لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست خارج، میری نظر میں ان کی گرفتاری ہونی چاہیے: رانا ثنا اللہ
لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی تھانہ سنگ جانی اسلام آباد میں درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی ہے جبکہ پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں عمران خان کی گرفتاری ہونی چاہیے کیونکہ عمران خان عدلیہ کا مذاق اڑا رہے ہیں اور اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
لائیو کوریج
مذاکرات سے پہلے انتخابات کی تاریخ کا مطالبہ نہیں کیا: تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر
پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کو بتایا ہے کہ ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ پہلے سے ہی الیکشن کی تاریخ دیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ آئیں ہمارے ساتھ بیٹھیں۔ اسد قیصر نے کہا کہ الیکشن پر بات کرنی ہے تو یقیناً اسے ایجنڈا میں شامل کریں اور اس حوالے سے سنجیدہ بیان تیار کریں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اعظم سواتی کے خلاف اقدامات سے ہماری فوج کی ساکھ پر حرف آتا ہے: عمران خان
،تصویر کا ذریعہPTI
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ سینیٹر اعظم سواتی سے روا رکھے جانے والے انتقام سے بھرپور جبر و تشدد سے پاکستان، خاص طور پر ہماری فوج کے بارے میں منفی تاثر ابھر رہا ہے کیونکہ موجودہ امپورٹڈ سرکار کو تو محض کٹھ پتلی راج ہی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اانھوں نے کہا کہ امید تو یہی تھی کہ نئی عسکری قیادت تحریک انصاف، میڈیا اور ناقد صحافیوں کے خلاف پچھلے آٹھ ماہ سے جاری باجوہ کے فسطائی ہتھکنڈوں کے سلسلے سے خود کو الگ کر لے گی۔
عمران خان کے مطابق عارضۂ قلب میں مبتلا 74 سالہ سینیٹر اعظم خان سواتی کو فوراً رہا کیا جائے۔ کیونکہ اوّل توانھوں نےایسا کوئی جرم ہی نہیں کیا کہ اس ذہنی وجسمانی اذیت کے مستحق ٹھہریں۔ دوم یہ کہ ان کےخلاف خود سری اور انتقام پر مبنی اقدامات سے ہماری فوج کی ساکھ، جو کہ ایک مضبوط پاکستان کے لیے ناگزیرہے پر حرف آتا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
خیبرپختونخوا حکومت نے عمران خان کواسمبلی توڑنے کا اختیار دے دیا: ’حکومت تو کیا ہماری جانیں بھی حاضر ہیں‘
،تصویر کا ذریعہKPK Govt
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان تمام پاکستانیوں کی آخری اُمید ہیں اور ملک کی حقیقی آزادی کے لیے جو جدوجہد کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہم پہلے بھی عمران خان کے ساتھ تھے اور آئندہ بھی ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی عمران خان کے حکم کی منتظر ہے اور جب عمران خان اشارہ کریں گے خیبرپختونخوا کی اسمبلی تحلیل ہو جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار اُنھوں نے سنیچر کے روز چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت بذریعہ ویڈیولنک خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعلیٰ نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب پر عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے خیبرپختونخوا کے اراکین صوبائی اسمبلی مکمل تیار ہیں اور ملک کی حقیقی آزادی کی جدوجہد میں عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور حکومت تو کیا ہماری جانیں بھی عمران خان کے لیے حاضر ہیں۔
ہم نے اسی ملک میں ہی رہنا ہے اور ملک کی حقیقی آزادی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
بریکنگ, حکمراں جماعتیں الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کرتیں تو اسی ماہ اسمبلیاں توڑ دیں گے: عمران خان
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ اگر حکمراں جماعتیں الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کرتیں تو وہ اسی ماہ (دسمبر) پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے۔
خیبرپختونخوا میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز پنجاب میں پارلیمانی پارٹی کے رہنماؤں سے اُن کے خطاب کے بعد حکمراں جماعتوں کو یہ غلط فہمی ہوئی اور مذاکرات کے حوالے سے شاید غلط پیغام گیا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے ملک کے لیے آفر کی تھی کہ عام انتخابات کی تاریخ پر بات چیت کی جائے مگر پی ڈی ایم غلط فہمی میں مبتلا ہو گئی ہے۔ ہم نے ان کو صرف یہ کہا تھا کہ ہم تو اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں مگر اگر آپ کو ملک کی فکر ہے کیونکہ ملک ڈیفالٹ کی طرف جا رہا ہے تو آپ عام انتخابات کروا دیں۔ میرا مقصد صرف یہ تھا۔ اُن سے اس کے علاوہ بات چیت تو ہو ہی نہیں سکتی۔‘
عمران خان نے کہا کہ ملک کو اس وقت سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اور سیاسی استحکام ہی ملک میں معاشی استحکام لائے گا اور اس کا صرف ایک ہی طریقہ ہے، عام انتخابات۔ ’اس وقت صرف پی ٹی آئی کی ضرورت الیکشن نہیں ہے بلکہ یہ پورے ملک کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ہینڈلرز‘ پی ڈی ایم کو اقتدار میں لانے کی وجہ بنے، ن لیگ کے رہنماؤں کے انٹرویو موجود ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ’جو سہولت کار ان کو لے کر آئے تھے کیا انھیں نہیں پتا کہ ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ تمام بین الاقوامی معاشی اداروں نے ان کو ڈاؤن گریڈ کیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اپنا قرضہ بھی واپس نہیں کر سکتا۔ ’ہمارا پیغام ان ہینڈلرز کے لیے ہے کہ اُن کو پتا ہونا چاہیے کہ ملک کے حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑ رہے ہیں۔‘
انھوں نے تمام ممبران پارلیمان کو الیکشن کی تیاری کرنے اور حلقوں کا رُخ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ’پرویز الہی مجھے کہہ چکے ہیں جبکہ محمود خان بھی تیار بیٹھے ہیں۔‘
سینیٹر اعظم سواتی کی کوئٹہ پولیس کے ہاتھوں گرفتاری پر انھوں نے اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمان کو ہدایت کی کہ وہ احتجاج کریں اور اپنی آواز بلند کریں۔
مسلم لیگ ن نے عمران خان کی مذاکرات کی مشروط پیشکش ٹھکرا دی
،تصویر کا ذریعہPMLN
مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ آئندہ عام انتخابات کی تاریخ پر سابق وزیر اعظم کے ساتھ ’مشروط‘ اور ’دھمکی آمیز‘ مذاکرات نہیں کریں گے۔
وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ’کل مذاکرات کی بات کی گئی اور مذاکرات کی بات کو اسمبلیاں توڑنے کی دھمکی سے مشروط کیا گیا۔ اس معاملے پر حتمی فیصلہ اتحادی مل کر کریں گے، اتحادیوں کی مشاورت کے بغیر فیصلہ نہیں کریں گے۔
’مذاکرات مشروط نہیں ہوتے، وہ مذاکرات نہیں ہوتے جو مشروط ہوں۔ ہمارے بعض اتحادیوں کو تحفظات ہیں کہ ان سے کوئی بات نہیں کرنی اور فیس سیونگ نہیں دینی۔ مذاکرات سے مسائل کا حل نکلتا لیکن ہر بات کرنے کو کوئی سلیقہ ہوتا ہے۔ اگر عمران خان سنجیدہ ہیں تو ان کو سمجھنا چاہیے کہ دھمکیاں، بہتان اور مذاکرات اکٹھے نہیں چلتے۔‘
ادھر وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’عمران خان دھمکی آمیز مذاکرات کی آفر نہ کرے۔ اگر دھمکیاں دے کر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو (ہم) نہیں کرسکیں گے۔‘
جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ ’غلطی‘ تھی جس پر ہم سب ’پشیمان‘ ہیں: اسد قیصر
سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ غلطی تھی جس پر ’ہم سب پشیمان ہیں۔‘
یہ بات انھوں نے نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رُخ‘ کے میزبان نادر گورمانی سے گفتگو میں کہی۔
اسد قیصر کا یہ انٹرویو آج شام سات بجے نشر ہو گا تاہم ڈان کی جانب سے اس پروگرام کے شیئر کیے جانے والے کلپ میں ان سے سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا پارٹی کے اندر چند لوگ ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ غلط تھا؟
اس پر سابق سیپکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ ’بالکل، پوری پارلیمنٹ کا یہ فیصلہ غلط تھا۔ یہ کسی ایک شخص کی بات نہیں۔ ہم سب اس پر پشیمان ہیں کہ ہم نے غلطی کی۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر یہ فیصلہ کیوں کرنا پڑا تھا تو اس پر اسد قیصر نے کہا کہ وہ کیوں اور کیسے کے چکر میں نہیں پڑیں گے مگر ’جس وجہ سے بھی کرنا پڑا، یہ غلطی تھی۔‘
اسد قیصر سے پوچھا گیا کہ کیا پارلیمان پر اس حوالے سے دباؤ تھا یہ عمران خان کے فیصلے کی وجہ سے یہ سب ہوا؟ اس پر اسد قیصر نے کہا کہ ’یہ صرف خان صاحب کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کا فیصلہ تھا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’عمران خان جس صوبے کی اسمبلی توڑیں گے وہاں الیکشن کرائے جائیں گے‘
،تصویر کا ذریعہAPP
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان جس صوبے کی اسمبلی توڑیں گے وہاں اتحادی جماعتوں کی حکومت الیکشن کرا دے گی۔
صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ’کچھ نہیں کرنا اور نہ ہی اسمبلی توڑنی ہے۔۔۔ میں نے سابق وزیراعظم عمران خان کی بات کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا۔‘
’عمران خان نے کل اپنی بات سے یوٹرن لیا ہے، وہ پونے چار سال وزیرِ اعظم رہے، کبھی اپوزیشن لیڈر سے بات نہیں کی اور نہ ہی بطور وزیراعظم آئینی تقرری پر کسی سے مشاورت کی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اب انھوں نے مذکرات کی بات کی ہے جو ایک سیاسی بات ہے تاہم اس معاملے پر تمام اتحادیوں سے مشاورت کر کے آگے بڑھیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ الیکشن کب ہونے ہیں اور کب کرانے ہیں، یہ سب معاملات پی ڈی ایم میں مشاورت سے طے ہوں گے۔
’وکلا کو اعظم سواتی تک رسائی نہیں دی جا رہی‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحریک انصاف کے وکلا کا دعویٰ ہے کہ انھیں سینیٹر اعظم سواتی تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔
کوئٹہ میں سیشن اینڈ ڈسٹرکٹ کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ اقبال شاہ نے کہا کہ ’اعظم سواتی کے ساتھ ایسا ناروا سلوک کیا جا رہا ہے تو عام افراد کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہوگا۔
’اعظم سواتی کو قانون کے مطابق کچلاک کی عدالت میں پیش کرنا چاہیے۔ سفری ریمانڈ کے مطابق اعظم سواتی کو 4 دسمبر تک پیش کرنے کا حکم ہے۔‘
اقبال شاہ نے مزید کہا کہ ’اگر اعظم سواتی کو کل پیش کیا جائے گا تو ممکن ہے ڈیوٹی میجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے۔ سفری ریمانڈ کے لیے بھی ویڈیو کال کے ذریعے پیش کیا گیا۔‘
جوڈیشل ریمانڈ کی منظوری کے بعد اعظم سواتی کو پولیس کی تحویل میں راولپنڈی سے کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا۔
پاکستان کی عالمی سرمایہ کاروں کو وقت سے پہلے ایک ارب ڈالر قرضے کی واپسی, تنویر ملک، صحافی
پاکستان نے عالمی سرمایہ کاروں کو سکوک بانڈ کی مد میں لیے گئے ایک ارب ڈالر قرضے کی ادائیگی کر دی ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے عالمی سرمایہ کاروں کو قرض ادائیگی وقت سے پہلے کی گئی ہے جس کی آخری تاریخ 5 دسمبر 2022 تھی۔
سٹیٹ بینک کے مطابق سکوک بانڈ کی میچورٹی سے پہلے ادائیگی کر دی گئی۔
سکوک بانڈ نون لیگ کے گذشتہ دور حکومت میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ہی جاری کیے تھے جس کی عدم ادائیگی پر ملک کے ڈیفالٹ ہونے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔
تاہم پاکستان کی جانب سے اس کی ادائیگی وقت سے پہلے کر دی گئی۔
مونس الہی کے بیان نے فوج کے سیاست میں عدم مداخلت کے مؤقف پر شکوک کو جنم دیا: رانا ثنا اللہ
،تصویر کا ذریعہAPP
وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کے بیٹے مونس الہی کے بیان نے فوج کے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کے مؤقف پر ’شبہہ اٹھایا ہے۔‘
انھوں نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’یہ بات انھیں کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر اس بات سے باجوہ صاحب کو کوئی نقصان پہنچا بھی ہے تو وہ بھرپور زندگی اور ملازمت گزار کر اب جاچکے ہیں۔
’ادارے نے قوم کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ پچھلے سال انھوں نے یہ فیصلہ کیا جس کے بعد سے انھوں نے سیاست میں دخل نہیں دیا۔ اب چوہدری مونس الہی کے اس بیان نے ادارے کے مؤقف پر شبہہ اٹھایا ہے۔ اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ عسکری قیادت عوام سے کیے گئے وعدہ پر قائم ہے۔
خیال رہے کہ مونس الہی نے کہا تھا کہ گذشتہ ماہ ریٹائر ہونے والے آرمی چیف جنرل باجوہ نے انھیں تحریک عدم اعتماد سے قبل عمران خان کا ساتھ دینے کا پیغام دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر وہ بندہ (جنرل باجوہ) بُرا ہوتا تو کبھی یہ نہ کہتا کہ آپ عمران خان کا ساتھ دیں۔‘
’عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش پر وزیر اعظم مشاورت کریں گے‘
دریں اثنا وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش پر وزیر اعظم اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کریں گے۔ ’عمران خان نے بات کرنے کا کہا ہے تو وزیراعظم محمد شہباز شریف اس سلسلے میں اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کریں گے۔۔۔ پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنی ہے یا نہیں اس پر تاحال فیصلہ نہیں ہوا۔‘
’مذاکرات سے انکار پارلیمانی جمہوریت کے خلاف ہے لیکن بدقسمتی سے ایک شخص کہتا ہے کہ سیاسی مخالفین کو چھوڑوں گا نہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں توڑی گئیں تو وفاقی حکومت برقرار رہے گی اور اگر پنجاب میں ضمنی یا عام انتخابات ہوئے تو ہم بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔‘
رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر پنجاب اسمبلی توڑی گئی تو صوبے کے الیکشن میں مسلم لیگ ن اکثریت حاصل کرے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ضمنی یا عام انتخابات دونوں صورتوں میں انتخابی مہم کی قیادت نواز شریف کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ پرویز الٰہی سے کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہو رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی بات ہوئی تو عوام کے سامنے ہوگی۔
دو ہفتے کے اندر ایک دوست ملک سے تین ارب ڈالر مل جائیں گے: اسحاق ڈار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو ہفتے کے اندر ایک دوست ملک سے تین ارب ڈالر مل جائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ابھی وہ اس ملک کا نام نہیں لینا چاہتا مگر بات تقریباً طے ہے اور اب یہ دو ہفتے کے اندر پاکستان کو مل جائیں گے جس سے پاکستان کے زرمبادلہ کی حالت بہتر ہو جائے گی۔
اسحاق ڈار نے اپنی ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل پر بھی تنقید کی۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ عالمی مالی ادارے (آئی ایم ایف) اس وقت ابنارمل طور پر ڈیل کر رہے ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ان وجوہات پر اپنے جذبات کا اظہار کرنا ملکی مفاد میں نہیں ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ اگر آئی ایم ایف سے 500 ملین ڈالر والی قسط نہ ملی تو پھر اس کا متبادل پلان کر رکھا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مجھے پتا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پلان کو کیسے مکمل کیا جاتا ہے۔
ملک کی خراب معاشی و سیاسی صورتحال، اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان غالب, تنویر ملک، صحافی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز حصص کاروبار شدید مندی کے رجحان کا شکار نظر آیا۔ جمعے کے روز پہلے کاروباری سیشن میں انڈیکس 350 پوائنٹس تک گر گیا جب کہ دوسرے سیشن میں انڈیکس میں 250 پوائنٹس تک کمی دیکھی گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹاک مارکیٹ پورے سیشن میں فروخت کے دباو کا شکار رہی اور کاروباری حجم بھی کم رہا جس کی وجہ سرمایہ کاروں کی کاروبار میں عدم دلچپسی تھی تجزیہ کاروں نے اسٹاک مارکیٹ میں مندی کی وجہ ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی بحران اور خراب معاشی صورتحال کو قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں تاخیر اوراس کی وجہ سے قرضے کی اگلی قسط کی ادائیگی میں تاخیر سے پاکستان کا بیرونی ادائیگیوں کا توازن بگڑ سکتا ہے جو معاشی طور پر ملک کے لیے نقصان دہ ہو گا۔
عمران خان نے کارکنان کو اداروں پر تنقید نہ کرنے کی ہدایت کی ہے: ترجمان پنجاب حکومت
،تصویر کا ذریعہscreengrab
ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید نے کہا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو اداروں پر تنقید نہ کرنے کی ہدایات کی ہیں۔
مسرت جمشید کے مطابق اداروں کے خلاف نہ ہم پہلے تھے نہ مستقبل میں ان کے خلاف مہم کا حصہ بنیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ایک شخص نے جو کیا سب کو پتہ ہے اوراب وہ ماضی کا حصہ ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق ’کسی فرد کے بارے میں ہمیں آئین اور قانون اپنی رائے رکھنے کا حق دیتا ہے۔
ہم اداروں کے خلاف کسی منفی پراپیگنڈا کا حصہ نہ پہلے تھے اور نہ آئندہ بنیں گے۔ مسرت جمشید کے مطابق عمران خان اداروں کی مضبوطی اور قانون کی بالا دستی کی بات کرتے ہیں۔
بریکنگ, وزیراعظم شہباز شریف کی کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے کی مذمت، فوری تحقیقات کا مطالبہ
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کابل میں پاکستان کے مشن کے سربراہ پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے سکیورٹی گارڈ کو سلام پیش کیا ہے، جنھوں نے گولی کی پرواہ کیے بغیر پاکستانی سفارتکار کی جان بچائی۔
وزیراعظم نے سکیورٹی گارڈ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس حملے کی فوری تحقیقات اور اس سنگین حملے میں ملوث مجرمان کو جلد کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’اکتوبر 2023‘: وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کا عمران خان کی انتخابات کی تاریخ والے بیان پر جواب
وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی طرف سے حکومت سے عام انتخابات سے متعلق تاریخ پر مذاکرات کے بیان پر صرف اکتوبر 2023 لکھ کر جواب دے دیا ہے۔
انھوں نے اپنا یہ ردعمل ٹوئٹر پر دیا ہے۔
خیال رہے کہ عمران خان نے لاہور میں اپنی پنجاب اسمبلی کی پارلیمانی پارٹی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ (حکومت) ہمارے ساتھ بیٹھ کر عام انتخابات کی تاریخ دیں یا پھر ہم اسمبلی تحلیل کر دیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پرویزالٰہی نے گذشتہ روز عمران خان کو اسمبلی توڑنے کے اختیارات دیے ہیں: فواد چوہدری
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پرویزالٰہی نے عمران خان کو اسمبلی توڑنے کے اختیارات دیے ہیں
ان کے مطابق اسمبلی تحلیل کرنے کی تاریخ کا تعین عمران خان خود کریں گے۔ فواد چوہدری کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے تمام ممبران نے پنجاب اسمبلی کو تحلیل کرنے کے فیصلے کی توثیق کی ہے۔
ان کے مطابق خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی عمران خان سے کل ملے گی۔
اگر وہ ساتھ بیٹھیں گے تو کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا: وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کا عمران خان کے بیان پر ردعمل
،تصویر کا ذریعہAFP
وزیرداخلہ راناثنااللہ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی مشروط مذاکرات کی پیشکش پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ ساتھ بیٹھیں گے تو کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔
ان کے مطابق اگر پہلے تاریخ دے دی تو پھر مذاکرات کیسے ہوں گے۔ وزیرداخلہ کے مطابق ’اس سے قبل عمران خان کہا کرتے تھے کہ ان کے ساتھ بیٹھنے سے بہتر ہے کہ میں مرجاؤں۔‘ انھوں نے کہا خدا عمران خان کو زندگی دے تو یہ مل بیٹھ کر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ آج عمران خان نے اپنے رویے میں تبدیلی لائی ہے۔ ان کے مطابق پی ڈی ایم تو ہمیشہ ہی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔
بریکنگ, الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے ہمارے ساتھ بیٹھیں ورنہ اسمبلیاں توڑ دیں گے: عمران خان
،تصویر کا ذریعہscreengrab
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے حکومت کو مشروط مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ لاہور میں پارٹی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مل بیٹھے، انتخابات کی تاریخ دے، ورنہ اسمبلیاں توڑ دیں گے۔
عمران خان نے کہا اگر پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کر دی گئیں تو پھر 66 فیصد پاکستان میں انتخابات ہو رہے ہوں گے۔
سابق وزیراعظم نے اپنی پارٹی کو بتایا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویزالٰہی نے مجھے یقین دہانی کرائی ہے کہ آپ جب بھی کہیں گے اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی۔
بریکنگ, سعودی عرب کی پاکستان کو دیے جانے والے تین ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع, تنویرملک، صحافی
سعودی فنڈ برائے ترقی (ایس ایف ڈی) نے مملکت سعودی عرب کے فراہم کردہ اور بینک دولت پاکستان میں ڈپازٹ کیے ہوئے تین ارب ڈالر کی مدت میں توسیع کردی۔
ڈپازٹ کی مدت میں یہ توسیع مملکت سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ تعاون کا تسلسل ہے کیونکہ اس ڈپازٹ کا مقصد بینک میں زرِ مبادلہ ذخائر بڑھانا اور کووڈ-19 کی عالمی وبا کے اقتصادی اثرات کا مقابلہ کرنے میں پاکستان کو مدد دینا ہے۔
مرکزی بینک کے اعلامیے کے مطابق ڈیپازٹ میں توسیع سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان بن عبد العزیز کی ہدایت پر کی گئی ہے نیز ڈپازٹ کی اس رقم نے بیرونی شعبے کے چیلنجوں کو پورا کرنے اور ملک کی پائیدار معاشی ترقی کے حصول میں بھی مدد دی ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ تین ارب ڈالر ڈپازٹ کے معاہدے پر دستخط سعودی فنڈ برائے ترقی کے ذریعے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ گذشتہ سال 2021 نومبر میں کیے گئے تھے جس کے لیے شاہی فرمان جاری کیا گیا۔
آئین کے تحت تحریک عدم اعتماد اور اعتماد کے ووٹ کا کبھی بھی کہا جا سکتا ہے:وزیر اعظم کے معاون خصوصی
،تصویر کا ذریعہFacebook
وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطاء اللہ تارڑ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین اور قانون کی رو سے تحریک عدم اعتماد اور اعتماد کے ووٹ کا کبھی بھی کہا جا سکتا ہے
کہیں پر ایسا ذکر نہیں کہ سیشن کے دوران اعتماد کا ووٹ اور تحریک عدم اعتماد جمع نہیں ہو سکتی۔
ان کے مطابق تحریک عدم اعتماد کا داخل ہونا اسمبلی کی تحلیل کو روکنے کے لیے کافی یے۔ ان کے مطابق تحریک عدم اعتماد جمع کی جائے تو اسے داخل کرنا پڑے گا۔ قانونی طور پر تمام چیزیں واضح ہیں۔
ان کے مطابق آج پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہے تو پرویز الہی فون کر کے کہہ رہے ہیں کہ حکومت تحلیل نہ کرنے کا کہنا
عطا تارڑ کے مطابق مونس الٰہی نے متنازع بیان دے کر حالات کا رخ موڑنے کی کوشش کی۔ تحریک عدم اعتماد کی تیاری ہے، تمام آپشنز موجود ہیں، مگر حکمت عملی ان کی موو دیکھ کر اپنائیں گے۔
عطا تارڑ کے مطابق ہمارا ہر پلان تیار اور ہر تیاری مکمل ہے، جیسے ہی کوئی معاملہ ہوا تو ہم اپنا پلان اختیار کریں گے، ہم چاہتے ہیں کہ اسمبلیاں نہ ٹوٹیں۔
ان کے مطابق میثاق جمہوریت میں تھا کہ اسمبلیاں ہمیشہ اپنی آئینی مدت پوری کریں۔ اگر یہ اسمبلیاں توڑتے ہیں تو ہم الیکشنز کے لیے بھی تیار ہیں۔