لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست خارج، میری نظر میں ان کی گرفتاری ہونی چاہیے: رانا ثنا اللہ
لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی تھانہ سنگ جانی اسلام آباد میں درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی ہے جبکہ پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں عمران خان کی گرفتاری ہونی چاہیے کیونکہ عمران خان عدلیہ کا مذاق اڑا رہے ہیں اور اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
لائیو کوریج
’ایک معاملے پر ملک بھر میں مقدمات درج کرانے کا ٹرینڈ شروع ہوگیا ہے، عدالت ہمیشہ کے لیے اصول طے کرے گی‘
،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمودجہانگیری کی عدالت نے وفاقی وزیر جاوید لطیف کی پریس کانفرنس پی ٹی وی پر نشر کرنے پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے، سیکریٹری اطلاعات، ایم ڈی پی ٹی وی اور دیگر کی ہراساں کرنے کے خلاف درخواست گزاروں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے سے روک دیا ہے۔
عدالت نے یہ ریمارکس بھی دیے ہیں کہ ایک معاملے پر ملک بھر میں مقدمات درج کرانے کا ٹرینڈ شروع ہوگیا ہے عدالت اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے طے کرے گی۔
بدھ کے روز سماعت کے دوران عدالت کی ہدایت پر درخواست گزاروں کے وکیل نے ایف آئی آر کا متن پڑھا، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ وفاقی وزیر پی ٹی وی پر آکر بات کرتا ہے تو اس میں ایم ڈی پی ٹی وی کا کیا قصور ہے؟ کوئی بار میں آکر بات کرتا ہے تو کیا بار کے صدر پر مقدمہ درج ہو گا؟
اعظم سواتی پر مقدمے ہوتے ہیں تو یہ شور مچاتے ہیں، خود کیا کر رہے ہیں؟
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیے کہ یہ نیا ٹرینڈ شروع ہو گیا ہے کہ پورے پاکستان میں پرچے درج ہو رہے ہیں،اعظم سواتی پر مقدمے بننے پر جو شور مچاتے ہیں، وہ خود بھی وہی کر رہے ہیں، یہاں کوئی قانون کوئی ضابطہ ہے؟
کل اگر کوئی مطیع اللہ جان کے پروگرام سے خوش نہیں تو ڈھائی ہزار پرچے ہوں گے؟ ملک بھر درج مقدمے کے معاملے کو عدالت ہمیشہ کے لیے طے کرے گی، اس طرح تو پنجاب والے سیکریٹری داخلہ اور ادھر والوں پر مقدمے بناتے رہیں اور یہاں والے پنجاب والوں پر۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ مک پنجاب کی جانب سے مقدمات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، عدالت نے کہا کہ رپورٹ کیسے نہیں دیں گے، کورٹ حکم دے گی نہیں مانیں گے تو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں گے۔
صدر مملکت آرمی چیف کی سمری مسترد کرتے تو حکومت کے پاس پلان بی موجود تھا: وزیر خزانہ
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے نجی ٹی وی چینل سما کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوا، صدر آرمی چیف کی سمری روک لیتے تو پلان بی بھی تیار تھا۔
ان کے مطابق 'جنرل عاصم منیر کو 'ریٹین' پلان اے کے تحت کیا گیا تھا اور پلان بی یہ تھا کہ سمری رکنے کی صورت میں ان کوپروموٹ کرکے وائس چیف آف آرمی سٹاف بنادیتے۔
ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات سے متعلق اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ صدر مملکت نے خواہش ظاہرکی تھی کہ معیشت پر بریفنگ دوں، بنیادی طور پر اس ملاقات کا ایجنڈا معیشت تھی مگر پھر وہاں اور بھی امور پر گپ شپ ہوئی۔
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ وقت سے پہلے الیکشن ناممکن نظر آرہے ہیں، الیکشن اکتوبر 2023 میں ہی ہوں گے۔ ان کے مطابق الیکشن سے پہلے مردم شماری نہیں ہوئی تو مسئلہ ہوگا۔
حافظ سعید کے گھر کے قریب ’حملے میں انڈیا ملوث‘، پاکستان ناقابلِ تردید شواہد کے ساتھ اقوامِ متحدہ میں جائے گا: رانا ثنا اللہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ لاہور کے
علاقے جوہر ٹاؤن میں حافظ سعید کے گھر کے قریب ہونے والے حملے میں انڈیا ملوث ہے
اور پاکستان ناقابلِ تردید شواہد کے ساتھ اقوامِ متحدہ میں جائے گا۔
لاہور میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ’انڈیا
ایک طرف کشمیر میں بدترین تشدد میں ملوث ہے دوسری طرف وہ دنیا میں خود کو معصوم
دکھا رہا ہے۔ ہم انڈیا کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرنے میں اب تک کامیاب نہیں ہوئے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’کلبھوشن جادھو کے معاملے میں کسی چیز
کے ثبوت کی ضرورت نہیں۔ انڈیا نے بات گھمانے کی کوشش کی لیکن ایک طرح سے اقرار جرم
ہی کر دیا۔‘
اس موقعے پر ایڈیشنل آئی جی سیکرٹری پنجاب عمران محمود نے جوہر
ٹاؤن دھماکے کی تحقیقات میں سامنے آنے والی تفصیلات بتائیں۔
انھوں نے بتایا کہ 23 جون 2021 میں جوہر ٹاؤن ای بلاک میں
گاڑی میں دھماکہ ہوا تھا اس جس کے نتیجے میں تین شہری ہلاک اور 22 زخمی ہوئے جن میں
پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ یہ رہائشی علاقے تھا جس سے گھروں اور گاڑیوں کو نقصان
پہنچا تھا۔‘
انھوں ے بتایا کہ سی ٹی ڈی نے ’16 گھنٹے میں اس کیس کو ٹریس
کر لیا تھا۔ 24 گھٹنے میں تین دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ ایک شخص پیٹر پال ڈیوڈ
کو گاڑی سے تعلق کی وجہ سے گرفتار کیا جا سکا۔ ان کا تعلق را کے دو ایجنٹوں کے
ساتھ رابطہ تھا سجاد نامی شخص اس کا اسسٹنٹ تھا جو ہر کام میں اس کے ساتھ تھا۔ اسی
نے بعد میں رابطے کے لیے استمعال ہونے والے فون تباہ کیے۔ جو پولیس نے برآمد کر کے
ڈیٹا نکالا گیا۔‘
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ انڈیا کی طرف نے پاکستان میں
ایسی کارروائیاں کرنا اور معصوم شہریوں کو مارنا قابل مذمت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ
واضح ثبوت ہیں کہ انڈیا براہ ملوث ہے۔ ایک واقعے کے لیے انھوں نے کتنی بڑی رقم خرچ
کی ہے۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ دوسرے ممالک کی جیلوں میں رہ کر واپس
آنے والے پاکستانیوں کی بھی سکروٹنی کی جائے گی۔ کیونکہ اس واقعے میں بیرونِ ملک میں
موجود شخص کو بھی رہا کروا کر استعمال کیا گیا۔ اس لیے اس کی روشنی میں اب ایسے لوگوں
کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ یہ دھماکہ حافظ سیعد کے گھر
کے پاس ہوا تو قیاس ہے کہ ان کا گھر شاید ہدف تھا اور پولیس کی موجودگی کی وجہ سے
گاڑی دور کھڑی کی گئی۔
ایڈیشنل آئی جی کے بقول ’اس حملے میں ملوث تین افراد کے لیے
ریڈ وارنٹ پہلے حاصل کیے گئے جو گرفتار ہو
چکے ہیں اور اب مزید چار افراد کے ریڈ وارنٹ حاصل کر لیے ہیں۔ ان کے خلاف شواہد موجود
ہیں۔ انھیں دہشت گردی کی سزا دی جائے گی۔ اب ایسے ثبوت ہیں کہ انڈیا اس حملے میں
ملوث ہے۔ اب یہ معاملہ دفتر خارجہ اقوام متحدہ میں لے جائے گا۔ ‘
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بقول اگرچہ انڈیا انھیں (ملزمان)
کو پاکستان حوالے نہیں کرے گا لیکن یہ دنیا میں کہیں جائیں گے تو ریڈ وارنٹ کی وجہ
سےگرفتار ہو جائیں گے۔
فوج کے خلاف بات نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کرپشن پر ان کے خلاف کارروئی نہیں ہوسکتی: جسٹس منصور علی شاہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ میں نیب قوانین کے خلاف درخواست سے متعلق مزید اپ ڈیٹس۔۔۔
جسٹس منصور علی شاہ کی طرف سے پوچھے گئے سوال پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ نیب قانون کا اطلاق افواج پاکستان پر نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ فورسز کے ان افسران پر نیب قانون لاگو ہوتا ہے جو کسی سول ادارے میں تعینات ہوں۔
وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ نیب قانون کا اطلاق عدلیہ پر بھی نہیں ہوتا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ججز کو نوکری سے ہی نکالا جا سکتا ہے، ان سے ریکوری نہیں ہوسکتی۔
خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ
سپریم کورٹ ماضی میں قرار دے چکی ڈسپلن کے معاملے پر افواج کے خلاف رٹ نہیں ہوسکتی جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ رٹ تعیناتی یا تبادلے کے معاملے میں نہیں ہوسکتی اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں انفرادی کرپشن پر کسی فوجی افسر کو چھوڑنے کا کہیں ذکر نہیں ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’سپریم کورٹ نے فیصلہ سنہ 2001 میں دیا تھا تب حکومت کس کی تھی؟‘ واضح رہے کہ اس وقت سابق فوجی صدر پرویز مشرف اقتدار میں تھے۔
عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’حکومت جس کی بھی تھی، فیصلہ سپریم کورٹ نے ہی دیا تھا۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’آئین کا آرٹیکل 25 مساوات کی بات کرتا ہے۔ کسی کے ساتھ جانبداری نہیں ہونی چاہیے اور کسی کو بھی استثنی دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ فوج کے خلاف بات نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کرپشن پر ان کے خلاف کارروئی نہیں ہوسکتی۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ ایڈمرل منصور کو پاکستان لا کر نیب نے کارروائی کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں کئی فوجی افسران کے خلاف کارروائی کی مثال موجود ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے عمران خان کے وکیل سے پوچھا تھا کہ کیا نیب قوانین کے تحت فوجی افسران کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔
اس درخواست کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
نیب قوانین میں ترامیم نامکمل اسمبلی نے کیں: چیف جسٹس عمر عطا بندیال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہSupreme Court
سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ نیب آرڈیننس میں ترامیم اس اسمبلی نے کیں ہیں جو مکمل ہی نہیں ہے اور اس نقطے پر ابھی تک ’ہمیں کوئی قانون نہیں ملا کہ نامکمل اسمبلی قانون سازی کر سکتی ہے یا نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے آدھی سے زیادہ اسمبلی کے ارکان نے بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹو اپنا کام نہ کرے تو لوگ عدالتوں کے پاس ہی آتے ہیں۔
بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیے کہ
نیب ترامیم سے فائدہ صرف ترمیم کرنے والوں کو ہی ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چند افراد کی دی گئی لائن پر پوری سیاسی پارٹی چل رہی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیب ترمیم کی ہدایت کرنے والوں کو اصل میں فائدہ پہنچا ہے۔
جسٹس اعجاز الااحسن کا کہنا تھا کہ ’لائن کو فالو کریں تو اس کا فائدہ صرف چند افراد کی ذات کو پہنچتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’کیا ایسی صورتحال میں عدلیہ ہاتھ باندھ کر تماشا دیکھے؟‘ انھوں نے کہا کہ بادی النظر میں نیب ترامیم کو بغیر بحث جلد بازی میں منظور کیا گیا۔
جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ’ترامیم کی نیت ہی ٹھیک نہ ہو تو آگے جانے کی ضرورت ہی نہیں۔‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلوں کے باوجود کرپشن ختم نہیں ہوسکی۔
انھوں نے کہا کہ مسئلہ صرف کرپشن کا نہیں سسٹم میں موجود خامیوں کا بھی ہے۔ بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ ’سسٹم میں موجود خامیوں کو کبھی دور کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’پارلیمان کا کام ہے سسٹم میں بہتری کے لیے قانون بنائے اور عمل بھی کرائے۔‘
انھوں نے کہا کہ ہر صوبے میں پانچ ماہ بعد آئی جی اور تین ماہ بعد ایس ایچ او بدل جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ
ایگزیکٹو فیصلے کرتے وقت قانون پر عمل نہیں کیا جاتا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں ریکوڈک اور سٹیل مل کے فیصلے عدالت نے اچھی نیت سے کیے لیکن ایگزیکٹیو سسٹم کی کمزوری کے باعث منصوبوں میں کرپشن پکڑ نہیں سکی۔‘
انھوں نے کہا کہ نیب قانون کے غلط استعمال سے کتنے لوگوں کے کاروبار تباہ ہوچکے ہیں۔
بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’کرپشن غلط ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن ہونی نہیں چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ کرپشن کا سدباب کس نے اور کیسے کرنا ہے۔‘
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ کرپشن ختم کرنا ایگزیکٹو کا کام ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایگزیکٹو اپنا کام نہیں کر سکی تو عدالت مداخلت کرتی ہے۔
وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ’عدالت نے ہمیشہ عوامی عہدوں پر کرپشن کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک میں بہت سے معاملات میں بہتری بھی آئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے اور سچ سامنے لاتا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا کی ورلڈ رینکنگ میں 180 میں سے 157 نمبر پر ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کرپشن کی رینکنگ میں پاکستان اسی نمبر پر ہے جو نیب ترامیم سے پہلے تھا۔ ان ریمارکس کے جواب میں جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ نیب ترامیم کے بعد اب جو رینکنگ جاری ہوگی اس میں پاکستان یقیناً سو نمبر نیچے جا چکا ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ ’جب سسٹم تباہ ہو رہا ہو تو عدلیہ مداخلت کرتی ہے۔‘ جسٹس اعجازالاحسن نے اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا کہ ’عدالت کس اختیار کے تحت کہ نیب ترامیم کو مفادات کے ٹکراؤ پر کالعدم قرار دے سکتی ہے؟‘
عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ
خود کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی قانون سازی کے لیے ’ریگولیٹری کیپچر‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’کیا پھر ہم حالیہ نیب ترامیم کو ’پارلیمنٹری کیپچر‘ کہیں گے؟‘
اس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ’پارلیمنٹری کیپچر کسی اور معنی میں استعمال ہوتا ہے۔‘
’اسمبلیوں کی تحلیل کی حتمی تاریخ عمران خان لبرٹی چوک جلسے میں دیں گے‘
،تصویر کا ذریعہTWITTER
پنجاب میں صوبائی وزیر اور تحریک انصاف کے رہنما میاں اسلم اقبال نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان آئندہ چند روز میں لاہور لبرٹی چوک میں جلسے کے دوران اسمبلیوں کی تحلیل کی حتمی تاریخ دیں گے۔
ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے حتمی مشاورت کے لیے اہم اجلاس بھی طلب کرلیا ۔ پنجاب اسمبلی اور کے پی اسمبلی کس تاریخ کو توڑی جائے گی، اجلاس میں فیصلہ ہوگا ۔
’اسمبلیاں دسمبر میں ہی ٹوٹیں گی، فیصلہ حتمی ہے۔‘
’ہمارا واضح مطالبہ ہے کہ فوری الیکشن کا اعلان ہو‘
تحریک انصاف کی جانب سے آج لاہور میں ’الیکشن کراؤ ملک بچاؤ‘ مہم کے سلسلے میں ایک ریلی نکالی جائے گی جس کی قیادت مراد راس کریں گے۔
ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ ریلی کا آغاز صدیق ٹریڈ سینٹر سے ہوگا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارا واضح مطالبہ ہے کہ فوری الیکشن کا اعلان ہو ورنہ ہم پنجاب اور خیر پختونخوا میں الیکشن کروا دیں گے۔ انشا اللہ پی ڈی ایم جماعتوں سے مستقل طور پر پنجاب اور پختونخوا کو نجات مل جائے گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سلیمان شہباز کی 14 روزہ حفاظتی ضمانت منظور
،تصویر کا ذریعہSuleman Shehbaz
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سلیمان شہباز کی 14 روزہ حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں لاہور میں سپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کے دوران پوچھا ’سلیمان شہباز آگئے ہیں؟‘ جس پر وکیل نے جواب دیا ’جی سلیمان شہباز موجود ہیں۔‘
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلیمان شہباز کا کہنا تھا کہ ’آج چار سال دو ماہ بعد پاکستان واپس آیا ہوں۔
’ہم نے اپنے آپ کو عدالت کے سامنے سرنڈر کردیا ہے۔ پچھلے چار سال میں جو کھیل تماشا عمران خان نے ملک، میری فیملی کے ساتھ کیا وہ ساری دنیا نے دیکھا۔
’جسٹس جاوید اقبال کالا دھبہ ہے احتساب کے نظام پر۔‘
’جے آئی ٹی ارشد شریف کیس کے حوالے سے روزانہ میٹنگ کرے گی‘
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’جے آئی ٹی ارشد شریف کیس کے حوالے سے روزانہ میٹنگ کرے گی اور کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔‘
’جے آئی ٹی نے خاندان کے علاؤہ دیگر شہادتیں ریکارڈ کروانے والے افراد کی لسٹیں مرتب کر نے کا فیصلہ کیا۔‘
اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ارشد شریف کیس کے حوالے سے جے آئی ٹی کی دوسری میٹنگ ہوئی۔
’جے آئی ٹی کی میٹنگ سی پی او ہیڈکوارٹرز کے دفتر میں منعقد ہوئی۔
ایس پی صدر کو فوری طور پر ارشد شریف کے لواحقین سے رابطہ کرکے جے آئی ٹی کی ملاقات کروانے کی ہدایت کی گئی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’جنرل باجوہ عمران خان کے محسن تھے، محسن کش شخص کے ساتھ کیا مذاکرات کریں‘
،تصویر کا ذریعہAPP
وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح کر دیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے بات چیت کی جائے گی نہ قبل از وقت عام انتخابات ہوں گے۔
گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ملک کی معاشی بحالی، بقا اور سلامتی کے لیے 100 قدم آگے جانے کے لیے تیار ہیں لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ قوموں کی زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں، جب بڑے مقصد کے لیے قربانی دینا پڑتی ہے۔
’لیکن محسن کش شخص کے ساتھ کیا مذاکرات کریں گے، الیکشن ہوا تو عوام اپنا فیصلہ دیں گے۔ عمران خان انا پرست، فراڈیہ اور جھوٹا شخص ہے۔ اپنی انا کے لیے کے لیے کچھ قربان کر سکتا ہے اس کو پاکستان کے مفاد سے کوئی سروکار نہیں۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ عمران نیازی کے محسن تھے لیکن عمران نیازی محسن کش نکلے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں نواز شریف کے کروڑوں چاہنے والے ہیں اور وہ جلد وطن واپس آئیں گے۔
وزیر اعظم نے الزام لگایا کہ عمران نیازی کے چار سالہ دور میں ’انتقامی کارروائیاں عروج پر تھیں۔‘
’عمران نیازی نے آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور کو عید کی رات گرفتار کرایا، دوسری طرف اپنی بہن کو ایمنسٹی سکیم کے ذریعے این آر او دلوا دیا جس کی دبئی اور امریکہ میں جائیدادیں پکڑی گئیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئے آرمی چیف ’پروفیشنل سولجر ہیں اور شاندار کیریئر رکھتے ہیں۔ وہ پاک فوج کو مضبوط کریں گے اور اپنے دائرہ میں رہ کر ملک کی خدمت کریں گے۔‘
ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی صدر مملکت سے ملاقات ’میری اجازت سے ہوئی، صدر نے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔‘
بریکنگ, چیف جسٹس مراد سعید کی ’جان کو لاحق خطرات‘ اور ان کے صدر پاکستان کو لکھے خط کا نوٹس لیں: عمران خان
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’میری چیف جسٹس آف پاکستان سے استدعا ہے کہ اس خط کے متن و مندرجات کا نوٹس لیں۔‘
عمران خان کی جانب سے اپنی ٹویٹ میں جو خط لگایا گیا تھا وہ دراصل پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما مراد سعید کی جانب سے صدر عارف کو لکھا گیا ہے اور اس میں انھوں نے اپنی جان کو لاحق خطرات اور نامعلوم افراد کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کا ذکر کیا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ’بدقسمتی سے ہماری معزز عدلیہ کی عدم مداخلت کے باعث پہلے ہی سینیٹر اعظم سواتی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’اپنی جان کو لاحق خطرات کے بارے میں بذریعہ خط صدرِ مملکت کو آگاہ کرنے کے باوجود ارشد شریف کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بعد میری چیف جسٹس آف پاکستان سے گزارش ہے کہ اس کا نوٹس لیں قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے۔‘
14 سال سے خیبرپختونخوا کا سرکاری ہیلی کاپٹر کہاں کہاں استعمال ہوا، کوئی پوچھ نہیں سکتا، ترمیمی بل منظور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبرپختونخوا کی حکومت
کا سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال سے قانونی ترمیم بل پاس کرلیا گیا ہے۔
بل صوبائی وزیرشوکت یوسفزئی
نے پیش کیا تھا اور یہ ترمیمی بل صوبائی
وزرا کے تنخواہوں اور مراعات کے بل کا حصہ ہیں۔
اس بل کے تحت یکم
نومبر 2008 سے لیکر اب تک سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال کی پوچھ گچھ نہیں کی جاسکے
گی۔ اور 14سال کے دوران دستاویزات کی کمی ہیلی کاپٹر میں سفر کرنےوالے شخص سے بھی
پوچھ گچھ نہیں کی جاسکے گی۔
بل میں مزید کہا گیا
ہے کہ ’سرکاری ہیلی کاپٹر کو کرایہ پر ذاتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا
ہے۔ ذاتی مقاصد کے استعمال کے لیے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے اجازت لینی ہوگی۔‘
بل کے متن کے مطابق
’سرکاری ہیلی کاپٹر اب وزیراعلیٰ کے علاوہ وزیر، مشیر ، معاون خصوصی یا سرکاری
اہلکار بھی استعمال کرسکتا ہے۔
بریکنگ, سونے کی قیمت 169650روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی, تنویر ملکت صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں سوموار کے روز سونے کی قیمت ملکی تاریخ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔
سونے کی قیمت میں صرف ایک دن میں 2350 روپے تولے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور اس کی قیمت 169650 کی سطح پر بند ہوئی۔
سونے کی دس گرام کی قیمت میں بھی ایک دن میں 2016 روپے کا اضافہ دیکھا گیا اور اس کی قیمت 145448 کی سطح تک پہنچ گئی
سیاسی طور پر عدم استحکام سے معیشت متاثر ہو رہی ہے، الیکشن واحد حل ہیں: عمران خان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف
کے رہنما عمران خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملک میں سرمایہ کاری ہو
نہیں رہی، کسی کو اعتماد نہیں اور قرضے آ نہیں رہے اور ملکی معیشت کی حالت بہت بری
ہے۔ ملک میں سیاسی طور پر استحکام نہیں تو معیشت سب سے پہلے متاثر ہوتی ہے۔ ‘
’اس کا واحد حل فوری شفاف
اور آزادانہ انتخابات ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بحیثیت
سرمایہ کار اگر مجھے پانچ ماہ میں پاکستان کا مستبقل غیر یقینی لگا تو میں یہاں پیسہ
نہیں لگاؤں گا۔ روپے کی قدر گرنے کی وجہ سے لوگ ڈالر اور سونا خریدیں گے۔ جو ہو رہا ہے۔‘
انھوں نے عوام
کومخاطب کر کے کہا کہ ’میں سب کو یہ کہنا چاہتا ہوں اگر آج الیکشن کے لیے آواز
بلند نہیں کریں گے تو آپ پھر بغیر سوچے اس پاکستان کو اس صورتحال میں دھکیل رہے
ہوں گے جہاں معیشت اور نیچے جائے گی۔ ‘
ہمارا اتحاد پہلے سے زیادہ مضبوط ہے: چودھری پرویزالٰہی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعلیٰ پنجاب
چودھری پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ ہیں اور
ساتھ رہیں گے۔
یہ بات انھوں نے سابق
وفاقی وزیر مونس الٰہی سے سابق وفاقی وزیر زرتاج گل وزیر کی ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات
میں سیاسی صورتحال اور ڈیرہ غازی خان کے ترقیاتی منصوبوں پر گفتگو کی گئی۔
چودھری پرویزالٰہی
نے کہا کہ ’غلط فہمیاں پیدا کرنے والے پہلے کی طرح ناکام رہیں گے۔ ہمارا اتحاد
پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ ‘
چودھری پرویزالٰہی کا
کہنا تھا کہ ’13 جماعتوں کا اتحاد اکیلے عمران خان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوا
ہے۔‘
اس موقعے پر انھوں
نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان کے ترقیاتی
منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائیں گے۔ اور ڈویلپمنٹ پراجیکٹس میں عوامی
نمائندوں کی مشاورت یقینی بنائی گئی ہے۔
ملک دیوالیہ نہیں ہوگا: اسحاق ڈار
پاکستان کے وزیر خزانہ
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’یہ بیانات دشمنوں کو خوش کرنے کے لیے تو ٹھیک ہیں لیکن
ملکی مفاد میں نہیں۔ ‘
انھوں نے کہا ملک کی
درپیش چیلنجز اس حکومت نے نہیں بنائے۔ انھوں نے ملکی قرضوں کا الزام عمران خان پر
عائد کرتے ہوئے کہا کہ اب ملک کے دیوالیہ ہونے سے متعلق ایسے بیان دینا غیر ذمہ
دارانہ ہیں۔
وزیر اعظم شہباز
شریف اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں کہا اسحاق ڈار نے پُر یقین انداز میں کہا کہ مشکلات ضرور ہیں
لیکن ملک دیوالیہ نہیں ہوگا۔
نیب کی جن شقوں میں ترمیم ہوئی وہ بنیادی حقوق کے خلاف نہیں ہیں: جسٹس منصور علی شاہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی
درخواست پر سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا
کہسپریم کورٹ نے آرمی چیف ایکسٹینشن کیس
میں قانونی خلا کو پر کیا تھا، اسفند یار ولی کیس میں بھی سپریم کورٹ نے ترامیم
کالعدم قرار دی تھیں۔
اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ’ اسفند یار ولی کیس میں عدالت نے انسانی
حقوق سے منافی ہونے پر قانون کالعدم قرار دیا تھا، نیب ترامیم کیس میں تو آپ کہہ رہے ہیں کہ جو
مسنگ ہے اس کو شامل کیا جائے۔‘
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ نیب ترامیم سے جو
شقیں نکالی گئیں ان سے قانون ہی غیر موثر ہو گیا، نیب ترامیم کے خلاف اس مقدمے میں نیب قانون اصل
حالت میں بحال کرنے کا کہا گیا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’نیب کی
جن شقوں میں ترمیم ہوئی وہ بنیادی حقوق کے خلاف نہیں ہیں۔‘
اس موقعے پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نیب قانون میں
بہت سے سقم بھی تھے، نیب قانون میں کسی شخص کو محض الزام پر 90 روز کے لیے گرفتار
کر لیا جاتا تھا، نیب ترامیم ملکی قانون میں پیش رفت ہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’نیب قانون پر ترمیم
سے پہلے بہت تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔‘
وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ نیب
سمیت کسی بھی فوجداری مقدمے میں تحقیقات کے دوران گرفتاری کا حامی نہیں ہوں، اچھے
سے اچھے قانون پر بھی عمل کرنے والے نہ ہوں تو وہ بےوقعت ہوتا ہے، یہ نہیں چاہتے
کہ تمام نیب ترامیم کالعدم قرار دی جائیں۔‘
ان کا مزید
کہنا تھا کہ نیب ترامیم میں پارلیمنٹ کی نیت دیکھنا
بھی ضروری ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’پارلیمنٹ کی نیت جاننے کے لیے نیب ترامیم پر جو
بحث ہوئی وہ دیکھنا ہو گی۔‘
وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ نیب ترامیم پر پارلیمنٹ میں کوئی بحث ہوئی ہی نہیں ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا جسٹس منصور علی شاہ کہ ’حکومتی وکیل کا موقف ہے کہ نیب ترامیم سپریم
کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں ہوئیں، ‘
اس پر عمران
خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں کوئی ترامیم عدالتی فیصلوں
کی بنیاد پر نہیں ہوئی۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا نیب
ترامیم کے خلاف پبلک بھی کچھ کہہ رہی ہے۔ یا پھر عدالت
خود سے تعین کرے کہ نیب ترامیم سے عوام متاثر ہو رہی ہے۔‘
اس موقعے پر چیف جسٹس کا کہنا تھا ’ درشن
مسیح کیس میں پبلک نے عدالت سے رجوع کیا تھا، کیا نیب ترامیم کیس میں پبلک نے عدالت سے رجوع کیا
ہے؟‘
وکیل خواجہ حارث نے کہا ’درشن مسیح کیس میں این
جی اوز نے عدالت سے رجوع کیا تھا، خواہش
ہے کہ کرپشن کے خلاف بھی این جی اوز بن جائیں۔‘
اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا نیب ترامیم کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست زیر التوا
ہے،یہ بھی بتائیں کہ نیب
ترامیم کے خلاف کیس واپس ہائیکورٹ کیوں نہیں بھیجوایا جا سکتا؟
سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست کل 13 دسمبر
تک ملتوی کر دیا۔
چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے کیس کی
سماعت کی
’کیا فوج کو نیب قانون سے باہر رکھنا آئینی ہے؟‘ سپریم کورٹ کا عمران خان کے وکیل سے استفسار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے عمران خان کے وکیل سے دو سوالات پر وضاحت مانگ لی ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے پی ٹی آئی کے وکیل سے استفسار کیا کہ ’افواج پاکستان کو نیب کی دسترس سے باہر رکھا گیا ہے۔ افواج پاکستان کو نیب کی دسترس سے باہر رکھنے پر آپ کی کیا رائے ہے؟‘
وہ پوچھتے ہیں کہ ’نیب قانون سے افواج پاکستان کو باہر رکھنے کی وجوہات کیا ہیں؟ نیب قانون کی دسترس سے تو ججز بھی باہر نہیں ہیں۔ نیب قانون سے افواج پاکستان کو باہر رکھنے کا یہ عمل پی ٹی آئی کی نظر میں آئینی ہے یا غیر آئینی؟‘
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’ایک شخص کو لاکھوں عوام نے ووٹ دے کر رکن پارلیمنٹ منتخب کیا۔ آپ نے دلائل میں کہا کہ رکن پارلیمنٹ عوامی اعتماد کا امانت دار ہے۔ منتخب رکن پارلیمان سے باہر نکل کر کہے کہ فیصلہ سڑکوں پر کروں گا تو کیا یہ جمہوریت ہے؟‘
’اراکین پارلیمنٹ کا پارلیمان کو چھوڑ کر سڑکوں پر فیصلے کرنے سے جمہوری نظام کیسے چلے گا؟ اگر ارکان پارلیمنٹ عوام کا اعتماد جیت کر آئے ہیں تو پارلیمان میں بیٹھیں۔‘
’اگر ہم پاکستان کا حصہ ہیں تو ہمارا حق دیا جائے، پیسے نہ ملے تو ہر حد تک جائیں گے‘
خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلی اور خارجہ نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کے صوبوں کے لوگوں کو مختص کردہ فنڈز سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اس پریس کانفرنس میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان، صوبائی وزیر خزانہ تیمور جھگڑا، گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ خورشید خان، کشمیر کے وزیر خزانہ عبدالماجد خان اور پنجاب کے وزیر خزانہ محسن لغاری شامل ہوئے۔
اس موقع پر محمود خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے وفاق کو کئی خطوط لکھے ہیں اور اسے مالی مشکلات سے باور کرایا ہے مگر ’ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے 1.3 ٹریلین روپے کا بجٹ دیا تھا جس میں عمران خان کے ویژن کے مطابق ترقیاتی منصوبے تکمیل کے قریب ہیں۔ ’بدقسمتی سے ہمیں یہ فنڈز نہیں دیے گئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اتحادی جماعتوں کے اقتدار میں آنے کے بعد سے انھیں مشکلات درپیش ہیں۔
’سیلاب کے دوران اس حکومت نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ 10 ارب روپیہ آپکو دیں گے، ایک بھی پائی انہوں نے ہمیں نہیں دی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت ’ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘
’اگر خیبرپختونخوا پاکستان
کا حصہ ہے تو ہمیں ہمارا حق دیا جائے۔۔۔ اگر ہمیں ہمارے پیسے نہ ملے تو ہم ہر حد
تک جانے کے لیے تیار ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سندھ ہائیکورٹ کا اعظم سواتی کی مزید مقدمات میں گرفتاری روکنے کا حکم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سینیٹر اعظم سواتی کے بیٹے عثمان سواتی کی درخواست پر سماعت کے دوران سندھ ہائیکورٹ نے حکام کو مزید مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما کی گرفتاری سے روک دیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے عثمان سواتی کی درخواست کو فوری سماعت کے لیے منظور کیا جس پر جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ مختصر سماعت کے بعد عدالت نے مزید مقدمات میں اعظم سواتی کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔
عدالت نے عثمان سواتی کی دونوں درخواستوں کو یکجا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئی جی سندھ اور پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو نوٹسز جاری کیے۔ سندھ ہائیکورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ سے 14 دسمبر تک جواب طلب کیا ہے اور کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی ہے۔
خیال رہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ کی جانب سے تمام مقدمات میں رہائی کے بعد اعظم سواتی کو ان کے وکیل کے مطابق سندھ پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔