وزیر دفاع خواجہ آصف نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے قبل از وقت اعلان کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کسی ’نئی ریت کی مخالفت کرنی چاہیے۔‘
جیو نیوز پر اینکر شاہزیب خانزادہ سے گفتگو کے دوران قبل از وقت تعیناتی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ سیاسی وجوہات کی بنا کر اس تعیناتی کے نظام کو بدلنا نہیں چاہیے، اس سے نئی ریت پڑ جائے گی۔ اس کی مخالفت کرنی چاہیے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’فوج کا تقدس برقرار رکھنے کے لیے سیاسی ضرورتوں کے تحت اس کا پہلے اعلان نہیں کیا جانا چاہیے۔۔۔ پاکستان کو کسی ڈیفالٹ کا خدشہ نہیں ہے۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ ’ہمیں یہ تعیناتی سیاسی حالات کی غیر یقینی کے تابع نہیں کرنی چاہیے۔ یہ ایک نئی ریت پڑ جائے گی۔ ابھی دو ماہ باقی ہیں۔‘
انھوں نے کہا ہے کہ ’عمران خان ہی یہ ساری باتیں کر رہے ہیں، ہم نہیں کر رہے۔ 29 نومبر کو یہ تعیناتی ہونی ہے۔ پورا اکتوبر باقی ہے اور ستمبر کے 10 دن باقی ہیں۔ یہ ڈسپریشن صرف عمران خان کو ہے۔ جس ادارے کا چیف تعینات ہونا ہے نہ اسے کوئی پریشانی ہے نہ ہمیں۔
’یہ اتحادی حکومت کا فیصلہ ہوگا اور جب بھی یہ پراسس شروع ہوتا ہے، ہوسکتا ہے اکتوبر کے اواخر یا نومبر کے اوائل میں ہو، تو اس وقت یہ فیصلہ کر لیا جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ عمران خان دباؤ میں ہیں اور اگر ’اس مسئلے پر وہ اسلام آباد آ کر بیٹھیں گے تو اس سے بڑی ملک دشمنی نہیں ہوسکتی۔‘
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ ’آرمی چیف کا پاکستانی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور اس بار کی تعیناتی کا بھی سیاست سے تعلق نہیں ہوگا۔ ہماری کوئی سیاسی امیدیں وابستہ ہوئیں تو ہم بھی بے وقوفی کریں گے۔ ایسی امیدیں فوج کے ادارے یا چیف سے وابستہ کرنا بنیادی طور پر غلط ہے اور قانون سے انحراف ہے۔‘
’تعیناتی کے لیے چار سے پانچ ناموں میں کوئی فرق نہیں ہوتا، ان کا سیاست سے کیا تعلق ہے۔ یہ ذہن میں بٹھا کر بیٹھے ہیں کہ وہ کوئی ایسا بندہ تعینات کر دیں گے۔۔۔ یہ امیدیں (ماضی میں) خام خیالی ثابت ہوئی۔‘
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ جنرل راحیل شریف کی سبکدوشی اور جنرل باجوہ کی تعیناتی کی مرتبہ نواز شریف نے کہا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ یہ تبدیلی طریقہ کار کے تحت ہو۔‘
ان کا خیال ہے کہ ’نواز شریف کی واپسی سے پاکستان کی سیاست میں ٹھہراؤ آئے گا۔‘