لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست خارج، میری نظر میں ان کی گرفتاری ہونی چاہیے: رانا ثنا اللہ

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی تھانہ سنگ جانی اسلام آباد میں درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی ہے جبکہ پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں عمران خان کی گرفتاری ہونی چاہیے کیونکہ عمران خان عدلیہ کا مذاق اڑا رہے ہیں اور اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

لائیو کوریج

  1. اعظم سواتی سے کیے جانے والا انتقامی سلوک قابل مذمت ہے: عمران خان

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ سینیٹر سواتی کے ساتھ جو انتقامی سلوک کیا جا رہا ہے وہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

    ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی کو سینے میں شدید درد اور سانس لینے میں تکلیف کے باعث جمعہ کی صبح ہی پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، ان کے ٹیسٹ کیے گئے اور نتائج کا انتظار تھا مگر کوئٹہ پولیس نے انھیں ہسپتال سے ڈسچارج کروا اور ان کی جان خطرے میں ڈالتے ہوئے انھیں اپنے ہمراہ لے گئے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اُتنی ہی شرمناک بات یہ ہے تنقید کرنے کو اعظم سواتی کا بڑا جرم قرار دیا جا رہا ہے جبکہ پوری مہذب دنیا میں تنقید کرنا جمہوری حق تصور کیا جاتا ہے۔ انھیں فوری رہا کیا جائے۔ افسوس ہے کہ ہمارا نظام انصاف اعظم سواتی کے بنیادی انسانی حقوق کی بار بار خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے تیار نہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. 25 مئی توہین عدالت کیس: ثابت کرنا ہو گا کہ عمران خان نے عدالتی حکم کا علم ہوتے ہوئے خلاف ورزی کی، سپریم کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ عدالت کے سامنے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کا بہت سارا مواد موجود ہے تاہم یہ معاملہ عدالت اور توہین عدالت کا مرتکب ہونے والے کے درمیان ہے اور عدالت جب چاہے گی، توہین عدالت کا نوٹس جاری کرے گی۔

    جمعے کے روز چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت سے متعلق درخواست کی سماعت کی تو وزارت داخلہ کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ نے 25 مئی کے واقعہ سے متعلق فریقین کی طرف سے جواب اور دیگر دستاویزات عدالت میں پیش کر دی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے کارکنوں کو ڈی چوک پر پہنچنے کی کال 24 مئی کو دی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پی ٹی آئی کو ایچ نائن میں جلسہ کرنے سے متعلق حکمنامے کو بھی پی ٹی آئی کی قیادت تک پہنچا دیا گیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے تحریری بیان میں غلط بیانی کی کہ اس روز جیمر کی وجہ سے انھیں عدالتی حکم نہیں پہنچایا گیا جبکہ جیمرز صرف حکومت کی اجازت سے ہی لگائے جا سکتے ہیں۔

    بینچ میں شامل جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ کون غلط کہ رہا ہے، کون نہیں، سپریم کورٹ کیسے تعین کرے؟ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے، جو شہادتیں ریکارڈ کرے۔

    جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا تھا کہ توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے خود معلومات مانگی تھیں، جو سامنے لائی گئی ہیں اور اس میں توہین عدالت کا کافی مواد موجود ہے۔

    وزارت داخلہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ جب عدالت توہین عدالت کا شوکاز ٹوٹس جاری کرے گی تو ٹرائل شروع ہو گا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے وزارت داخلہ کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں عمران خان نے خلاف ورزی کی ہے اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عدالتی حکم عدولی کا مواد موجود ہے؟

    سلمان اسلم بٹ کا کہنا تھا کہ کافی سارا مواد ہے جو توہین عدالت سے متعلق ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے اپنے حکم میں حساس ادروں اور سکیورٹی اداروں سے رپورٹ طلب کی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ یہ بات بلکل ٹھیک ہے کہ توہین کا معاملہ عدلیہ اور ملزم کے درمیان ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے بہت زیادہ توہین عدالت کا مواد آیا ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بھی اپنے جوابات داخل کیے ہیں اور عمران خان کہتے ہیں کہ ہدایات اسد عمر نے دیں تھیں جبکہ وزارت داخلہ کے وکیل کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کا موقف درست نہیں۔

    بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے کہ کیا ایسا مواد ہے جس پر شوکاز نوٹس کریں۔

    چیف جسٹس نے وزارت داخلہ کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک آپ نے نہیں بتایا کہ عمران خان کے گرد کون سے رہنما تھے جو کیس سے متعلق رابطے میں تھے اور جب سپریم کورٹ نے لارجر بینچ بنایا تو عمران خان نے لانگ مارچ ختم کر دیا۔

    انھوں نے کہا کہ عدالت نے ٹائمنگ کو دیکھنا ہے اور جو لوگ ڈی چوک پہنچے کیا وہ لوگ لانگ مارچ کا حصہ تھے یا مقامی تھے۔

    چیف جسٹس نے وزارت داخلہ کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ عمران خان عدالتی حکم سے آگاہ تھے اور عدالتی آرڈر کا علم ہوتے ہوئے خلاف ورزی کی گئی۔

    وزارت داخلہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کی نیت ہی ڈی چوک آنا تھی اور جواب میں تسیلم کیا گیا ہے کہ ہماری نیت ڈی چوک جانے کی تھی۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک احتجاج تھا اور حکومت کے خلاف تھا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ عدالتی کاروائی کے دوران جی 9، ایچ 9 کا گراؤنڈ مانگا گیا، نیت یہ تھی کہہ ایچ 9 کا گروانڈ مل جائے تو ڈی چوک نہیں جائیں گے۔

    اس پر سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ جواب اور یقین دہانی میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے 25 مئی کی صبح ڈی چوک پہنچنے کا ٹویٹ ہوا اور اس کے بعد تین بجے شیریں مزاری نے ٹویٹ کر کے ڈی چوک آنے کا کہا جبکہ ایک بجے اسد عمر جی 9، ایچ 9 گراؤنڈ کی یقین دہانی کروا چکے تھے۔

    سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ یقین دہانی کے بعد اسد عمر کنٹینر پر عمران خان کے ساتھ موجود تھے۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔

  3. اسد مجید سیکریٹری وزارت خارجہ تعینات

    وفاقی حکومت نے بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید خان کو سیکریٹری وزارت خارجہ تعینات کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ اسد مجید تحریک انصاف کے دور حکومت میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے اور انھوں نے امریکی سفارتکار ڈونلڈ لو سے واشنگٹن میں ایک کھانے پر ہونے والی غیر رسمی ملاقات سے دفتر خارجہ کو بذریعہ سائفر آگاہ کیا تھا۔

    اور اسی سائفر کو لہراتے ہوئے عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار غیرملکی سازش کو قرار دیا تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. سپریم کورٹ نے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو بحال کر دیا

    سپریم کورٹ نے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو بحال کر دیا ہے۔ سروس ٹربیونل کے خصوصی بنچ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وفاقی حکومت کو نوٹس غلام محمود ڈوگر کی اپیل پر جاری کیا گیا ہے۔ ان کے وکیل عابد زبیری نے کہا ہے کہ غلام محمود ڈوگر کو فیڈرل سروس ٹربیونل نے بحال کیا تھا۔

    انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹربیونل کے دو رکنی بنچ کا فیصلہ دوسرا دو رکنی بنچ معطل نہیں کر سکتا۔

  5. ملکی زرمبادلہ ذخائر میں کمی کا رجحان برقرار، سٹیٹ بینک کے ذخائر 32 میں کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں کمی کا رجحان موجودہ ہفتے میں جاری رہا جب ایک ہفتے کے دوران سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 32 کروڑ ستر لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ ذخائر 7.5 ارب ڈالر رہ گئے جبکہ تجارتی بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران چھ کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی اور ان کے پاس ان ذخائر کی مالیت 5.8 ارب ڈالر تک رہ گئی۔

    ملک کے پاس مجموعی طور پر زرمبادلہ ذخائر 13.4 ارب ڈالرکی سطح تک گر گئے۔

  6. بلوچستان پولیس نے اعظم سواتی کو گرفتار کر لیا

    swati

    ،تصویر کا ذریعہscreen grab

    سینیٹر اعظم سواتی کو بلوچستان پولیس نے یہاں درج مقدمات کے حوالے سے گرفتار کرلیا ہے۔

    ہمارے ساتھی محمد کاظم کے مطابق ریاستی اداروں کے عہدیداروں کے خلاف قابل اعتراض ریمارکس پر اعظم سواتی کے خلاف بلوچستان میں بھی مقدمات درج کیئے گئے تھے۔

    بلوچستان میں اعظم سواتی کے خلاف پانچ مقدمات درج کروائے گئے تھے، اور یہ مقدمات کوئٹہ، ژوب، خضدار، پسنی اور لسبیلہ میں درج کروائے گئے تھے۔

  7. پاکستان کے تجارتی خسارے میں چھ ارب ڈالر سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے تجارتی خسارے میں موجودہ مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں میں چھ اعشاریہ دو ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔

    گذشتہ مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں (جولائی تا نومبر) میں ملک کا تجارتی خسارہ 20.6 ارب ڈالر تھا جو موجودہ مالی سال کے ان مہینوں میں 14.4 ارب گر گیا اور اس میں تیس فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    نومبر کے مہینے میں ملک کے تجارتی خسارے میں بھی بڑی کمی دیکھی گئی جو دو ارب ڈالر سے زائد گر گیا۔

    نومبر کے مہینے میں تجارتی خسارہ 2.8 ارب ڈالر رہا جو گذشتہ مالی سال کے اس مہینے میں 4.9 ارب ڈالر تھا اور اس میں 42 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی تاہم گذشتہ مہینے اکتوبر کے مقابلے میں نومبر میں تجارتی خسارے میں 23 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کی گیا جب تجارتی خسارہ 2.3 ارب ڈالر تھا۔

  8. بریکنگ, تحریک عدم اعتماد سے پہلے جنرل باجوہ نے ہمیں پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کا کہا تھا: مونس الٰہی کا دعویٰ

    monis

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images/Twitter

    پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے صاحب زادے مونس الٰہی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک طبقہ باجوہ صاحب پر تنقید کر رہا ہے، یہ وہی باجوہ صاحب ہیں جنھوں نے سمندر کا سارا رخ پی ٹی آئی کے لیے موڑا ہوا تھا، تب وہ بالکل ٹھیک تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اب آج وہ ٹھیک نہیں رہے، میرا اس چیز پر پی ٹی آئی سے اتفاق نہیں کرتا۔ جب تک وہ آپ کی سپورٹ میں سب کچھ کر رہا تھا تب تک وہ بالکل ٹھیک تھا، اب وہ غدار ہو گیا ہے۔

    ’میں نے پی ٹی آئی والوں سے کہا ہے کہ آپ ٹی وی پر آ کر بتاؤ کہ وہ غدار کیسے ہے اور میں یہ بتاؤں گا کہ اس بندے نے تمھارے لیے کیا کیا کچھ کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پتا نہیں آپ کو یاد ہے یا نہیں لیکن اس وقت تو خان صاحب اور توپوں کا رخ میری طرف تھا۔ لیکن ان چیزوں کو اپنے اوپر سوار نہیں کیا کہ یار تب میرے ساتھ یہ ہوا تھا تو اب میں یہ کروں گا۔‘

    انھوں نے یہ بات ہم نیوز کے پروگرام ہم مہر بخاری کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے کہی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میری نظر میں تو باجوہ صاحب کا کردار بالکل برا نہیں تھا، اگر برا ہوتا تو وہ کبھی مجھے یہ نہ کہتا کہ آپ عمران خان کے ساتھ جائیں۔‘

    انھوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’جس وقت تحریکِ عدم اعتماد کا وقت قریب تھا تو دونوں طرف سے آفر آ گئی تھی میاں صاحبان سے بھی اور پی ٹی آئی سے بھی۔

    ’میرا جھکاؤ پی ٹی آئی کی طرف تھا، یہ سب کو پتا ہے، والد صاحب سے بھی اس بارے میں بحث ہوئی اور انھوں نے (جنرل باجوہ نے) بھی یہی کہا کہ میری خواہش یہی ہے کہآپ پی ٹی آئی کی طرف جائیں۔‘

    مونس الٰہی نے کہا کہ انھوں نے تو اشارہ ہی کرنا تھا، یہاں بھی کہانی بنی ہوئی تھی، وہاں بھی بنی ہوئی تھی انھوں نے ایک اشارہ کرنا تھا۔‘

    مونس الٰہی نے کہا کہ عمران خان اگر کل اسمبلیاں تحلیل کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں لیکن اگر ہمیں اس بارے میں فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے تو ہم اگلا بجٹ پیش کر کے ہی تحلیل کرنا چاہیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ اس وقت بہت سارے ایم پی ایز کو فنڈ تقسیم کیے جانے ہیں تاکہ بزدار حکومت میں شروع ہونے والے پراجیکٹس پر کام کم از کم شروع ہو سکے۔

  9. عمران خان انتخابات سے قبل گرفتار اور توشہ خانہ ریفرنس میں نااہل بھی ہو سکتے ہیں: آصف زرداری

    zard

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق صدر آصف علی زرداری نے نجی ٹی وی چینل آج کوایک خصوصی انٹرویو میں اس امکان کو رد نہیں کیا ہے کہ انتخابات سے قبل نہ صرف سابق وزیراعظم عمران خان گرفتار ہو سکتے ہیں بلکہ وہ توشہ خانہ ریفرنس جیسے کسی کیس میں نااہل بھی ہو سکتے ہیں۔

    سیاسی رہنماؤں کو نااہل کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے کہا کچھ حدود ہونی چاہئیں تاکہ یہ نا ہو کہ آپ نے پیسہ اکٹھا کیا اور نکل لیے۔ ان کے مطابق عمران خان نے تحفہ فروخت کیا ہے اور یہ ان کے خلاف سیدھا مقدمہ ہے۔

    توشہ خانہ اور دیگر معاملات میں عمران خان کے احتساب پر انھوں نے کہا کہ عمران خان کا احتساب کرنا ہے تو وہ نیب کرے گا، اگر نیب نے احتساب نہ کیا تو خود جواب دے گا۔

    انھوں نے کہا توشہ خانہ ریفرنس میں انھیں بھی سزا ہوئی اور وہ کیس 25 سال بعد اب جا کر ختم ہوا ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر آج تک اقتدار میں رہے اور کبھی توشہ خانہ سے کوئی تحفہ لے کر فروخت نہیں کیا ہے۔

    آصف زرداری نے کہا ہے کہ مقدمات کی بنیاد پر عوام فیصلہ نہیں کرتے ہیں۔ وہ جس رہنما کو چاہتے ہیں اسے ووٹ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے خلاف سالہا سال سے مقدمات قائم کیے گئے مگر لوگ انھیں ووٹ دیتے ہیں تو پھر یہ کون ہوتے ہیں مجھے روکنے والے۔

  10. قبل ازوقت انتخابات جمہوریت کے مفاد میں نہیں، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عدم اعتماد لے کر آئیں گے: آصف زرداری

    zar

    ،تصویر کا ذریعہAAJ TV

    پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے نجی ٹی وی چینل آج نیوز کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل سے بچانے کے لیے وہاں عدم اعتماد لے کر آئیں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں بھی ان کے پاس اراکین کی تعداد پوری ہے، بس کچھ گمراہ دوست ہیں، جنھیں واپس لے کر آنا ہے۔

    جب ان سے اگست یا اکتوبر سے قبل انتخابات سے متعلق سوال پوچھا گیا تو آصف زرداری نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ پہلے انتخاب ہمیں یا جمہوریت کو سُوٹ کرتا ہے۔‘

    آصف زرداری نے کہا کہ اگر پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل ہوں گئیں تو پھر یہاں انتخابات ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق دیکھتے ہیں وہ (عمران خان) کتنے ایم پی اے لے کر آتے ہیں۔ سابق صدر نے کہا کہ اگر وہ اسمبلیاں توڑیں گے تو ہم الیکشن لڑیں گے، اگر نہیں توڑیں تو اپوزیشن کرتے رہیں گے۔

    ’انشااللہ ہم پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عدم اعتماد لائیں گے۔ کے پی میں سیٹیں ہیں تھوڑے دوست گمراہ ہیں، ان کو واپس لانا ہے۔‘

    آصف زرداری کا تفصیلی انٹرویو آج رات آٹھ بجے آج ٹی وی پر نشر ہوگا۔

  11. پرویز الٰہی اور عمران خان ایک صحفے پر ہیں: پرویز خٹک

    khattak

    پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما پرویز خٹک نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسمبلیاں کب تحلیل ہوں گی، یہ فیصلہ عمران خان کریں گے۔

    ان کے مطابق وہ اس وجہ سے متحرک ہیں کہ پارٹی میں کوئی اختلاف نہ ہو اور گروپ نہ بنیں۔

    پنجاب کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ اپننی حالیہ تین ملاقاتوں سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’پرویز الٰہی کے ساتھ میرے ذاتی تعلق ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ اس سارے معاملے میں ضامن نہیں ہیں مگر یہ ضرور ہے کہ اس وقت پرویز الٰہی اور عمران خان ایک پیج پر ہیں اور حتمی فیصلہ عمران خان کا ہی ہوگا۔

  12. اپوزیشن میں عدم اعتماد کا حوصلہ ہے نہ ان کے پاس نمبرز پورے ہیں: وزیراعلیٰ پنجاب کی پرویز خٹک سے ملاقات میں گفتگو

    parvez elahi

    ،تصویر کا ذریعہscreengrab

    وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما پرویز خٹک کی ملاقات ہوئی ہے، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور موجودہ حالات پر تبادلہ خیال ہوا۔

    چوہدری پرویزالٰہی نے کہا کہ اپوزیشن میں عدم اعتماد کا حوصلہ ہے نہ ان کے پاس نمبرز پورے ہیں۔ ان کے مطابق عدم اعتماد یا گورنر راج کے شوشے دل خوش کرنے کے لیے ہیں۔

    پنجاب کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اپوزیشن کے ہر ہتھکنڈے کا بھرپور جواب دیں گے۔ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

    چوہدری پرویزالٰہی نے کہا کہ پی ڈی ایم نااہلوں کا ٹولہ ہے۔ عمران خان نے 13 جماعتوں کی سیاست کو زیرو کر دیا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان عوام کے دلوں میں بستے ہیں۔

  13. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    ہمارا پچھلا لائیو پیج یہاں ملاحظہ کریں۔