پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج، عدم اعتماد پر ووٹنگ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ نہیں
پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر دو بجے منعقد ہو گا تاہم گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کی ہدایت کے برعکس پرویز الہٰی کے اعتماد کا ووٹ لینے کا عمل آج کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔
لائیو کوریج
عمران خان: ’اسٹیبلشمنٹ حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، خدا کے واسطے کوئی سیاسی انجینیئرنگ نہ کریں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کراچی میں خواتین کنونشن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ہم آج جس جگہ کھڑے ہیں اس میں جنرل باجوہ کا ہاتھ ہے۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو کمزور کرنے کے لیے پولیٹکل انجینیئرنگ کی جا رہی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ’بدقسمتی سے ہماری اسٹیبلشمنٹ نے ماضی سے سبق نہیں سیکھے۔ آج ہم پولیٹیکل انجینیئرنگہوتی دیکھ رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’آج ایم کیو ایم کو اکھٹا کیا جا رہا ہے۔ باپ کو پیپلز پارٹی میں دھکیلا جا رہا ہے۔ جنوبی پنجاب میں ان کے لوگ فون کر کر کے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا کہہ رہے ہیں۔‘
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’یہاں پنجاب میں ن لیگ کی حکومت کو پنجاب میں لانا چاہتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک اور گیم چل رہی ہے تا کہ تحریک انصاف کو کمزور کیا جائے۔ ان کے مطابق اس پولیٹکل انجینیئرنگ کا مقصد سمجھ نہیں آ رہا ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’خدا کے واسطے کوئی پولیٹکل انجینیئرنگ نہ کریں۔‘
عمران خان نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے یہ شکوہ بھی کیا کہ ’ہمارے طاقتور حلقے بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ ہے وقت ایکشن لینے کا، ایکشن کیا ہے، فری اینڈ فری الیکشن، ہم صرف جمہوریت چاہ رہے ہیں اس ملک میں۔‘
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ کانفرنس کی میزبانی کرنے شہباز شریف آج جنیوا روانہ ہوں گے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستانی وزیر اعظم محمد شہباز شریف آج اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے جنیوا جائیں گے۔
وزیر اعظم کے وفد میں وزیر خارنہ بلاول بھٹو، وزیر خزانہ اسحاق ڈار وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان اور وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب شامل ہیں۔
وزیر اعظم نو جنوری 2023 کو اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریز کے ساتھ مل کر پاکستان کی تعمیر نو اور بحالی میں شراکت کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کریں گے۔
وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان کانفرنس میں تعمیر نو اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کا فریم ورک پیش کرے گا اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور طویل المدتی شراکت داری کی اہمیت پر زور دے گا۔
بریکنگ, جنرل باجوہ سمیت متعدد آرمی جنرل پی ٹی آئی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی سازش میں شامل تھے: فواد چوہدری
پاکستان
تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ سمیت فوج
کے متعدد جنرلز پی ٹی آئی کی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی سازش میں ملوث
تھے۔
انھوں نے
یہ بات بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں میزبان سٹیفن سیکر سے بات کرتے ہوئے کہی۔
جب ان سے
سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ پاکستانی فوج کے بھی خلاف ہو گئے ہیں تو انھوں نے کہا کہ
’نہیں ہم کسی کے خلاف نہیں ہوئے۔ ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں، ان کے ساتھ کام کرنا
چاہتے ہیں لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ پاکستان میں غیر منتخب شدہ اداروں فوج اور عدلیہ
نے اپنی طاقت کا غیر آئینی استعمال کیا ہے۔‘
انھوں نے
کہا کہ ’میں آپ سے اتفاق نہیں کرتا کہ فوج نے پی ٹی آئی کی اقتدار میں آنے میں مدد
کی، لیکن ہمیں ایک ایسی سازش کے ذریعے اقتدار سے بے دخل کیا گیا جس میں چند فوجی
جنرل بھی شامل تھے اور اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ نے اہم کردار ادا کیا۔
میزبان سٹیفن
سیکر نے فواد چوہدری کو پاکستان کے آئی ایس آئی چیف جنرل ندیم انجم کی ایک پریس
کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ تحریکِ عدم اعتماد
کے قریب عمران خان نے فوج کو اپنی آئینی کردار کے برخلاف ان کی مدد کرنے کی درخواست
کی تھی۔
اس پر فواد
چوہدری نے کہا کہ یہ ایک تضاد ہے۔ ہم نے صرف ان سے یہ کہا تھا کہ آپ پاکستان کے
ساتھ غلط کر رہے ہیں، ایک مستحکم حکومت کو نکال رہے ہیں۔ جس طرح سے ہماری اتحادی
جماعتوں، جن کے بارے میں سب کو علم ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کی پوزیشنز کو کنٹرول کرتی
ہے انھوں نے جس طرح کا رویہ اختیار کیا اس سے واضح تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور ایسا
نہیں ہونا چاہیے تھا۔
جب ان سے
سوال کیا گیا کہ کیا ملک کے آرمی جنرل جنھوں نے آپ کے خلاف بات کی جھوٹے ہیں؟ تو اس
پر فواد چوہدری نے کہا کہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’گذشتہ آرمی چیف ہماری حکومت کو گھر
بھیجنے میں متحرک تھے اور بدقسمتی سے یہی سچ ہے۔
’گذشتہ
آرمی چیف سچ نہیں بول رہے تھے جب انھوں نے یہ کہا کہ ہم نے ان سے مدد مانگی، ہم نے
ان سے نیوٹرل ہونے کی درخواست کی تھی جو وہ نہیں تھے۔‘
آرمی ایکٹ میں ہم نے ترمیم نہ کی تو فوج خود ایکسٹینشن سے متعلق ترمیم کروائے گی: شاہد خاقان عباسی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی ایکٹ سے متعلق ترمیم کی ضرورت ہے، ہم نے ترمیم نہ کی تو فوج خود ایکسٹینشن سے متعلق قانون میں ترمیم کروائے گی۔
شاہد خاقان عباسی نے ایکسٹینشن سے متعلق قانون سازی کو غلطی قرار دیا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ایکسٹینشن ایک غیر معمولی عمل ہے، اس کو معمول کا عمل نہیں بنانا چاہیے۔
سابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو توسیع دیتے وقت جو قانون میں ترمیم کی گئی وہ غلطی تھی۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فوج کے سربراہ کو ایکسٹینشن دے دی گئی اور فوج کے سربراہ نے قبول کرلی، اس کے بعد فیصلے کو بدلنا فوج یا ملک کے مفاد میں نہیں تھا۔
شاہد خاقان کے مطابق ’عمران خان نے بغیر مشورے کے جنرل باجوہ کو ساڑھے 3 ماہ قبل ایکسٹینشن دے دی تھی، جنرل باجوہ کو اگست کے درمیان توسیع دی گئی جبکہ اگست میں توسیع کی گنجائش نہیں تھی، فیصلہ نومبر میں ہونا چاہیے تھا، عمران خان نے باجوہ کو ایکسٹینشن دینے میں جلد بازی کی۔
دوست ممالک کہتے ہیں آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد ہی ہم مدد کرسکتے ہیں: وزیرداخلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر فیصل آباد میں وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوست ممالک بھی کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کریں جس کے بعد ہی ہم آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ ’حکومت کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ ملک ڈیفالٹ نہ کرے لیکن ایک ۔۔۔۔ (عمران خان) کوششوں میں لگا ہوا ہے کہ ملک ڈیفالٹ کرجائے‘۔
رانا ثنا نے کہا کہ وہ شخص (عمران خان) ٹی وی پربیٹھ کر پروپیگنڈا کرتا ہے کہ ملک ڈیفالٹ کرنے لگا ہے، اس پروپیگنڈے کو ایک جماعت منصوبے کے تحت لے کر چل رہی ہے، وہ شخص بے بنیاد پروپیگنڈا کرنے کا ماہر ہے اورکرتا چلا جاتا ہے۔
ان کے مطابق پروپیگنڈا ایک ایسی چیز ہے کہ اگر آج کہہ دیا جائے کہ چینی کی کمی واقع ہو گئی ہے تو عوام میں بے چینی پیدا ہو جائے گی۔
میرے دوست کو کالے ویگو میں کچھ لوگوں نے اٹھا لیا ہے، پی ڈی ایم کا حصہ نہیں بنیں گے: مونس الٰہی
وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’کل میرے ایک دوست کو 2 کالے ویگو میں کچھ لوگوں نے لاہور میں اٹھا لیا۔‘
ان کے مطابق ’ایف آئی اے والے قسمیں کھاتے ہیں ہم نے نہیں اٹھایا۔ مونس الٰہی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ’اب کچھ دن بعد (میرے دوست کو) اچانک ایف آئی اے کو پہنچا دیا جائے گا اور ان کو مجبور کیا جائے گا پرچہ دو۔
مونس الٰہی نے کسی فرد یا ادارے کا نام لیے بغیر کہا کہ ’آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ ہم نے پی ڈی ایم کے ساتھ نہیں ملنا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
آئی ایم ایف کو پاکستان کی معاشی مشکلات کے بارے میں بتایا ہے: شہباز شریف
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد
جلد پاکستان آئے گا۔
ایک ٹویٹ میں انھوں نے بتایا کہ ’گذشتہ روز آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر
سے فون پر بات چیت میں میں نے انہیں آئی ایم ایف کے پروگرام کی شرائط مکمل کرنے کے
حکومتی عزم کے بارے میں بتایا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے خاص طور پر تباہ کن سیلاب کے بعد پاکستان
کی معاشی مشکلات کی بھی وضاحت کی۔ آئی ایم ایف کا وفد جلد پاکستان آئے گا۔‘
توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے باوجود تحریک انصاف کی چیئرمین شپ رکھنے پر عمران خان سے وضاحت طلب
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے باوجود پارٹی کے سربراہ رہنے پر اُن سے وضاحت طلب کر لی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود یا ان کے وکیل 11 جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اس معاملے پر وضاحت دیں۔
اس ضمن میں جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو اپنے اثاثے اور واجبات سے متعلق غلط بیانی پر الیکشن کمیشن نے میانوالی کی سیٹ سے نااہل قرار دیا تھا جبکہ قانون کے مطابق نااہل قرار دیے جانے والا شخص کسی سیاسی پارٹی کا چیئرمین/سربراہ نہیں ہو سکتا۔
الیکشن کمیشن کے نوٹس کے مطابق اس کے باوجود عمران خان بدستور تحریک انصاف کے چیئرمین کے عہدے پر موجود ہیں۔
،تصویر کا ذریعہECP
نو جنوری کو جنیوا میں پاکستان پر ہونے والی کانفرنس میں 30 بلین ڈالر کا جامع روڈ میپ پیش کیا جائے گا: شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہShahbudin
وزیر اعظم شہباز شریف نے برطانوی اخبار گارڈیئن میں اپنے ایک کالم میں لکھا کہ ستمبر میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے پاکستان کے دورے کا ذکر کیا۔
انھوں نے لکھا کے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے اپنے اس دورے کے دوران سندھ میں ہونے والی تباہی کا خود مشاہدہ کیا اور پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لے کر اسے ’کلائمنٹ کارنیچ‘ (ماحولیاتی تباہی) سے تعبیر کیا۔
ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ رواں ماہ نو تاریخ کو پاکستان پر جنییوا میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کی وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ مل کر میزبانی کر رہے ہیں۔
شہباز شریف کے مطابق اس کانفرنس میں عالمی رہنما، عالمی ترقیاتی اداروں اور انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں کے نمائندے اور ’فرینڈز آف پاکستان‘ شریک ہوں گے۔
ان کے مطابق اس کانفرنس کے شرکا قدرتی آفت کے شکار ملک پاکستان کی مدد اور اس سے یکجہتی کا اظہار کریں گے۔
شہباز شریف کے مطابق اس کانفرنس میں ہم اس سیلاب کے بعد کی تعمیر نو اور بحالی سے متعلق ایک جامع روڈ میپ دیں گے جو ورلڈ بینک، اقوام متحدہ، اشین ڈویلپمنٹ بینک اور یورپی یونین کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق پہلے مرحلے کے لیے پاکستان کو آئندہ تین برس کے لیے کم از کم 16 اعشاریہ تین بلین ڈالر چاہیں۔ ان کے مطابق پاکستان اپنے وسائل سے آدھی فنڈنگ کا اہتمام کرے گا۔ تاہم ان کے مطابق دوست ممالک کی مسلسل مدد اور باہمی اشتراک سے ان مسائل پر قابو پانے کے قابل ہو سکے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق دوسرے مرحلے کی بحالی کے لیے پاکستان کو اگلے دس سال کے لیے ساڑھے 13 بلین ڈالر درکار ہوں گے۔ وزیراعظم پاکستان نے اس امید کا اظہار کیا کہ عالمی برادری اس کانفرنس کے ذریعے قیمتی جانوں کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور سیلاب سے پاکستان کا 30 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا: شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہMazhar Hussain
وزیراعظم نے گارڈیئن میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں لکھا کہ پاکستان صرف سیلابوں سے ہی نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے بھی متاثر ہو رہا ہے پاکستان سنہ 2022 کے موسم بہار میں شدید گرمی، ہیٹ ویو اور قحط سالی جیسے مسائل کے شکنجے میں تھا۔
ان کے مطابق یہ صورتحال مغربی حصے میں واقع جنگلوں میں آگ لگنے کا سبب بنی۔
ان کے مطابق اب ان علاقوں میں زیادہ حدت سے موسمی ’پیٹرنز‘ )بارشوں اور گرمیوں کے شیڈول) میں حیرت انگیز تبدیلی واقع ہو چکی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے اس صورتحال کا مثالی مقابلہ کیا ہے جبکہ ملک کو پہلے ہی شدید معاشی حالات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو 20 لاکھ گھرانوں میں 250 ملین ڈالر تقسیم کرنا پڑے۔ ان کے مطابق اس بحرانی صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہم اپنے محدود وسائل سے ایمرجنسی ریلیف کے لیے ڈیڑھ بلین ڈالر ’موبلائز‘ کیے۔
انھوں نے کہا کہ ہم عالمی برادری اور اپنے دوست ممالک کے شکر گزار ہیں کہ انھوں اس اس صورتحال میں بد ترین حالات سے بچنے کے لیے ہماری مدد کی۔
شہباز شریف کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس صورتحال کو اعلیٰ درجے کی صحت ایمرجنسی قرار دیا اور پھر ہمارے بڑے پیمانے پر طبعی نیٹ ورک کی وجہ سے ہم پانی سے جنم لینے والی بیماریوں او مقامی وباؤں کے پھوٹنے سے محفوظ رہے۔
ان کے مطابق اسی طرح ہم بہت جلد ہی دیہی اور شہری علاقوں میں جلد رابطہ سڑکیں اور رستے بحال کرنے میں کامیاب رہے۔
اس کے باوجود 20 لاکط سے زائد گھر، 14 ہزار کلو میٹر سے زیادہ سڑکیں اور 23 ہزار سے زآید سکلول اور کلینکس تباہ ہوئے۔
ان کے مطابق اس تباہی کے بعد ورلڈ بینک اور یورپی یونین کے ساتھ مل کر جب جائزہ لیا گیا تو اس میں پتا چلا کہ پاکستان کو اس سیلاب سے 30 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا ہے، جو کہ پاکستان کے مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا دسواں حصہ بنتا ہے۔
’پاکستان کا سوئٹزرلینڈ جتنا رقبہ اب بھی زیر آب ہے‘: وزیراعظم شہباز شریف کا سیلاب کی تباہ کاریوں پر گارڈیئن اخبار میں کالم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
گارڈیئن اخبار میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے کالم میں لکھا کہ گذشتہ گرما میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے ملک میں 1700 افراد ہلاک ہوئے جبکہ سوئٹرزلینڈ جتنا رقبہ زیر آب گیا، جس سے 33 ملین لوگ متاثر ہوئے۔
ان کے مطابق یہ اتنی بڑی تعداد ہے جو زیادہ تر یورپی ممالک کی آبادی سے بھی زیادہ بنتی ہے۔
ان کے مطابق اس صورتحال پر عالمی دلچسپی میں کمی واقع ہوئی ہے مگر پانی کم نہیں ہوا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے زیادہ تر حصے ابھی بھی زیر آب ہیں۔
شہباز شریف کے مطابق اس تباہی سے پاکستان میں خوراک کی کمی جیسے مسئلے کے شکار لوگوں کی تعداد دگنا ہو کر 14 ملین تک پہنچ چکی ہے۔
شہباز شریف کے مطابق نو ملین مزید آبادی انتہائی غربت کا شکار ہوگئی ہے۔
ان کے مطابق یہ سیلاب سے متاثرہ علاقے مستقل جھیلوں جیسا منظر پیش کر رہے ہیں، جس سے یہ علاقے ہمیشہ کے لیے بدل کر رہ گئے اور لوگوں کی زندگیاں بھی متاثر ہوئیں۔ وزیراعظم کے مطابق کوئی ایسی مشینری یا پمپ دستیاب نہیں ہے جس سے اس پانی کو ایک سال سے کم عرصے میں باہر نکالا جا سکے جبکہ رواں برس جولائی میں ان علاقوں کا مزید سیلاب سے متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے یقین دہانی کرائی کہ دو تین روز میں ان کی ٹیم پاکستان پہنچ جائے گی: وزیراعظم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کل رات ان کی آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹیلینا جرجیوا سے فون پر بات ہوئی ہے۔ ان کے مطابق انھوں نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے کہا کہ اپنی ٹیم جلد پاکستان بھیجیں تا کہ نویں ریویو کے بعد ہمیں اگلی قسط مل سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف اسلام آباد میں ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے قیام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے انھیں یقین دلایا کہ دو تین روز میں ان کی ٹیم پاکستان پہنچ جائے گی۔
ان کے مطابق ’آئی ایم ایف نے چین اور سعودی عرب کے بارے میں بھی سوالات کیے تو میں نے کہا کہ وہ ہمارے بہترین دوست ہیں۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیا گیا معاہدہ توڑا اور پاکستان کو ڈیفالٹ کے قریب پہنچا دیا تھا لیکن ہم نے بڑی محنت کر کے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا، دوست ممالک نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا۔
جنرل باجوہ نے عمران خان کی مدد کی مگر وہ احسان فراموش نکلے
وزیراعظم نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ نے کس طرح عمران خان کی مدد کی وہ سب سامنے آ رہا ہے۔
شہباز شریف کے مطابق افواج پاکستان نے ساری کاوشیں جھونک دیں تاکہ عمران خان کامیاب ہو، جنرل باجوہ نے کوشش کی کہ عمران خان کے ذریعے پاکستان آگے بڑھے لیکن بطور وزیراعظم عمران خان ناکام ثابت ہوئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ جن لوگوں نے عمران خان کو مسند اقتدار پر بٹھایا ان پر ہی عمران خان الزامات عائد کر رہے ہیں۔
سابقہ قبائلی اضلاع میں شدت پسندی میں تیزی کے خلاف وانا میں احتجاجی مظاہرہ
پاکستان میں صوبہ خیبرپختونخوا کے سابقہ قبائلی اضلاع میں شدت پسندوں کی کارروائیوں کے خلاف جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔
اس دوران مظاہرین نے سفید پرچم تھام رکھے تھے جن پر ’امن‘ درج تھا اور وہ اپنے علاقوں میں امن و سلامتی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگا رہے تھے۔
مظاہرے میں لوگوں کی ایک تعداد نے اعظم ورسک سے وانا کی طرف پیدل احتجاج کیا جبکہ وانا بازار کو بند رکھا گیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ادھر فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ضلع لوئر وزیرستان میں انٹیلیجنس پر مبنی آپریشن کیا ہے جس میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک کمانڈر سمیت 11 دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ یہ ٹی ٹی پی کمانڈر ضلع میں تھانوں پر حملوں میں ملوث تھا۔
دوسری طرف حکام کے مطابق گذشتہ روز لکی مروت میں نامعلوم مسلح موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے موٹرسائیکل سوار پولیس کانسٹیبل اور ان کا ساتھی ہلاک ہوا ہے۔
اعتماد کے ووٹ کی ضرورت نہیں، تحریک انصاف والے غیرذمہ دارانہ بیانات نہ دیں: وزیراعلیٰ پنجاب
وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ اعتماد کے ووٹ سے متعلق گورنرکا خط نہیں مانتے، اعتماد کا ووٹ لینے کا مطلب گورنر کا خط تسلیم کرنا ہوگا۔
گوجرانوالہ میڈیکل کالج ٹیچنگ ہسپتال کے افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پرویز الٰہی نے کہا کہ گورنر پنجاب کے غیرقانونی حکم کو نہیں مانتے، تحریک انصاف کو چاہیے کہ غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ دے۔
انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی 25 تاریخ کو اپنا حال یاد رکھے، ان کی زبانیں نکلی ہوئی تھیں۔
پرویز الٰہی نے کہا کہ وہ عمران خان کے وژن کی بنیاد پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والےکم ازکم اپنے لیڈر عمران خان کی بات کو فالو کریں، میں تو خود ویسے ہی کر رہا ہوں جو عمران خان کہہ رہے ہیں۔
تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے سوال پر وزیراعلیٰ پنجاب نے جواب دیا کہ آپ کوووٹ کی کیا جلدی، ووٹ کی ضرورت تو مجھے ہے، جو گورنر نےآرڈر دیا ہے ہم اسے مانتے نہیں، وہ غیر قانونی ہے۔
خیال رہے کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کو 21 دسمبر کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا تھا تاہم سپیکر پنجاب اسمبلی نے گورنر کی ہدایت کو غیر آئینی قرار دے دیا اور اجلاس بلانے سے انکار کردیا یوں پرویز الہیٰ نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا تھا۔
اس کے بعد گورنر پنجاب نے 22 دسمبر کو پرویز الٰہی کو بطور وزیراعلیٰ پنجاب ڈی نوٹیفائی کردیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ میں یہ مقدمہ پہنچا تو پھر پرویز الٰہی کو ریلیف ملا۔
یاد رہے کہ عدالت نے پرویز الہیٰ کی اسمبلی نہ توڑنےکی انڈر ٹیکنگ پر بحال کیا اور تمام فریقین کو 11 جنوری کیلئے نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔ پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر کا کہنا ہے کہ عدالت نے اجازت دی ہے کہ اگلی سماعت تک آپ اعتماد کا ووٹ لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں۔
وقت پر انتخابات کے حامی ہیں، التوا کے بھی حق میں نہیں ہیں: وزیرخارجہ بلاول بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چئیرمین پی پی پی بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ سےکہتی ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں، جلدی الیکشن کی مخالفت کر رہے ہیں تو الیکشن میں تاخیر کی بھی مخالفت کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اسٹیبلشمنٹ نے غیر سیاسی ہونے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کے مطابق اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے اتفاق کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تمام سیاسی جماعتوں کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ (ضابطہ اخلاق) بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اجلاس کے بعد پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضابطہ اخلاق بنانے کے لیے حکومت اور اپوزيشن کی تمام جماعتوں سے رابطہ کریں گے۔
تحریک طالبان پاکستان سے متعلق انھوں نے بتایا کہ ’ہم پہلے بھی دہشتگردوں کا مقابلہ کرتے آئے ہیں۔ اے پی ایس کے بچوں کو شہید کیا ہے۔ میں انھیں انتہا پسند اور دہشتگرد کہتا ہوں۔ انھیں انسان نہیں مانتا، دھمکیاں اپنی جگہ پر مگر ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔‘
قتل کی دو تین لوگوں کی سازش ہے، ہماری فوج ہر روز قربانیاں دے رہی رہے: عمران خان
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر قاتلانہ حملے اور پھر اس کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے میں دو تین لوگ ملوث ہیں۔ ان کے مطابق ہمارے ملک کی کی فوج ہر روز قرباننیاں دے رہی ہے۔
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’ہر ادارے میں کالی بھیڑیں ہوتی ہیں، مجھے ان کا پتا ہے، یہ جان بوجھ کر انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔‘
عمران خان نے کہا کہ اگر پاکستان کو فوج کے ذریعے قائم رکھ پاتے تو پھر بنگلا دیش ہم سے کبھی جدا نہ ہوتا۔
انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر آپ پاکستان کی سب سے بڑی وفاقی جماعت کے سربراہ کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا فائدہ کس کو ہوگا۔
عمران خان کہا کہ ’مجھے پاکستان بھر سے ووٹ ملتے ہیں۔‘ انھوں نے یہ سوال اٹھایا کہ ’وہ کون سا ذہن ہے جو ملک کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ جو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تو اس سے ملک کا نقصان ہوتا ہے، یہ مخالفین کا پلان ہو سکتا ہے۔‘
عمران خان نے پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے یہ اپیل کی ہے کہ ’چیف جسٹس مجھ پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی تحقیقات اپنی نگرانی میں کرائیں تو پھر ہی انصاف مل سکتا ہے، ورنہ مجھے کوئی انصاف کی امید نہیں ہے۔‘
’حملہ آور تربیت یافتہ تھا‘
عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب کے ضلع وزیرآباد میں مارچ پر ہونے والی فائرنگ کا ملزم تربیت یافتہ تھا۔
انھوں نے کہا کہ پہلے سازش کرکے مجھے حکومت سے نکال دیا گیا اور پھر مجھے قتل کرنے کی سازش کی گئی اور میں نے عوام کو بتا دیا تھا۔
عمران خان نے کہا کہ ’مجھے انٹیلی جینس ایجنسیوں کے اندر سے لوگوں نے بتایا کہ مذہب کے نام پر مجھے قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور پھر وزیر آباد میں فائرنگ کی گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ میں پسٹل شوٹنگ کی ہوئی ہے اور مجھے معلوم ہے کہ وزیرآباد میں گولیاں چلانے والا ملزم تربیت یافتہ تھا کیونکہ اس نے ریپڈ فائرنگ کی ہے، ہمارے ہیرو ابتسام نے ان کو اوپر کی طرف فائرنگ کرنے سے روکا اور اللہ نے مجھے بچایا۔
ملزم کا بیان ہسپتال پہنچنے سے قبل سامنے آ گیا
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں ہسپتال بھی نہیں پہنچا تھا کہ پولیس ملزم کا بیان ریکارڈ کرکے مخصوص لوگوں کو جاری کرتی ہے حالانکہ اس وقت ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تھی۔
عمران خان نے کہا کہ مجھے تو پہلے پتا تھا کہ اس کے پیچھے کون تھا اور میں نے بتایا تھا کہ منصوبہ بندی ہو رہی ہے، ظاہر ہے جب منصوبہ بندی کا پتا تھا تو اس کے پیچھے کون تھا وہ بھی معلوم تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں ایک پارٹی کا سربراہ اور سابق وزیراعظم ہوں اور پنجاب میں ہماری حکومت ہے لیکن میری مرضی کے مطابق تاحال ایف آئی آر درج نہیں ہوئی کیوں، اس سے بھی بڑی طاقت تھی جو روک رہی تھی یہ میرا پہلا سوال ہے۔
’اپنی حکومت میں ہم بے بس تھے‘
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پوری کوشش کرنے کے بعد ایف آئی آر درج کراونے میں ناکام ہوتے ہیں اور اس کے بعد جے آئی ٹی بن جاتی ہے اور مشکلوں سے تحقیقات کر رہی ہے۔
عمران خان کے مطابق جب جے آئی ٹی نے ڈی پی او سے کہا ہمیں آپ کے موبائل فون کی ضرورت ہے تو پنجاب میں ہماری حکومت ہوتے ہوئے ہماری حکومت کا ڈی پی او گجرات واضح طور پر منع کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی نے ملزم کا بیان ریکارڈ کیا اور سی ٹی ڈی کا عہدیدار بھی جے آئی ٹی کی جانب سے طلب کرنے کے باوجود وہ تعاون کرنے سے منع کرتا ہے حالانکہ سی ٹی ڈی بھی ہماری حکومت کے زیرانتظام ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اس کے بعد جے آئی ٹی عدالت میں اپنی تحقیقات جمع کرادیتی ہے اور اس میں کہا گیا کہ حملہ دو نہیں تین تھے، ایک نوید جس نے گولیاں ماری، دوسرا اوپر سے گولیاں چلائی گئیں اور دو اور گولیاں مختلف تھیں۔
عمران خان نے کہا کہ معظم جب ملزم کی طرف جاتا ہے تو اس کو گولی لگتی ہے، گولی نہ تو آگے سے لگتی ہے اور نہ ہی کنٹینر سے لگتی ہے بلکہ کہیں دور سے آکر گولی لگتی ہے جو دراصل نوید کو مارنے کے لیے تھی لیکن درمیان میں معظم آگیا کیونکہ انھوں نے لیاقت علی خان جیسا واقعہ بتانا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے فون کا فرانزک کرانے کے لیے وفاقی ادارے کو دیا لیکن اس ادارے نے منع کیا کہ ہم نہیں دیتے تو کیوں نہیں دیتے، اس کی وجہ کیا ہے۔
کسی دہشتگرد تنظیم سے مذاکرات نہیں ہوں گے، افغان طالبان سے وعدوں پر عمل کرنے سے متعلق بات کی جائے گی: وزیرداخلہ رانا ثنااللہ
پاکستان کے وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں ہر جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ کسی دہشتگرد فرد یا تنظیم سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ’افغان طالبان کا افغانستان میں ایک نظام قائم ہے، اور قومی سلامتی کمیٹی میں یہ طے پایا کہ دنیا انھیں تسلیم کرے یا نہ کرے مگر اگر بات کی بھی جائے تو ان سے کی جائے۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ ’انھوں (افغان طالبان) نے صرف پاکستان سے نہیں بلکہ پوری دنیا سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
اگر وہ ایسا کریں گے تو پاکستان پُرامن اور محفوظ ہو گا۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ کسی ایسے فرد یا تنظیم جو دہشتگردی میں ملوث ہو، اس سے بات چیت یا مذاکرات نہیں ہوں گے۔ تاہم ہر وہ پاکستانی جو کسی ایسے عمل کا حصہ بنا ہے جو خلاف قانون یا قابل مواخذہ ہو تو وہ ایسے عمل سے گزرے کے جس میں وہ یقین دلائے کہ وہ پاکستان کے قانون اور وجود کو تسلیم کرتا ہے تو اسے واپسی کا رستہ مل سکتا ہے۔
پتا چلائیں کہ ارشد شریف کے ڈیجیٹل آلات کینیا کی پولیس، انٹیلیجنس یا مقدمے میں نامزد دو بھائیوں کے پاس ہیں: چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سپریم کورٹ نے جمعرات کو صحافی ارشد شریف کی بیوہ کی جانب سے جے آئی ٹی میں تبدیلی کی استدعا مسترد کر دی ہے۔
سماعت کے دوران ارشد شریف کی بیوہ روسٹرم پر آئیں اور کہا کہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی افسران کی شمولیت پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ ان کی جگہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل طارق خان اور پولیس افسر اے ڈی خواجہ کو شامل کیا جائے۔
تاہم عدالت نے ارشد شریف کی بیوہ کی یہ استدعا مسترد کردی اور کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی ہے لہٰذا انھیں کام کرنے دیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کے کچھ ڈیجیٹل آلات ہیں جو ابھی تک نہیں ملے۔ انھوں نے جے آئی ٹی کو یہ ہدایات دیں کہ پتا چلا کہ وہ آلات کدھر ہیں؟ چیف جسٹس نے جے آئی ٹی کے رکن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پتا چلائیں وہ ڈیجیٹل آلات کینیا کی پولیس، انٹیلیجنس یا مقدمے میں نامزد کیے گئے ان دو بھائیوں کے پاس ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ جے آئی ٹی کے لیے ٹیسٹ کیس ہے۔
صحافی ارشد شریف قتل سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا ہے کہ اس قتل سے متعلق قائم کی گئی جے آئی ٹی نے اپنی ابتدائی رہورٹ میں جو انکشافات کیے ہیں انھیں فی الوقت منظر عام پر نہیں لایا جاسکتا۔
جمعرات کے روز اس ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان تک جے آئی ٹی نے اس مقدمے میں 41 افراد کے بیانات قلمبند کیے ہیں جن میں مقتول کے ورثا کے علاوہ مخلتف شعبوں کے ماہرین بھی شامل ہیں۔
ایڈشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے دوبئی اور کینیا کی حکومت کو ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات میں باہمی قانونی معاونت دینے کی استدعا کی ہے لیکن ابھی تک ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب تک ان ملکوں سے کوئی ردعمل نہیں آتا اس وقت تک جے آئی ٹی کا ان ممالک میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
انھوں نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ حکومت نے ان ممالک کو باہمی قانونی معاونت کے لیے تاخیر سے خط کیوں لکھا۔
سماعت کے دوران بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیے کہ تحقیقات کے تین فیز ہیں،
ایک فیز پاکستان، دوسرا دبئی اور تیسرا کینیا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ کیا فیز ون کی تحقیقات مکمل ہوگئی ہیں؟ جس پر ایڈشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ
فیز ون کی تحقیقات تقریباً مکمل ہوچکی ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا تحقیقات مکمل ہونے کا کوئی ٹائم فریم ہے، جس پر عدالت کو بتایا کہ
تحقیقات مکمل ہونے کی ٹائم لائن نہیں دی جاسکتی ہے۔
ایڈشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی پہلے دبئی اور پھر کینیا تحقیقات کرے گی۔
بینچ میں موجود جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا جے آئی ٹی نے سب کے سیکشن 161کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں، جس پر ڈی آئی جی اویس نے عدالت کو بتایا کہ تمام لوگوں کے بیانات سیکشن 161 کے تحت ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ اگر سیکشن 161 کے تحت بیان ریکارڈ نہیں ہوئے تو پھر اب تک کوئی کام نہیں ہوا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا امکان ہے کہ تحقیقات میں اقوام متحدہ کو شامل کیا جائے؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ضرورت پڑے گی تو یہ آپشن بھی موجود ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ وزارت خارجہ کی طرف سے کینیا کی اتھارٹی کو خط گذشتہ روز کیوں لکھا گیا؟
انھوں نے کہا کہ وزارت خارجہ خط پہلے بھی لکھ سکتی تھی۔ ججز نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ تحقیقات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کر رہی اور عدالت جے آئی ٹی کو تحقیقات کے لیے آزادی دے رہی ہے۔
جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ معاملے کی صاف شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور عدالت صاف شفاف تحقیقات کے لیے بہت سنجیدہ ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے حکومت نے باہمی قانونی معاونت کا خط لکھنے میں تاخیر کی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ایڈشنل اٹارنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف قتل کی تحقیقات کے معاملے میں اقوام متحدہ کو تحقیقات میں شامل کرنے کے لیے وزارت خارجہ سے بات کریں۔
پاکستانی سفارتخانے پر حملہ کرنے والے داعش نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کیا گیا: افغان طالبان
،تصویر کا ذریعہReuters
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ (داعش) کے اس خطرناک نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کیا گیا ہے جس نے کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملہ کیا تھا۔
2 دسمبر کو افغانستان میں پاکستانی سفارتخانے کی عمارت پر ایک حملے میں ایک پاکستانی سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا تھا اور پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسے ناظم الامور عبیدالرحمان نظامی کے خلاف قاتلانہ حملہ قرار دیا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔
ٹوئٹر پر پیغام میں ترجمان افغان طالبان نے کہا ہے کہ بدھ کو کابل میں دولت اسلامیہ کے خطرناک نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کیا گیا جو پاکستانی سفارتخانے کے علاوہ اس ہوٹل پر بھی حملے میں ملوث تھے جہاں چینی شہری رہائش پذیر تھے۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے صوبہ نمروز میں بھی دولت اسلامیہ کے خلاف آپریشن کیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بدھ کے آپریشن میں داعش کے تین ٹھکانے تباہ کیے گئے، آٹھ ارکان ہلاک اور سات گرفتار کیے گئے جن میں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ داعش کے اس نیٹ ورک نے مزید حملوں اور اہداف کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سعودی عرب کے دورے پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ریاض میں سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان سے ملاقات کی ہے۔
اس موقع پر سعودی وزیر نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ اس ملاقات میں دوطرفہ فوجی و دفاعی تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی وزیر دفاع نے جنرل عاصم منیر کو یہ عہدہ سنبھالنے کی مبارکباد بھی دی۔
ایس پی اے کے مطابق اس ملاقات میں سعودی عرب کے چیف آف جنرل سٹاف لفٹیننٹ جنرل فياض بن حامد الرويلی بھی شریک تھے۔