سپریم کورٹ کا نیب ریفرنسز کا ریکارڈ محفوظ بنانے کا حکم، الیکشن کمشنر کی برطرفی کے لیے ریفرنس دائر
سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ وہ تمام نیب ریفرنسز جو واپس کر دیے گئے ہیں، ان کا ریکارڈ محفوظ بنایا جائے۔ پی ٹی آئی کے ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر مبینہ طور پر جانب دار ہیں چنانچہ وہ اس عہدے کے اہل نہیں ہیں، اس لیے اُنھیں عہدے سے ہٹایا جائے۔
لائیو کوریج
اعظم سواتی کو فوری طور پر رہا کیا جائے: اسد عمر
رہنما تحریک انصاف اسد عمر نے کہا ہے کہ ’سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری قابلِ مذمت ہے۔ ان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اعظم سواتی کو ایف آئی اے سائبر کرائم نے گرفتار کیا
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ اعظم سواتی کو سائبر کرائم ونگ نے گرفتار کیا ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ اعظم سواتی کو سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش کیا گیا ہے اور ریمانڈ کی استدعا کی گئی ہے۔ سیشن کورٹ نے اعظم سواتی کے سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کیا ہے۔
ادھر تحریک انصاف کے وکلا کا الزام ہے کہ انھیں سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
بریکنگ, سینیٹر اعظم سواتی کو ’رات گئے گھر سے گرفتار کیا گیا‘
،تصویر کا ذریعہYOUTUBE
پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ ان کی جماعت کے سینیٹر اعظم سواتی کو ’امپورٹڈ اور فاشسٹ حکومت کی جانب سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘
جماعت کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’انھوں نے تمام حدیں پار کر دی ہیں اور پاکستان کے عوام روز اس نظام پر تنقید کر رہے ہیں۔ این آر او ٹو اور فاشزم صرف دو ایسے کام ہیں جو اس حکومت نے کامیابی سے کیے۔ باقی سب شرمناک ہے۔‘
مقامی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق اعظم سواتی کے بیٹے نے کہا ہے کہ انھیں رات گئے ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔ تحریک انصاف کے وکیل فیصل حسین نے کہا ہے کہ ’مجھے اعظم سواتی صاحب کے خاندان کی طرف سے اطلاع دی گئی ہے کہ ان کو ایف آئی اے نے صبح تین-چار بجے ان کے گھر میں گھس کر گرفتار کیا ہے۔‘
تاحال حکومت کی جانب سے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔
گذشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے منی لانڈرنگ کیس میں بریت کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے انھوں نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’مسٹر باجوہ آپ کو اور آپ کے ساتھ چند لوگوں کو مبارک ہو۔
’آپ کا منصوبہ کامیاب ہو رہا ہے اور اس ملک کی قیمت پر تمام جرائم پیشہ افراد چھوٹ رہے ہیں۔ ان چوروں کو آزاد کر کے آپ نے کرپشن کو قانونی حیثیت دلا دی ہے۔ اب آپ اس ملک کے مستقبل کی کیا پیشگوئی کریں گے؟‘
میرے دور میں فیصلے کہیں اور سے ہوتے تھے، شہباز شریف ہینڈلرز کی مدد سے بری ہوئے: عمران خان, منصور ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف 16 ارب روپے کی کرپشن کے مقدمے میں ’ہینڈلرز کی مدد سے‘ بری ہوگئے ہیں۔
لاہور میں صحافیوں اور یوٹیوبرز سے غیر رسمی گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ’ہینڈلرز نے چوروں کو کلین چِٹ دے کر اس ملک کو کسی دشمن سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔‘ انھوں نے شہباز شریف کے حوالے سے کہا کہ ’اس پر پروٹیکشن کا ہاتھ تھا۔‘
خیال رہے کہ ایف آئی اے نے شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات میں مقدمہ درج کیا تھا۔ مگر گذشتہ روز لاہور کی سپیشل کورٹ نے دونوں کو بری کر دیا ہے۔
عمران خان نے تسلیم کیا کہ وزیر اعظم ہونے کے باوجود ان کے ہاتھ بندھے ہوئے۔
انھوں نے اسٹیبلشمنٹ کا نام لیے بغیر اس پر الزام لگایا کہ انھیں ان کے ’نئے پاکستان‘ کا خواب حقیقت میں تبدیل کرنے نہ دیا گیا۔ ’میرے دور میں ملک کے امور چلانا میری ذمہ داری ہونی چاہیے تھی مگر کہیں اور سے فیصلے کیے جاتے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر ان کی حکومت کے پاس مکمل طاقت ہوتی تو وہ شیر شاہ سوری کے دور کا مقابلہ کرسکتے تھے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ بطور وزیر اعظم انھیں ہر طرف سے بلیک میل کیا جاتا تھا۔ ’ان کے پاس طاقت ہے کیونکہ وہ نیب جیسے اداروں کو کنٹرول کرتے ہیں، جو کہ ہمارے کنٹرول میں نہیں تھا۔‘
انھوں نے مضبوط فوج اور مضبوط حکومت کے درمیان توازن کی ضرورت کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ طاقت اور ذمہ داری ایک دفتر کے ساتھ منسوب کی جانی چاہیے۔
اسمبلی تحلیل کر کے کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا تھا: صدر عارف علوی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ انھیں نہیں لگتا ان پر آرٹیکل چھ لگ سکتا ہے کیونکہ انھوں نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی منظوری دے کر ’کوئی غلط کام نہیں کیا‘ اور اس بنیاد پر ان کا مواخذہ نہیں ہو گا۔
اینکر وسیم بادامی کے ساتھ انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ مجھ پر آرٹیکل 6 لگ سکتا ہے۔ کوئی غلط کام نہیں کیا اور سمجھتا ہوں کہ میرا مواخذہ بھی نہیں ہو گا، جہاں بھی رائے درکار ہوتی ہے اپنی رائے کا اظہار کرتا ہوں۔ آئین کے مطابق اپنا کام کر رہا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہر کوئی الیکشن کا مطالبہ کر رہا تھا۔ الیکشن کے مطالبے کو محسوس کرتے ہوئے میں سمجھا کہ اسمبلی تحلیل کرنا ضروری ہے۔‘
عارف علوی نے کہا ہے کہ ’سپریم کورٹ کا احترام کرتا ہوں مگر اپنی رائے ختم نہیں کر سکتا۔‘
’قاضی فائز عیسیٰ کے معاملہ کو درست فورم پر بھجوا دیا تھا۔ عمران خان کی جانب سے یہ ریفرنس میرے پاس آیا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے آئین میں مشاورت لازمی نہیں۔ ’اگر مشاورت ہو جائے تو اچھی بات ہے، نئے آرمی چیف کی تعیناتی کی سمری آئی تو آئین کے مطابق دستخط کر دوں گا۔‘
پاکستان نے صدر نے یہ بھی کہا کہ قومی اسمبلی میں آنے یا نہ آنے کا فیصلہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے کرنا ہے۔
نوری آباد کے قریب مسافر کوچ میں آتشزدگی، 12 بچوں سمیت 16 افراد ہلاک
پاکستان کے شہر کراچی کے قریب ایم نائن موٹرے پر نوری آباد کے علاقے میں ایک مسافر کوچ میں آتشزدگی سے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔
پاکستان کے صوبہ سندھ کے پارلیمانی سیکریٹری محکمہ صحت قاسم سومرو کے مطابق 16 افراد ہلاک اور دس کے قریب زخمی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 12 بچے ہیں جن کی عمریں پندرہ سال سے کم ہیں جبکہ 4 بالغ افراد ہیں۔
قاسم سومرو کے مطابق ’مغیری برادری کے ان افراد کا تعلق خیرپور ناتھن شاہ سے تھا جو کراچی سے واپس جارہے تھے۔‘
یاد رہے کہ حالیہ سیلابی بارشوں سے شہری آبادی میں اب سے زیادہ خیرپور ناتھن شاہ شہر متاثر ہوا ہے جو اس وقت بھی زیر آب ہےg
صوبائی وزیر اطلاعات اور ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اے سی پلانٹ میں آگ بھڑکی جس نے بس کو لپیٹ میں لے لیا۔ بقول ان کے ابھی یہ تصدیق نہیں ہوئی کہ حادثے کا شکار افراد سیلاب متاثرین تھے۔
ڈی ایس پی نوری آباد واجد علی تھیم کا کہنا ہے کہ مسافر کوچ کراچی سے خیرپورناتھن شاہ جارہی تھی کچھ مسافر آتشزدگی کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ مسافر کوچ میں سوار تمام افراد سیلاب متاثرین تھے تمام افراد کراچی سے واپس اپنے گائوں خیرپورناتھن شاہ جارہے تھے۔
صوبائی وزیر اطلاعات اور ٹرانسپورٹ شرجیل انعام نے نوری آباد میں کوچ کو آگ لگنے سے قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری ٹرانسپورٹ کو معاملے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا حم دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’تین روز میں معاملہ کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے کہ کس کی غفلت کی وجہ سے معصوم جانیں ضائع ہوئیں؟ کیا بس میں حفاظتی اقدامات مکمل تھے؟ ایمرجنسی دروازوں کے ذریعے مسافروں کو کیوں نہیں نکالا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ حادثے میں غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی نوری آباد کے پاس مسافر کوچ میں آگ لگنے کا نوٹس لے لیا ہے۔ انھوں نے وزیراعلیٰ سندھ نے ڈی سی اور ایس پی جامشورو کو متاثرین کی مدد کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو متاثرین کے اہل خانہ سے ہر قسم کے تعاون کی ہدایت کی۔
’اپنا جج چاہیے نہ آرمی چیف، اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے میرٹ پر تعیناتیاں چاہتا ہوں‘
،تصویر کا ذریعہPTI
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکمران نیب، ایف آئی اے کے سربراہوں کو چوری روکنے کے لیے نہیں چوری سے بچانےکے لیے رکھتے ہیں۔
وہ شیخوپورہ کی تحصیل شرقپور میں پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔
انھوں نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی منی لانڈرنگ میں بریت پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’کیس کے چار گواہ مر چکے ہیں، یہ وہ لوگ ہے جو کبھی بھی اداروں کو مضبوط نہیں ہونے دیں گے۔ ساڑھے تین سال حکومت کی ایک آدمی کا نام بتا دیں جس کو میں نے سفارش پر لگوایا ہو، مجھے اپنا جج اور نہ مجھے اپنا آرمی چیف چاہیے، میں لوگوں کو میرٹ پر لانا چاہتا ہوں جو اداروں کو مضبوط کریں۔
’چوروں کو مسلط کر کے ان کی چوری معاف کروانا قوم نہیں بھولے گی۔ جن کا پیسہ سب کچھ باہر ہے ان کے لیے آج ہماری ایجنسیز کھڑی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ملک کے ساتھ دشمنی کون کر سکتا ہے، چوروں کو مسلط کر کے ان کی چوری معاف کروانا قوم نہیں بھولے گی۔
’پچاس سالوں میں کبھی ایسا سلوک میرے ساتھ نہیں ہوا،جب وزیراعظم تھا تو میرے آفس اور گھر کے فون ٹیپ کیے جا رہے تھے۔
’ایسے جیسے میں ملک کا دشمن ہوں،جن کا پیسہ سب کچھ باہر ان کے لیے آج ہماری ایجنسیز کھڑی ہیں، وزیراعظم آفس کی سکیورٹی لیپس کا کون ذمہ دار ہے؟‘
ہم عدالت، قانون اور عوام کے سامنے سرخرو ہوئے: شہباز شریف
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, شہباز شریف اور حمزہ شہباز منی لانڈرنگ کیس میں بری ہو گئے
،تصویر کا ذریعہGetty Images/AFP
وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں بری ہو گئے ہیں۔
اب سے کچھ ہی دیر قبل، لاہور کی سپیشل سینٹرل کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کا فیصلہ سنایا ہے۔
ایف آئی اے نے وزیراعظم شہباز شریف ان کے بیٹے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز سمیت دیگر ملزموں کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات میں مقدمہ درج کیا تھا.
وزیر اعظم اور ان کے بیٹوں کے خلاف نومبر 2020 میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام لگایا گیا تھا۔
13 کاروباری دنوں کے بعد ڈالر کی قیمت میں اضافہ، اوپن مارکیٹ میں ڈالر ایک روپے مہنگا, تنویر ملک، صحافی
پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں تیرہ مسلسل کاروباری دنوں میں کمی کے بعد ڈالر کی قیمت میں بدھ کے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قیمت میں کچھ کمی واقع ہوئی تاہم انٹر بنک میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت دس روپے اضافے کے ساتھ 217.89 روپے پر بند ہوئی۔
اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ڈالر کی قیمت 220 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔
اس این آر او سے بُرا ہمارے ساتھ کوئی دشمن بھی نہیں کرسکتا: عمران خان
سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت گرانے کی سازش کس نے کی اور اس کا کیا مقصد تھا، یہ سب کے سامنے آنا چاہیے۔
ٹریڈ یونین ورکرز کنونشن سے مخاطب ہو انھوں نے بتایا کہ بیرونی طاقتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان میں پتلے حکمران ہوں جبکہ انڈیا روس سے 40 فیصد کم قیمت پر تیل لے رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے اور نیب پر اپنے لوگ بٹھا کر کرپشن کیسز ختم کر لیے گئے ہیں۔ ’اس این آر او سے بُرا کوئی دشمن بھی نہیں کر سکتا۔‘
ملالہ کا دادو کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ، ’سندھ کے 20 لاکھ بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ عبدالرشید چنا کا کہنا ہے کہ نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے دادو کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔
اس موقع پر ملالہ کے ساتھ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، وزیر تعلیم سید سردار شاہ اور زندگی ٹرسٹ کے شہزاد رائے تھے۔
وزیر تعلیم سردار شاہ نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ سیلاب سے صوبے میں 12000 سکولوں میں 20 لاکھ بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔ ’ابھی بہت سارے علاقے ہیں جہاں پانی موجود ہے۔ پانی کی نکاسی کے بعد مزید سروے کرکے سکولوں کے نقصانات کا تعین کیا جائے گا۔‘
ملالہ نے کیمپ میں خواتین کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مسائل سنے اور انھیں حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ بہادر خواتیں ہیں۔ آپ اس مشکل وقت کا مقابلہ کر رہی ہیں۔‘
بعد ازاں ملالہ نے ایم این وی بند پر سیلابی پانی کا معائنہ کیا۔ ان کو ڈی سی دادو مرتضیٰ شاہ نے بریفنگ دی اور انھوں نے بند پر رہنے والے خاندانوں اور بچوں سے ملاقات کی۔
منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف، حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کی سپیشل سینٹرل کورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے میں بریت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا ہے۔
بدھ کو جج اعجاز اعوان نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام میں مقدمے پر سماعت کی۔ اس دوران وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے بدنیتی کی بنیاد پر یہ مقدمہ بنایا اور شہباز شریف کے خاندان کے اکاؤنٹس میں کوئی رقم نہیں آئی۔
وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ استغاثہ کی جانب سے ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔
دوسری جانب سے وکیل ایف آئی اے نے یہ درخواستیں مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ بے نامی اکاؤنٹس رمضان شوگر مل کے ملازمین آپریٹ کرتے تھے۔
عمران خان: صرف ایک جماعت کی فنڈ ریزنگ قانونی ہو گی اور وہ تحریکِ انصاف ہے
عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کا حکم ہے کہ تمام جماعتوں کی فنڈ ریزنگ ایک ساتھ دیکھی جائے گی تاہم چیف الیکشن کمشنر مبینہ طور پر ایسا اس لیے نہیں کر رہے کہ کہیں دوسری جماعتوں کی مبینہ ممنوعہ فنڈنگ سامنے نہ آ جائے۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ ’تحریری طور پر‘ کہتے ہیں کہ صرف ایک جماعت کی فنڈنگ قانونی نکلے گی اور وہ پی ٹی آئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, عمران خان کو 18 اکتوبر تک حفاظتی ضمانت مل گئی
،تصویر کا ذریعہReuters
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے حفاظتی ضمانت دیے جانے کی درخواست منظور کر لی ہے اور انھیں 18 اکتوبر تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے عمران خان کو پانچ ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم بھی دیا ہے۔
سابق وزیراعظم نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں ان کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے اور یہ کہ عدالت حفاظتی ضمانت منظور کرے تاکہ عمران خان متعلقہ عدالت میں پیش ہو سکیں۔
ممنوعہ فنڈنگ کیس: عمران خان کا حفاظتی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع
تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان ممنوعہ فنڈنگ کیس میں حفاظتی ضمانت کے حصول کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے ہیں۔
ایف آئی اے نے منگل کو عمران خان سمیت 11 افراد کے خلاف فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا اور اس مقدمے میں گرفتاری کے خدشے کے تناظر میں عمران خان کی جانب سے ان کے وکلا نے اپنے موکل کی حفاظتی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
عمران خان کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ ان کی حفاظتی ضمانت منظور کی جائے تاکہ وہ متعلقہ عدالت میں پیش ہو سکیں۔
سماعت کے دورا چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عمران خان کہاں ہیں جس پر ان کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ غیر معمولی صورتحال کی وجہ سے عمران خان پیش نہیں ہوئے اور اگر عدالت چاہے تو ان کے موکل حاضر ہو جائیں گے۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو آدھے گھنٹے میں طلب کرتے ہوئے انتظامیہ کو عمران خان کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔
ایف آئی اے کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے کی ایف آئی آر میں جن افراد کو نامزد کیا گیا ہے ان میں عمران خان کے علاوہ سردار اظہر طارق، سیف اللہ نیازی، سید یونس، عامر کیانی، طارق شیخ، طارق شفیع، فیصل مقبول شیخ، حامد زمان اور منظور احمد چوہدری شامل ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق ’ملزمان نے فارن ایکسچینج ایکٹ کی خلاف ورزی کی اور وہ نجی بینک اکاؤنٹ کے بینفشری ہیں۔‘ اس ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’عارف نقوی نے پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد میں واقع ایک نجی بینک کے اکاؤنٹ میں رقم بھیجی، جس کے بھیجنے کا کوئی واضح مقصد نہیں دیا گیا تھا۔‘
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان تحریک انصاف نے نیا پاکستان کے نام پر بینک اکاؤنٹ بنایا جبکہ بینک مینجر نے غیرقانونی بینک اکاؤنٹ چلانے کی اجازت دی اور اسی بنیاد پر نجی بینک کے مینیجر کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔‘
خیال رہے کہ ایف آئی اے نے اسی معاملے میں تفتیش کے لیے سات اکتوبر کو لاہور سے انصاف ٹرسٹ کے ٹرسٹی حامد زمان کو حراست میں لیا تھا۔
10 اکتوبر کو لاہور کی مقامی عدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے حامد زمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں جیل بھیج دیا تھا۔
سات اکتوبر کو ہی ممنوعہ فنڈنگ کے معاملے میں اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ نیازی کو بھی حراست میں لیا گیا اور وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ نے اس گرفتاری کو تحقیقات کے لیے حفاظتی حراست قرار دیا تھا۔
ممنوعہ فنڈنگ کیس کا مقدمہ دو اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کی فنڈنگ کے حوالے سے ریفرنس کے اس فیصلے کے بعد درج کیا گیا ہے جس میں کہا تھا کہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف آج سرکاری دورے پر قازقستان روانہ ہوں گے
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف آج اپنے دو روزہ سرکاری دورے پر قازقستان روانہ ہوں گے۔
وزیر اعظم آفس کا کہنا ہے کہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خزانہ قازقستان نور سلطان بازیف ایئرپورٹ آستانہ پر وزیرِ اعظم کا استقبال کریں گے جسے پاکستان ٹیلی ویژن براہِ راست نشر کرے گا۔
’بعد ازاں وزیرِ اعظم آذربائیجان کے صدر الہام عالئیوف سے ملاقات کریں گے اور قازقستان کے صدر قاسم ژورمات توکائیف کی طرف سے سیکا میں شریک سربراہانِ ممالک کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں شرکت کریں گے۔‘
ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار، روپے کے مقابلے مزید 29 پیسے سستا
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان تسلسل سے جاری ہے اور بدھ کے روز ڈالر کی قیمت میں 29 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 217.50 روپے پر ٹریڈ ہو رہی ہے۔
ڈالر کی قیمت میں 22 ستمبر سے لے کر اب تک 22 روپے سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی جب ایک ڈالر کی قیمت 239.71 روپے تک پہنچ گئی تھی۔
کسی سیاسی جتھے کو امن و استحکام پر نقب کی اجازت نہیں: وفاقی وزیر سعد رفیق
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔