انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع کر دی

خاتون مجسٹریٹ زیبا چوہدری کو مبینہ طور پر دھمکانے کے مقدمے میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی عبوری ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. سماعت کے آغاز میں تاخیر متوقع، آج کی متوقع پیشی کے نواز شریف کی پیشیوں سے موازنے, سحر بلوچ، اعظم خان بی بی سی اردو، اسلام آباد

    court

    جوڈیشل کمپلیکس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار سحر بلوچ اور اعظم خان کے مطابق سماعت کے آغاز میں تاخیر متوقع ہے۔

    عدالتی عملے کی جانب سے فی الحال سماعت کے آغاز کا وقت 10 بجے بتایا گیا ہے تاہم اس میں تاخیر کا قوی امکان ہے۔

    اسلام آباد کے سیکٹر جی 11 میں موجود جوڈیشل کمپلیکس میں صحافیوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور عدالتی عملے کی آسانی کے لیے صحافیوں کی فہرستیں بنائی جا رہی ہیں۔

    نامہ نگار سحر بلوچ کے مطابق آج کی متوقع پیشی کا موازنہ سنہ 2018 میں نواز شریف کی پیشیوں سے کیا جا رہا ہے۔

    اعظم خان بتاتے ہیں کہ پولیس کی جانب سے صحافیوں کو عدالت کا راستہ بتاتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ ’نواز شریف والا ہی راستہ ہے۔‘

    court
  2. عمران خان کی انسدادِ دہشتگردی عدالت میں آمد متوقع، پولیس کی بھاری نفری تعینات

    police

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان جمعرات کی صبح اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیش ہوں گے جہاں ان کے خلاف اسلام آباد میں پولیس کے اعلٰی افسران اور ایڈیشنل سیشن جج کو دھمکانے کے الزام میں درج کیے گئے مقدمے کی سماعت ہے۔

    عمران خان کی عدالت آمد سے قبل اسلام آباد کے سیکٹر جی 11 میں موجود انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ 22 اگست کو عمران خان کے وکلا نے ان کی حفاظتی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو عدالت نے عمران خان کے پیش نہ ہونے کے باوجود انھیں تین دن کی راہداری ضمانت دیتے ہوئے 25 اگست تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کو کہا تھا۔

    بدھ کو تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق وزیرِ قانون بابر اعوان نے کہا تھا کہ عمران خان جمعرات کی صبح خود عدالت میں پیش ہوں گے۔

    islamabad
    islamabad
    Islamabad
  3. عمران خان کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیشی آج، حفاظتی انتظامات سخت

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان جمعرات کی صبح اسلام آباد میں پولیس کے اعلیٰ افسران کو دھمکیاں دینے کے الزام میں درج کیے گئے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔

    20 اگست کو اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں اپنی جماعت کے رہنما شہباز گل کی رہائی کے لیے نکالی جانے والی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ سمیت اعلٰی افسران کو مبینہ طور پر دھمکیاں دی تھیں جس پر ان کے خلاف تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ سات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    اس مقدمے کے اندراج کے بعد یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ حکومت عمران خان کو بنی گالہ سے گرفتار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ خبریں سن کر تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد بنی گالہ پہنچی تھی۔

    22 اگست کو عمران خان کے وکلا نے ان کی حفاظتی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو عدالت نے عمران خان کے پیش نہ ہونے کے باوجود انھیں تین دن کی راہداری ضمانت دیتے ہوئے 25 اگست تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کو کہا تھا۔

    بدھ کو تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق وزیرِ قانون بابر اعوان نے کہا تھا کہ عمران خان جمعرات کی صبح خود عدالت میں پیش ہوں گے۔

    اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے ایک بیان میں کہا کہ اگر عمران خان کو ضمانت نہ ملی تو اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ عمران خان کو کمرۂ عدالت سے ہی گرفتار کیا جائے۔ عمران خان کی پیشی کے حوالے سے اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے اردگرد سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

  4. تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر امیر قطر کا شکر گزار ہوں، وزیر اعظم شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER/@CMShehbaz

    وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کی معیشت کے مختلف سیکٹرز میں قطر حکومت کی جانب سے تین ارب ڈالر سرمایہ کاری پر امیر قطر کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف قطرکے سرکاری دورے پر ہیں جہاں آج انھوں نے امیر قطر سے ملاقات کی۔

    اس ملاقات کے بعد ٹؤٹر پر ان کا کہنا تھا کہ امیر قطر شیخ تمیم بن حماد التھانی کے ساتھ ملاقات مثبت رہی جس میں دو طرفہ تعلقات کو نئی سطح پر لے جانے پر اتفاق ہوا۔

    انھوں نے تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر امیر قطر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

  5. بہتر ہے آخری کال سے قبل صاف اور شفاف الیکشن ہو جائیں:عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ’کوشش کی جا رہی ہے کسی طرح ٹیکنیکل پوائنٹ پر باہر کر دیا جائے۔‘

    ہری پور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ میرے خلاف دہشت گردی مقدمے سے پاکستان کی دنیا میں بدنامی ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اداروں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے ہیں۔ ہماری تنقید ان کی بہتری کے لیے ہونی چاہیے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام صرف انتخابات سے ہی آئے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’لوگ تیار رہیں، میں حکومت کو وقت دے رہا ہوں کہ الیکشن کروائیں۔ آپ نے تیار رہنا ہے، میں کال دوں گا، وہ آخری کال ہو گی، اس سے پہلے بہتر ہے شفاف الیکشن ہو۔‘

  6. جون کے مہینے میں بجلی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے فیول چارجز زیادہ آئے، خرم دستگیر, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ جولائی کے بل میں زیادہ فیول سرچارج کی وجہ جون میں گرمی کی وجہ سے زیادہ بجلی کا استعمال تھا۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پر فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ختم کر دیے گئے ییں جس سے ایک کروڑ 70 لاکھ صارفین کو فائدہ ہو گا اور اس مد میں 22 ارب کا ریلیف دیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ تاجروں پر فکسڈ ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے اور اب پرانے طریقہ کار سے ہی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

    انھوں نے ملک میں مہنگی بجلی کا ذمہ دار سابقہ تحریک انصاف کی حکومت کو ٹھہرایا اور کہا کہ 2018 سے 2022 تک سستی بجلی کی پیداوار کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔

    خرم دستگیر نے کہا کہ نیپرا کی ری اسٹرکچرنگ پر کام کررہے ہیں اور وقت پر ٹیرف کا اعلان ہو جائے تو صارفین کو اس طرح کے اضافی چارجز کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

  7. جسم کے نازک حصوں پر کرنٹ لگایا گیا، شہباز گل کا الزام

    شہباز گل

    ،تصویر کا ذریعہSHAHBAZ GILL

    تحریک انصاف چیئرمین عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے جسم کے نازک حصوں پر کرنٹ لگا کر تشدد کیا گیا۔

    شہباز گل کی عدالت میں پیشی کے بعد ایک صحافی نے ان سے سوال کیا تھا کہ ان پر جنسی تشدد کے الزامات کی حقیقت کیا ہے جس پر شہباز گل نے جواب دیا کہ ’یہ بلکل درست ہے۔‘

    شہباز گل نے کہا کہ میرے جسم کے نازک حصوں پر بجلی کے کرنٹ لگائے گئے۔

    ’الیکٹرک کرنٹ لگا کر تشدد کیا گیا تاکہ میں بیان دوں۔‘

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان یہ الزام پہلے ہی عائد کر چکے ہیں کہ شہباز گل پر حراست کے دوران جنسی تشدد کیا گیا۔

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جا چکی ہے۔

  8. سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ملتوی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ملتوی کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ بلدیاتی انتخابات 28 اگست کو کراچی ڈویژن میں ہونے تھے لیکن اب الیکشن کمیشن نے اسے ملتوی کر دیا ہے۔

    حکام کے مطابق یہ فیصلہ موسم کی خراب صورت حال، لاجسٹک مسائل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا فلڈ ریلیف کے کاموں میں مصروف ہونے کی وجہ سے کیا گیا۔

  9. پنجاب میں تحریک انصاف کارکنوں پر درج 25 مئی کے مقدمات خارج

    پنجاب حکومت نے تحریک انصاف کارکنوں پر درج 25 مئی کے مقدمات خارج کر دیے ہیں۔

    وزیر داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر کے مطابق لاہور میں 14 مقدمات خارج کیے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس کو ثبوت مل چکے ہیں کہ تمام پرچے جھوٹے اور سیاسی بنیادوں پر درج کیے گئے تھے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ 25 مئی کے واقعات میں ملوث پولیس کے خلاف انکوائری لازمی مکمل کی جائے گی۔

  10. اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں تین روپے کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں بدھ کے روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 72 پیسے اضافے کے ساتھ 218.38 پر بند ہوئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں زیادہ بڑا اضافہ دیکھا گیا اور ایک ڈالر کی قیمت تین روپے اضافے کے بعد 226 روپے پر بند ہوئی۔

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں حالیہ ہفتوں میں 210 روپے کی کم سطح پر پہنچنے کے بعد اب تک 16 روپے تک اضافہ ہو چکا ہے۔

    پاکستان میں کرنسی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق ملک کا سیاسی بحران ڈالر کی قیمت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے جس کی وجہ سے قیاس آرائیوں پر مبنی ٹریڈ ہو رہی ہے۔

    تجزیہ کار اس توقع کا اظہار کرتے ہیں کہ اگلے ہفتے آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر سے زائد کی قسط ملنے کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی ہو سکتی ہے۔

  11. دفعہ 144 کی خلاف ورزی: پاکستان تحریک انصاف کے 7 رہنماؤں کی عبوری ضمانت منظور

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد فیضان حیدر گیلانی نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر تھانہ آبپارہ میں درج مقدمہ میں پاکستان تحریک انصاف کے 7 رہنماؤں کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو گرفتاری سے روک دیا ہے۔

    واضح رہے کہ ملزمان کے خلاف تھانہ آبپارہ میں ریلی نکالنے پر 22 اگست کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    بدھ کے روز سیف اللہ نیازی، فیصل واؤڈا، علی اعوان، راجہ خرم نواز، فیصل جاوید، صداقت عباسی اور شہزاد وسیم کی طرف سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ بے بنیاد ہے۔

    ان کا موقف تھا کہ مقدمہ میں تمام دفعات قابل ضمانت ہیں اور ’یہ ریلی پرامن تھی جس کو پورے پاکستان نے دیکھا۔‘

    وکلا نے موقف اختیار کیا کہ تحریک انصاف رہنماؤں کو دبانے کے لیے مقدمہ درج کیا گیا اس لیے درخواست ضمانتیں منظور کی جائیں۔

    دلائل سننے کے بعد عدالت نے 20-20 ہزار روپے مالیتی مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کر لی۔

  12. این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن کیس: عثمان ڈار سمیت چھ افراد طلب, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    الیکشن کمیشن نے این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن میں مبینہ دھاندلی کیس میں تحریک انصاف رہنما فرودس عاشق اعوان اور عثمان ڈار سمیت 6 افراد کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے ان پی ٹی آئی رہنماؤں کو 30 اگست کو طلب کیا ہے جن میں عثمان ڈار اور فردوس عاشق اعوان کے ساتھ عمر ڈار، عارف سونی، اقبال سونی اور آصف سونی شامل ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق پی ٹی آئی رہنماوں کو انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    نوٹس کے مطابق ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کے دوران ڈی پی او آفس میں میٹنگ پر وضاحت کے لیے ان رہنماؤں کو طلب کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنماوں پر 3 لاکھ روپے 20 پریذائڈنگ افسران میں بانٹنے اور انتخابی عمل رکوانے اور دھاندلی کا الزام لگایا گیا ہے۔

  13. الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، عمران خان اور اسد عمر کو 50، 50 ہزار روپے جرمانہ, شہزاد ملک، بی بی سی

    الیکشن کمیشن نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور پارٹی رہنما اسد عمر کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 50، 50 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے چار رکنی بنچ نے عمران خان اور اسد عمر کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی جنھوں نے ڈی ایم او لوئر دیر کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانے کیخلاف اپیل کی تھی۔

    تاہم عمران خان اور اسد عمر کی جانب سے الیکشن کمیشن میں کوئی پیش نہیں ہوا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے عدم پیروی پر اپیلیں خارج کرتے ہوئے دونوں کو 50، 50 ہزار جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

  14. کیا کوئی فرد یا ادارہ قانون سے بالاتر ہے: شاہ محمود قریشی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے اپنے پارٹی چیئرمین کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے محض اتنا کہا تھا کہ ’ان افراد کو قانون کے دائرے میں لا کر کارروائی کی جائے۔‘

    انھوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’وفاقی حکومت لوگوں کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہی بلکہ عمران خان پر دہشتگردی کی ایف آئی آر کٹوا رہی ہے۔ خان نے کہا ان افراد کو قانون کے دائرے میں لا کر کارروائی کی جائے۔‘

    ’کیا کوئی فرد یا ادارہ قانون سے بالاتر ہے، ہرگز نہیں۔ آج لوگوں کو یہ سوچنا ہے۔ مہنگائی نمبر ون مسئلہ ہے۔ دنیا میں تیل کی قیمت بڑھی اور ہماری حکومت نے قیمت بڑھا دی اس قیمت پر ڈیزل خریدنا اور ٹیوب ویل کے بل ادا کر کے زراعت کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔‘

    انھوں نے آئندہ ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کے لیے حمایت کی اپیل کی ہے۔

  15. ممنوعہ فنڈنگ کیس: ہم نے دیکھنا ہے کہ اکبر ایس بابر کو فریق بنانا ہے یا نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی

    اسلام آباد ہائیکورٹ

    تحریک انصاف سے متعلق ممنوعہ فنڈنگ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اکبر ایس بابر کی فریق بننے کی درخواست پر فریقین کو جواب طلبی کے نوٹس جاری کیے ہیں۔

    اس کیس کی سماعت قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کی سربراہی میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل تین رکنی لارجر بنچ نے بدھ کو کی۔

    اس دوران پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور اور شاہ خاور کے علاوہ اکبر ایس بابر کے وکیل احمد شاہ عدالت پیش ہوئے۔

    اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ ’ہم اس کیس میں فریق بننا چاہتے ہیں کیونکہ الیکشن کمیشن نے ہماری درخواست پر فیصلہ دیا۔ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فریق بنایا جائے۔‘

    اس موقع پر وکیل پی ٹی آئی نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’اکبر ایس بابر کا کردار صرف ایک اطلاع دینے والے کا ہے۔ اکبر ایس بابر کیس سن تو سکتے ہیں لیکن فریق نہیں بن سکتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’انھیں اکبر ایس بابر کی فریق بننے والی درخواست کی کاپی دیں، میں اکبر ایس بابر کی درخواست پر جواب جمع کراؤں گا۔‘

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کہنا چاہ رہے کہ آپ کی درخواست منظور کریں؟ آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اگر آپ کی درخواست منظور نہیں کرتے تو ان کی درخواست مسترد کریں؟‘

    قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ’ہم نے دیکھنا ہے کہ اکبر ایس بابر کی درخواست کو فریق بنانا ہے یا نہیں۔‘

    عدالت نے مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ اکبر ایس بابر کے وکیل کو فریق بننے پر جواب جمع کرنے کی ہدایت کر دی اور کیس کی سماعت دو ہفتوں تک کے لیے ملتوی کردی ہے۔

  16. ’کل عمران خان انسداد دہشتگردی کی عدالت میں خود پیش ہوں گے‘

    عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی لیگل کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے۔

    جماعت کے قانونی مشیر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ اس میٹنگ میں فیصلہ ہوا ہے کہ ’کل ہم عمران خان کی درخواست ضمانت انسداد دہشتگردی کی عدالت میں دائر کریں گے۔ عمران خان خود جائیں گے۔

    ’یہ جعلی مقدمہ ہے جس میں نہ کوئی دھماکہ ہوا نہ کوئی کلاشنکوف استعمال ہوئی۔ پولیس نے دہشتگردی کے خلاف ملک کے بیانیے کو تباہ کر دیا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. بریکنگ, مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

    عدالت نے شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

  18. بریکنگ, شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت نے رہنما تحریک انصاف شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ سے متعلق فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

  19. 16 دن ہو چکے ہیں، پولیس نے سوائے تشدد کے کچھ نہیں کیا: وکیل شہباز گل

    شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے اپنے مؤکل کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے میڈیا کے تعاون سے شہباز گل کے فلیٹ پر چھاپہ مارا۔

    انھوں نے کہا کہ پولیس نے جتنی بھی جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ایک ہی بات کی کہ موبائل فون برآمد کرنا ہے۔

    فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ چار موبائل فون پولیس برآمد کر چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس کو کون سے موبائل فون کی ضرورت ہے؟

    ملزم کے وکیل کا کہنا تھا پراسیکوٹر کو ابھی یہ نہیں معلوم کہ اسلام آباد میں پولوگرافک ٹیسٹ کی سہولت ہے یا نہیں، انھوں نے کہا کہ 16 دن ہو چکے ہیں، پولیس نے سوائے تشدد کے کچھ بھی نہیں کیا۔

  20. جج زیبا چوہدری نے شہباز گل کا کم سے کم وقت کا جسمانی ریمانڈ دیا: پراسیکیوٹر کے دلائل

    شہباز گل کے مقدمے میں سرکاری وکیل رضوان عباسی نے اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت کو بتایا کہ چار دنوں کی پراگریس موجود ہے، تفتیش مکمل نہیں ہو سکی۔ شہباز گل کا مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

    اس ہرعدالت کا کہنا تھا کہ ایڈشنل سیشن جج کی عدالت نے 48 گھنٹے دیے اور پھر مزید 48 گھنٹے اس عدالت نے بھی دیے۔

    جج نے استفسار کیا کہ کیا میڈم (زیبا چوہدری) نے میرے لیے راستہ چھوڑا کہ مزید جسمانی ریمانڈ دوں؟

    پراسیکیوٹر نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوھدری کا حکم نامہ پڑھنا شروع کر دیا ہے۔

    پراسکیوٹر نے کہا کہ جج زیبا چوہدری نے کم سے کم ٹائم دیا، مگر انھوں نے گیٹ تو بند نہیں کیا۔ اور یہ کہ عدالت نے یہ تو نہیں کہا پولیس کو آخری موقع دیا جاتا ہے تفتیش مکمل کرے۔