لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست خارج، میری نظر میں ان کی گرفتاری ہونی چاہیے: رانا ثنا اللہ

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی تھانہ سنگ جانی اسلام آباد میں درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی ہے جبکہ پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں عمران خان کی گرفتاری ہونی چاہیے کیونکہ عمران خان عدلیہ کا مذاق اڑا رہے ہیں اور اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ’کل شام تک بتا دیں گے کہ وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی ہی رہیں گے یا کوئی اور‘

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنر پنجاب نے وزیر اعلی پنجاب کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ دیا ہے

    آٹھ بج کر چالیس منٹ پر وزیر اعلی کو کہا ہے، اس کی کاپیاں بھی ہمیں مل گئی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اتحادیوں کا ماننا ہے کہ تمام اسمبلیوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ زرداری اور شہباز شریف نے مشاورت کی ہے۔ ایم پی ایز کو عوام نے پانچ سال کا مینیڈیٹ دیا ہے۔ جب انتخابات آئیں گے تب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گا۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعلی کے خلاف پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحاریک جمع کروائی گئی ہیں اور اب اسمبلیاں تحلیل نہیں ہو سکتیں۔ ہمارا مقصد اسمبلیوں کو تحلیل سے روکنا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب کو 21 دسمبر بروز بدھ شام چار بجے اعتماد کا ووٹ لینا ہو گا۔

    اس موقع پر پیپلز پارٹی کے حسن مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری سب سے بڑے ممکنات کے کھلاڑی ہیں۔ فیصلہ وہی ہوگا جو شہباز شریف اور زرداری چاہیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ سب لوگ بہت جلد خوشخبری سنیں گے اور سب اتحادی مل کر فیصلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کل شام تک سب کچھ بتا دیں گے کہ وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی ہی رہیں گے یا کوئی اور ہو گا۔

  2. عدم اعتماد کا مقصد الیکشن سے فرار ہے، لیکن ہم بھاگنے والے نہیں: فواد حسین

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. بریکنگ, وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 21 دسمبر کو طلب

    PMLN

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر نے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے 21 دسمبر کو صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    گورنر کی ایڈوائس پر طلب کیے گئے اجلاس کو بدھ شام چار بجے طلب کیا گیا ہے۔

    اس اجلاس پنجاب میں اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ارکان کی جانب سے وزیر اعلیٰ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائے جانے کے بعد طلب کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ پنجاب کی حکمران جماعت پی ٹی آئی کے چیئرمین نے 23 دسمبر کو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کر دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

  4. بریکنگ, وزیراعلیٰ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کیخلاف تحاریک عدم اعتماد جمع

    PMLN

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    پنجاب اسمبلی کی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی، سپیکر پنجاب اسمبلی اور ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف تحاریک عدم اعتماد جمع کروا دیں۔

    ن لیگ کی جانب سے میاں مرغوب، خلیل طاہرسندھو، خواجہ عمران نذیرنے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جبکہ پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ بھی ن لیگ اراکین کے ہمراہ تھے۔

    اپوزیشن ارکان نے پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں تینوں رہنماؤں کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی۔ جس پر ایک سو سے زائد ارکان اسمبلی کے دستخط موجود ہے۔

    خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے 23 دسمبر کو پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

    دوسری جانب وفاق میں حکمران جماعتوں نے پنجاب اسمبلی کی تحلیل روکنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

    پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بھی وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کی تصدیق کی ہے۔

    جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے چیلنج پر قائم ہے اور اگر وہ اسمبلی توڑتے ہیں تو ہم الیکشن کروانے کے لیے تیار ہیں۔ ‘

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی جگہ سے کوئی وعدہ یا گارنٹی کی بات کی ہے یا نہیں، یہ موقع ملنا چاہیے یہ آپشن ہم نے ہی جسے ہم غیر آئینی اور ملک میں عدم استحکام کا عمل کہتے ہیں، جس کے نتجے میں ایمرجنسی کے امکان ہو سکتے، خاموش بیٹھنا ہمیں کل جوابدہ ٹھہرا سکتا ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ سارے معاملات کے اوپر باتیں ہو رہی ہیں کیا طے پایا یا کیا طے پائے گا یہ عمل تین سے چار دن میں مکمل ہوگا۔

    PMLN

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    ان کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب نے آج رات نو بجکر 35 منٹ پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو ایڈوایس بھیجی ہے کہ وہ اسمبلی تحلیل کرنے سے پہلے اعتماد کا ووٹ لیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ارکان نے وزیر اعلیٰ ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی ہے۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی مذاکرات کی میز پر آنا چاہتی ہے تو ایک مناسب طریقے سے آئے جس طرح کے بیانات دیے گئے ہیں اس سے مذاکرات کا راستہ ہموار نہیں کیا جا سکتا۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی ضد میں آکر ایک غیر آئینی عمل کے ذریعے اسمبلی توڑنا چاہتی ہے تو لازمی ہے اس سے پہلے وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کریں۔

    اگر اسمبلی ممبران کی اکثریت سمجھتی ہے کہ اسمبلی توڑ دینی چاہیے تو پھر اسمبلی توڑ دی جائے۔

  5. بریکنگ, ’جنرل باجوہ کے خلاف بات کرنے پر مجھے آرٹیکل 6 لگنے کا ڈر تھا، وہ انڈیا سے بھی اچھے تعلقات کے حامی تھے‘: عمران خان, ترہب اصغر، بی بی سی نامہ نگار

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ’حکومت میں رہتے ہوئے جنرل باجوہ کے خلاف بات اس لیے نہیں کی کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ مجھ پر بھی آرٹیکل چھ لگا دیں گے۔‘

    لاہور میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران بات کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جب حکومت میں آیا تو میرا منشور تھا کہ سب کا احتساب ہو لیکن جنرل باجوہ نے مجھے اور میری کابینہ کو کہا کہ آپ احتساب کو چھوڑیں اور معیشت پر توجہ دیں۔ نیب جنرل باجوہ کے زیر اثر تھا جس کی وجہ سے میں کچھ نہیں کر سکا۔ اور میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ یہ میری ناکامی ہے۔‘

    پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے بڑھنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت جانے سے تین ماہ پہلے تک ہمارے تعلقات اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بہت اچھے تھے۔ لیکن پھر خارجہ پالیسی پر ہمارے اختلافات شروع ہوئے۔ جنرل باجوہ تو انڈیا کے ساتھ بھی اچھے تعلقات کے حامی تھے لیکن بطور سیاست دان میری پارٹی کا کشمیر پر ایک موقف تھا۔ جس کی وجہ سے ہمارے دور میں زیادہ بات چیت نہیں ہوئی۔

    انھوں نے فوج کے سابق سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’جب سے یہ حکومت آئی ہے تب سے معیشت کا برا حال ہو گیا ہے۔ میں اس سب کا قصور وار ایک ہی شخص کو سمجھتا ہوں اور وہ جنرل باجوہ ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے دور میں حکومت بہترین انداز میں چلائی جا رہی تھی لیکن مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ سب اچھا ہونے کے باوجود بھی ہماری حکومت کو نکال کر چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا۔ اس وقت ہمارا ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہے۔ اور اس کا حل صرف جلد الیکشن ہیں۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے یہ بھی خبر مل رہی ہے کہ یہ لوگ مل کر الیکشن کمیشن کے ساتھ ایک سے ڈیڑھ سال تک مزید تاخیر سے الیکشن کروائیں گے۔

    صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ ہم جمعے کو اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے۔ جبکہ پرویز الہی ہمارے ساتھ ہیں۔ انھوں نے میرے سامنے کوئی اختلاف والی بات نہیں کی۔

  6. انسداد دہشتگردی کا مقدمہ: عمران خان کی ضمانت میں دس جنوری تک توسیع

    اسلام آباد کی ایک انسداد دہشتگری کی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت عمران خان کی عبوری ضمانت میں دس جنوری تک توسیع کر دی ہے۔

    عمران خان کے وکیل بابر اعوان عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ بابر اعوان کی جانب سے طبعی بنیادوں پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ عدالت نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت دس جنوری تک ملتوی کر دی۔

  7. پرویز الہٰی: اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کبھی نہیں ٹوٹا

    چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ ان کا اسٹیبلشمنٹ سے کبھی رابطہ نہیں ٹوٹا۔ اُنھوں نے کہا کہ معاشی حالات کے پیشِ نظر اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہتی کہ اسمبلیاں ٹوٹیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ نظام چلتا رہے اور حکومتیں اپنی مدت پوری کریں۔

    چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ مونس الہٰی نے عمران خان کو بتایا کہ (اسٹیبلشمنٹ) سے یہ باتیں ہوئی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ روز کا خطاب شروع ہونے سے پہلے بھی عمران خان کو بتایا گیا کہ کیا کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔

    اُنھوں نے کہ ہم نے آ کر (عمران خان کو) بتایا مگر اُنھوں نے پھر بھی یہ فیصلہ کر لیا۔

    چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ ہمارا یہ کام تھا کہ جو چیزیں کہیں، وہ ہم نے آگے بتا دیں۔

    چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ ایک اور بھی آپشن ہے کہ معاشی ایمرجنسی لگا دی جائے۔

    اُنھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ہم سیاستدانوں سے زیادہ سمجھدار ہے۔

  8. جنرل (ر) باجوہ نے عمران خان کے خطاب کے بعد رابطہ کیا

    چوہدری پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ کل رات عمران خان کے خطاب کے بعد ان کا جنرل (ر) باجوہ سے رابطہ ہوا ہے اور اُنھوں نے کہا کہ وہ عمران خان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے خلاف بات کرتے رہے مگر روکا نہیں۔

    جب اے آر وائے نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کی بذاتِ خود سابق آرمی چیف سے بات ہوئی تو اُنھوں نے کہا کہ ’بس رابطہ ہوا ہے۔‘

  9. چوہدری پرویز الہٰی: عمران خان کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ احتیاط کرنی چاہیے

    چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ جب وہ عمران خان کے پاس جاتے ہیں تو وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ دیانت دار لوگوں کو وہ مقام نہیں دیا جا رہا جس کے وہ حقدار ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ عمران خان کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ احتیاط کرنی چاہیے۔

  10. چوہدری پرویز الہٰی: جنرل فیض حمید نے ہمارے خلاف بہت سازشیں کیں

    چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ جنرل فیض حمید نے ہمارے خلاف بہت سازشیں کیں اور اُن کے لیے حالات مشکل کیے۔

    اُنھوں نے کہا کہ عمران خان مونس الہٰی کو وزیر نہیں بناتے تھے۔ چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ جب جنرل (ر) باجوہ کی ایکسٹینشن کا معاملہ ہوا تو ہم ان کی حمایت کر رہے تھے، اسی دوران جنرل فیض حمید نے چیئرمین نیب کو بلا کر کہا کہ پرویز الہٰی اور مونس الہٰی کو اندر کر دیا جائے۔

    اُنھوں نے کہا کہ پھر جنرل باجوہ کو فون کیا گیا تو اُنھوں نے فیض حمید سے بازپرس کی تو جنرل فیض نے جنرل باجوہ کو بتایا کہ یہ عمران خان کا حکم ہے۔

    چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ اُنھوں نے عمران خان کی سپورٹ کب نہیں کی، اُنھوں نے پی ٹی آئی کو سینیٹ کی سیٹیں بھی لے کر دیں، اس کے بعد اُنھوں نے مونس الہٰی کو وزیر بنایا۔

  11. چوہدری پرویز الہٰی: عمران خان سے کہا تھا باجوہ آپ کے، ہمارے، پی ٹی آئی کے محسن ہیں

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ عمران خان نے اُنھیں ساتھ بٹھا کر جنرل باجوہ کے خلاف بات کر کے زیادتی کی ہے۔

    اے آر وائے کے پروگرام دی رپورٹرز میں اُنھوں نے کہا کہ سابق آرمی چیف دنیا کے دیگر ملکوں میں جا کر پاکستان کے لیے فنڈز لائے ہیں۔

    چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ انھوں نے مذاق بنا لیا ہے، اتنا کوئی بندہ احسان فراموش ہو سکتا ہے؟

    اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے عمران خان سے کہا تھا کہ جنرل (ر) باجوہ آپ کے، ہمارے اور پی ٹی آئی کے محسن ہیں۔

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اُنھیں عمران خان کی سنیچر کو جنرل (ر) باجوہ کے خلاف کی گئی باتیں بہت بری لگی ہیں۔

    چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ اگر اب قمر باجوہ کے خلاف کوئی بات کی گئی تو سب سے پہلے وہ اس کے خلاف بولیں گے۔

  12. لکی مروت کے تھانے پر حملے میں چار پولیس کانسٹیبل ہلاک، علاقے میں پولیس کا سرچ آپریشن جاری

    لکی مروت

    ،تصویر کا ذریعہKPK Police

    خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے تھانہ برگی پر دہشتگردوں کے حملے میں چار پولیس اہلکار ہلاک اور چار ہی زخمی ہوگئے ہیں۔

    لکی مروت پولیس کے مطابق دہشتگردوں کی جانب سے رات گئے تھانہ برگی پر حملہ کیا گیا، دہشت گردوں نے ہینڈگرینڈ اور راکٹ لانچرز سے تھانے پر حملہ کیا۔

    پولیس کے مطابق حملے کے دوران پولیس اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں اس تھانے کا محرر اور ہیڈ کانسٹیبل ابراہیم، کانسٹیبل عمران، کانسٹیبل خیرالرحمٰن اور کانسٹیبل سبزعلی شامل ہیں۔

    ہلا ہونے والے ان اہلکاروں کی نماز جنازہ لکی پولیس لائن میں ادا کردی گئی۔

    پولیس کا کہنا تھا حملے کی اطلاع کے بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی تھی، علاقے میں پولیس کا سرچ آپریشن جاری ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. 11 اپریل سے تحریک انصاف کے مستعفی اراکین کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی: شیریں مزاری

    تحریک انصاف کی رہنما شریں مزاری نے سپیکر قومی اسمبلی کے اجتماعی استعفے قبول نہ کرنے کے بیان پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے انھیں ایسے بیانات دینے سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سپیکر کا اپنا عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ انھوں تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کر لیے ہیں۔ ان کے مطابق اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ 11 اپریل کے بعد تحریک انصاف کے اراکین کو تنخواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں۔

    اس کے علاوہ جن 11 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کیے گئے ہیں وہ کبھی بھی تصدیق کے عمل کے لیے سپیکر کے پاس یا قومی اسمبلی میں استعفے کے اعلان کے لیے دوبارہ نہیں گئے۔

    خیال رہے کہ سپیک قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس وقت تک تحریک انصاف کے مستعفی اراکین کے استعفے قبول نہیں کریں گے جب تک کہ وہ انفرادی طور پر خود ان کے پاس آ کر ان استعفوں کی تصدیق نہیں کرتے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. چوہدری پرویز الہٰی: فیصلے سے مطمئن ہیں

    چوہدری پرویز الہٰی نے لاہور کے زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ سے واپس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے سے مطمئن ہیں۔

    جب ان سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ کتنی سیٹوں پر انتخاب ہو گا تو اُنھوں نے کہا کہ ابھی کام شروع ہوا ہے۔

  15. رانا ثنااللہ خان: اسمبلیاں توڑنی تھیں تو جمعے کے بجائے آج ہی توڑ دیتے

    وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے اگر اسمبلیاں تحلیل کرنی تھیں تو آج ہی کر دیتے، اگلے ہفتے کی تاریخ دینے کی کیا ضرورت تھی۔

    جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ وہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے فوراً بعد الیکشن کروانے کے قائل ہیں تاہم پارٹی میں ایک اور مؤقف بھی ہے۔

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ ایک ہفتے میں اس پر ’یوٹرن‘ آ جائے گا۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ پرویز الہٰی نے عمران خان کو اسمبلیاں توڑنے سے روکنے کی کوشش کی مگر وہ عمران خان کو قائل نہیں کر سکے، تاہم وہ 23 دسمبر سے پہلے کوئی ’داؤ‘ کھیلیں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس اب پرویز الہٰی کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

  16. عمران خان: دو اسمبلیوں کو ملک کے لیے قربان کر رہے ہیں

    عمران خان نے کہا وہ دو اسمبلیوں کو ملک کے لیے قربان کر رہے ہیں، اور جب وہ ایسا کریں گے تو 66 فیصد پاکستان الیکشن میں چلا جائے گا۔

    تاہم اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ حکمران اتحاد الیکشن کروانے سے خوف زدہ ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ دونوں وزرائے اعلیٰ نے ان کا ساتھ دیا ہے اور اگلے جمعے کو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے اور اس کے بعد انتخابات کی تیاری کریں گے۔

  17. عمران خان: ہر رائے شماری سے واضح ہے کہ لوگ الیکشنز چاہتے ہیں

    عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادی مارچ سمیت دیگر جلسوں سے ان کی کوشش تھی کہ حکمرانوں کو الیکشن کروانے پر مجبور کیا جائے۔

    اُنھوں نے کہا کہ اس وقت ہر رائے شماری سے واضح ہے کہ 70 فیصد عوام الیکشن چاہتے ہیں۔

  18. عمران خان: فوج کا نام نہیں لیتا تھا کیونکہ سب چاہتے ہیں کہ ملک مضبوط ہو

    عمران خان نے اپنے خطاب میں ملک کے معاشی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے ’رجیم چینج‘ کو اس کی وجہ قرار دیا اور کہا کہ وہ فوج کا نام اس نہیں لیتے تھے کیونکہ سب چاہتے ہیں کہ ملک کی فوج مضبوط ہو۔

    عمران خان نے کہا کہ جنرل باجوہ نے چلتی ہوئی حکومت کو بیرونی سازش کا حصہ بنا کر گرایا۔ اُنھوں نے کہا کہ معیشت ترقی کر رہی تھی اور اس حکومت کو گرا کر چوروں کو اوپر بٹھا دیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس سب کے ذمہ دار سابق آرمی چیف تھے جن کا وہ نام اس لیے نہیں لیتے تھے تاکہ فوج بدنام نہ ہو۔

  19. عمران خان کا خطاب شروع

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    عمران خان اس وقت عوام سے خطاب کر رہے ہیں اور پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ چوہدری پرویز الہٰی اور خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان ان کے ہمراہ ہیں۔