اسلام
آباد کی احتساب عدالت نے مسلم لیگ نے کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے
دائمی وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے ہیں۔
جمعے
کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا
کہ اسحاق ڈار کو واپسی پر گرفتار نہ کیا جائے، وہ پاکستان واپس آجائیں پھر ان کے
وارنٹ منسوخی کے معاملے کو دیکھیں گے۔
اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح نے احتساب
عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی
استدعا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایئرپورٹ پر اترتے ہی سیدھے عدالت پیش ہو جائیں گے۔
احتساب
عدالت کے جج محمد بشیر نے وکیل سے استفسار کیا کہ اسحاق ڈار بیمار تھے یا کوئی اور
مسئلہ تھا، انھوں نے یہ بھی پوچھا کہ پراسیکوٹر افضل قریشی کہاں ہیں۔
جس
پر نیب پراسکیوٹر نے جواب دیا کہ افضل قریشی عمرہ کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے ہیں۔
یاد
رہے کہ گذشتہ روز اسحاق ڈار نے اپنے وارنٹ گرفتاری کے خلاف احتساب عدالت میں
درخواست دائر کی تھی۔
جبکہ
ایک روز قبل سابق وزیر خزانہ سے سپریم کورٹ سے اشتہاری قرار دینے کے خلاف دائر
درخواست واپس لیتے ہوئے کہا تھا کہ متعقلہ فورم سے رجوع کیا جائے گا۔
مقدمے
کی سماعت کرتے ہوئے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کا کہنا تھا کہ فی الحال ملزم
اسحاق ڈار کے وارنٹ معطل کر رہے ہیں۔
عدالت
نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وطن واپسی پر اسحاق ڈار کو عدالت آنے تک گرفتاری
سے روک دیا ہے۔
احتساب
عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار سات اکتوبر تک سرنڈر کر سکتے ہیں، انھوں نے
کہا کہ اسحاق ڈار کے وارنٹ سات اکتوبر تک معطل کئے جاتے ہیں، عدالت نے اسحاق ڈار کیس
کی آئندہ سماعت سات اکتوبر کو مقرر کر دی گئی ہے۔