفظ وسلامتی کے دفاع کا ہر حق محفوظ رکھتا ہے۔

    یہ بھی کہا گیا کہ دہشت گردی سے پوری ریاستی قوت سے نمٹا جائے گا اور پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ خان نے کچھ دن قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر افغانستان نے وہاں چھپے ہوئے تحریکِ طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کے خلاف ایکشن نہیں لیا تو پاکستان خود اُنھیں نشانہ بنائے گا۔

    اس پر اتوار کے روز افغانستان کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ افغانستان اس بیان کو ’اشتعال انگیز اور بے بنیاد‘ سمجھتا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔

  16. کسی بھی ملک کو دہشتگردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے: قومی سلامتی کمیٹی

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ختم ہو گیا ہے۔

    اجلاس میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ قومی داخلی سلامتی پالیسی اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر دہشتگردی کا مقابلہ کریں گی۔

    اجلاس نے صوبائی ایپکس کمیٹیوں کی بحالی پر اتفاق کیا اور یہ بھی کہا کہ کسی بھی ملک کو دہشتگردوں کو محفوظ ٹھکانے اور سہولت کاری فراہم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    سرکاری اعلامے کے مطابق اجلاس میں موجودہ معاشی صورتحال اور ’عام افراد کو درپیش مشکلات‘ کا ’بھرپور جائزہ‘ لیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے اس اجلاس کو معاشی استحکام کے منصوبے پر بریفنگ دی جس میں اعلامیے کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ بات چیت بھی شامل ہے۔

    کمیٹی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک سے غیر ملکی کرنسی کے غیر قانونی اخراج اور حوالہ کے کاروبار کو روکا جائے گا، زرعی پیداوار اور پیداواری شعبے میں بہتری لائی جائے گی تاکہ غذائی تحفظ، درآمدات کے متبادل اور روزگار کو یقینی بنایا جا سکے۔

  17. اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات: وفاق اور الیکشن کمیشن کی درخواستیں قابلِ سماعت قرار, شہزاد ملک، بی بی سی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف وفاق اور الیکشن کمیشن کی درخواستیں قابل سماعت قرار دے دیں۔

    عدالت نے اس ضمن میں فریقین بشمول پی ٹی آئی کے علی نواز اعوان اور جماعت اسلامی کے میاں اسلم کو نوٹس جاری کردیا ہے۔ یہ نوٹسز نو جنوری کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔

    اس سے قبل جسٹس ارباب کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے 30 دسمبر کو الیکشن کمیشن کو حکم دیا تھا کہ 31 دسمبر کو اسلام آباد کی 101 یونین کونسلز پر بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں تاہم الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اتنے کم وقت میں انتخابات کروانا ممکن نہیں ہے۔

  18. اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات: وفاق، الیکشن کمیشن کی اپیلیں قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائی کورٹ

    الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف وفاق اور الیکشن کمیشن کی طرف سے دائر کی گئیں انٹرا کورٹس اپیلیں قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ان اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ سنگل بینچ نے قانون کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔ انھوں نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ ’کیا الیکشن کمیشن ایک سو ایک یونین کونسلز پر انتخابات کروانے کو تیار ہے؟‘

    انھوں نے کہا کہ ’عدالت یہ نہیں کہہ رہی کہ کل ہی انتخابات کروا دیں بلکہ اس کے لیے مناسب وقت دیا جائے گا۔‘

    بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ وفاق کی طرف سے یونین کونسلز کی تعداد ایک سو ایک سے بڑھا کر ایک سو پچیس ہوئیں لیکن ابھی تک اس کو قانون کا درجہ نہیں ملا۔

    واضح رہے کہ صدر مملکت نے پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد اس بل پر دستخط نہیں کیے اور اس بل کو واپس حکومت کو بھجوا دیا ہے۔

    وفاقی حکومت اس معاملے کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لے کر جانے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں اس بل کی منظوری کے بعد اسے دوبارہ صدر کو بھجوایا جائے گا اور قانون کے مطابق اگر صدر مملکت نے دس روز تک اس بل پر دستخط نہ کیے تو یہ بل خود ہی قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔

  19. بریکنگ, وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس شروع

    وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس شروع

    ،تصویر کا ذریعہPID

    سرکاری سطح پر جاری کردہ بیان کے مطابق اس اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور معاشی صورتحال کا جائزہ لے گی۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں جمعے کو ہونے والے اجلاس کے فیصلوں کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے جبکہ قومی سلامتی کمیٹی معاشی حوالے سے بھی فیصلے کرے گی۔

    وزیر اعظم ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کی منظوری دے گی اور سول و عسکری قیادت ملکی معیشت اور سلامتی پر واضح گائیڈ لائنز کی بھی منظوری دے گی۔

  20. متنازع ٹویٹ کا مقدمہ: اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعظم سواتی کی ضمانت منظور کر لی

    اعظم سواتی

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی سینیٹر اعظم سواتی کی خلاف متنازع ٹویٹ کے مقدمے میں ان کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے اور انھیں دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

    اس سے قبل اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت اعظم سواتی کی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔

    اعظم سواتی نے ایک خط کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ تاہم آج ضمانت کی درخواست کے دوران ملزم کے بیٹے نے یہ خط واپس لے لیا۔

    خیال رہے کہ اعظم سواتی نے ٹوئٹر پر پیغام میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر تنقید کی تھی جس کے بعد ایف آئی اے نے ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار کر لیا تھا۔