بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں اگرچہ صورتحال معمول پر آگئی ہے تاہم انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
گوادر میں صورتحال اس وقت خراب ہوگئی تھی جب 26 دسمبر کو علی الصبح حق دو تحریک کے ایکسپریس وے پر قائم دھرنا کیمپ کے خلاف کریک ڈاﺅن اور تحریک کے رہنماﺅں کی گرفتاری کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے باعث نہ صرف گوادر شہر بلکہ ضلع کے دیگر علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی تھیں۔
گوادر شہر اور ضلع کے دیگر علاقوں میں صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہت بڑی تعداد تعینات کی گئی۔
موبائل فون سروس سمیت انٹرنیٹ سروس کو مکمل طور پر بند کیا گیا تھا جس کی وجہ سے نہ صرف گوادر کے لوگوں بلکہ باہر سے ان کے رشتے داروں کو رابطوں میں شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اگرچہ جمعہ کے بعد موبائل فون سروس بحال کر دی گئی لیکن انٹرنیٹ سروس بدستور بند ہے۔
گوادر پریس کلب کے صدر نور محسن بلوچ نے بتایا کہ جمعے کے بعد مارکیٹس وغیرہ کھل گئی تھیں جس کے بعد معمولات زندگی بحال ہیں،
تاہم ان کا کہنا تھا کہ معمولات زندگی بحال ہونے کے باوجود انٹرنیٹ سروس بدستور بند ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف عام لوگوں بلکہ ان لوگوں کو گوادر میں اپنے رشتے داروں کے ساتھ رابطے میں پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے جو خلیجی اور دیگر بیرونی ممالک میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ رابطوں کا سستا ترین ذریعہ ہے جبکہ فون پر کم آمدنی والے طبقات زیادہ اخراجات کے باعث رابطے نہیں کر سکتے۔
نور محسن نے کہا کہ سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا میڈیا کے نمائندوں کو کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ انٹرنیٹ سروس کی بندش کے باعث وہ اپنے اداروں کو گوادر کی حقیقی صورتحال سے متعلق خبریں بھیج نہیں پا رہے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر حکام یہ کہتے ہیں کہ گوادر میں اب کوئی مسئلہ نہیں ہے تو پھر انٹرنیٹ سروس کو بند رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
نور محسن کا کہنا تھا کہ گوادر میں کتنے لوگ گرفتار ہیں اور حق دو تحریک کے گرفتار رہنما کہاں ہیں ان کے بارے میں نہیں بتایا جا رہا ہے۔
موبائل فون پر رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر گوادر عزت نذیر بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ گوادر میں صورتحال معمول پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ رات کو انٹرنیٹ سروس بحال ہو جائے گی جس کے لیے متعلقہ ادارے کو خط بھیج دیا گیا ہے۔
گرفتار افراد کی تعداد سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے علم میں نہیں ہے کیونکہ اس معاملے کو ایس ایس پی گوادر ڈیل کر رہے ہیں اور ضمانتی مچلکے جمع کرنے پر لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر چھوڑا بھی جا رہا ہے۔
حق دو تحریک کے رہنما حسین واڈیلہ اور یعقوب جوسکی سمیت 13 افراد کو گوادر سے کہیں اور منتقل کرنے کی اطلاعات ہیں۔
بعض اطلاعات کے مطابق ان کو تربت منتقلی کے بعد آج مختصر وقت کے لیے پنجگور پولیس سٹیشن منتقل کیا گیا اور وہاں سے اُنھیں کوئٹہ کے لیے روانہ کر دیا گیا۔
پنجگور پولیس سٹیشن کی لینڈ لائن پر متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کال وصول نہ کرنے کی وجہ سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی جبکہ حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کا فون بند ہونے کی وجہ سے ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔