پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج، عدم اعتماد پر ووٹنگ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ نہیں

پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر دو بجے منعقد ہو گا تاہم گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کی ہدایت کے برعکس پرویز الہٰی کے اعتماد کا ووٹ لینے کا عمل آج کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔

لائیو کوریج

  1. ’اسلام آباد کی سکیورٹی کے پیش نظر مختلف مقامات پر چیکنگ جاری‘

    ترجمان اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ ’اسلام آباد کی سکیورٹی کے پیش نظر مختلف مقامات پر چیکنگ جاری ہے۔ چیکنگ کی وجہ سے عوام کو دفاتر اور کاروباری مقامات تک پہنچنے میں تاخیر کا سامنا کر پڑ سکتا ہے۔‘

    ’دفاتر، کاروبار پر جانے کے لیے 15 سے 20 منٹ پہلے نکلیں۔ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے چیکنگ کی جارہی ہے، تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہیں۔

    ’شہریوں سے گزارش ہے کہ دوران چیکنگ پولیس سے تعاون کریں۔ کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع پکار 15 پر دیں۔‘

  2. حکومت نے تحریک انصاف کو طویل المدت عبوری حکومت کی پیشکش کی ہے: اسد قیصر

    رہنما تحریک انصاف اسد قیصر نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کو طویل المدتی عبوری حکومت کی پیشکش کی ہے لیکن ان کی جماعت ایسی کسی ماورائے آئین پیشکش کو قبول نہیں کرے گی۔

    رہنما تحریک انصاف اسد قیصر نے جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی سیاسی بنیادوں پر تحریک انصاف کے ارکان کے استعفے قبول نہیں کر رہے۔

    اسد قیصر نے کہا کہ جس طرح ان کی حکومت چل رہی ہے یہ ملک کے ساتھ زیادتی ہے، طویل المدتی عبوری حکومت کی قانون میں گنجائش ہی نہیں، حکومت کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات میں شامل ہوں، طویل المدت عبوری حکومت سے متعلق مجھ سے حکومتی ارکان نے غیر رسمی بات کی ہے۔

    پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے کہا کہ لانگ ٹرم عبوری حکومت کی تجویز غیر رسمی گفتگو میں کی گئی تھی لیکن باضابطہ طور پر ایسی کوئی پیشکش نہیں کی گئی۔

  3. بریکنگ, تحریک انصاف کا کل سے مہنگائی کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان, تین ہفتے کے احتجاج کے بعد عمران خان اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، فواد چوہدری

    pti

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف نے ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے اور اس ضمن میں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگلے تین ہفتوں تک احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے اور اس کے بعد عمران خان اگلا لائحہ عمل بتائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ دو جنوری کو اس مقام پر احتجاج کیا جائے گا جہاں پر سینیٹر اعظم سواتی کو قید کرکے رکھا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہونی چاہیے اور اعظم سواتی کو بھی ضمانت کا حق ملنا چاہیے۔

    فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف ایک ٹویٹ کرنے پر ملک کے مختلف شہروں میں 45 کے قریب مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی سے اجتماعی طور پر استعفے دیے تھے اور ان کے استعفے اجتماعی طور پر ہی قبول کیے جائیں۔

    انھوں نے سپیکر قومی اسمبلی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ وقت دے کر ملاقات نہیں کرتے۔

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت استعفے منظور نہ ہونے کے معاملے کو سپریم کورٹ میں لے کر جائے گی۔

  4. ایک ہی دن میں تمام استعفے منظور نہ کروانا صرف تاخیری حربہ ہے تاکہ الیکشن جلدی نہ ہو سکیں: عامر ڈوگر

    تحریک انصاف کے استعفوں کی منظوری سے متعلق بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی ایم این اے عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے استعفے ایک ساتھ منظور کیے جائیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ استعفے تو پہلے ہی قاسم سوری منظور کر چکے ہیں لیکن ان کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا۔ آج بھی جب ہم سپیکر قومی اسمبلی سے ملنے گئے تو ان سے یہ کہا کہ آپ ایک ہی دن میں تمام استعفے منظور کر لیں جس طرح آپ نے ہمارے گیارہ استفعے منظور کیے تھے۔

    ’اگر آپ نے پہلے ایک ساتھ استعفے منظور نہ کیے ہوتے ہوتے تو ہم آپ کی بات مان لیتے کہ ایک ساتھ آپ عمل نہیں کر سکتے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سپیکر راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ وہ الگ الگ ہمیں بلائیں گے اور وہ اپنا وقت لیں گے۔ ایک ساتھ استعفوں کی منظوری کی شرط کے بارے میں بات کرتے ہوئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم ایسا اس لیے چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اگر سپیکر آج مجھے بلاتے ہیں تو اگلے ہفتے دوسرے ایم این کو بلائیں اور پھر 15 دن بعد تیسرے ایم این اے کو بلائیں۔ ایسے کرتے کرتے انھوں نے چھ مہینے لگا دینے ہیں۔ یہ صرف تاخیری حربہ ہے تاکہ الیکشن جلدی نہ ہو سکیں۔

    ’اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ایک ہی دن میں ایک ہی ہال میں ہمیں بیٹھا لیا جائے اور باری باری ہمیں بلا کر ہماری استعفے منظور کر لیے جائیں۔‘

  5. گوادر میں شرپسند عناصر خواتین کو ڈھال بنا کر استعمال کررہے ہیں: بلوچستان کے وزیرداخلہ میرضیا اللہ

    بلوچستان کے شہر گوادر میں حق دو تحریک کے احتجاج کے حوالے سے صوبائی وزیرداخلہ میرضیا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے باربار مزاکرت کیے۔

    صوبائی حکومت نے وزیراعلی بلوچستان کی قیادت میں حق دوتحریک کے تمام مطالبات تسلیم کیے ہیں،لیکن پھر بھی گذشتہ روز حق دو تحریک کے مشتعل افراد نے سرکاری املاک کا نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

    انھوں نے کہا جب مشتعل افراد کی جانب سے شرپسندی کی جائے گی تو قانون بھی حرکت میں آئے گا۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ گوادر میں شرپسند عناصر خواتین کو ڈھال بنا کر استعمال کررہے ہیں۔

    انھوں نے کہا ’حکومت جب سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے شرپسندوں کو گرفتار کرنے جاتی ہے تو وہ خواتین کو گھروں سے نکال دیتے ہیں، گوادر کی خواتین پر باشعور ہے اور انھیں حالات کی سنجیدگی کا ادارک ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’گوادر میں خواتین پر تشدد،لاٹھی چارج اورانکی گرفتاریوں سے متعلق بیانات جھوٹ پر مبنی ہیں۔ اپنی سیاسی ساکھ اور جھوٹی شہرت حاصل کرنے کے لیے گوادر میں مشتعل افراد شرپسندی اتر آئے ہیں۔ ‘

    ان کا کہنا تھا کہ گوادر کی آنے والی نسلوں کامستقبل شہر میں جاری سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں سے وابستہ ہے، گوادر دمیں جاری احتجاج کے دوران حکومت گذشتہ چار روز سے صبروتحمل کا مظاہرہ کررہی ہے۔‘

  6. قومی اسمبلی سے استعفوں اور وزیراعلیٰ پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا معاملہ، پی ٹی آئی قیادت کا اجلاس طلب

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارٹی کی سینیئر قیادت کا اجلاس آج زمان پارک میں طلب کرلیا ہے۔ اجلاس میں حکومت مخالف جاری تحریک کا جائزہ لیا جائے گا۔

    اجلاس میں قومی اسمبلی سے استعفوں کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اجلاس میں وزیراعلی پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے معاملات زیر بحث آئیں گے۔

    اطلاعات ہیں کہ اس دوران دو جنوری کو ہونے والے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس پر مشاورت ہوگی۔

    186 اراکین کا کورم پورا کرنے کے لیے پی ٹی آئی قیادت اہم رہنماؤں کی ڈیوٹیاں بھی تفویض کریں گے۔

    پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک میں جاری معاشی، توانائی، مہنگائی کے بحران سمیت دیگر معاملات پر عمران خان گائیڈ لائن دیں گے۔

    اجلاس میں شاہ محمود قریشی، اسد عمر،فواد چوہدری، فرخ حبیب سمیت پارٹی کے سینئر رہنما شریک ہوں گے۔

    ’الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے‘

    اس سے پہلے بدھ کو تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے لاہور میں سینیئر صحافیوں سے ملاقات میں کہا تھا کہ ٹیکنوکریٹ حکومت لانے کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا ’حکومت سے زیادہ پیچھے بیٹھے لوگوں کا الیکشن کےلیے راضی ہونا ضروری ہے ۔ اس وقت اسٹبلیمنٹ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے، اگر آئندہ عام انتخابات میں کوئی پولیٹیکل انجینئرنگ کی گئی تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔‘

    عمران خان نے کہا ’مشرقی پاکستان میں سب سے بڑی جماعت کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا گیا تھا‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’ابھی مجھے الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جنرل باجوہ نے اس ملک پر بڑا ظلم کیا اور ہم ڈیفالٹ کے قریب کھڑے ہیں۔ جنرل باجوہ سے ہماری حکومت کے اچھے ورکنگ ریلیشن رہے۔ جنرل باجوہ کے نزدیک سیاست دانوں کی کرپشن بے معنی تھی۔ ‘

    انھوں نے کہا ’نیب قوانین میں ترمیم کر کے 11سو ارب روپے کی کرپشن کے کیسز ختم کر دیے گئے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے مفادات بیرون ملک ہیں جب دونوں خاندانوں کے مفادات پاکستان سے نہیں تو ان سے میثاق معشیت کیسے کریں۔‘

  7. لمبی مدت کی نگراں حکومت لانا بدترین غلطی ہو گی: فواد چوہدری

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے خبر دار کیا ہے کہ لمبی مدت کی نگراں حکومت لانا بدترین غلطی ہو گی۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’جو حکومت بلدیاتی الیکشن نہیں کرا سکتی وہ عام انتخابات کہاں کروائے گی؟

    ’لیکن ملک کے حالات کے پیش نظر انتخابات کروانے پڑیں گے۔ ہم واضح ہیں کہ لمبی مدت کی نگراں حکومت لانا بدترین غلطی ہو گی۔ انتخابات مسئلہ کا واحد حل ہیں۔‘

    ’ٹیکنوکریٹک حکومت کی صورت میں فیصلوں کا ملبہ اسٹیبلشمنٹ پر گرے گا‘

    اسی طرح پی ٹی آئی کے ترجمان حسان خاور نے کہا کہ ’ٹیکنوکریٹک حکومت ایک سنگین غلطی ہو گی۔

    ’معیشت کی بحالی کے لیے سخت فیصلوں کی ضرورت ہے جن کی سیاسی قیمت صرف عوام کا اعتماد رکھنے والی ایک آئینی اور منتخب حکومت ہی برداشت کر سکتی ہے۔

    ’ٹیکنوکریٹک حکومت کی صورت میں ان فیصلوں کا ملبہ اسٹیبلشمنٹ پر گرے گا۔‘

  8. پی ٹی آئی استعفوں کی اجتماعی منظوری پر مصر: ارکان فرداً فرداً مل کر استعفیٰ دیں تو قبول کر لوں گا، راجہ پرویز اشرف

    پرویز اشرف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف کا پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد کہنا تھا کہ جو ارکان استعفے دینا چاہتے ہیں وہ اپنی لکھائی میں استعفی دیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اصول کے مطابق استعفے سپیکر کے پاس آئیں تو سپیکر تنہائی میں ارکان کو اعتماد میں لے کر بات کرے گا کہ یہ استعفے آپ نے کسی دباؤ مییں تو نہیں دیے۔ اگر سپیکر کو محسوس ہو یا اسے یہ اطلاع ہو کہ یہ بحالت مجبوری آئے ہیں تو سپیکر کو اختیار ہے کہ استعفیٰ مسترد کر دے۔ اگر مرضی سے آئے ہیں تو استعفیٰ منظور کیا جانا چاہیے۔‘

    راجہ پرویز اشرف کے بقول ’آج انھوں (پی ٹی آئی رہنماؤں) نے بتایا کہ 127 لوگوں نے استعفے دیے تو کہا کہ سب کے استعفے ایک ساتھ قبول کریں۔ ‘

    ’میں نے انھیں بتایا کہ کچھ ارکان نے عدالت میں گئے اور کہا ہم سے جب لکھوایا تو کہا گیا کہ یہ حکومت پر دباؤ کے لیے ہیں ورنہ ہم نے استعفی نہیں دیا۔ انھوں نے مجھ سے بھی آ کر کہا کہ میں نے استعفی نہیں دیا اس لیے قبول نہ کیا جائے۔ کچھ نے چھٹی کی درخواست دے دی، کچھ چھٹی پر چلے گئے اس صورتحال میں سپیکر کو فیصلہ قوائد و ضوابط کے تحت کرنا ہے۔ یہی بات میں نے ان لوگوں سے کہی۔‘

    میں نے ان سے کہا ’میں بطور سپیکر آئین و قوائد کو دیکھتا ہوں۔ پارٹی کی کوئی سیاسی پوزیشن ہے تو اس میں ذاتی طور پر چاہوں گا کہ ایوان میں آئیں یہاں آپ کی آواز زیادہ موثر ہو گی۔ آپ کے بقول ملک کو چیلنجز درپیش ہیں تو ایسے میں ضرورت مفاہمت کی ہے۔ ‘ راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ ’آپ سینئیر لوگ ہیں آپ کی ایک جماعت ہے پارلیمان میں آئیں میں بطور سپیکر آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ آپ کو بات کرنے کا پورا موقع دوں گا۔‘

    ‘پارلیمان ایک ایسا فورم ہے جہاں سب اکھٹے ہوتے ہیں۔ سیاسی مخالفین بھی ایک جگہ ہوتے ہیں سپیکر کی نظر میں سب ممبران بربر ہے۔ سپیکر کے لیے استعفیٰ منظور کرنا عام بات نہیں۔ سات آٹھ لاکھ لوگوں کے مینڈیٹ کی بات ہے، ان لوگوں کی نمائندگی کون کرے گا؟‘

    راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا قانونی اور آئینی معاملات کی وجہ سے استعفے منظور نہیں کیے۔ جن کے منظور ہوئے انھوں نے بیان دیے، یا تو میڈیا میں بات کی، یا ہاتھ سے لکھ کر دیے یا ٹویٹ کر دی، ان کے بارے میں لگا کہ یہ پر یقین ہیں استعفے کے معاملے میں، یہ پک اینڈ چُوز نہیں۔ میری کوئی پسند نا پسند نہیں ہے۔ ‘

    انھوں نے کہا ’ہر جماعت سے کہوں گا اس وقت ملک کو مفاہمت کی ضرورت ہے۔ حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ یہاں نہ کسی کی ذاتی انا ہونی چاہیے نہ کسی کی ضد ہونی چاہیے۔‘

    دوسری طرف ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ ہے کہ تمام استعفے اجتماعی طور پر ہی قبول کیے جائیں۔

  9. استعفوں کے معاملے پر پی ٹی آئی رہنماؤں کی سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے ملاقات

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے سابق سپیکر اسد قیصرکی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں موجودہ سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی۔

    سپیکر نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے وفد کا پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر خیر مقدم کیا۔

    پی ٹی آئی کے وفد میں اسد قیصر ، قاسم خان سوری ، ملک عامر ڈوگر، امجد خان نیازی ، فہیم خان ، ڈاکٹر شبیر حسن، عطاء اللہ ،طاہر اقبال شامل ہیں،

    ملاقات میں پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی سے استعفوں کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پی ٹی آئی کے نمائندہ وفد کی سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے ملاقات جاری ہے۔

  10. موجودہ حکومت نے واپس آنے والے طالبان پر توجہ نہیں دی جو دہشت گردی کی وجہ ہے: عمران خان

    Imran khan

    ،تصویر کا ذریعہIMRAN KHAN/FACEBOOK

    عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی تازہ لہر کی وجہ افغانستان سے لوٹنے والے پاکستانی طالبان کے معاملے میں موجودہ حکومت کا صرف نظر ہے۔

    ترکی کے اسکالرز اور طلبا سے آن لائن گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کا کہا ہے کہ پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) اور افغانی طالبان میں فرق ہے۔ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں افغان طالبان کا ساتھ پاکستانی پشتونوں نے دیا اس وقت ان سے کہا گیا کہ یہ جہاں ہے کیونکہ یہ بیرونی حملہ آوروں کے خلاف ہے لیکن نائن الیون کے بعد امریکہ کے معاملے میں انھیں منع کیا کہ یہ دہشت گردی ہو گی۔ اس لیے وہ پاکستان کے خلاف ہو گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں نے مخالفت کی تھی اس معاملے میں پاکستانی حکومت کو نیوٹرل رہنا چاہیے تھا۔

    عمران خان نے کہا ’حتی کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی لوگ پاکستان کے خلاف ہو گئے ۔ جو ٹی ٹی پی کہلاتے ہیں۔ ‘

    افغانستان طالبان کا پاکستانی طالبان سے کنکشن نہیں ہے۔ کابل پر قبضے کے بعد افغان طالبان نے پاکستان طالبان سے کہا کہ واپس پاکستان چلے جائیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’وہ بہترین وقت تھا ان سے مذاکرات کرنے کا تاکہ انھیں دوبارہ آباد کیا جا سکتا۔ میری حکومت ان سے رابطے میں تھی۔ 40 ہزار افراد واپس آ رہے تھے جن میں سے 10 ہزار جنگجو تھے اور ان کے خاندان بھی تھے۔ لیکن مجھ سے اختیار لے لیا گیا۔ اور نئی حکومت نے واپس آنے والے طالبان پر توجہ نہیں کی اس لیے اب پاکستان میں دشہت گردی کی تازہ لہر موجود ہے۔‘

    انھوں نے زور دیا کے اس پر قابو پانا ہوگا ’اس سے پہلے کے بات ہاتھ سے نکل جائے۔‘

  11. ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ سے متعلق نہ اسٹیبلشمنٹ اور نہ تحریک انصاف سے رابطہ کیا: رانا ثنا اللہ

    پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ کے حوالے سے نہ اسٹیبلشمنٹ نے ہم سے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی تحریک انصاف سے کوئی بات ہوئی ہے۔

    نجی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا یہ بیانیہ بنانے کا مقصد صرف ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنما ’عمران خان روز نئی کہانی گھڑتے ہیں۔‘

    انھوں نے واضح کیا کہ ڈھائی سال کے لیے ٹیکنوکریٹ حکومت لانے سے متعلق حکومت کا کوئی پیغام نہیں دیا گیا۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’ادارے (فوج) نے پوری قوم کے ساتھ کمٹمنٹ کی ہے کہ وہ غیر سیاسی رہیں گے، اب جو ہوگا وہ آئین کے مطابق ہوگا۔‘

  12. ایف ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے لیے سکیورٹی اخراجات کی مد میں اضافی حصّے کا مطالبہ

    بلوچستان کابینہ نے وفاقی حکومت سے بلوچستان کو این ایف سی ایوارڈ سے سکیورٹی اخراجات کی مد میں ایک فیصد حصہ دینے کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    کابینہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا نصف رقبہ پر محیط صوبہ ہے جس کے طویل بارڈر دو ممالک سے ملتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان غیر ملکی مداخلت کی وجہ سے دہشت گردی کا شکار ہے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان ملک بھر کی سیکیورٹی میں فرنٹ لائن صوبے کی ذمہ داری ادا کر رہاہے اور سکیورٹی کی مد 40 سے 50 ارب خرچ کرتا ہے جبکہ انٹرنل سکیورٹی الاؤنس کی مد میں بھی خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ ہمارے پاس ترقیاتی مد میں صرف 60 سے 70 ارب روپے دستیاب ہوتے ہیں اور اتنے کم بجٹ میں تو کوئٹہ کی ترقی بھی ممکن نہیں تو ملک کے نصف رقبے پر محیط صوبے کے دوردراز اور پسماندہ اضلاع کی ترقی کیسے ممکن ہو گی۔

    اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ جس طرح خیبرپختونخوا کو این ایف سی سے سکیورٹی کی مد میں شیئر ملتا ہے وہ بلوچستان کو بھی ملنا چاہیے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’وزیراعظم کے سامنے یہ مسئلہ رکھا جائے گا اور ہم اپنا کیس مشترکہ مفادات کونسل میں بھی پیش کریں گے امید ہے کہ وزیراعظم اور برادر صوبے ہمارے موقف کو تسلیم کریں گے۔‘

  13. اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ملتوی: ’یونین کونسلز کی تعداد کا تعین وفاقی حکومت کا اختیار ہے‘

    الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ ’یونین کونسلز کی تعداد کا تعین وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔‘

    اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن یونین کونسلز کی تعداد کے مطابق حلقہ بندی کا پابند ہے اور بلدیاتی قانون میں پارلیمان نے ترامیم کر کے صدر کو بھجوا دی ہیں۔ ’ترامیم کے مطابق میئر کا انتخاب براہ راست اور الیکشن کے دن ہی ہوگا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات واضح ہیں کہ اس صورتحال میں انتخابی شیڈیول جاری نہیں ہوسکتا تھا۔

    اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’الیکشن کمیشن اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات ملتوی کر رہا ہے۔‘

  14. مشکل صورتحال ضرور ہے مگر پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا کوئی امکان نہیں: اسحاق ڈار

    اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ معاشی اعتبار سے مشکل صورتحال ضرور ہے مگر ’پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔‘

    سٹاک ایکسچینج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ’ہم روز سنتے ہیں پاکستان ڈیفالٹ ہو جائے گا؟ کیسے ہو جائے گا؟ آپ لوگ سرمایہ کاری کریں، نام نہاد انٹلیکچوئلز کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ اپنی سیاست کے لیے ملک کا نقصان کر رہے ہیں تاہم ’ہم کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنا رہے۔ معیشت بہتر کر رہے ہیں۔‘

    اسحاق ڈار نے مطالبہ کیا کہ ’سیاسی مقاصد کے لیے ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی باتیں نہ پھیلائی جائیں۔‘

    ’ہم ہوں نہ ہوں، پاکستان آگے جائے گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہماری اپنی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان پیچھے چلا جاتا ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ حکومت ڈالر، کھاد اور گندم کی سمگلنگ روکنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے تین مسائل کا حوالہ دیا کہ پاکستان سے ڈالر ہمسایہ ملک سمگل ہو رہے ہیں، گندم درآمد کی جا رہی ہے جبکہ کھاد پر سبسڈی کے باوجود اس کے دام زیادہ ہیں اور اسے پاکستان سے سمگل کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا ’ہماری کوشش ہوگی پاکستان دوسری مرتبہ آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کرے۔‘

  15. پنجاب اسمبلی کے متعدد اراکین صوبائی حکومت سے خوش نہیں ہیں: گورنر پنجاب کا انٹرویو

    پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے گورنر بلیغ الرحمٰن نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ انھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا جس کی کئی وجوہات بتائیں اور ان کے اپنے کئی اراکین ان سے خوش نہیں ہیں۔

    بلیغ الرحمٰن نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا تھا تو اس میں کئی وجوہات لکھی تھیں اور ان کے اپنے کئی اراکین اس حکومت سے خوش نہیں ہیں اور مجھ سے تمام جماعتوں کے اراکین ملتے ہیں لیکن جوڑ توڑ میں ملوث نہیں ہوں۔

    گورنر پنجاب نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پاس اسمبلی توڑنے کا آئینی حق ہے اور وہ اس کا استعمال کر سکتے ہیں لیکن جمہوریت پسند کی حیثیت سے اسمبلی توڑنا کبھی پسند نہیں کیا لیکن اگر وہ اسمبلی توڑنا چاہتے ہیں تو اعتماد کا ووٹ لیں اور اس کے بعد توڑنا چاہیں تو ایسا کرسکتے ہیں۔

    گورنر راج فائدہ مند نہیں، مگر یہ بھی آئین کی ایک شق ہے

    پنجاب میں گورنر راج لگانے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج ایک فائدہ مند چیز نہیں ہے اور ہماری ہر ممکن کوشش ہوگی کہ اس نہج تک نہ پہنچا جائے لیکن گورنر راج بھی آئین کی ایک شق ہے اور بہت سوچ سمجھ کر رکھا گیا ہے اور امید ہے اس کی نوبت نہیں آئے گی لیکن آئین میں اس کی گنجائش ہے جو سب سے آخری فیصلہ ہے۔’

  16. تحریک انصاف کے ارکان اور ان کے اتحادی استعفے نہیں دینا چاہتے ہیں: وزیر دفاع خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ تحریک انصاف کے لوگ خود استعفے نہیں دینا چاہتے ہیں۔ ان کے اتحادی استعفوں کے حق میں نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہاستعفے دینے سے متعلق گوں مگوں کی کیفیت تحریک انصاف کی طرف سے ہے۔

    وزیردفاع نے کہا کہ جس طرح جاوید ہاشمی نے ماضی میں پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر استعفیٰ دیا تھا یہ طریقہ ہوتا ہے استعفیٰ دینے کا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ ’انھوں (تحریک انصاف) نے اپی اننگز کھیل لی ہے مگر اب یہ پویلین واپس نہیں جانا چاہتے ہیں۔‘

    ان کے مطابق انھوں امپائر کو بھی ساتھ ملایا، بال ٹمپرنگ کی کوشش کی اور کبھی پچ پر لیٹ گئے مگر اب یہ نہیں ہو گا۔

    ان کے مطابق آئی ایس آئی ہمارا بڑا تکریم والا ادارہ ہے، جس نے پوری دنیا میں لوہا منوایا ہوا ہے۔ وزیردفاع نے کہا کہ ’اب یہ چاہتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے ذریعے حکومت میں آئیں۔ آئی ایس آئی تو خود حکومت کا حصہ ہے، ان کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کے خلاف مقدمات میرٹ پر قائم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کو خوف ہی اس وجہ سےہے کہ کیونکہ انھیں پتا ہے کہ انھوں نے جرائم کیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایسا نہ کیا ہو تو پھر ایسے کھڑے ہوتے ہیں جیسے نواز شریف کھڑے ہوئے تھے اور جیسے رانا ثنااللہ کھڑے ہو گئے تھے۔

    عمران خان ہر قسم کے امپائرز کے ساتھ مل کر کھیلنے کی خواہش رہتی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں عمران خان اسلام آباد اور راولپنڈی کے امپائرز کے ساتھ مل کر کھیلتے رہے مگر اب ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو گی۔

    وزیردفاع نے کہا کہ عمران خان الیکشن کمیشن کے فارن فنڈنگ والے کیس میں عمران خان کی نااہلی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق توشہ خانہ والے کیس میں بھی عمران خان نااہل ہو سکتے ہیں۔ خواجہ آصف کے مطابق اور بھی ایسے کیسز ہیں جن کی وجہ سے انھیں نااہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ان کے مطابق وہ سیاسی عمل پر یقین رکھتے ہیں مگر کوئی جرم کیا ہو تو پھر قانون کے مطابق ہوگا۔ سیاست کا لبادہ پھر نہیں اوڑھ سکتے۔

    جو ہمارے ساتھ ہوا، ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اعظم سواتی کو ایک غیرسیاسی معاملے میں مقدمات اور گرفتاری کا سامنا ہے۔ وزیردفاع نے کہا کہ انھوں نے اپنے دور حکومت میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کو جیل کی راہ نہیں دکھائی ہے۔

    ہم سیاست کو نقصان پہنچا دیں گے مگر پاکستان کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔

  17. پارلیمنٹ میں آنے کو تیار ہیں، حکومت سنجیدگی دکھائے اور انتخابات کی تاریخ دے: شاہ محمود قریشی

    SMQ

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آنے کو تیار ہیں اور یہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ اگر اصلاحات درکار ہیں تو ہم تعاون کے لیے تیار ہیں۔

    مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ اس کام کے لیے سنجیدگی درکار ہے، حکومت والے انتخابات کی تاریخ دے دیں تا کہ بات آگے بڑھے مگر اس وقت انتخابات کی تاریخ نہیں دی جا رہی ہے۔

    ان کے مطابق اسٹیبلشمنٹ سے اس وقت ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہے، وہ سیاست نہیں کرنا چاہتے تو ہم کیوں ان سے رابطہ کریں۔ بلاول بھٹو کے تحریک انصاف کے ارکان کی اسمبلی واپسی سے متعلق بیان پر ان کا کہنا تھا کہ دعوت وزیراعظم دیں گے یہ ان کا استحقاق ہے، بلاول تو خود شہباز شریف کی کابینہ کے ایک وزیر ہیں۔

  18. بریکنگ, اسلام آباد میں دہشتگردی کے حملے میں ملوث ملزمان اور ’ہینڈلرز‘ گرفتار کر لیے ہیں: وزیرداخلہ رانا ثنااللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں دہشتگرد حملے کے ملزمان گرفتار کر لیے ہیں اور ہینڈلرز کو بھی پکڑ لیا گیا ہے۔

    ان کے مطابق ’ٹیکسی ڈرائیور بے گناہ تھا اس کا کوئی قصور نہیں تھا۔ ان کے مطابق دہشتگرد کرم ایجنسی سے چلے اور راولپنڈی میں ٹھہرے۔ وزیر داخلہ کے مطابق ’ہم نے چار پانچ لوگوں کو راؤنڈ آپ کیا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے 23 دسمبر کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک پولیس چیک پوائنٹ پر خودکش دھماکے میں ایک پولیس اہلکار اور حملہ آور سمیت تین افراد ہلاک جبکہ چھ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

    اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کے مطابق یہ واقعہ سیکٹر آئی ٹین فور میں اس وقت پیش آیا جب ایگل سکواڈ نے چیک پوائنٹ پر ایک مشکوک ٹیکسی کو تلاشی کے لیے روکا۔

    اس سے قبل وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ گاڑی میں خاتون بھی سوار تھی تاہم اسلام آباد پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم اور دیگر تحقیقات سے گاڑی میں خاتون کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے۔

    پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ’ممکنہ طور پر ڈرائیور یا حملہ آور نے خود کو چادر سے لپیٹا ہوا تھا جس سے خاتون کی موجودگی کا گمان ہوا ہو۔‘

  19. بریکنگ, الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں 31 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کر دیے, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    ecp

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    الیکشن کیمشن نے رواں ماہ 31 دسمبر کو وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول ملتوی کر دیا ہے اور اب اس کے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی یونین کونسلز کی تعداد 101 سے بڑھا کر 125 کر دی تھی جس کے بعد نئی یونین کونسلز کی حد بندی سے متعلق کام ہونا باقی تھا۔

    الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں قانونی نکات اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے 23 دسمبر کے فیصلے کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام آباد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول وقتی طور پر ملتوی کیا جاتا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ فریقین کو سن کر اس بارے میں فیصلہ کرے کیونکہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موقف اپنایا تھا کہ الیکشن کمیشن کو حکومت کی طرف سے نئی حلقہ بندیوں کے بارے میں بتایا گیا اور ان سے ان انتخابات کو ملتوی کرنے کی استدعا کی تو الیکشن کمیشن نے حکومت کی یہ استدعا مسترد کردی تھی اور کہا تھا کے الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے اس کی سماعت کی تھی۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر جدون اور سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف جبکہ سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے درخواست گزار علی نواز اعوان کے وکیل بابر اعوان اور جماعتِ اسلامی کی جانب سے میاں اسلم الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔

  20. سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد میں عارضی حفاظتی چیک پوسٹیں قائم

    اسلام آباد، چیک پوسٹیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترجمان اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر 25 مختلف مقامات پر عارضی حفاظتی چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ریڈ زون کے داخلی راستوں کی سیف سٹی کیمروں سے ریکارڈنگ کی جائے گی۔ میٹرو سروس کے مسافروں کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی۔‘

    ’شہریوں سے گزارش ہے کہ اپنی شناختی دستاویزات ساتھ رکھیں۔ گاڑیوں پر ایکسائز دفتر سے جاری شدہ نمبر پلیٹ استعمال کریں۔ غیر نمونہ نمبر پلیٹ اور غیر رجسٹرڈ شدہ گاڑیوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘

    اسلام آباد پولیس کے مطابق ’غیر ملکی شہری اپنی شناختی دستاویزات ساتھ رکھیں کرایہ داروں اور ملازمین کا اندراج قریبی پولیس سٹیشن یا خدمت مراکز پر کروائیں۔ جن افراد نے غیر رجسٹرڈ مقامی یا غیر ملکی ملازم رکھے ہوئے ہیں ان کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا۔‘

    ’کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع پکار 15 پر دیں۔‘