پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارٹی کی سینیئر
قیادت کا اجلاس آج زمان پارک میں طلب کرلیا ہے۔ اجلاس میں حکومت مخالف جاری تحریک
کا جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں قومی اسمبلی سے استعفوں کی حکمت عملی پر غور کیا
جائے گا۔ اس کے علاوہ اجلاس میں وزیراعلی پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے
معاملات زیر بحث آئیں گے۔
اطلاعات ہیں کہ اس دوران دو جنوری کو ہونے والے پی ٹی آئی
اور مسلم لیگ ق کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس پر مشاورت ہوگی۔
186 اراکین کا کورم پورا کرنے کے لیے پی ٹی
آئی قیادت اہم رہنماؤں کی ڈیوٹیاں بھی تفویض کریں گے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک میں جاری معاشی، توانائی، مہنگائی کے بحران سمیت دیگر معاملات پر عمران خان گائیڈ لائن دیں گے۔
اجلاس میں شاہ محمود قریشی، اسد عمر،فواد چوہدری، فرخ حبیب سمیت پارٹی کے سینئر
رہنما شریک ہوں گے۔
’الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے‘
اس سے پہلے بدھ کو تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے لاہور
میں سینیئر صحافیوں سے ملاقات میں کہا تھا کہ ٹیکنوکریٹ حکومت لانے کا شوشہ چھوڑا
جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا ’حکومت سے زیادہ پیچھے بیٹھے لوگوں کا الیکشن
کےلیے راضی ہونا ضروری ہے ۔ اس وقت اسٹبلیمنٹ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے، اگر
آئندہ عام انتخابات میں کوئی پولیٹیکل انجینئرنگ کی گئی تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔‘
عمران خان نے کہا ’مشرقی پاکستان میں سب سے بڑی جماعت کا مینڈیٹ
تسلیم نہیں کیا گیا تھا‘۔
انھوں نے کہا کہ ’ابھی
مجھے الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جنرل باجوہ نے اس ملک پر بڑا ظلم
کیا اور ہم ڈیفالٹ کے قریب کھڑے ہیں۔ جنرل باجوہ سے ہماری حکومت کے اچھے ورکنگ ریلیشن
رہے۔ جنرل باجوہ کے نزدیک سیاست دانوں کی کرپشن بے معنی تھی۔ ‘
انھوں نے کہا ’نیب قوانین میں ترمیم کر کے 11سو ارب روپے کی
کرپشن کے کیسز ختم کر دیے گئے۔ مسلم لیگ
ن اور پیپلزپارٹی کے مفادات بیرون ملک ہیں جب دونوں خاندانوں کے مفادات پاکستان سے
نہیں تو ان سے میثاق معشیت کیسے کریں۔‘