آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

زیادہ دیر نہیں ہے اس لیے سب میری کال کا انتظار کریں: عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹیکسلا میں ایک جلسے سے خطاب میں کہا ہے کہ میں پوری تیاری کر رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ان (حکومت) کی پلاننگ کے حساب سے تیاری کر رہا ہوں اور پھر ایک دم کال دوں گا۔ زیادہ دیر نہیں ہے اس لیے سب میری کال کا انتظار کریں۔ ‘

لائیو کوریج

  1. آپ کو فکر کرنی چاہیے کہ اس بار ہم اسلام آباد تیاری کے ساتھ آئیں گے: عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف اس بار تیاری کے ساتھ اسلام آباد کا رُخ کرے گی۔

    اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں پارٹی رہنماؤں سے خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ ’رانا ثنا اللہ نے کوئی دھمکی دی ہے۔ میرا وعدہ ہے کہ تم اسلام آباد میں چھپ نہیں سکو گے۔

    ’25 مئی کو تو ہماری تیاری نہیں تھی، ایک پُرامن احتجاج میں ہم جا رہے تھے، اور تم نے ہم پر ظلم کیا، خواتین، بچوں اور خاندانوں پر شیلنگ کی۔ ہم تب تو تیار نہیں تھے۔۔۔ آپ کو فکر کرنی چاہیے کہ اب ہم تیاری سے آئیں گے۔

    ’اور وہ فیصلہ میں کروں گا، جب میں سمجھوں گا کہ میری تنظیمیں تیار ہیں۔‘

    ادھر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان تیاری کر رہے ہیں مگر ’ہم نے اپنی تیاری کر لی ہے۔‘

    گذشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں کے استعمال کو مؤثر اور جدید کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

  2. کس دن کال دینی ہے، تب فیصلہ کروں گا جب سمجھوں گا کہ کارکنان تیار ہیں: عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ہفتے (سنیچر) کے روز وہ رحیم یار خان میں جلسہ کریں گے اور پھر وہاں سے وہ دیکھیں گے کہ ان کی کال پر اسلام آباد کس تعداد میں باہر نکلتا ہے۔

    عمران خان نے اپنے کارکنان سے کہا ہے کہ سنیچر کو آپ نے پورا زور لگانا ہے۔

    تاہم عمران خان نے کہا کہ انھوں نے 'کس دن کال دینی ہے، صرف میں فیصلہ تب کروں گا، جب میں سمجھوں گا کہ میرے ٹائیگر اور ٹائگریس آزادی کے لیے تیار ہیں'۔

  3. کبھی بزدل آدمی لیڈر نہیں بن سکتا: عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ کبھی ایک بزدل بیٹسمین اچھا بیٹسمین نہیں بنا۔ ان کے مطابق جو انھوں نے 20 برس کرکٹ کھیلی اس میں کبھی کوئی بزدل باؤلر آگے بڑھتے نہیں دیکھا۔

    ان کے مطابق کسی بزنس مین کو نہیں دیکھا جو بزدل ہو اور جسے نقصان کا ڈر ہو اور وہ اوپر جائے۔

    اسلام آباد میں جناح کنونشن میں سینیئر پارٹی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انسان کو تین طرح کے ڈر ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک مرنے کا خوف، دوسرا ذلیل ہونے کا اور تیسرا رزق جانے کا خوف ہوتا ہے۔

  4. بریکنگ, عمران خان کے معافی کے بیان سے مطمئن ہیں، تین اکتوبر تک بیانِ حلفی جمع کروائیں: اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کی جانب سے تحریری فیصلہ جاری کیا گیا ہے جس کے تحت سابق وزیر اعظم عمران خان کی معافی کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں عمران خان کی معافی کے بیان پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ عمران خان تین اکتوبر تک بیان حلفی جمع کروائیں۔

    حکم نامے کے مطابق عمران خان بیان حلفی دیں تو اسے زیر غور لایا جائے گا۔ خیال رہے کہ عمران خان پر فردِ جرم کی کارروائی پر سماعت تین اکتوبر تک ملتوی کی گئی تھی۔

  5. توہین عدالت میں عمران خان کی پیشی۔۔۔ بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

  6. عمران خان خاتون جج سے معافی مانگنے کو تیار، عدالت کا آج فرد جرم عائد نہ کرنے کا فیصلہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے توہین عدالت کیس میں خاتون جج سے معافی مانگنے کی پیشکش کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کے خلاف آج فرد جرم عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ سماعت پر عدالت کی جانب سے ان کا جواب غیر تسلی بخش قرار دیا گیا تھا اور آج کی سماعت میں فرد جرم عائد کی جانی تھی۔

    تاہم آج کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو عمران خان کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ ان کے موکل کچھ کہنا چاہتے ہیں جس پر عدالت نے سابق وزیر اعظم کو روسٹرم پر بلایا۔

    تحریک انصاف چیئرمین نے لارجر بنچ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ خاتون جج سے ذاتی طور پر معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔

    عدالت نے ان کے بیان کو سراہا اور ان کو تحریری بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آئندہ سماعت سے قبل بیان حلفی جمع کروایا جائے جس کا جائزہ لیا جائے گا۔

    عدالت نے فی الحال فرد جرم عائد نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کیس کی سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

  7. خاتون جج کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس: عمران خان کمرہ عدالت پہنچ گئے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کیس میں پیش ہو گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ گذشتہ سماعت پر عدالت کی جانب سے ان کا جواب غیر تسلی بخش قرار دیا گیا تھا اور آج کی سماعت میں فرد جرم عائد کی جانی ہے۔

    چیئرمین تحریک انصاف کے علاوہ عدالتی معاون منیر اے ملک اور مخدوم علی خان بھی عدالت پہنچ چکے ہیں جہاں سماعت کا آغاز ہونے والا ہے۔

  8. پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 19 فیصد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ موجودہ مالی سال کے پہلے دو مہینوں میں 19 فیصد کمی کے بعد 1.9 ارب ڈالر ہو گیا جو گزشتہ مالی سال کے پہلے دو مہینوں میں 2.3 ارب ڈالر تھا۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اگست کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 70 کروڑ ڈالر رہا جو گزشتہ سال اگست کے مہینے میں 1.5 ارب ڈالر تھا۔

    اگست کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جولائی کے مہینے میں بھی کم رہا جب یہ خسارہ 1.2 ارب ڈالر تھا۔

    واضح رہے کہ پاکستان کا گزشتہ مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17.3 ارب تھا اور ماہانہ بنیادوں پر یہ خسارہ اوسطاً 1.45 ارب ڈالر تھا۔

  9. فواد چوہدری کی سپریم کورٹ پر تنقید

    تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو اندازہ نہیں کہ ملک میں حکومت کی تبدیلی سے کرنسی کی مد میں پاکستان کو کتنا نقصان ہو چکا ہے۔

    فواد چوہدری نے سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی جانب سے قومی اسمبلی سے مرحلہ وار استعفوں کی منظوری کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے ان ریمارکس کا حوالہ دیا جن میں جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اندازہ ہے 123 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے کیا اخراجات ہونگے۔

    فواد چوہدری نے ٹؤٹر پر لکھا کہ ’سپریم کورٹ کو اندازہ نہیں Regime Change operation کے نتیجے میں صرف کرنسی کے ضمن میں پاکستان کو اب تک 5 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’انتخابات نہ ہونے کا نقصان انتخابات نہ کرنے سے کہیں بڑا ہے۔‘

  10. چیف جسٹس سپریم کورٹ کا پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی واپس جانے کا مشورہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں قومی اسمبلی سے مرحلہ وار استعفوں کی منظوری کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں واپسی کا مشورہ دیا ہے۔

    جمعرات کو سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پی ٹی آئی کو مرحلہ وار استعفوں کی منظوری کے خلاف کیس تیار کرنے کا ایک اور موقع دے دیا۔

    چیف جسٹس نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ ’عوام نے پانچ سال کیلئے منتخب کیا ہے، پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرے۔ پارلیمان میں کردار ادا کرنا ہی اصل فریضہ ہے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’جسٹس اطہر من اللہ نے گہرائی سے قانون کا جائزہ لیکر فیصلہ دیا ہے۔‘

    جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’سپیکر قومی اسمبلی کے کام میں اس قسم کی مداخلت عدالت کیلئے کافی مشکل کام ہے۔‘

    سپریم کورٹ بنچ نے کہا کہ ’عدالت کو مطمئن کریں کہ ہائیکورٹ کے حکم میں کیا کمی ہے۔‘

    چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ ’پی ٹی آئی کو اندازہ ہے 123 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے کیا اخراجات ہونگے۔‘

    جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’ریاست کے معاملات میں وضع داری اور برداشت سے چلنا پڑتا ہے۔‘

    بنچ میں شامل جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ تحریک انصاف بطور جماعت کیسے عدالت آ سکتی ہے؟ انھوں نے ریمارکس دیے کہ استعفیٰ دینا ارکان کا انفرادی عمل ہوتا ہے۔

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کا مدعا بس یہ ہے اسپیکر کا طریقہ آپ کو پسند نہیں آ رہا۔ سپیکر کو اپنا اختیار استعمال کرنے سے عدالت کیسے روک دے؟‘

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ’قاسم سوری نے ایک پیراگراف میں 123 استعفوں کی منظوری کا لکھ دیا۔ یہ ایک غلط مثال قائم ہو رہی ہے، آج آپ کو یہ ٹھیک لگ رہا ہو گا لیکن کل اسی کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔‘

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استعفوں سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران‏ پی ٹی آئی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جلد بازی نہ کریں، سوچنے کا ایک اور موقع دے رہے ہیں اور پارٹی سے ہدایات لیں‘ جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

  11. توہین عدالت کیس میں عمران خان پر آج فرد جرم عائد کی جائے گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر آج توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف ایک جلسے میں خاتون جج کے بارے میں چند الفاظ پر توپین عدالت کیس میں آٹھ ستمبر کو ہائیکورٹ نے اظہار وجوہ نوٹس پر ملنے والے جواب کو مسترد کرتے ہوئے 22 ستمبر کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جمعرات کو عدالت پیشی سے متعلق ضابطہ اخلاق بھی جاری کیا ہے جس کے تحت لارجر بنچ دن ڈھائی بجے کیس کی سماعت کرے گا۔

    سرکلر کے مطابق کمرہ عدالت تک محدود رسائی ہو گی اور کمرہ عدالت نمبر ایک میں رسائی رجسٹرار آفس کے جاری کردہ پاس سے مشروط ہو گی۔

    سرکلر کے مطابق عمران خان کی قانونی ٹیم کے 15 وکلا، اٹارنی جنرل آفس اور ایڈووکیٹ جنرل آفس سے 15 افسران، 3 عدالتی معاونین اور 15 کورٹ رپورٹرز کو کمرہ عدالت میں موجودگی کی اجازت ہو گی۔

    سرکلر میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ بار کے پانچ پانچ وکلا کو داخلے کی اجازت ہو گی جب کہ کورٹ ڈیکورم کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کو سیکورٹی انتظامات کی ہدایت کی گئی ہے۔

  12. کسان اتحاد کے رہنماؤں نے آج اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے: رانا ثنا اللہ

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ کسان اتحاد کی قیادت نے آج اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے اور ان کا وفد وزیر اعظم شہباز شریف کی پاکستان واپسی کے بعد ان سے ملاقات کرے گا۔

  13. شاہ محمود قریشی نے پولیس کے کام میں رکاوٹ بننے کی کوشش کی: اسلام آباد پولیس

    ترجمان اسلام آباد پولیس نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی ’کسان اتحاد کے احتجاج کا حصہ نہیں تھے۔ انھوں نے پولیس کے کام میں رکاوٹ بننے کی کوشش کی۔‘

    شاہ محمود قریشی اور پولیس اہلکاروں کے درمیان بحث کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس نے لکھا ہے کہ ’پولیس افسران نے ان کے دھمکی آمیز ریمارکس کو صبر و تحمل سے سنا۔‘

    اس دوران آئی جی اسلام آباد کا بھی ایک بیان سامنے آیا جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’اسلام آباد کیپیٹل پولیس کسی بھی لا اینڈ آرڈر صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔‘

  14. شاہ محمود قریشی: ’پولیس نے ایف نائن پارک جلسے میں جانے سے روک دیا‘

    پاکستان تحریکِ انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنھیں پولیس نے اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت سے روک دیا ہے۔

    واضح رہے کہ کسانوں کی جانب سے اسلام آباد میں آج اپنے حقوق کے لیے مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ یہ احتجاج پاکستان تحریکِ انصاف سے منسلک تو نہیں ہے تاہم پی ٹی آئی نے کسانوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

  15. عمران خان: سنیچر سے تحریک شروع ہو جائے گی، عوام کال کا انتظار کریں

    عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سنیچر سے حکومت مخالف تحریک شروع کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے عوام سے کہا کہ وہ ان کی کال کا انتظار کریں اور جب وہ کال دیں تو لوگ ساتھ نکلیں۔

    لاہور میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے چکوال جلسے کی مرتبہ ایک بار پھر لوگوں سے کہا کہ وہ ’نامعلوم نمبروں سے دھمکیاں‘ دینے والوں کو واپس دھمکیاں دیں۔

  16. ’اسحاق ڈار سرنڈر کرنے کو تیار، واپسی پر گرفتار نہ کیا جائے‘

    سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وارنٹ گرفتاری کے خلاف احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری واپس لے، اسحاق ڈار سرنڈر کرنے کے لیے تیار ہیں مگر ان کو واپسی پر گرفتار نہ کیا جائے۔

    عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

  17. پاکستان سے بیرونِ ملک جاتے ہوئے 5000 ڈالر سے زیادہ رقم ڈیکلیئر کرنا لازم, تنویر ملک ، صحافی

    حکومتِ پاکستان نے ملک سے باہر جانے والے مسافروں کے لیے پانچ ہزار یا اس سے زائد ڈالر باہر لے جانے کی صورت میں رقم ڈیکلیئر کرنا لازمی قرار دیا ہے۔

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکم نامے کے مطابق ایسے مسافروں کو یہ ڈالر باہر لے جانے کے لیے فارم پر کرنا پڑے گا اور اس کے ساتھ باہر سفر کی تفصیلات سے بھی آگاہ کرنا پڑے گا ۔

    اسی طرح بیرون ملک سے پاکستان آنے والے ایسے مسافر جن کے پاس دس ہزار یا اس سے زائد مالیت کے ڈالر موجود ہوں انھیں بھی اس رقم کو ڈیکلیئر کرنا پڑے گا اور اس کے بارے میں فارم پر کرنا ہوگا اور پاکستان مین رہنے کی تفصیلات سے آگاہ کرنا ہوگا

  18. فیاض چوہان: عمران خان کے خلاف الزامات لگا کر ان کی زندگی خطرے میں ڈال دی گئی

    فیاض چوہان نے آج لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی جانب سے عمران خان پر بے بنیاد الزمات لگا کر ان کی جان کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔

    وفاق کی جانب سے سی سی پی او لاہور کو ہٹائے جانے کے معاملے پر اُنھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت منفی انداز میں سامنے آئی ہے اور سی سی پی او لاہور کو ہٹانے کا عمل ایک سنگین غلطی ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے منفی انداز میں صوبائی معاملات میں مداخلت کی ہے۔

    واضح رہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو عہدہ چھوڑنے سے روک چکے ہیں۔

    یہاں تک کہ آج وزیر اعلی پنجاب نے سی سی پی او غلام محمود ڈوگر سے ملاقات بھی کی اور کہا کہ وہ اُنھیں جانے نہیں دیں گے۔

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے اُنھیں اپنی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا۔

    فیاض چوہان کا کہنا تھا کہ لاہور پولیس نے وفاقی وزراء کے خلاف بیانات دینے پر بالکل درست ایکشن لے کر اپنا فرض پورا کیا ہے۔

  19. احسن اقبال: عمران خان نے نیب کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف مقدمات بنوائے

    احسن اقبال نے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے نیب کے ساتھ مل کر اُن کے خلاف مقدمات بنوائے لیکن مسلم لیگ (ن) نے حوصہ مندی سے ان مقدمات کا سامنا کیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ نارووال سپورٹس سٹی منصوبے کے خلاف اخبارات میں بے بنیاد خبریں شائع کروا کر پروپیگنڈا کیا گیا تاہم اب اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ منصوبہ مکمل کیا جائے گا۔

    وہ اپنی میڈیا ٹاک میں عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے اور جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ مقدمات قائم کروانے میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار تھا تو اُنھوں نے کہا کہ ’خالصتاً‘ عمران خان کی خواہش پر بنائے گئے۔

    احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان کو اپوزیشن کی تقاریر اور آوازوں سے مسئلہ تھا اس لیے وہ انھیں خاموش کروانا چاہتے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے نیب کے ساتھ مل کر کئی کئی ماہ تک اپوزیشن قیادت کو جیلوں میں رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اسلام آباد ہائی کورٹ بھی اسے ’سیاسی انجینیئرنگ‘ قرار دے چکی ہے۔

  20. بریکنگ, نارووال سپورٹس سٹی ریفرنس میں احسن اقبال بری

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے نارووال سپورٹس سٹی ریفرنس خارج کرتے ہوئے اس مقدمے کے مرکزی ملزم مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر احسن اقبال کو بری کر دیا ہے۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ احسن اقبال کی طرف سے اس مقدمے میں بریت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

    بریت کی اس درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نیب کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا اس مقدمے میں کرپشن ثابت ہوئی ہے؟ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’یہ آپ کا کام نہیں کس منصوبے سے متعلق پالیسی کیا ہو‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’نارووال چھوٹا شہر ہے یا بڑا وہاں کتنا بڑا منصوبہ بننا ہے یہ دیکھنا آپ کا کام نہیں۔‘

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نیب کے تفتیشی افسر سے کہا کہ اس معاملے میں کرپشن کا کوئی ایک الزام بتا دیں۔۔۔ اگر آپ نقصان کا کہتے ہیں تو آپ نے یہ پراجیکٹ روکا اور نقصان پہنچایا۔‘

    سماعت کے دوران تفشیی افسر نے عدالت سے مزید وقت کی استدعا کی تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ آپ کو بہت وقت دے چکے ہیں۔‘

    انھوں نے استفسار کیا کہ یہ منصوبہ کس نے سنہ 2000 سے 2010 تک روکے رکھا۔ اس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ’اس وقت مارشل لگا ہوا تھا‘۔ اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’پھر آپ ان کو پکڑتے، آپ نے احسن اقبال کو کیوں گرفتار کیا؟‘

    ان کا کہنا تھا کہ نیب نے خود لکھا پہلا نقصان منصوبے کو التوا میں رکھنے سے ہوا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’ایک میٹرو واچ کی خبر پر آپ نے پراجیکٹ ہی رکوا دیا‘۔

    انھوں نے سوال کیا کہ کیا صرف اس خبر کی بنیاد پر کرپشن کا کیس بنا دیا گیا اور کیا چئیرمین نیب نے تصدیق کی تھی جو کچھ لکھا ہے وہ درست ہے یا نہیں؟‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے نیب کے افسر سے کہا کہ ’آپ لوگوں کی ساکھ کے ساتھ اس طرح کھیلتے ہیں اور یہ جو اتنی بدنامی آپ کراتے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے ‘۔