شہباز شریف کا خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لیے 10 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان

وزیر اعظم شہباز شریف نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے 15 ارب روپے گرانٹ، بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے اور اب کے پی کے لیے بھی 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان می سیلاب سے 1162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

لائیو کوریج

  1. سیلاب زدگان کی امداد کے لیے فوج عطیہ مراکز قائم کرے گی

    فوج

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ ہرچند کی اُن کی طرف سے سیلاب متاثرین کے لیے ریسکیو اور ریلیف کے اقدامات کیے جا رہے ہیں مگر پھر بھی سیلاب کی تباہ کاریوں کے ازالے کے لیے مخیّر افراد کو آگے آنا ہو گا۔

    آئی ایس پی آر کے ایک اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اس ضمن میں پاکستانی فوج وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت عطیہ مراکز قائم کرے گی جہاں عوام اپنے عطیات جمع کروا سکیں گے۔

    جو ضروری اشیا فوری طور پر درکار ہیں ان میں خیمے، شیلٹر، شمسی لائٹیں، بستر و گدے، کمبل و چادریں، پانی صاف کرنے کٹس و ذخیرہ کرنے کے لیے برتن، ٹارچیں، بارشوں والے جوتے و ترپال اور راشن شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ ابتدائی طبی امداد کے سامان میں ڈائریا، آنکھ، کان اور جلد کی بیماریاں، ڈی ہائڈیریشن، ڈینگی اور ملیریا کی ادویات کی ضرورت بتائی جا رہی ہے۔

    فوج نے عوام سے کہا ہے کہ غیر ضروری اشیاء جیسے کپڑے، برتن اور کھانے کی کھلی اور خراب ہونے والی اشیاء وغیرہ ان مراکز پر جمع نہ کروائیں۔

  2. وزیرِ اعلیٰ سندھ سے اقوامِ متحدہ کے نمائندے کی ملاقات، سیلاب کی صورتحال پر غور

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر جولین ہارنیس سے ملاقات کی ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق اس ملاقات میں دونوں شخصیات نے صوبے میں بارش سے ہونے والی تباہ کاریوں پر تبادلہ خیال کیا۔

    وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت کے پاس 86 ہزار خیمے تھے جبکہ اس وقت 10 لاکھ خیموں کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے مطابق لاکھوں کچے مکانات زمین بوس ہو گئے ہیں۔

    اس موقع پر اقوامِ متحدہ کے نمائندے نے سندھ حکومت کو اپنے تعاون کا یقین دلایا۔

  3. کور کمانڈرز کانفرنس، آرمی چیف کی سیلاب زدگان کی مدد کی ہدایت

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ فوج کی تمام فارمیشنز سیلاب زدگان کی ہر ممکن مدد کریں۔

    وہ جی ایچ کیو راولپنڈی میں کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس میں ملک میں سیلاب کی صورت حال پر خصوصی بریفنگ دی گئی۔

    آرمی چیف نے ملک میں غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے سیلابی صورت حال میں امدادی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہر متاثرہ فرد تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔

    فورم کے دوران آرمی چیف نے تمام فارمیشنز کو آپریشنل طور پر تیار رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں انسداد دہشت گردی کی کارروایاں جاری رہیں گی۔

  4. خیبر پختونخوا میں نو افراد ہلاک، سوات اور لوئر دیر میں راستوں کی بندش

    خیبر پختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں اور سیلاب سے مختلف حادثات کے نتجے میں نو افراد ہلاک جبکہ 6 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا پی ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے بھر میں 8 مکانات کو جزوی جبکہ 3 مکانات کو مکمل نقصان پہنچا۔

    دوسری جانب شانگلہ، سوات اور دیر اپر میں بند سڑکوں کو کھولنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  5. 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں 13 ہلاکتیں، مجموعی اموات 306 تک پہنچ گئیں

    پی ڈی ایم اے سندھ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے میں سیلاب کی وجہ سے 13 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد اب تک سندھ بھر میں مجموعی طور پر 306 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دادو، مٹیاری، ٹنڈو اللہ یار، شہید بینظیر آباد اور نوشہرو فیروز میں پانچ بچوں سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے۔

    دوسری جانب اسی دورانیے میں 75 ہزار گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ ایک لاکھ 37 ہزار مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے 80 فیصد نقصانات لاڑکانہ میں ہوئے ہیں۔

    سندھ

    ،تصویر کا ذریعہPDMA SINDH

  6. بریکنگ, سیلاب غیرمعمولی انسانی المیہ ہے، اقوامِ متحدہ سے مدد کی اپیل کریں گے: شیری رحمان

    وفاقی وزیرِ ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان میں سیلابی صورتحال کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک انتہائی غیر معمولی انسانی المیہ بن چکا ہے جس پر قابو پانا کسی ایک صوبہ یا ملک کے بس کی بات نہیں ہے اس لیے اقوام متحدہ سے مدد کی اپیل کرنے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اب تک تین کروڑ افراد متاثر ہو چکے ہیں اور اب تک مون سون کے چھ سے سات سپیل آ چکے ہیں اور ابھی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ستمبر کے وسط میں بارشوں کا ایک اور سپیل آ سکتا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی کہ ہم ابھی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ کہیں اور سیلابی ریلے آ گئے، کہیں اور سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔‘

    شیری رحمان نے کہا کہ ’اتنے زیادہ پانی کو سنبھالنے کے لیے ہم قدرت کے نظام کو مستحکم کرنا ہے۔ اس وقت پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والا یہ انتہائی غیر معمولی انسانی المیہ بن چکا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. سوات: سڑک کی بندش کے باعث سیاحوں کا کالام میں پھنسنے کا خدشہ

    مقامی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا میں بارشوں اور طغیانی کے باعث سوات-کالام سڑک اثریت اور پشمال کے مقام پر ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے جس سے مقامی افراد اور سیاحوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. بریکنگ, ’عمران خان کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کا فیصلہ‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک انصاف کا ٹوئٹر پر کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کا فیصلہ کیا ہے۔

  9. لینڈ سلائیئڈنگ کے باعث متاثر ہونے والی ژوب دانہ سر روڈ کی بحالی کا کام جاری

    bo

    خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کو ملانے والی ژوب دانہ سر روڈ کو صاف کرنے کا عمل جاری ہے جو گذشتہ کئی روز سے جاری بارشوں کے باعث ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ میں بری طرح متاثر ہوئی تھی۔

    ژوب دانہ سر روڈ تقریباً ایک ہفتے سے زائد عرصے سے بند ہے اور اسے خیبر پختونخواہ کے علاوہ بلوچستان اور اسلام آباد کے درمیان بھی آمدورفت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    سیلاب کے باعث سبّی کے راستے سندھ اور بلوچستان کے درمیان بھی گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہے جبکہ بلوچستان اور کراچی کے درمیان شاہراہ پر بھی لسبیلہ میں سیلاب کے باعث ٹریفک کی روانی معطل ہے۔

  10. پنجاب میں 42 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے مطابق سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے افراد کی امداد کے لیے سرگرمیاں جاری ہیں جن میں پاکستانی فوج اور ریسکیو 1122 سمیت دیگر ادارے حصہ لے رہے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک 42 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ دور دراز اور مشکل رسائی والے علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سیلاب متاثرین تک خوراک پہنچانے کا عمل جاری ہے۔

    ترجمان کے مطابق سیلابی علاقوں سے 6279 جانوروں کو بھی بچا کر نکالا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک متاثرین کے لیے 99 فلڈ ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں جن میں رہائش پذیر 641 گھرانوں کے 7446 افراد کو کھانے اور صاف پانی سمیت دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کا عمل جاری ہے جبکہ اب تک 43,437گھرانوں کو ایک ماہ کے لیے خشک راشن بھی فراہم کیا جا چکا ہے۔

  11. بریکنگ, گیس پائپ لائن سیلابی ریلے میں بہہ جانے کے باعث بلوچستان کے مختلف علاقوں کو گیس کی فراہمی معطل

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سیلابی صورتحال اور شدید بارشوں کے باعث کوئٹہ اور بولان کے درمیان 12 انچ قطر کی ایک اور گیس پائپ لائن سیلابی ریلے میں بہہ جانے کے باعث بلوچستان کے مختلف علاقوں کو گیس کی سپلائی معطل ہو گئی ہے۔

    ترجمان ایس ایس جی سی کوئٹہ کے مطابق پائپ لائن بہہ جانے سے مستونگ، قلات، پشین اور بلوچستان کے دیگر علاقوں کو گیس فراہم نہیں کی جا سکے گی۔

    ترجمان کے مطابق ’اسی مقام پر 19 اگست کو 24 انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو سیلابی ریلے سے سخت نقصان پہنچا تھا اور اس کی بحالی کا کام مسلسل ہونے والی تیز بارشوں کے باعث ممکن نہیں ہو سکا تھا۔

  12. بریکنگ, سیلابی صورتحال: خیبرپختونخوا کے سات اضلاع میں کچھ روز کے لیے سکول بند کرنے کا فیصلہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    صوبہ خیبر پختونخوا میں ایلیمنٹری اور سیکنڈری تعیلم کے وزیر شہرام خان ترکئی نے اعلان کیا ہے کہ ’جن اضلاع میں سیلابی صورت حال خراب ہے وہاں آج سے کچھ دن کے لیے سکولز بند رہیں گے۔‘

    انھوں نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’ان اضلاع میں اپر چترال میں 10 دن، لوئر چترال میں 5 دن، دیر اپر میں دو دن، دیر لوئر میں تین دن، سوات میں دو دن، ڈی آئی خان دو دن اور ٹانک میں تین دن کے لیے سکولز بند رہیں گے۔‘

  13. سوات ایکسپریس وے پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ٹریفک متاثر

    پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کے مطابق سوات ایکسپریس وے کو پلائی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ٹریفک کے لیے بند کیا گیا ہے اور ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔

    اس کے علاوہ شانگلہ میں الپوری روڈ اور اپر دیر میں پنا کوٹ کے مقام پر مرکزی شاہراہ پر بھی کئی مقام پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے جس کے بعد وہاں بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔

  14. بریکنگ, خیبر پختونخوا میں شدید بارش سے حادثات میں مزید نو ہلاکتیں

    ہلاک شدگان میں تین خواتین، پانچ مرد اور ایک بچہ شامل ہیں جبکہ ان واقعات میں چار بچوں سمیت چھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    ہلاکتوں کے واقعے بونیر، لکی مروت، لوئر دیر، لوئر کوہستان اور شمالی وزیرستان میں پیش آئے جہاں سیلابی پانی میں بہنے سے سات جبکہ چھتیں منہدم ہونے سے دو افراد مارے گئے۔

  15. 25 اور 26 اگست کو ندی نالوں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ: محکمہ موسمیات

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 25 اور 26 اگست کے دوران قلعہ سیف اللہ، کوئٹہ، زیارت، ہرنائی، پشین، لورالائی، بارکھان، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، جھل مگسی، موسیٰ خیل، ژوب، شیرانی، سبی، نصیر آباد، بولان، آواران، قلات، خضدار، لسبیلہ اور ڈیرہ غازی خان کے برساتی اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

    اس کی پیشگوئی کے مطابق 25 اگست کے دوران موسلا دھار بارش کے باعث خطہ پوٹھوہار، سیالکوٹ، نارووال اور گوجرانوالہ میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔

    25 اور 26 اگست کے دوران موسلا دھار بارش کے باعث راولپنڈی، اسلام آباد، ایبٹ آباد، مانسہرہ، دیر، سوات، کوہستان، کرک، بنوں، لکی مروت اور کشمیر کے مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کشمیر، خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں، گلیات، مری، چلاس، دیامیر، گلگت، ہنزہ، استور اور سکردو میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔

    ’مسافر اور سیاح موسمی حالات کو مدنظر رکھ کر سفر کریں اور سفر کے دوران محتاط رہیں۔‘

  16. دریائے سندھ میں کن مقامات پر کس درجے کا سیلاب ہے؟

    نقشہ

    ،تصویر کا ذریعہFlood Forecasting Division (FFD)

    پاکستان میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران سیلاب کے باعث تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کی جانب سے جاری نقشہ کی مدد سے ہم آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ اس وقت دریاؤں میں کن جگہوں پر کتنے درجے کا سیلاب ہے۔

    نقشے کے مطابق اس وقت دریائے سندھ میں مختلف مقامات پر سیلابی صورتحال ہے جو وقت کے ساتھ تبدیل ہو رہی ہے۔

    نقشے کے مطابق کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ تاہم جنوبی پنجاب میں تونسہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

    صوبہ سندھ میں سکھر اور گڈو بیراج کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    تاہم کوٹری بیراج کے مقام پر فی الحال نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارشوں کی پیشگوئی کے بعد یہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔

  17. بریکنگ, سیلابی صورتحال قومی ایمرجنسی ہے، تباہی کی وجہ سے خطیر رقم درکار ہوگی: مریم اورنگزیب

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سیلابی صورتحال ’قومی ایمرجنسی‘ ہے اور صوبہ سندھ و بلوچستان میں غیرمعمولی تباہی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی جذبہ دکھانا ہوگا۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے پوری قوم خاص طور پر بیرون ملک پاکستانیوں کے عطیات کی ضرورت ہے۔ بہت بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی وجہ سے خطیر رقم درکار ہوگی۔ وفاقی حکومت، صوبوں کے ساتھ مل کر بھرپور کوششیں کر رہی ہے، وسائل کو موبلائز کیا جا رہا ہے۔‘

    ’تیز بارشوں اور شدید سیلابی ریلوں کی وجہ سے ریلیف کے کاموں میں مشکلات آ رہی ہیں۔‘

  18. سندھ اور بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے ریلوے ٹریک کہاں کہاں متاثر؟

    سی ای او ریلوے فرخ تیمور غلزئی کے مطابق:

    • دونوں صوبوں میں ٹریکس، یارڈ اور ایمبیکمنٹ شدید متاثر ہیں
    • مین لائن پر روہڑی سے آگے ٹنڈو بستی خان اور دمبڑ سٹیشن کے درمیان اور مہراب پور اور لاکھا روڈ سٹیشن کے درمیان ٹریک بُری طرح متاثر ہے
    • کوئٹہ کی طرف جانے والے ٹریک میں ایم ایل تھری پر شکار پور سے لے کر جیکب آباد اور سبی تک سارا ٹریک سیلاب کی زد میں ہے
    • ریلوے انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلے دو، تین کے دوران چند ٹرینیں معطل رہیں گی جن میں عوام ایکسپریس، تیزگام، پاکستان ایکسپریس، قراقرم اور کراچی ایکسپریس شامل ہیں
    • کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپرس اور بولان پہلے ہی ٹریک کے متاثر ہونے سے معطل ہیں
    • بارشیں تھمنے پر ٹرین آپریشن بحال کیے جائیں گے، مسافر ریفنڈ لے سکتے ہیں
    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. ’ریلوے پُل ٹوٹنے سے کوئٹہ اور سبی کے درمیان آپریشن معطل‘

    پُل

    ،تصویر کا ذریعہPR

    محکمہ ریلوے کے سی ای او فرخ تیمور غلزئی کا کہنا ہے کہ شدید طوفان اور بارش سے ہروک ڈویژن سٹیشنز کے درمیان ریلوے پُل کا ایک حصہ ٹوٹ گیا ہے۔

    انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ڈویژنل سپرنٹینڈنٹ کی موجودگی میں پُل کی بحالی کا کام جاری ہے۔

    ’پل کی بحالی تک کوئٹہ اور سبی کے درمیان آپریشن معطل رہے گا۔ پل کی بحالی میں ایک ماہ لگ سکتا ہے۔ ہنگامی بنیادوں پر کام این ایل سی کے حوالے کیا جائے گا۔‘

    نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق اس پُل کا ایک سال قبل تعمیر کیا گیا حصہ بولان پاس کے قریب ٹوٹا ہے۔ یہ تاریخی پُل ماضی میں برطانوی راج کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. بلوچستان کے متاثرہ اضلاع میں ’مزید تین دن تک مزید بارشوں کا امکان، ریسکیو آپریشن جاری‘

    بلوچستان سے یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ طوفانی بارشوں کے باعث سیلاب کی صورتحال گھمبیر ہوگئی ہے۔

    ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے فیصل طارق کا کہنا ہے کہ ’عوام سے اپیل ہے کہ قومی شاہراہوں پر لینڈ سلائیڈنگ اور رابطہ سٹرکیں متاثر ہونے کے باعث غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

    ان کے مطابق ’بلوچستان میں 34 میں 31 اضلاع بارشوں اور سلابی ریلوں سے بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

    فیصل طارق کا کہنا ہے کہ ’جھل مگسی، صحبت پور اور جعفرآباد میں صورتحال گھمبیر ہے جہاں ریسکیو اور ریلیف آپریشن بھی جاری ہے۔ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مزید تین دن تک بارشوں کا امکان ہے۔‘