پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان
میں ’گرین‘ انقلاب کا وقت ہے اور امریکی مدد سے ہزاروں ماحول دوست نوکریاں پیدا کی
جا سکتی ہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے امریکہ کے دورے
کے دوران اپنے امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے
ہوئے کہا ہے کہ آج امریکہ آنے کا ایک مقصد تھا، اس وقت پاکستان ایک قدرتی آفت اور
تباہی کا شکار ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہونے والے دس بدترین ممالک میں
شامل ہے جبکہ پاکستان کاربن گیسوں کا اخراج صفر اعشاریہ آٹھ فیصد سے بھی کم کرتا
ہے۔
آج پاکستان میں کروڑوں افراد بلاواسطہ اور بلواسطہ اس سیلاب
سے متاثر ہوئے ہیں جس نے پاکستان میں سینکڑوں کلومیٹر پر محیط علاقے کو ایک بڑے دریا
میں بدل دیا ہے۔
انھوں نے امریکی سیکرٹری خارجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ
پاکستان ماحولیاتی انصاف پر امریکی مدد اور تعاون چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان میں گرین (ماحول دوست) انقلاب
کا وقت ہے ، پاکستان میں امریکی تعاون سے لاکھوں گرین (ماحول دوست) نوکریاں پیدا
کی جا سکتی ہے، ہزاروں ماحول دوست منصوبوں کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے امریکہ کی جانب سے فوڈ سکیورٹی کی مد میں اضافی دس ملین ڈالرز کی امداد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امریکی سیکرٹری خارجہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس ضمن میں ہم امید کرتے ہیں کہ جلد ہی آپ ہمیں پاکستان کا دورہ کر کے مہمان نوازی کا موقع دیں گے۔‘
دوطرفہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بہت مضبوط ہیں، اور دونوں ملکوں نے جب بھی مل کر کام کیا تو مشکل اہداف حاصل کیے، ان تعلقات کو معیشت، زراعت سمیت متعدد شعبہ جات میں بڑھانے اور مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خوشی ہوئی کہ امریکہ محکمہ خارجہ اور پاکستانی وزارت خارجہ میں امریکہ اور پاکستان کے مابین ایک بار پھر سفارتی کاری لوٹ آئی ہے۔