ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ قانون میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پاس اختیار ہے کہ وہ ٹیکس وصولی کے لیے کسی اور کمپنی کو مقرر کرے۔
اُنھوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کو یہ ٹیکس وصول کرنے کا اختیار اس لیے دیا گیا تھا کیونکہ یہ پبلک لسٹڈ کمپنی ہے اور اس کا آڈٹ ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں کے الیکٹرک کو کراچی کے شہریوں سے بجلی کے بلوں میں میونسپل ٹیکس اکٹھا کرنے کا اختیار دیا گیا تھا جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردِ عمل دیکھنے میں آیا۔
پیر کو سندھ ہائی کورٹ نے کے الیکٹرک کو مذکورہ ٹیکس کی وصولی سے روک دیا ہے۔ اس ٹیکس کے خلاف عدالتِ عالیہ سندھ میں درخواست جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے دائر کی تھی۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ پرانا نظام بھی چلتا رہنے دے سکتے تھے جس میں ان کے مطابق خردبرد ہوسکتی تھی۔
کسی کا نام لیے بغیر اُنھوں نے کہا کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ کراچی میں پائیدار ترقی ہو۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وہ اس بات سے متفق ہیں کہ یہ ٹیکس کراچی اور اس کے عوام کی بہتری کے لیے تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ مصطفیٰ کمال اور وسیم اختر کی جانب سے یہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے فیصلے کی تائید کرتے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ گذشتہ میئرز کے دور میں صرف 16 کروڑ روپے تک اکٹھے ہو رہے تھے مگر کے الیکٹرک کے ذریعے وصولی سے سوا تین ارب روپے تک وصول کیے جا سکتے تھے۔
اُنھوں نے کہا کہ جب ٹیکس ایک پرائیوٹ کمپنی کی بیلنس شیٹ میں نظر آئے گا کہ اس نے میئر کو سوا تین ارب روپے دیے ہیں، تو عوام میئر سے سوال کرنے کے قابل ہوں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد ان کے لیے کام جاری رکھنا ممکن نہیں رہا اور وہ پریس کانفرنس کے بعد اپنا استعفیٰ وزیرِ اعلیٰ سندھ کو پیش کر دیں گے۔