لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست خارج، میری نظر میں ان کی گرفتاری ہونی چاہیے: رانا ثنا اللہ

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی تھانہ سنگ جانی اسلام آباد میں درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی ہے جبکہ پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں عمران خان کی گرفتاری ہونی چاہیے کیونکہ عمران خان عدلیہ کا مذاق اڑا رہے ہیں اور اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

لائیو کوریج

  1. سپریم کورٹ کا ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ آج ہی درج کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو آج ہی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ ہیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ کئی روز سے تحقیقاتی کمیٹی وطن واپس آچکی ہے لیکن اس کی رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ آج ہی درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    عدالت نے ایف آئی اے کے سربراہ کو آج ہی مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

    ’ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا؟‘

    سماعت کے دوران بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الااحسن نے استفسار کیا کہ ’کیا یہ درست ہے کہ قتل کا مقدمہ نہ کینیا میں درج ہوا نہ پاکستان میں؟

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہماری معلومات کے مطابق کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔‘

    سکریٹری خارجہ نے عدالت کو بتایا کہ ’پاکستان کا علم نہیں، کینیا سے معلومات لے کر آگاہ کریں گے۔‘ جس پر عدالت نے دفتر خارجہ سے کینیا میں تحقیقات اور مقدمہ درج ہونے سے متعلق کل تک جواب مانگ لیا ہے۔

    بینچ کے سربراہ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا؟‘

    اس پر سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا جائزہ لے کر مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ ہوگا۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سوال کیا کہ ’کیا مقدمہ درج کرنے کا یہ قانونی طریقہ ہے؟‘

    جسٹس اعجاز الااحسن کا کہنا تھا ’مقدمہ درج کیے بغیر تحقیقات کیسے ہوسکتی ہیں؟‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’صحافی سچائی کی آواز ہیں۔ یہ انسانی زندگی کا معاملہ ہے، ارشد شریف نامور صحافی تھے۔‘ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’صحافی ہی معلومات کا ذریعہ ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’قتل سے متعلق عوام کو بہت خدشات ہیں۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ارشد شریف قتل کے تمام حقائق کو سامنے لانا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’ارشد شریف کے قتل پر کس کس پر انگلی نہیں اٹھائی گئیں؟‘

  2. ارشد شریف کے معاملے پر سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس خوش آئند ہے: فواد چوہدری

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’ارشد شریف کی شہادت پر ازخود نوٹس خوش آئند ہے۔

    ’سپریم کورٹ اور جج صاحبان سے عوام کی توقع ہے کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کے لیے جو بھی دباؤ ہو اس کے باوجود آئین کی حاکمیت کے لیے کھڑے ہوں گے اور انسانی حقوق کی حفاظت کریں گے۔‘

  3. ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس: سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینج میں کون شامل؟

    ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کریں گے۔

    اس بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں۔

  4. ہائیکورٹس توہین الیکشن کمیشن کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستوں پر جلد فیصلہ کریں: سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے رہنماؤں عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس کو حکم دیا ہے کہ اس معاملے میں زیر التوا درخواستوں کو نمٹایا جائے اور اس پر جلد فیصلہ کیا جائے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق ان کو لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی قیادت کے خلاف حکم دینے سے روک رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کے خلاف حکم توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی مکمل ہونے پر ہو سکے گا۔

    سپریم کورٹ کی طرف سے یہ ابزرویشن بھی آئی کہ لاہور ہائیکورٹ نے توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی سے نہیں حتمی فیصلے سے روکا ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف قانون کے مطابق توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی جاری رہے گی۔

  5. پاکستان کا قرضہ پچاس ہزار ارب روپے سے زیادہ ہو گیا, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان کی وفاقی حکومت کے ذمے واجب الادہ قرضہ پچاس ہزار ارب سے زیادہ ہو گیا ہے۔

    پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مالی سال کے مہینے اکتوبر کے اختتام تک وفاقی حکومت کے ذمے واجب و الادہ اندرونی و بیرونی قرضے کا حجم پچاس ہزار ارب روپے سے زیادہ ہو گیا ہے۔

    گذشتہ سال اکتوبر کے مقابلے میں اس میں 24.5 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور اس دوران اس قرضے میں 9900 ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    گذشتہ سال اکتوبر کے مہینے کے اختتام پر وفاقی حکومت کے ذمے واجب الادہ قرضہ 40 ہزار ارب روپے تھا۔ مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک مہینے میں یعنی ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر میں اس قرضے میں 750 ارب کا اضافہ ہوا۔

  6. بریکنگ, صحافی ارشد شریف کے قتل پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا ازخود نوٹس، سماعت آج ہوگی

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے صحافی ارشد شریف کے ’ظالمانہ‘ قتل کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سماعت آج کے لیے مقرر کر دی ہے۔

    اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ملک میں صحافی برادری اور عوام صدمے میں ہے، سینیئر صحافی کی موت پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں اور معاملے پر عدالت کے جائزے کے منتظر ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے اس ضمن میں سکریٹری داخلہ، خارجہ، انفارمیشن، ڈی جی ایف آئی اے اور آئی بی، پی ایف یو جے کے صدر کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔

    ازخود نوٹس کی سماعت آج دوپہر ساڑھے بارہ بجے پانچ رکنی لارجر بینج کرے گا جس کی سربراہی چیف جسٹس کریں گے۔

    دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی پر ارشد شریف کی والدہ نے عدم اعتماد ظاہر کیا تھا اور عمران خان نے سپریم کورٹ سے اس معاملے پر تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

  7. سیالکوٹ ایئرپورٹ کا رن وے مرمت کے باعث بند

    سول ایوی ایشن کے اعلامیے کے مطابق سیالکوٹ ایئرپورٹ کا رن وے مرمت کے باعث پانچ سے 20 دسمبر تک بند رہے گا۔

    ترجمان پی آئی اے نے کہا ہے کہ اس دوران سیالکوٹ ایئرہورٹ سے آپریٹ ہونے والی تمام پروازیں عارضی طور پر لاہور ایئرپورٹ منتقل کر دی گئی ہیں۔

    ’ایئرپورٹ انتظامیہ نے 16 روز کے لیے رن وے بند رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ پی آئی اے کی مذکورہ تاریخوں کی تمام پروازیں سیالکوٹ ایئرپورٹ کے بجائے علامہ اقبال ایئرپورٹ لاہور پر آپریٹ ہوں گی۔‘

  8. ’گیارہ سو ارب روپے کے کرپشن کیسز معاف کیے جا رہے ہیں‘، عمران خان کا دعویٰ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’این آر او ٹو‘ سے ’قوم کی جیبوں پر دن دیہاڑے ڈاکہ‘ ڈالا گیا ہے۔

    وہ ٹویٹ میں کہتے ہیں کہ ’اس قوم نے این آر او ون کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ ان دو مجرم خاندانوں اور ان کے حواریوں کی لوٹ مار نے دس برس میں ہمارا قرض چار گنا بڑھا دیا۔

    ’این آر او ٹو تو اس سے بھی بڑھ کر شرمناک ہے! 1100 ارب روپے کے کرپشن کیسز کو معافی و استثنیٰ دیا جا رہا ہے۔‘

  9. عمران خان کی ہدایت پر ’الیکشن کراؤ، ملک بچاؤ‘ تحریک سات دسمبر سے

    ترجمان وزیراعلٰی و پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر ’الیکشن کراؤ، ملک بچاؤ‘ تحریک کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے جس کا آغاز لاہور میں حماد اظہر کے حلقہ این اے 126 سے آغاز ہوگا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس تحریک میں ’11 روز میں ریلیوں کے ذریعے فوری الیکشن کا اعلان، معیشت دیوالیہ ہونے سے بچانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔‘

    ’19 یا 20 دسمبر کو لبرٹی چوک لاہور کی غیور عوام امپورٹڈ حکومت کے خلاف تاریخی ریلی کی صورت میں احتجاج کرے گی۔ ہم اس ملک دشمن ٹولے کو پاکستان کی بقاء خطرے میں ڈالنے کی ہرگز نہیں دیں گے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. بریکنگ, روس پاکستان کو سستے داموں پیٹرول اور ڈیزل فراہم کرے گا: مصدق ملک

    minister

    ،تصویر کا ذریعہPID

    وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک کا کہنا ہے کہ ان کا دورہ روس کامیاب رہا اور اب روس پاکستان کو سستے نرخوں پر پیٹرول، ڈیزل اور خام تیل فراہم کرے گا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصدق ملک کا کہنا تھا عوام کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ ان کا روس کا دورہ ہماری امیدوں سے زیادہ کامیاب رہا۔

    انھوں نے کہا کہ روس کے ساتھ خام تیل، پیٹرول اور ڈیزل سے متعلق معاہدے ہو گئے ہیں، روس ہمیں رعایتی قیمت پر خام تیل فراہم کرے گا، روس پاکستان کو پیٹرول اور ڈیزل بھی سستی قیمت پر دے گا۔

    وزیر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ برس دنیا گرین انرجی کی طرف گئی، دنیا نے ایسے میں ایل این جی کا بڑا حصہ خرید لیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’روس کے پاس ابھی ایل این جی موجود نہیں ہے لیکن روس میں نجی کمپنیوں سے ایل این جی کے لیے بات چیت شروع ہو گئی ہے، روس کے سرکاری ایل این جی کارخانوں سے بھی بات چیت شروع ہو گئی ہے۔

    مصدق ملک نے بتایا کہ روس سے پائپ لائن سے متعلق بھی گفتگو کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ روس کی حکومت ایل این جی کے نئے کارخانے بنا رہی ہے، روس کے نئے کارخانوں سے ایل این جی کے نئے معاہدے کریں گے۔

  11. ’توہینِ الیکشن کمیشن‘ کا معاملہ، اسد عمر نے سپریم کورٹ میں جواب داخل کروا دیا, شہزاد ملک، بی بی سی

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان، پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کے معاملے پر اسد عمر نے تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے جس میں انھوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے توہین عدالت کا نوٹس ملنے پر انھوں نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔

    اپنے جواب میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا شوکاز نوٹس غیر قانونی و غیر آئینی ہے کیونکہ آئین کا آرٹیکل 204 اعلیٰ عدلیہ کو توہین عدالت پر کارروائی کا اختیار دیتا ہے جبکہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں۔

    پارٹی کے سیکریٹری جنرل نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آرٹیکل 204 کے تحت توہین عدالت کا اختیار استعمال نہیں کر سکتا۔

    انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام آئین کے ارٹیکل 10 آئین سے متصادم ہے۔

    اسد عمر نے اپنے جواب میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ الیکشن کمیشن کی اپیل مسترد کی جائے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے بھی پی ٹی آئی کے ان رہنماؤں کو نوٹس ملنے کے بعد الیکشن کمیشن کو ان کے خلاف کارروائی سے روک دیا تھا۔

  12. عدالتوں اور ججز کو ’متنازع‘ کرنے پر اسد عمر لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ طلب

    اسد عمر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے 26 نومبر کو راولپنڈی میں تقریر کے دوران عدالتوں اور ججز کو ’متنازع‘ کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کے سکریٹری جنرل اسد عمر کو سات دسمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جج جسٹس جواد حسن نے ایڈیشنل رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ پنڈی بنچ کی درخواست پر اسد عمر کے خطاب کی جواب طلبی کی ہے۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت کسی بھی ادارے اور شخصیت کو متنازع نہیں بنایا جاسکتا۔

    عدالت نے اسد عمر کا ویڈیو بیان اور اس کا ٹرانسکرپٹ بھی طلب کر لیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اسد عمر نے 26 نومبر کے جلسے میں عدالتوں کو متنازع کیا اور اس تقریر میں ہی اسد عمر نے عدلیہ کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔

    جسٹس جواد حسن کا کہنا تھا کہ عدالت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ آئین کے ارٹیکل 204 کی کلاز بی کے تحت توہین عدالت کے مرتکب شخص کو سزا دے سکتی ہے۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت پہلے اسد عمر کی تقریر کو دیکھے گی۔ اسد عمر کے بیان سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے ایڈشنل رجسٹرار کی درخواست پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دھرنوں کے دوران شہر کی مختلف شاہراوں کو بند کرنے سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے رکھی گئی۔

    اس درخواست کی سماعت کے دوران روالپنڈی کے کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور پولیس کے اعلی حکام پیش ہوئے۔

  13. عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کا فیصلہ جہانگیر ترین اور فیض صاحب کا تھا: پرویز الہی

    وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی نے کہا ہے کہ عثمان بزدار کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ دینے میں ’جہانگیر ترین اور فیض صاحب‘ کا کردار تھا مگر بعد میں ان کے مطالبے کے باوجود عثمان بزدار کو اس عہدے سے نہیں ہٹایا گیا۔

    ہم نیوز کو دیے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر فیض صاحب پنجاب کی انتظامیہ کے حوالے سے میری کچھ باتیں مان لیتے تو ہمارے چار سال ضائع نہ ہوتے۔‘

    ’مثلاً بزدار صاحب، حالانکہ میں نے ہی اسے آگے کیا، اس کے والد کے ساتھ تعلق تھا۔۔۔ ہمارا صوبہ یورپ کے کئی ممالک سے بڑا ہے۔ بدقسمتی سے اس طرح صوبہ نہیں چلتا۔‘

    ’اس کا نقصان جماعت کو ہوا ہے۔‘

    پرویز الہی نے عمران خان کے اس بیان کی تردید کی جس میں ان کا دعویٰ تھا کہ جنرل باجوہ نے بطور آرمی چیف ’ڈبل گیم کھیلی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’عمران خان نے ڈبل گیم کھیلی نہ باجوہ صاحب نے، حالات و واقعات ایسی جگہ پر چھوڑ دیتے ہیں کہ اس وقت آپ کے پاس فیصلے کا راستہ نہیں ہوتا۔۔۔ میری نظر میں خان صاحب کا صحیح فیصلہ تھا، میرا اور مونس کا بھی صحیح فیصلہ تھا۔‘

    پرویز الہی نے کہا کہ اداروں سے مشاورت ہوئی اور ’ہمیں بتایا گیا کہ (عمران خان کے ساتھ جانا) عزت کا راستہ ہے۔‘

  14. پاکستان میں قبل از وقت انتخابات کی ضرورت نہیں: بلاول

    بلاول

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ ملک میں قبل از وقت انتخابات کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے جس کا پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان مطالبہ کرتے ہیں۔

    اتوار کو الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت کو گذشتہ حکومت کی طرف سے تباہ شدہ معیشت اور انتشار زدہ ملک وراثت میں ملا۔

    قبل از وقت انتخابات سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ قبل از وقت انتخابات جمہوریت کو آگے بڑھانے کی بجائے عمران خان کے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں گے۔

    وہ کہتے ہیں کہ دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے درپیش چیلنج سے نمٹنے کے لیے پاکستان، افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

  15. عمران خان کی سیاست کا مقصد اقتدار ہے، چاہے ملکی بنیادیں کمزور ہوجائیں: شہباز شریف

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کا حالیہ بیان ’پارلیمانی جمہوریت کے خلاف حملوں کے سلسلےمیں تازہ ترین ہے۔‘

    ’ان کی سیاست کا مقصد اپنے اقتدار کے لیے راستہ بنانا ہے، چاہے اس کے لیے ملکی بنیادیں کمزور ہوجائیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. جاتے جاتے اللہ نے راستہ بدل دیا اور راستہ دکھانے کے لیے باجوہ صاحب کو بھیج دیا: پرویز الہی

    پرویز الہی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ ’جاتے جاتے اللہ نے ہمارا راستہ تبدیل کر دیا اور راستہ دکھانے کے لیے باجوہ صاحب کو بھیج دیا۔‘

    وزیر اعلیٰ پنجاب یہ بات سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی میں ہونے والی ووٹنگ کے پس منظر میں کر رہے تھے۔

    نجی ٹی وی چینل ’بول نیوز‘ کے اینکر سمیع ابراہیم کے ساتھ انٹرویو میں پرویز الہیٰ کا کہنا تھا ’میں نے باجوہ صاحب سے بات کی شریفوں (شریف برادران) سے ہمیں یہ خطرات ہیں، اُن کا اعتبار نہیں ہے، انھوں نے آپ (باجوہ) کے ساتھ بھی یہی کیا۔ اس پر باجوہ صاحب نے کہا میرے ساتھ جو ہوا وہ چھوڑیں، اپنی بات آپ خود سوچیں، لیکن سوچ کر چلیں۔ آپ (پرویز الہی) کے اور آپ کے دوستوں کے لیے عمران خان والا راستہ زیادہ بہتر ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ان کی اور مونس الہی کی نیت یہی تھی کہ تحریک انصاف کے ساتھ چلا جائے۔

    اسمبلی توڑنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’جب میں نے چند ماہ قبل وزارت اعلیٰ حلف لیا تھا تو کہا تھا کہ اگر عمران خان نے کہا تو ایک منٹ نہیں لگاؤں گا، اسمبلی توڑ دوں گا اور اب بھی یہی کہتا ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہمارا آئندہ کا سیاسی سفر عمران خان کے ساتھ ہی ہو گا۔

  17. فیصل واوڈا نااہلی کیس میں سپریم کورٹ کا مختصر تحریری فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا نااہلی کیس میں اپنے مختصر تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ سابق سینیٹر نے تسلیم کیا کہ ان سے غلط بیانی ہوئی۔

    چار صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ‏فیصل واوڈا کے مطابق انھیں 25 جون 2018 کو شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹ ملا اور وہ 2018 میں ممبر اسمبلی بننے کے لیے اہل نہیں تھے۔

    سپریم کورٹ نے حکمنامے میں کہا کہ ’‏فیصل واوڈا کی جانب سے غلطی تسلیم کرنے پر آرٹیکل 63 ون سی کا اطلاق ہوتا ہے۔ ‏فیصل واوڈا موجودہ اسمبلی کی مدت تک نااہل تصور ہوں گے۔ وہ آئندہ انتخابات لڑنے کے لیے اہل ہوں گے۔‘

    ’فیصل واوڈا سینیٹ کی نشست سے اپنا استعفی ٰفوری چیئرمین سینیٹ کو بھجوائیں۔ الیکشن کمیشن کے پاس امیدوار کو الیکشن سے قبل نااہل کرنے کا اختیار نہیں۔‘

    سپریم کورٹ نے حکمنامے میں کہا کہ ’اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی قانون کی نظر میں برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔

    ’الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ کا تاحیات نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔‘

  18. کوئٹہ میں سینیٹر اعظم سواتی پانچ روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    سواتی

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    کوئٹہ میں جوڈیشل مجسٹریٹ دہم عبدالستار نے سینیٹر اعظم سواتی کا پانچ روزہ ریمانڈ منظور کر کے انھیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    انھیں ضلع کچہری میں پیش کر کے 10 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔

    ادھر سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے کہا ہے کہ اس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے لیے وکلا سے مشاورت کی جائے گی۔ انھوں نے پوچھا کہ ’اعظم سواتی نے کون سا جرم کیا ہے جس کی بنیاد پر ان کو زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

  19. اطلاعات ہیں کہ کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر دولت اسلامیہ خراسان نے حملہ کیا: وزارت خارجہ

    پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اطلاعات کے مطابق کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ خراسان نے تسلیم کی ہے۔

    پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق کر رہے ہیں اور افغان حکام سے مشاورت جاری ہے۔ ’یہ دہشتگرد حملہ یاددہانی ہے کہ افغانستان اور خطے کے امن کو دہشتگردی سے خطرات کا سامنا ہے۔

    ’پاکستان کا دہشتگردی کے خلاف پختہ عزم برقرار ہے۔‘

  20. جنرل باجوہ کو بطور آرمی چیف توسیع دینا غلطی تھی، فوج میں کسی کو ایکسٹینشن نہیں ملنی چاہیے: عمران خان

    عمران خان، جنرل باجوہ

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے گذشتہ ماہ ریٹائر ہونے والے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو 2019 کے دوران مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع دے کر ’بہت بڑی غلطی‘ کی تھی۔

    اینکر عمران ریاض خان کو دیے انٹرویو میں چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ’جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینا بہت بڑی غلطی تھی، فوج میں کسی کو توسیع نہیں ملنی چاہیے۔ تب بھی سوچتا تھا مگر حالات ایسے بنا دیے گئے۔‘

    ان کا دعویٰ ہے کہ جنرل باجوہ نے بطور آرمی چیف مدت ملازت میں توسیع ملنے کے بعد دوسری جماعتوں سے بات چیت شروع کر دی تھی اور ممکنہ طور پر جنرل باجوہ کی طرف سے اتحادی جماعتوں کو کوئی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

    ’توسیع کے لیے جس طرح ن لیگ و دیگر نے ووٹ ڈالے اس کے بعد مجھے لگا کہ انھوں نے ن لیگ سے بھی بات چیت شروع کر دی ہے۔ میرے خیال میں انھوں نے ن لیگ کو بھی کوئی یقین دہانی کرائی ہوگی۔ وہ سب ہی کو یقین دہانیاں کراتے رہتے تھے۔ جنرل فیض کو ہٹایا گیا تب کلیئر ہوگیا کہ انھوں نے مجھے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’جتنی ڈبل گیم جنرل باجوہ نے کھیلی ہے۔۔۔ کسی کو کوئی پیغام جا رہا ہے کسی کو کوئی۔ آخر پر کیا ہوا؟ ایکسپوز تو ہوگئے۔ جو انھوں نے میرے ساتھ کیا، میں ایک ڈائری اٹھا کر نکلا تھا پی ایم ہاؤس سے۔۔۔ مجھے اس کے بعد بھی اللہ نے عزت دی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے تحریک انصاف کے ارکان اور اتحادیوں کو الگ الگ پیغام دیے جاتے تھے۔

    ’جنرل باجوہ پر اعتماد کرنا میری کمزوری تھی‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ساڑھے تین سال گزرنے کے بعد پہلی بار احساس ہوا کہ اس (جنرل باجوہ) پر اعتماد کرنا میری کتنی بڑی کمزوری ہے۔ جو جنرل باجوہ کہتا تھا۔۔۔ ہمارے مفاد ایک ہی ہیں کہ ملک کو بچانا ہے۔ مجھے یہ پتا ہی نہیں تھا کہ کس طرح میرے ساتھ دھوکے کیے گئے، جھوٹ بولے گئے۔‘

    ’آخری دنوں میں جب ہمیں معلوم تھا کہ سازش چل رہی ہے، آئی بی کی رپورٹ آگئی تھی۔۔۔ وہ بیچارہ مجھے لکھ کر نہیں خود آ کر بتاتا تھا کہ پتا نہ چل جائے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’جب انھوں نے (سابق ڈی جی آئی ایس آئی) جنرل فیض کو ہٹایا تو ان کی گیم چل پڑی تھی۔۔۔ (جنرل باجوہ) مجھے کہہ رہے تھے کہ کچھ نہیں ہے اور ادھر (اتحادیوں) سے اور سنگل ملتے تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ نے انھیں یقین دلایا تھا کہ ’تسلسل برقرار رہے گا۔‘ سابق وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ’اس سارے کے پیچھے ہینڈلرز تھے۔۔۔ عوام کو ہمارے ساتھ دیکھ کر انھوں نے سات ماہ تک ہم پر تشدد کیا۔‘

    ’جو مجھے آ کر ملتا تھا ایجنسیاں ان کے پیچھے لگ جاتی تھیں۔۔۔ ہمیں کرایے پر کوئی جہاز نہیں دیتا تھا۔ اگر امریکہ سے آئے دوست کا جہاز نہ ہوتا تو میں تو سفر ہی نہیں کر سکتا تھا۔‘

    عمران خان نے آئی ایس آئی کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل ندیم انجم اور آئی ایس پی آر کے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ فوج گذشتہ ڈیڑھ سال سے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کے مؤقف پر قائم ہے۔

    ’میں ساڑھے تین سال حکومت میں بیٹھا ہوں، مجھے پتا ہے کیسے آپریٹ کیا جاتا ہے۔‘

    اس سوال پر کہ آیا انھوں نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور نئی اسٹیبلشمنٹ سے امیدیں وابستہ کی ہیں، ان کا جواب تھا کہ ’ہم نے پیغام بھجوایا ہے کہ کیا سات ماہ میں پارٹی ٹوٹ گئی ہے؟ تحریک انصاف تو اور مضبوط ہوگئی ہے۔۔۔ میرے خیال میں نئے سیٹ اپ کو موقع دینا چاہیے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر اتحادی جماعتوں کی حکومت مارچ 2023 کے اواخر تک انتخابات کے لیے تیار ہیں تو ہم رک جائیں گے۔‘

    ’بجٹ کے بعد الیکشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘