لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست خارج، میری نظر میں ان کی گرفتاری ہونی چاہیے: رانا ثنا اللہ
لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی تھانہ سنگ جانی اسلام آباد میں درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی ہے جبکہ پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں عمران خان کی گرفتاری ہونی چاہیے کیونکہ عمران خان عدلیہ کا مذاق اڑا رہے ہیں اور اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
لائیو کوریج
پرویز الہٰی: عمران خان کے ہر فیصلے کا ساتھ دیں گے، اسمبلی ان کی امانت ہے
وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی عمران خان کی امانت ہے اور یہ انھیں واپس کر دی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
رانا ثنا اللہ: جس نے عمران خان کے کہنے پر ایف آئی آر نہیں درج کی وہ اسمبلیاں توڑے گا؟
وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان اور پرویز الہٰی کا مقابلہ آپس میں ہے اور دیکھنا ہے کہ ’یوٹرن‘ کون لیتا ہے اور ’سمارٹ ٹرن‘ کون؟
اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان کے کہنے پر جس نے ایف آئی آر درج نہ کی، وہ اسمبلیاں توڑے گا؟
اُنھوں نے کہا کہ ’اسمبلیاں توڑے یا نہ توڑے، ہر صورت میں سیاسی نقصان عمران خان کا ہے۔‘
واضح رہے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ وہ 17 دسمبر کو لاہور میں جلسے کے دوران اسمبلیاں توڑنے کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔
پاکستان دشمن مظاہروں کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کل احتجاج کرے گی: سینیٹر پلوشہ خان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سینیٹر پلوشہ خان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ سب نے دیکھا کے بلاول بھٹو نے انڈین وزیراعظم مودی کو منھ توڑ جواب دیا ہے۔
ان کے مطابق بلاول بھٹو کے تیر کا نشانہ تو مودی تھا لیکن تڑپ بنی گالا میں محسوس ہو رہی ہے۔ بلاول بھٹو کے ایک بیان سے انڈیا کی گلی گلی میں آگ لگی ہے۔ بے جی پی مظاہرے کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کے بیان پر ہمیں فخر ہے۔ انھوں نے کہا کہ کامیاب سفارت کاری کیا ہوتی ھے اب ان کو پتا چل جانا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ایبسولیوٹلی ناٹ کا نعرہ ایسے لگایا جاتا ھے
وہ جو اپنے ملک میں ایبسولیوٹ کا نعرہ لگاتے تھے وہ باہر ڈھیر ھوجاتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان دشمن مظاہروں کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کل احتجاج کرے گی۔
عمران خان آج شام لاہور میں تحریک انصاف کے جلسہ سے خطاب کریں گے
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کا آج شام لاہور میں بڑا جلسہ ہونے جا رہا ہے، جس کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ عمران خان اس جلسے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔
ان کے مطابق آج اہلیان لاہور کو آنے کی دعوت دے رہے ہیں اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ ان کے مطابق مسلسل عوام کی سیاسی آزادیوں پر حملہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ 1100 ارب روپے کا این۔ ار۔ او دے دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق اشیا خوردونوش انتہائی مہنگائی ہو چکی ہیں۔
وقت پر روس سے تیل نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق معشیت کا یہ حال ہے کہ اسحاق ڈار کی بات مانیں یا مفتاح اسماعیل کی بات۔
حماد اظہر کے مطابق جس پارلیمنٹ کو سیکٹیڈ کہتے تھے آج اسی کو بچانے کی کوشیش کی جا رہی ہے۔
نہ ہم ڈریں گے نہ جھکیں گے
آج بھی اعظم سواتی اور شہباز گل کو ہراساں کیا جارہا ہے۔
اس ملک کو الیکشن کی طرف لے کر جائیں۔
گھڑیوں کی فروخت کا معاملہ: ’میرے وکلا نے جیو ٹی وی، شاہزیب خانزادہ اور عمر فاروق کے خلاف مجرمانہ ہتک عزت کا دعویٰ کر دیا‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, ’میں بے بس تھا، نیب نے کس پر کتنا دباؤ ڈالنا ہے یہ فیصلہ جنرل باجوہ کرتے تھے:‘ عمران خان
،تصویر کا ذریعہPTI
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ جنرل
باجوہ فیصلہ کرتے تھے کہ نیب نے کس پر کب اور کتنا دباؤ ڈالنا ہے اور کب چھوڑنا ہے
اور کب قید کرنا ہے، ہم بالکل بے بس تھے، وزیراعظم بے بس بیٹھا تھا۔
اسلام آباد میں منعقدہ ’رول آف لا کانفرنس‘ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے
کہا کہ موجودہ حکومت نے سازش کے تحت ملک میں رجیم چینج کی اور اپنے تمام مقدمات
ختم کروائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے دور میں ان کیسز پر پوری کوشش کی کیونکہ ان کے
مقدمات میچور تھے لیکن نیب کے اندر سے ہمیں کہتے تھے پیچھے سے اجازت نہیں ہے اور پیچھے
سے جنرل باجوہ اجازت نہیں دیتے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ وکلا کو ملک کی خاطر اپنی ذمہ داری نبھانی پڑے گی، این آر او
اپنی کرسی بچانے کے لیے ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو کرپشن چھپانے کے لیے بلیک میل
کرتے ہیں، جو جنرل پرویز مشرف نے دیا تھا اور اس مرتبہ جنرل باجوہ نے کیا۔
عمران خان نے کہا کہ کوئی مقدس گائے نہیں ہے جو اپنے آپ کو قانون کے اوپر بٹھا
دیتے ہیں اور ملک میں سب کے سامنے مذاق ہوتا ہے۔
اپنے ویڈیو خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں وسائل کی موجودگی کے باوجود
قانون کی حکمرانی کے بغیر معاشی استحکام نہیں آسکتا اور اس کے لیے عدلیہ اور وکلا
کا بڑا اہم کردار ہے۔ ملک کو دلدل سے صرف ایک چیز قانون کی حکمرانی ہی نکال سکتی
ہے
انھوں نے کہا کہ لوگوں کو بڑی غلط فہمی ہے کہ معاشی طور پر ایک دم ایشین ٹائیگر
بن جائیں گے، چین کی طرح ترقی کر سکتے ہیں، لاہور کو پیرس بنا سکتے ہیں لیکن جب تک
ملک کے اندر انصاف اور قانون کی حکمرانی نہیں ہے تو کوئی ملک خوش حال نہیں ہوسکتا
ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی وسائل کے باوجود کسی ملک میں قانون کی حکمرانی
کے بغیر خوش حالی نہیں دیکھی، پاکستان میں گزشتہ آٹھ ماہ سے قانون کی حکمرانی کی
دھجیاں اڑائی گئی ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی معشیت کو کبھی ایسے چیلنج کا سامنا نہیں رہا
جو آج ہے، کاروباری برادری، کسان، مزدور سمیت تمام طبقے آج خوف زدہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے یہ بات بڑی تشویش ناک ہے کہ پچھلے سات سے آٹھ ماہ میں
ساڑھے سات لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں، یہ تعداد گزشتہ ادوار کے مقابلے
میں تقریباً سات گنا زیادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی کے لیے وکلا کی بڑی ذمہ داری ہے قانون کی
حکمرانی کو عدلیہ اور وکیل برقرار رکھتا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ چین کو مغرب جمہوریت معاشرہ نہیں کہتا لیکن صدر شی جن پنگ
نے 450 وزیروں کو آٹھ سال میں کرپشن پر جیلوں میں ڈالا۔
بریکنگ, روس سے سستا تیل خریدنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، وزرات خارجہ کو تمام تفصیلات دیں گے، مصدق ملک
،تصویر کا ذریعہ@RadioPakistan
پاکستان کے وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک کا کہنا ہے کہ روس سے سستا
خام تیل خریدنے کی کوشش ہو رہی ہے اور یہ معاملہ آگے بڑھ رہا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان
روس سے سستا خام تیل خریدنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس معاملے میں روسی حکام سے بات
چیت ہو رہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ روسی وفد جنوری کے دوسرے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کر رہا
ہے جس میں معاملات کو طے کرنے اور رعائتی قیمت پر تیل خریدنے پر بات چیت ہو گی۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے روسی تیل نہ خریدنے کے بیان پر ان کا کہنا تھا کہ
بلاول بھٹو نے ٹھیک کہا کہ اس وقت ہم روس سے تیل نہیں خرید رہے تاہم روس سے سستا تیل لینے کا معاملہ آگے بڑھ رہا ہے، اس حوالے سے روس کے ساتھ جو معاملات طے ہوئے ہیں اس کی تفصیلات وزارت خارجہ کو دیں گے تاکہ کوئی ابہام نہ ہو، ہمارا فرض ہے کہ وزارت خارجہ کو آن بورڈ لیں، ہماری وزارت کو اس معاملے پر اضافی کام کرنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے امریکی خبر
رساں ادارے پی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان روس سے سستی
توانائی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
انٹرویو میں بلاول بھٹو سے سوال کیا گیا کہ پاکستان نے حال ہی میں اعلان
کیا ہے کہ روس سے سستا تیل خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ پاکستان اور چین کا
تعلق بھی مضبوط ہوا ہے؟ تو کیا پاکستان امریکہ کا اتحادی ہوتے ہوئے جیو پولیٹیکل
حریفوں سے کاروبار کر سکتا ہے؟
بلاول بھٹو نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان اور چین ہمسایہ ممالک
ہیں جن کی ایک پرانی تاریخ ہے اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں معیشت شراکت
داری کا اہم نکتہ ہے۔
دوسری جانب بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کی تاریخ بھی
کافی پرانی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس لیے پاکستان کے لیے یہ ممکن ہے کہ چین اور
امریکہ دونوں سے اچھے تعلقات رکھے۔
تاہم بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان روس سے سستی توانائی کی مد میں کچھ
حاصل نہیں کر رہا اور ناہی کوشش کر رہا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان ایک مشکل معاشی صورت حال اور مہنگائی کا
سامنا کر رہا ہے جس میں توانائی کا شعبہ بھی عدم تحفظ کا شکار ہے اور اس ضرورت کو
پورا کرنے کے لیے مختلف طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ روس سے کسی قسم کی توانائی کو استعمال کے قابل بنانے
کے لیے پاکستان کو وقت درکار ہو گا۔
پرویز الہٰی: پنجاب اسمبلی کے متعلق عمران خان کا فیصلہ حتمی ہو گا
چوہدری پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے متعلق عمران خان کا فیصلہ حتمی ہو گا۔
اُنھوں نے کہا کہ 13 جماعتیں مل کر بھی قومی معیشت کو سنبھال نہیں پا رہیں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وفاق کی طرف سے پنجاب کے 170 ارب روپے روکنا قابلِ مذمت ہے اور وفاقی حکومت نے گریٹر تھل کینال منصوبے میں پنجاب کے کاشتکار سے دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بلاول بھٹو: اسامہ بن لادن مر چکے، مگر ’گجرات کا قصائی‘ زندہ ہے
پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اقوامِ متحدہ میں انڈیا کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن مر چکے ہیں مگر گجرات کا قصائی زندہ ہے اور انڈیا کا وزیرِ اعظم ہے۔
گذشتہ روز انڈین وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن کو پناہ دینے والا ملک (پاکستان) ہمیں دہشتگردی پر لیکچر نہ دے۔
ان کا یہ بیان پاکستان کی جانب سے لاہور کے جوہر ٹاؤن دھماکے کا ذمہ دار انڈیا کو قرار دینے کے بعد سامنے آیا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نریندر مودی پر تو امریکہ میں داخلے پر پابندی تھی جب تک کہ وہ وزیرِ اعظم نہیں بن گئے۔
اُنھوں نے کہا کہ مودی آر ایس ایس کے وزیرِ اعظم ہیں اور آر ایس ایس کا تصور ہٹلر کی نازی جماعت سے لیا گیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان روس سے سستی توانائی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا، بلاول بھٹو
پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان روس سے سستی توانائی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
امریکی خبر رساں ادارے پی بی ایس کے انٹرویو میں بلاول بھٹو سے سوال کیا گیا کہ پاکستان نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ روس سے سستا تیل خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ پاکستان اور چین کا تعلق بھی مضبوط ہوا ہے؟ تو کیا پاکستان امریکہ کا اتحادی ہوتے ہوئے جیو پولیٹیکل حریفوں سے کاروبار کر سکتا ہے؟
بلاول بھٹو نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان اور چین ہمسایہ ممالک ہیں جن کی ایک پرانی تاریخ ہے اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں معیشت شراکت داری کا اہم نکتہ ہے۔
دوسری جانب بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کی تاریخ بھی کافی پرانی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس لیے پاکستان کے لیے یہ ممکن ہے کہ چین اور امریکہ دونوں سے اچھے تعلقات رکھے۔
تاہم بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان روس سے سستی توانائی کی مد میں کچھ حاصل نہیں کر رہا اور ناہی کوشش کر رہا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان ایک مشکل معاشی صورت حال اور مہنگائی کا سامنا کر رہا ہے جس میں توانائی کا شعبہ بھی عدم تحفظ کا شکار ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مختلف طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ روس سے کسی قسم کی توانائی کو استعمال کے قابل بنانے کے لیے پاکستان کو وقت درکار ہو گا۔
اختر مینگل کی ریکوڈک معاہدے کی مذمت، بلوچستان کے لیے مزید حصے کا مطالبہ, محمد کاظم، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہAFP
وفاق میں حکومت کی اتحادی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ سی پیک کے معاہدے کی طرح ریکوڈک کے معاہدے کے بارے میں کسی کو پتا نہیں ’ماسوائے ان لوگوں کے جنھوں نے اس کو ڈنڈے کے زور پر کروایا ہے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ یہاں جب بھی قانون سازی ہوئی ہے تو چھوٹے صوبوں کے لیے انہونی ہوئی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ جب ریکوڈک کے حوالے سے تحریک انصاف کی حکومت میں معاہدہ ہوا تو اس وقت بھی ہمیں اس معاہدے پر اعتراض تھا۔
’ہمارا یہ کہنا ہے کہ جب یہ بلوچستان میں ہے تو بلوچستان کو اس کا مالک تسلیم کیا جائے لیکن یہاں مالک تسلیم کرنے کے بجائے حصے میں فیصد کی بات کی جاتی ہے۔ جب آپ فیصد اور شیئر کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ملکیت تسلیم نہیں کرتے۔‘
اُنھوں نے بتایا کہ اب تک ریکوڈک کے حوالے سے جو باتیں سامنے آئی ہیں اس میں بلوچستان کا حصہ 10 فیصد ہے جبکہ 15 فیصد کے لیے اس کے حصے کے لیے وفاقی کمپنیاں سرمایہ کاری کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ بلوچستان کا حصہ اس طرح 25 فیصد ہو گا حالانکہ کم از کم اس کا حصہ 50 فیصد ہونا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے اس سلسلے میں غور و خوض کے لیے اپنی پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔
اس سوال پر کہ کیا اس اجلاس میں ریکوڈک کے معاملے پر حکومت سے علیحدگی کا آپشن بھی زیرغور ہو گا تو ان کا کہنا تھا ’سب آپشنز زیر غور ہوں گے، صرف ریکوڈک اور معدنیات کے حوالے سے صوبوں کے اختیارات کو سلب کرنے کا ایشو نہیں ہے بلکہ اور بھی ایشوز ہیں جن میں لاپتہ افراد کا بھی مسئلہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’لاپتہ افراد کے حوالے سے سابق حکومت کی طرح اگرچہ موجودہ حکومت سے تحریری معاہدہ نہیں ہوا لیکن حکومت نے زبانی وعدہ کیا تھا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کیا جائے گا۔ یہ مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ جو کئی سال سے لاپتہ تھے جعلی مقابلوں میں ان کی لاشیں بازیاب ہو رہی ہیں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ریکوڈک اور معدنیات سے متعلق نئی قانون سازی کے خلاف بلوچستان بھر میں 18 دسمبر کو احتجاج ہو گا۔
توشہ خانہ کیس میں فوجداری کارروائی کی درخواست منظور: عدالت کا عمران خان کو 9 جنوری کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے الیکشن کمیشن کی طرف سے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے خلاف فوجداری دفعات کے تحت کارروائی شروع کرنے سے متعلق درخواست کو قابل سماعت قرار دے کر عمران خان کو 9 جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے۔
اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج ظفر اقبال نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کو نو جنوری کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں ہیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف کی طرف سے توشہ خانہ سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا اور استدعا کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو اگر کالعدم قرار نہیں دیا جاتا تو کم از کم اس فیصلے کو معطل کردیا جائے لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی یہ استدعا مسترد کردی تھی۔
اب اس مقدمے میں عمران خان کو فوجداری ٹرائل سے گزرنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات شروع
وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اور صدر مملکت عارف علوی کی لاہور میں ایوان وزیراعلیٰ میں ملاقات شروع ہو گئی ہے، جس میں آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل اور پنجاب اسمبلی کی تحلیل سے متعلق بات چیت ہو گی۔
خیال رہے کہ حکومتتی وزرا نے نے بھی گذشتہ روز صدر مملکت سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد وزیر قانون نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عمران خان پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں تحلیل کریں گے تو پھر حکومت دونوں صوبوں میں انتخابات کرائے گی۔
اعظم سواتی کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع، قانونی ٹیم کو ملاقات کی اجازت مل گئی, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہsocial media
اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعظم سواتی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کرتے ہوئے کیس کا چالان پیش نہ کرنے پر تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کردیا ہے۔
جمعرات کو سماعت کے دوران اعظم سواتی کے وکیل بابر اعوان عدالت پیش ہوئے، عدالت نے کہاکہ آپ کے کیس میں ابھی چالان نہیں جمع ہوا ہے، جس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ تین دن یہ کہتے رہے ضمانت میں دلائل دیں گے پھر جج کی ٹرانسفر کرادی، دو ہائی کورٹس نے قانون کی حکمرانی کی اعلیٰ مثال قائم کی تمام مقدمات ختم کر دیے، ٹویٹ کے اوپر کسی کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس میں آپ کو ابھی ضمانت نہیں ملی ؟،جس پر اعظم سواتی کے وکیل نے کہا کہ ابھی نہیں ملی دو دن یہ جج کے ساتھ کھیل کھیلتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں اس طرح نہیں ہوا کہ جج کے ساتھ یہ کھیل کر رہے ہیں۔
عدالت نے اعظم سواتی کو پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیا اور دوبارہ سماعت شروع ہونے پر عدالت نے ویڈیو لنک کے ذریعے اعظم سواتی کی حاضری لگائی اور ملزم سےاستفسار کیا کہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں جس پر اعظم سواتی نے بتایا کہ قانون کی حکمرانی کے لیے جدو جہد جاری رکھیں گے اور آزاد عدلیہ کے لیے جدو جہد جاری رکھیں گے۔
دوران سماعت تفتیشی افسرنے عدالت کو بتایا کہ ٹوئٹر سے ریکارڈ اور ٹیکنیکل رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔
عدالت نے تفتیشی افسرکو چالان پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ آپ ضمنی چالان تو پیش کریں۔ عدالت نے کہا کہ آج نوٹس دے رہا ہوں آئندہ سماعت پر چالان نہ آیا تو آپ کی سیلری بند ہو گی۔
عدالت نے وکلا کو اعظم سواتی سے ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ آپ بتا دیں کس وقت ملاقات کریں گے، عدالت نے اعظم سواتی کے جوڈیشل میں 14 روزہ توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
اسامہ بن لادن کا میزبان اور پڑوسی ملک کی پارلیمنٹ پر حملہ کرانے والا ملک کشمیر پر لیکچر نہ دے: انڈیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیرخاجہ جے شنکر نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی کثیرالجہتی اصلاحات کے عنوان پر اقوام متحدہ میں تقریر میں کشمیر کے تنازع پر بات کرنے پر ردعمل میں کہا ہے کہ ایک ایسا ملک جس نے القاعدہ کے مارے جانے والے سربراہ اسامہ بن لادن کی میزبانی کی ہے اور پڑوسی ملک کی پارلیمنٹ پر حملہ کیا ہے اسے کشمیر پر لیکچر دینے کا حق نہیں پہنچتا ہے۔
جے شنکر نے کہا کہ اقوام متحدہ کا اصل امتحان ہمیں درپیش اہم چیلنجز سے مؤثر انداز سے نمٹنے میں ہے۔ ان کے مطابق ان چیلنجز میں چاہے عالمی وبا ہو یا ماحولیاتی تبدیلی، کوئی تنازع ہو یا دہشتگردی کا چیلنج درپیش ہو۔
انڈین وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ دنیا کو سرحد پار سے دہشتگردی جیسی کارروائیوں میں معاونت کو جواز نہیں دینا چاہیے۔
واضح رہے کہ انڈیا کے وزیرخارجہ نے انڈین پارلیمنٹ پر ہونے والے اس واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے جب 18 برس قبل 13 دسمبر کو انڈیا کے دارالحکومت نیو دہلی میں واقع پارلیمنٹ پر شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’پاکستان نے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے پر انڈیا کے خلاف بین الاقوامی قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔‘
جمعرات کو پریس بریفنگ میں دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے بتایا کہ ’پاکستان نے جوہر ٹاؤن لاہور میں دہشتگردی کے واقعے پر جامع ڈوزیئر تیار کر لیا ہے۔‘
اس سے قبل بدھ کو وزیرمملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں انڈیا کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کا ڈوزیئر اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کو پیش کر دیا گیا ہے۔
حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں انڈیا ملوث ہے۔ ان کے مطابق ’اگر آپ پڑوسیوں کے گھر میں آگ لگانے کی کوشش کریں گے تو آگ آپ کے گھر بھی آئے گی۔‘
صدر مملکت عارف علوی بے اختیار ہیں، ان کے ساتھ ملاقاتیں بے نتیجہ رہیں: وزیرداخلہ رانا ثنااللہ
،تصویر کا ذریعہPID
وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے اپنی ہی حکومت کے وزرا کی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو بے نتیجہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان ملاقاتوں کا نتیجہ صفر برابر صفر ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز وزیر قانون اور سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے صدر عارف علوی سے ملاقات کی تھی۔ اس سے قبل وزیرخزانہ اسحاق ڈار بھی متعدد بار صدر مملکت سے ملاقاتیں کر چکے ہیں، جن میں ان کے مطابق معیشیت پر بریفنگ کے علاوہ اور امور پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر عارف علوی کے ساتھ حکومتی نمائندوں کی گذشتہ روز کی ملاقاتوں سمیت تمام ملاقاتیں بے سود رہیں۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ فیصلہ سازی کا تمام اختیار عمران خان کے پاس ہے اور عارف علوی بے اختیار ہیں۔
عارف علوی سے ملاقات کے بعد وزیرقانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے جیو نیوز کو بتایا کہ اگر عمران خان پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کر دیں تو پی ڈی ایم دونوں صوبوں میں انتخابات کے لیے تیار ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں یہ ایک نیا تجربہ ہو گا لیکن دنیا کے بہت سے ایسے ممالک میں مثالیں ملتی ہیں جہاں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات مرکز میں ہونے والے انتخابات کے ساتھ منعقد نہیں ہوئے۔
صدر سے ملاقات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر نے تباہ حال معیشت کو مستحکم کرنے کے حوالے سے کچھ تجاویز دی ہیں۔
عارف علوی عمران خان سے ملاقات کے لیے زمان پارک پہنچ گئے
صدر عارف علوی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے ہیں۔
جنرل باجوہ نے پاکستان کے ساتھ وہ کیا ہے جو کوئی دشمن نہ کر سکے
،تصویر کا ذریعہPTI
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے این آر او ون جبکہ جنرل قمر باجوہ نے این آر او ٹو دیا ہے جس کے تحت کرپشن کے مقدمات معاف ہو رہے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ان سات مہینوں میں جس طرح ہمارے ساتھ کھلی دشمنی کی گئی وہ کبھی نہیں دیکھی، گمنام نمبروں سے فون آ رہے تھے کہ عمران خان کا ساتھ چھوڑ دو۔
’جو ارشد شریف، اعظم سواتی، شہباز گل اور جمیل فاروقی کے ساتھ ہوا وہ صرف اس لیے ہوا کیونکہ ہمارے حق میں بیانات دے رہے تھے۔‘
عمران خان نے کہا کہ جنرل مشرف کے مارشل لا کے دور میں بھی انسانی حقوق کی وہ خلاف ورزی نہیں دیکھی جو اس دفعہ ہوئی۔
اُنھوں نے کہا کہ جنرل باجوہ نے پاکستان کے ساتھ وہ کیا ہے جو کوئی دشمن نہ کر سکے۔
عمران خان نے کہا کہ سمجھ نہیں آ رہا کہ اس معاشی گرداب سے ملک کو کون نکالے گا۔
’پی ٹی آئی پاکستان کی سب سے بڑی، قومی سطح کی اور وفاقی جماعت ہے، اسے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔‘
عمران خان کہا کہنا تھا کہ ان کا منھ بند کرنے کے لیے ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا لیکن یہ منھ نہیں بند ہو گا۔
’ادارے میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف ایکشن لینے سے ادارے کا وقار بلند ہوتا ہے۔‘
اپنے خلاف کیسز پر بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کا یک نکاتی ایجنڈا ہے کہ انھیں نااہل کیا جائے۔
اُنھوں نے کہا کہ جس وقت بھی توشہ خانہ کیس عدالت میں جائے گا، یہ ثابت ہو جائے گا کہ ہر چیز اخلاقی اور قانونی طور پر جائز کی ہے۔
’فارن فنڈنگ کیس کی بھی جب تحقیقات ہوں گی تو واضح ہو جائے گا کہ تحریکِ انصاف واحد جماعت ہے جس نے درست انداز میں فنڈنگ کی ہے۔‘
عمران خان: 17 دسمبر کو پنجاب، کے پی اسمبلیوں کی تحلیل کی تاریخ دوں گا
عمران خان نے کہا کہ وہ 17 دسمبر کو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں کی تحلیل کی تاریخ دیں گے۔
اپنے ایک خطاب میں اُنھوں نے کہا کہ یہ اعلان وہ لاہور میں ایک پارٹی اجتماع میں کریں گے۔
اس کے علاوہ اُنھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے جن ارکان کے استعفے منظور نہیں کیے گئے ان کے لیے سپیکر قومی اسمبلی کے سامنے جا کر کہا جائے گا کہ استعفے منظور کیے جائیں۔
جوہر ٹاؤن حملہ: ماسٹر مائنڈ، سہولت کار آزاد اور انڈین سرپرستی میں ہیں، حنا ربانی کھر
،تصویر کا ذریعہPTV
وزیرِ مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے انڈیا کے متعلق کہا ہے کہ ’دہشتگردی پھیلانے والا ملک‘ آج خود کو سب سے بڑا دہشتگردی کا متاثر قرار دے رہا ہے اور کوئی بھی اس ’منافقت‘ کا پردہ چاک کرنے کو تیار نہیں ہے۔
وہ اسلام آباد میں لاہور کے جوہر ٹاؤن بم دھماکے کے متعلق ایک پریس کانفرنس کر رہی تھیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکومت نے گذشتہ روز ایک دستاویز کے ذریعے دعویٰ کیا ہے کہ اس واقعے کی منصوبہ بندی سے لے کر اس پر عملدرآمد تک کو انڈیا کی سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔
وزیرِ مملکت نے بتایا کہ ’آج سیکریٹری خارجہ نے ڈپلومیٹک کور کو بلایا اور ان سے انڈیا کے اس دہشتگردی کے واقعے میں ملوث ہونے کے ثبوتوں پر مبنی ڈوزیئر کا تبادلہ کیا۔‘
اُنھوں نے کہا کہ جو ملک پاکستان میں دہشتگردی کا ذمہ دار ہے وہی دہشتگردی کے معاملے پر سب سے زیادہ ڈھول پیٹ رہا ہے۔
حنا ربانی کھر نے کہا کہ اس دہشتگرد حملے کی منصوبہ بندی اور اس کی حمایت انڈیا نے کی اور اس کا مقصد عام افراد کو نشانہ بنانا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس حملے کے ماسٹرمائنڈ اور سہولت کار اب بھی آزاد ہیں اور انڈین حکومت کی حفاظت میں رہ رہے ہیں، پاکستان نے جن افراد کو سزا دی ہے وہ صرف فرنٹ مین ہیں۔
حنا ربانی کھر نے سمجھوتہ ایکسپریس، گجرات فسادات وغیرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی دہشتگرد پراکسیز پڑوسی زمینوں کو استعمال کرتے ہوئے بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کو مدد فراہم کر رہی ہیں اور اس سب کا مقصد پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ کسی ملک نے انڈیا سے زیادہ دہشتگردی سے فائدہ نہیں اٹھایا ہے اور آج خود کو انسدادِ دہشتگردی کا چیمپیئن قرار دے رہا ہے۔