قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آڈیو لیکس کے معاملے پر غور کے بعد سائبرسکیورٹی سے متعلق’ لیگل فریم ورک‘ کی تیاری کا فیصلہ کیا ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس وزیراعظم شہبازشریف کی صدارت میں بدھ کو وزیراعظم ہاﺅس میں منعقد ہوا۔
اجلاس نے آڈیو لیکس کے معاملے پر تحقیقات کے لیے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی۔
وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ اس کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا کے علاوہ سروسز چیفس، حساس اداروں کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس نے آڈیو لیکس کے معاملے پر غور کیا۔ حساس اداروں کے سربراہان نے اجلاس کو وزیراعظم ہاﺅس سمیت دیگر اہم مقامات کی سکیورٹی، سائبرسپیس اور اس سے متعلقہ دیگر پہلوﺅں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سوشل میڈیا پر زیرگردش آڈیو ز کے معاملے پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
وزیراعظم ہاﺅس کی سکیورٹی سے متعلق بعض پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی اور ان کے تدارک کے لیے فول پروف انتظامات کے بارے میں بتایا گیا۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وزیراعظم ہاﺅس سمیت دیگر اہم مقامات، عمارتوں اور وزارتوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی کسی صورتحال سے بچا جا سکے۔
اجلاس نے مشاورت کے بعد سائیبرسکیورٹی سے متعلق’ لیگل فریم ورک‘ کی تیاری کا فیصلہ کیا اور اس ضمن میں وزارت قانون وانصاف کو’ لیگل فریم ورک‘ کی تیاری کی ہدایت کی۔
اجلاس نے اتفاق کیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور سائیبرسپیس کے موجودہ تبدیل شدہ ماحول کے تناظر اور تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیورٹی، سیفٹی اور سرکاری کمیونیکیشنز کے محفوظ ہونے کو یقینی بنانے کا جائزہ لیا جائے تاکہ سکیورٹی نظام میں کوئی رخنہ اندازی نہ ڈال سکے۔
وزارت خارجہ کے سیکریٹری سہیل محمود نے وزیراعظم کے ازبکستان میں حالیہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس۔سی۔او) کی سربراہان مملکت کی کونسل اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس میں شرکت کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔
اجلاس نے ملک میں تاریخی تباہ کن سیلاب، متاثرین کے لیے ریسکیو، ریلیف کے اقدامات اور سلامتی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔
اجلاس نے 3 کروڑ30 لاکھ سے زائد سیلاب متاثرین کی فوری امداد، محفوظ مقامات پر منتقلی، خوراک، علاج معالجے اورضروری اشیا کی فراہمی کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔