انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع کر دی
خاتون مجسٹریٹ زیبا چوہدری کو مبینہ طور پر دھمکانے کے مقدمے میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی عبوری ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, وزیر اعظم شہباز شریف اور نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت
،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام
آباد ہائی کورٹ میں وزیر اعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کے خلاف
توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہو رہی ہے۔
اسلام
آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت
کر رہے ہیں۔
اس
کیس میں درخواست گذار ظفر علی شاہ ایڈووکیٹ نے عدالت میں پیش ہو کر نواز شریف اور
شہباز شریف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کرنے کی استدعا کی ہے۔
ظفر
علی شاہ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ نواز شریف بیماری کی غرض سےلاہور ہائی کورٹ کی اجازت سے بیرون ملک گئے
تھے، اور ان کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے شہباز شریف نے بیان حلفی جمع کرایا تھا۔
درخواست
گزار کا موقف ہے کہ نواز شریف مختلف عدالتوں سے اشتہاری ہیں اور عدالت ان کی ملک
واپسی کے احکامات جاری کرے۔
اس
درخواست میں وزیر اعظم شہباز شریف، نواز شریف، وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کو
فریق بنایا گیا ہے۔
حکومت آئی ایم ایف سے بات کرے، لوگ مشکل میں ہیں: عمران خان
،تصویر کا ذریعہEPA
سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو آئی ایم ایف سے بات کر کے رعایت لینی چاہیے اور انھیں بتایا چاہیے کہ سیلاب کے باعث لوگ مشکل میں ہیں۔
جہلم میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’شہباز شریف اور مفتاح اسماعیل کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی وجہ سے آئی ایم ایف کا پروگرام ناکام ہوجائے گا۔‘
’شہباز شریف غور سے سن لو، تم نے اور تمھارے اتحادیوں نے ملک کو مقروض بنایا۔۔۔ دو ماہ تک پختونخوا کا وزیر آپ سے پوچھتا رہا کہ جن پیسوں کا آپ نے وعدہ کیا تھا وہ انھیں نہیں ملے، اس سے ملاقات نہیں کی گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’سیلاب میں جو اربوں روپے کی تباہی ہوئی، وہ کہاں سے سرپلس دے گا۔‘
عمران خان نے مطالبہ کیا کہ ’آپ کو آئی ایم ایف سے بات کرنی چاہیے۔ میں نے کورونا کے دور میں آئی ایم ایف سے بات کر کے کنسیشن (رعایت) لی۔ انھوں نے کنسیشن دی تھی۔‘
’آپ کو آئی ایم ایف سے بات کرنی چاہیے کہ لوگ مشکل میں ہیں۔ سیلاب آیا ہوا ہے۔ تھوڑا سا دل گردہ بڑھاؤ، گوری چمڑی سے اتنا نہ ڈرو۔‘
شہباز گل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا
،تصویر کا ذریعہTWITTER
شہباز گل نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے خلاف اپیل خارج کرنے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ می چیلنج کیا ہے۔
شہباز گل نے دو روزہ ریمانڈ کے لیے سرکار کی اپیل منظور کرنے کا فیصلہ بھی چیلنج کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ میں دائر اپیلوں میں ایڈیشنل سیشن جج وفاق اور ایس ایس پی انویسٹیگیشن کو فریق بتایا گیا ہے۔
اپیل میں آئی جی اسلام آباد، ایس ایچ او تھانہ کوہسا اور بیریسٹر غلام مصطفی چانڈیو کو بھی فریق بنایا گیا۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا جسمانی ریمانڈ کے خلاف اپیل خرج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے جائے اور سیشن جج زیبا چوہدری کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کا فیصلہ بھی کالعدم کیا جائے۔
اسلحہ برآمدگی کیس میں شہباز گل کی ضمانت منظور
پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کی اسلحہ برآمدگی کیس میں 25 ہزار روپے کے مچلکوں پر ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔
اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ اور ڈیوٹی جج نصیرالدین نے شہباز گل سے پستول کی برآمدگی کے مقدمے میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔
تفتیشی افسر نے کہا ’ہم نے پستول برآمد کر کے فوری مقدمہ درج نہیں کیا بلکہ رپورٹ لکھ کر وقت دیا کہ شہباز گل کا ڈرائیور خود یا پستول کا لائسنس آ جائے۔ ایک دن انتظار کے بعد پیش نہ ہونے پر ہم نے مقدمہ درج کیا۔‘
شہباز گل کے وکیل علی بخاری نے کہا ’جو پستول برآمد کیا گیا وہ شہباز گل کے ڈرائیور کا ہے جس کا لائسنس بھی ہے۔ پولیس کو فراہم کر دیا گیا ہے۔‘
تفتیشی افسر نے کہا کہ اسے ابھی تک لائسنس فراہم نہیں کیا گیا۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد 25 ہزار روپے کے مچلکوں پر ضمانت منظور کر لی۔
شہباز شریف اور نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پیر کو سماعت کے لیے مقرر
،تصویر کا ذریعہPID
اسلام آباد ہائیکورٹ میں وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ پیر کو سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔
درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ پیر کو کریں گے۔
رجسٹرار آفس نے اعتراض لگایا ہے کہ ’بیان حلفی لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرایا، وہی فورم بنتا ہے۔‘
یہ درخواست وکیل سید ظفر علی شاہ نے بطور پٹشنر دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف بیماری کی غرض سے لاہور ہائی کورٹ کی اجازت سے بیرون ملک گئے تھے اور نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے شہباز شریف نے بیان حلفی جمع کرایا۔
اس میں استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف مختلف عدالتوں سے اشتہاری ہیں لہذا وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔ ’عدالت نواز شریف کی واپسی کے لیے احکامات جاری کرے۔‘
اس درخواست میں وزیر اعظم شہباز شریف، نواز شریف، وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کو فریق بنایا گیا ہے۔
عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہReuters
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج کو ’دھمکی‘ پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے لیے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینج تشکیل دے دیا ہے جو 31 اگست کو سماعت کرے گا۔
جسٹرار آفس کے نوٹ پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔
جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے ابتدائی سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون کو سننے کے بعد عمران خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا تھا اور تین رکنی لارجر بینچ میں مزید ججز کو بینچ میں شامل کرنے کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا تھا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ کی چھٹیوں سے واپسی پر نیا لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے جس کی سربراہی چیف جسٹس اطہر من اللہ خود کریں گے جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس بابر ستار اور جسٹس طارق محمود جہانگیری بھی لارجر بینچ میں شامل ہیں۔
رجسٹرار آفس کی جانب سے عمران خان کو بنی گالہ کی رہائش گاہ پر توہین عدالت کا شوکاز نوٹس ارسال کیا جا چکا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان 31 اگست کو پیش ہوکر بتائیں کہ ’ان کے خلاف توہین عدالت کارروائی کی کیوں نہ کی جائے؟‘
شہباز گل کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے مقدمے کی سماعت پیر تک ملتوی
سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے خلاف اداروں میں بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
مقدمے کی سماعت ایڈیشنل سیشن طاہر عباس سپرا نے کی۔
دوران سماعت پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی اور ملزم کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے تو پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ریکارڈ ابھی موجود نہیں ہے، تفتیشی کراچی میں ہے۔
پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر سے رابطہ ہوا تھا لیکن ابھی وہ پہنچا نہیں ہے۔
دوران سماعت جج نے پولیس حکام کو ہدایات دیں کہ تفتیشی سے رابطہ کریں اور پھرعدالت کو آگاہ کریں۔ کچھ دیر بعد پولیس حکام نے بتایا کہ تفتیشی کا فون اب بند ہے، ان سے رابطہ نہیں ہو رہا۔
پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ابھی ریکارڈ پیش ہو بھی جائے تو وہ دلائل نہیں دے سکتے۔ ان کے مطابق 'میں نے بھی ریکارڈ دیکھنا ہے، میری بھی ابھی تیاری نہیں ہے'۔
شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ یہ بہت زیادتی کی بات ہے کہ پولیس مسلسل تاخیر کر رہی ہے، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ پولیس کو پھر آخری موقع دے دیتے ہیں۔
تحریک انصاف کے رہنما فیاض الحسن چوہان کی 7 سمتبر تک عبوری ضمانت منظور
اسلام آباد کی ایک ضلعی عدالت سے تحریک انصاف کے رہنما فیاض الحسن چوہان کو عبوری ضمانت مل گئی ہے۔ اپنی جماعت کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ انھیں بھی دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمے کا سامنا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے اس مقدمے کی سماعت کی اور فیاض الحسن چوہان کی عبوری درخواست ضمانت 7 ستمبر تک کے لیے منظور کی گئی۔
عدالت نے پانچ ہزار روپے مچلکوں پر ضمانت منظور کر کے پولیس کو آئندہ سماعت پر ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ہے۔
عمران خان کے ساتھ 77 پولیس اہلکار تعینات ہیں: اسلام آباد پولیس
،تصویر کا ذریعہReuters
اسلام آباد پولیس نے بتایا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ ایس پی کی سربراہی میں 77 پولیس اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ہیں اور دوسرے صوبوں سے قانونی ضابطہ کار کے مطابق نفری فراہم کی گئی تو وہ بھی سابق وزیر اعظم کو مہیا کی جا سکتی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ ہر سابق وزیر اعظم کو صرف 5 سکیورٹی اہلکار مہیا کیے جاتے ہیں جبکہ اس صورتحال میں سابق وزیر اعظم صاحب کو 77 پولیس افسران صرف اسلام آباد پولیس فراہم کر رہی ہے اور آٹھ اہلکار جی بی پولیس سے فراہم کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ جمعے کی شام کو پی ٹی آئی رہنما چوہدری فواد حسین نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے عمران خان سے پولیس کی سکیورٹی واپس لے لی ہے۔
پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 45 فیصد تک پہنچ گئی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی میں سالانہ بنیادوں پر 44.58 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق 19 اگست سے لے کر 25 اگست کے ہفتے میں گذشتہ سال کے ان دنوں کے مقابلے میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں 44.58 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایک ہفتے میں سالانہ بنیادوں پر ٹماٹر کی قیمت میں 178 فیصد، پیاز کی قیمت میں 155 فیصد، دال مسور کی قیمت میں 90 فیصد، 5 لیٹر خوردنی تیل کی قیمت میں 70 فیصد جبکہ چکن اور دال چنا کی قیمت میں 55 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ڈالر کی قیمت 220 روپے کی سطح عبور کر گئی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان میں مقامی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا رجحان جاری ہے اور جمعے کے روز ایک ڈالر کی قیمت 220 روپے کی سطح عبور کر گئی۔
گذشتہ روز ایک ڈالر کی قیمت 219.41 کی سطح پر بند ہوئی تھی جو اس وقت مارکیٹ میں 220.60 پر ٹریڈ ہو رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ڈالر کی طلب بڑھی ہے تو دوسری جانب ملک میں ڈالروں کی آمد کم ہے جو ملک کے زرمبادلہ ذخائر میں کمی سے واضح ہے۔
پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر ایک ہفتے میں مزید کم ہو کر 13.5 ارب ڈالر کی سطح تک گر گئے ہیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود ذخائر میں آٹھ کروڑ 87 لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ ذخائر 7.8 ارب ڈالر کی سطح تک گر گئے ہیں۔
تجارتی بینکوں کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 5.7 ارب ڈالر ہیں۔
عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس ان کی رہائش گاہ بھجوا دیا گیا
اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عمران خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس ارسال کر دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق رجسٹرارآفس ہائیکورٹ سے جاری شوکاز نوٹس عمران خان کی رہائش گاہ پر بھجوایا گیا۔
شوکاز نوٹس کے مطابق ’عمران خان نے خاتون جج کے بارے میں توہین اوردھمکی آمیز تقریر کی۔ عمران خان نے تقریر اس وقت کی جب کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت تھا۔
’عمران خان نے توہین اور دھمکی آمیز تقریر من پسند فیصلہ لینے کے لیے کی۔‘
اس میں کہا گیا ہے کہ ’عمران خان نے تقریر کے ذریعے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی‘ اور ’خاتون جج کو دھمکی دے کر کریمنل اور جوڈیشل توہین کی۔‘
انھیں کہا گیا ہے کہ وہ 31 اگست کو پیش ہو کر بتائیں کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کارروائی کی جائے۔
پشاور ہائیکورٹ نے پی ڈی ایم رہنماؤں کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کرنے کا اعلامیہ معطل کر دیا
پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے اس اعلامیے کو معطل کر دیا ہے جس کے تحت ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ڈی آئی خان نے رہنما تحریک انصاف علی امین گنڈا پور کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ وفاق میں حکومتی اتحاد پی ڈی ایم کی قیادت کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کرائیں۔
جسٹس وقار احمد اور جسٹس شاہد خان پر مشتمل بینچ نے اس ضمن میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا، صوبائی حکومت، صوبائی کابینہ، ایڈووکیٹ جنرل اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ اس نوٹیفیکیشن کے خلاف درخواست ایڈووکیٹ شبیر حسین نے دائر کی تھی۔
اس حکم کے ردعمل میں رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’پشاور ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ کے نزدیک حکومت کا PDM رہنماؤں کے خلاف انھیں الزامات پر مقدمہ درج کرنے کا حکم اتنا بے وقعت ہے کہ حکومت کو نوٹس کئے بغیر کابینہ کا فیصلہ معطل کر دیا گیا۔ ثابت یہ ہوتا ہے کہ ملک میں قانون جج صاحبان کا نام ہے، جج قانون کے ماتحت نہیں قانون ججز کے ماتحت ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
مریم نواز اور رانا ثنا اللہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وکیل علی اعجاز بٹر نے مریم نواز، رانا ثنا اللہ، مولانا فضل الرحمان اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی استدعا کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جسے ناقابل سماعت قرار دیا گیا ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ فورم نہ ہونے کا رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھا ہے۔
رجسٹرار آفس کے اعتراض کے ساتھ جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی اور استفسار کیا تو وکیل نے بتایا کہ ان رہنماؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر عدلیہ مخالف مختلف بیانات دیے گئے۔
اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’کیا اس ہائی کورٹ سے متعلق کوئی ذکر ہے ؟ آپ سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے پاس جائیں جن سے متعلق آپ کہہ رہے ہیں۔‘
’درخواست گزار لاہور کا ہے، اس کو یہی جگہ کیوں پسند ہے۔ پٹشنر کو کہیں لاہور میں بھی عدالتیں ہیں۔ جس وقت یہ بیانات دیے گئے، اس وقت کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی۔‘
عدالت نے اس بنیاد پر توہین عدالت کی درخواست خارج کردی ہے۔
بجلی کے صارفین کے بلوں میں 24 گھنٹوں کے اندر ریلیف شامل کیا جائے، وزیر اعظم کی ہدایت
،تصویر کا ذریعہPID
وزیر اعظم آفس کی جانب سے دائر کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 200 یونٹ تک کے بجلی کے صارفین کے بلوں میں اعلان کردہ ریلیف کو 24 گھنٹے میں شامل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
وزیر اعظم نے ہدایت دی ہے کہ ’24 گھنٹے کے اندر ریلیف کے تحت صارفین کے بلوں کو کم کیا جائے۔ بجلی کے بلوں کی تصحیح کے لیے ڈسکوز کا سٹاف 24 گھنٹے کام کرے۔ بلوں کی تصحیح کے لیے تمام سٹاف کی چھٹیاں ختم کر کے اس کام کو فوری نمٹا کر مجھے رپورٹ پیش کی جائے۔‘
’بلز جمع کروانے کے لیے بینکس کو آئندہ دنوں میں کھلا رہنے کی ہدایت کی جائے‘
وزیر اعظم آفس کے مطابق ’اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کے بجلی کے صارفین کے لیے اعلان کردہ ریلیف پیکیج پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ایک کروڑ 66 لاکھ صارفین کو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دیے گئے ریلیف کے تحت بلوں کی تصحیح جاری ہے۔
جج زیبا چوہدری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر
،تصویر کا ذریعہTWITTER
شہباز گل کو جسمانی ریمانڈ دینے پر اسلام آباد کی مقامی عدالت کی جج زیبا چوہدری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔
یہ درخواست ملزم شہباز گل کے بھائی یاسین گل اور ان کے بیٹے کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ 10 اگست کو خاتون جج نے شہباز گل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ خاتون جج نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر جا کر جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔
درخواست میں الزام ہے کہ ’ایڈیشنل اینڈ سیشن جج زیبا چوہدری کے شوہر حکمران جماعت کے ٹکٹ ہولڈر ہیں۔ عدالت متعلقہ خاتون جج کے خلاف ضابطہ اخلاق کی کارروائی شروع کرے۔‘
شہباز گل کی درخواستِ ضمانت پر سماعت: ’اگر ریکارڈ نہیں آتا تو ایس ایس پی، آئی جی کو بلائیں گے‘
اسلام آباد میں طاہر عباس سپرا کی ایڈیشنل سیشن عدالت میں بغاوت پر اُکسانے کے مقدمے کے ملزم شہباز گل کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی ہے۔
دوران سماعت ملزم شہباز گل کی جانب سے فیصل چوہدری اور سردار مصروف خان عدالت میں پیش ہوئے۔
جج نے استفسار کیا کہ ’تفتیشی افسر کدھر ہے، ریکارڈ کہا ہے، کیا تفتیشی کو نوٹس نہیں ملا؟‘
پولیس افسر نے جواب دیا کہ نوٹس شام کو ملا تھا اور تفتیشی صبح کے وقت کراچی نکل گیا تھا۔ ’تفتیشی افسر نے دوسرے ملزم کی گرفتاری کرنی ہے اور ریکارڈ کراچی ساتھ لے کر گیا ہے۔‘
جج نے حکم دیا کہ ’دس بجے تک کا وقت دیتا ہوں، ریکارڈ یا تفتیشی پیش ہوں۔‘ پولیس نے بتایا کہ ’وہ کراچی سے اتنی جلدی نہیں آسکتے۔‘
اس موقع پر جج کی ہدایت ہے کہ ’میں نے تو نہیں کہا تھا تفتیشی کراچی جائے، فون کریں ان کو بلائے نہیں آتے تو ایس ایچ او کو بلائیں۔ ’اگر ریکارڈ نہیں آتا تو ایس ایس پی اور آئی جی اسلام آباد کو بلائیں گے۔‘
دوسرے صوبوں سے پولیس نہیں مانگی، غیر قانونی اقدام پر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا: اسلام آباد پولیس
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ترجمان اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ ’اسلام آباد کی حدود میں کسی بھی دوسرے صوبے کی پولیس قانونی اجازت کے بغیر کام نہیں کرسکتی۔ اسلام آباد ضلعی انتظامیہ نے تاحال کسی بھی دوسرے صوبے سے پولیس نہیں مانگی۔
کسی بھی قانون شکنی کی صورت میں اسلام آباد کیپیٹل پولیس قانونی اور عملی اقدام کرے گی۔ کسی بھی غیر قانونی اقدام یا پیش قدمی کی صورت میں ذمہ داروں کا واضح تعین کیا جائے گا۔ قانونی طور پر معاونت کے لیے طلب کی گئی نفری بھی قانون کے مطابق اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے احکامات پر عمل کرنے کی پابند ہے۔‘
عمران خان معافی کیوں مانگیں؟ میں چیف جسٹس اسلام آباد ہوتا تو تشدد نظر انداز کرنے پر معافی مانگتا: فواد چوہدری
رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ توہین عدالت کے مقدمے میں عمران خان کو معافی نہیں مانگنی چاہیے کیونکہ ’یہ بہت افسوس ناک ہوگا۔‘
مقامی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے شو ’آن دی فرنٹ‘ پر گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ہم (اپنے دور میں) کہہ رہے تھے کہ اداروں کی مداخلت کم ہونی چاہیے۔ سیاستدانوں آپس میں بیٹھیں۔ عدالتی اصلاحات ہونی چاہیے۔۔۔ گذشتہ چار، پانچ ماہ میں بحث کا رُخ بدل گیا ہے۔ ہم شمالی کوریا اور برما بنتے جا رہے ہیں۔ سارے ٹی وی بند کر دیے، لوگوں پر چھاپے مارے گئے، لوگوں کو اٹھا اٹھا کر مار رہے ہیں۔۔۔ سیاسی کارکنان کے ساتھ ایسا سلوک ہو رہا ہے۔‘
خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو توہین عدالت کے مقدمے میں 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ عمران خان کو ایک ’خاتون جج کے خلاف تقریر‘ پر مقدمے کا سامنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کو اتنا بڑا ریورس گیئر لگا ہے۔‘
جب اینکر کامران شاہد نے کہا کہ عمران خان خود کہتے ہیں کہ ہم اتحادی حکومت میں اداروں سے کہہ کہہ کر ایم این ایز کو بلاتے تھے، تو فواد چوہدری نے جواب دیا کہ ’عمران خان سے یہ توقع نہ کریں کہ وہ جھوٹ بولیں گے۔ یہ کوئی راز تھوڑی ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہEPA
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی لوگوں کو احمق سمجھتے ہیں جبکہ ’سب کو پتا ہے کون سا فیصلہ کہاں ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا۔۔۔ پر کہاں چیزیں چھپتی ہیں۔‘
’چاہے عدالتیں ہوں، چاہے اسٹیبلشمنٹ ہو، ان سب کو قانون کے نیچے نہیں لائیں گے تو رول آف لا نہیں آئے گا۔‘
سابق وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ شہباز گل کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا اور ان پر تشدد کی تحقیقات بھی آئی جی اسلام آباد نے کروائی۔ ’شہباز گل کو اٹھایا، رات کو ننگا کر کے مارا۔۔۔ جب اس نے قمیز اتار کر دکھائی تو مجسٹریٹ وہیں رک گیا اور کہا میں نہیں دوں گا جسمانی ریمانڈ۔‘
’فیصلوں سے (ججز کی) عزت ہوتی ہے، تقریروں سے نہیں۔‘ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا مقابلہ کریں گے اور توہین عدالت میں ’معافی مانگنی ہی نہیں چاہیے۔‘
’عمران خان کو معافی کیوں مانگنی چاہیے؟ میں چیف جسٹس اسلام آباد ہوتا تو معافی مانگتا کہ میں نے تشدد کو نظر انداز کیا، مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ سنگین الزام ہے تشدد کا۔‘
انھوں نے کہا کہ اس میں ’توہین عدالت والی کون سی بات ہے۔ یہ ان کا فیصلہ ہے۔‘
فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ جج کے فیصلے کی وجہ سے شہباز گل کو حساس اعضا پر کرنٹ لگایا گیا۔ ’اس میں پھر پارٹنر کون ہے؟ کس نے انھیں حوالہ کیا؟‘
سعودی فرمانروا کی پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہدایت
سعودی عرب کے بادشاہ، شاہ سلمان نے پاکستان میں ایک ارب ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ حکم سعودی مملکت کی جانب سے پاکستان کی معیشت اور اس کے لوگوں کی مدد کا اعادہ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ سلمان کے اس حکم کے بارے میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے پاکستانی ہم منصب بلاول بھٹو زرداری کو ان سے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں مطلع کیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔