انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع کر دی

خاتون مجسٹریٹ زیبا چوہدری کو مبینہ طور پر دھمکانے کے مقدمے میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی عبوری ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’جواب سے لگتا ہے عمران خان کو احساس ہی نہیں انھوں نے کیا کہا؟‘

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ ایک سیاسی پارٹی کے رہنما عمران خان کا ہر لفظ ضروری ہوتا ہے۔

    ’عمران خان کے اس الفاظ میں ایک خاتون جج کو دھمکی دی گئی۔ تحریری جواب میں ہمیں جو امید نظر آرہی تھی، وہ نہیں ملی۔‘

    ’اس عدالت نے تین برسوں سے مسلسل ٹارچر کے معاملے کو اٹھایا۔ لاپتہ افراد کی گمشدگی اور بلوچ طلباء کی ہراسگی سب سے بڑا ٹارچر ہے۔‘

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ’جواب سے لگتا ہے کہ عمران خان کو احساس ہی نہیں کہ انھوں نے کیا کہا؟‘

  2. ’میں یہ توقع کر رہا تھا کہ اس پر شرمندگی اور افسوس کیا جائے گا‘: چیف جسٹس کے ریمارکس

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے مزید ریمارکس دیے کہ جس طرح گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا زبان سے کہی ہوئی چیز واپس نہیں آتی۔

    ’جن مشکل حالات میں ضلع کچہری میں ججز کام کر رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ میں یہ توقع کر رہا تھا کہ اس پر شرمندگی اور افسوس کیا جائے گا۔ جس طرح گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا زبان سے کہے گئے الفاظ واپس نہیں ہوتے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ایک سیاسی جماعت کے لیڈر کے فالورز ہوتے ہیں اس کو کچھ کہتے سوچنا چاہیے۔ گذشتہ تین سال میں بغیر کسی خوف کے ہم نے ٹارچر کا ایشو اٹھایا ہے۔‘

    ’مجھے توقع تھی کہا جائے گا غلطی ہو گئی۔ توقع تھی آپ ان عدالتوں میں جا کر کہیں گے ہمیں آپ پر اعتبار ہے۔‘

  3. بریکنگ, عمران خان کے جواب سے دُکھ ہوا: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت کے دوران کہا کہ عمران خان کے جواب سے انھیں دُکھ ہوا ہے اور ’کیا یہ بہتر ہوتا کہ اس عدالت میں آنے سے پہلے ایڈیشنل سیشن جج کے پاس چلے جاتے۔‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’حامد خان صاحب آپ عمران خان کے وکیل ہوں گے؟ ہمیں بہت خوشی ہے کہ اس اہم معاملے میں آپ یہاں وکیل ہے۔ مجھے ایسے بیانات کی بالکل بھی توقع نہیں تھی۔ آپ کے موکل کا ماتحت عدلیہ بارے بیان کی توقع نہیں تھی۔ ماتحت عدلیہ ایلیٹس کی عدلیہ نہیں اسے اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔‘

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’ماتحت عدالت کے ججوں سے متعلق جو کہا گیا اس کی توقع نہیں تھی۔

    ’ستر سال میں عام آدمی کا ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں رسائی نہیں ہے۔ کم از کم جو جن حالات میں رہ رہے ہیں وہ بھی دیکھنا چاہیے۔ میں توقع کر رہا تھا کہ احساس ہو گا کہ غلطی ہو گی۔‘

  4. بریکنگ, عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت شروع

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کے حلاف توہین عدالت نوٹس کیس کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔

    ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    اس موقع پر ہائی کورٹ میں اور اس جانب جانے والے راستوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

  5. بریکنگ, چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے

    بنی گالا میں اپنی رہائش گاہ سے روانگی کے بعد عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. عمران خان کی ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر سخت سکیورٹی اقدامات, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    high court

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہائی کورٹ میں پیشی اب سے کچھ دیر بعد متوقع ہے۔ اس موقع پر ہائی کورٹ کے اندر اور باہر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ عمران خان کے خلاف خاتون جج کو دھمکی دینے سے متعلق توہین عدالت کے نوٹس کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کا لارجر بینچ کرے گا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کو جمع کرائے گئے جواب میں عمران خان نے معافی تو نہیں مانگی تاہم یہ ضرور کہا ہے کہ اگر عدالت سمجھتی ہے کہ ان کے الفاظ نامناسب ہیں تو وہ اپنے الفاظ واپس لینے کے لیے تیار ہیں۔

    high court
    ہائی کورٹ اسلام آباد
  7. بریکنگ, توہین عدالت نوٹس کیس: لارجر بینچ دوپہر دو بجے کے بعد سماعت کرے گا, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کرے گا۔

    خیال رہے کہ عمران خان نے گذشتہ روز عدالتی نوٹس پر اپنا جواب داخل کروایا تھا جس میں ان کا کہنا ہے کہ اگر عدالت سمجھتی ہے کہ کہ ان کے الفاظ نامناسب تھے تو وہ ان کو واپس لینے کو تیار ہیں۔

    تاہم انھوں نے کہا ہے کہ یہ جواب ابتدائی ہے، جو کچھ ان کے سامنے آیا ہے اس کو مدنظر رکھ کر انھوں نے تیار کیا ہے۔

    دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر اس معاملے میں عمران خان توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں لیکن ان کے جواب سے ایسا لگ رہا ہے کہ قصور وار عدالت ہے عمران خان نہیں، عمران خان کی توہین کی گئی ہے عمران خان نے عدالت کی توہین نہیں کی۔

    خیال رہے کہ یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مرتکب قرار پائے تھے جب انھوں نے بحثیت وزیراعظم سوئس حکومت کو خط نہیں لکھا تھا۔ عدالت نے انھیں پانچ سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے سے نااہل قرار دیا تھا۔

    اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے متعدد رہنماؤں پر اس وقت توہین عدالت لگی جب رکن پارلیمان تھے اگرچہ انھوں نے غیر ممشروط معافی بھی مانگی تھی تاہم عدالت نے انھیں معاف نہیں کیا تھا۔

  8. خاتون جج کو دھمکیاں دے کر کیا عمران خان بچ نکلیں گے: احسن اقبال کا سوال

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے سابق وزیراعظم عمران خان کی عدالت میں پیشی سے پہلے اپنی ٹوئٹ میں سوال کیا ہے کہ کیا عمران خان کے لیے توہین عدالت کے وہی پیمانے ہوں گے جو مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے لیے تھے۔

    اپنی ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ `دیکھتے ہیں کہ توہین عدالت کے وہ پیمانے جن پر PMLN کو تولا گیا تھا اور دانیال عزیز، طلال چوہدری اور نہال ہاشمی کو ان پر سزا دی گئی کیا وہ عمران نیازی پہ بھی لاگو ہوتے ہیں؟‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. توہین عدالت کیس: عمران خان اپنے الفاظ واپس لینے کو تیار ہیں، عدالت میں جواب داخل

    توہین عدالت نوٹس کیس میں تحریک انصاف چیئرمین عمران خان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر جج زیبا چوہدری سے متعلق ان کے الفاظ نا مناسب تھے تو وہ ان الفاظ کو واپس لینے کے لیے تیار ہیں۔

    تحریک انصاف چیئرمین، جنھوں نے بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کیس میں پیش ہونا ہے، کی جانب سے ایڈووکیٹ حامد خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب جمع کرایا گیا ہے۔

    جواب میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ زیبا چوہدری مجسٹریٹ ہیں جو حکومتی احکامات پر عمل کر رہی ہیں اور اسی غلط فہمی میں ان کو مجسٹریٹ کہا گیا لہذا ان کا کسی جوڈیشل افسر کے خلاف کچھ کہنے کا ارادہ نہیں تھا۔

    جواب میں کہا گیا کہ عمران خان کو بتایا گیا تھا کہ مذکورہ جوڈیشل افسر کو معلوم تھا کہ شہبازگل پر تشدد کیا گیا لیکن اس کے باوجود انھوں نے شہباز گل کو ریمانڈ پر اسی ایجنسی کے حوالے کر دیا جس نے تشدد کیا تھا۔

    جواب کے مطابق عمران خان کا ہرگز یہ ارادہ نہیں تھا کہ وہ عدالت کو ناراض کریں کیوں کہ وہ ججوں کے احساسات کو مجروح کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔

    جواب میں کہا گیا کہ اگر عمران خان کے الفاظ نا مناسب تھے تو وہ ان الفاظ کو واپس لینے کو تیار ہیں۔

  10. توہین عدالت کیس: توہین عدالت نہیں کی، چند جملوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، عمران خان

    توہین عدالت نوٹس کیس میں تحریک انصاف چیئرمین عمران خان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان کو یہ غلط فہمی تھی کہ زیبا چوہدری جوڈیشل افسر نہیں بلکہ مجسٹریٹ ہیں جو حکومتی احکامات عمل کر رہی ہیں۔

    تحریک انصاف چیئرمین، جنھوں نے بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کیس میں پیش ہونا ہے، کی جانب سے ایڈووکیٹ حامد خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب جمع کرایا گیا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد میں 20 اگست کو عوامی ریلی سے خطاب کے چند الفاظ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے اور تاثر دیا کہ چیئرمین تحریک انصاف قانون کو ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔

    ان کے مطابق یہ ہر شہری کا قانون حق ہے کہ وہ کسی جج یا سرکاری عہدیدار کے خلاف قانون کے تحت شکایت کر سکے۔

    جواب میں کہا گیا کہ نوٹس بھی ان اخبارات کی کلپنگ کی بنیاد پر دیا گیا جو عمران خان کے ناقد ہیں۔

    جواب کے مطابق عمران خان نے ’آپ سب شرم کریں‘ کے الفاظ روانی مِیں کہ دیے جس سے ان کی مراد یہ تھی کہ حکام شہباز گل کیس میں انصاف کریں اور یہ خاتون جج کے لیے نہیں تھے۔

    جواب میں کہا گیا کہ یہ بات حیران کن ہے کہ عدالت نے ان کے چند الفاظ کو بنیادی آئینی حقوق کے تحت نظر انداز کرنے کی بجائے توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کر دیا۔

    اس جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان نے ہمیشہ قانون اور انصاف کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی ہے۔

    یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ عین ممکن ہے کہ ہائی کورٹ نے ماتحت عدلیہ کی خاطر کارروائی کا آغاز کیا ہو لیکن یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ وفاقی حکومت اس کیس کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

    عمران خان کی جانب سے دائر جواب میں کہا گیا کہ ان کو اس بات کا افسوس ہے کہ ان کی ایک ایسی تقریر کا غلط مفہوم نکالا گیا جو قانون کی بالادستی کے لیے کی گئی تھی۔

  11. توہین عدالت کیس: جج کے خلاف ایکشن سے مراد قانونی ایکشن تھا، عمران خان

    توہین عدالت نوٹس کیس میں تحریک انصاف چیئرمین عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے جانے والے جواب میں کہا گیا ہے کہ ان کو اپنے عوامی خطاب میں ایک بیان کی وضاحت کا موقع نہیں دیا گیا۔

    تحریک انصاف چیئرمین، جنھوں نے بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کیس میں پیش ہونا ہے، کی جانب سے ایڈووکیٹ حامد خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب جمع کرایا گیا ہے۔

    جواب میں کہا گیا ہے کہ ان کے خطاب میں جوڈیشل افسر کو خصوصی طور پر مخاطب نہیں کیا گیا۔

    جواب کے مطابق عمران خان نے شہباز گل پر حراست کے دوران جسمانی تشدد کے مناظر دیکھے اور جنسی تشدد کے بارے میں سنا جس کے بعد وہ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر پریشان تھے۔

    ’بیان کا مقصد قانون کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرنا یا عدالتی نظام کی ساکھ کو متاثر کرنا نہیں تھا۔‘

    ان کے جواب میں کہا گیا ہے کہ بیان میں ایکشن سے مراد قانون کے مطابق ایکشن تھا۔

  12. توہین عدالت کیس: اخبار کی کلپنگ کی بنیاد پر کارروائی نہیں ہو سکتی، عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عدالتی دائرہ کار میں نہیں اس لیے اس شو کاز نوٹس کو واپس لیا جائے۔

    تحریک انصاف چیئرمین، جنھوں نے بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کیس میں پیش ہونا ہے، کی جانب سے ایڈووکیٹ حامد خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب جمع کرایا گیا ہے۔

    عمران خان کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ ہائی کورٹ کی توہین کا نہیں، اس لیے ڈپٹی رجسٹرار کی جانب سے جمع کرائے گئے نوٹ پر کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

    جواب میں کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت ہائی کورٹ کے پاس ماتحت عدالتوں کی توہین پر سزا دینے کا اختیار تو ہے لیکن اس کے لیے ماتحت عدالت کی جانب سے ریفرنس آنا ضروری ہے۔

    یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ اخباری رپورٹس کی بنیاد پر کارروائی کے رجحان سے انصاف اور قانون کی حکمرانی کو نقصان ہو سکتا ہے۔

    ان کے مطابق ڈپٹی رجسٹرار کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی اخباری کلپنگ کی بنیاد پر کارروائی کا آغاز کریں۔

  13. بریکنگ, اگر انڈیا تیار ہے تو ہم کشمیر اور پانی پر مذاکرات کر سکتے ہیں: وزیر اعظم شہباز شریف, فرحت جاوید، بی بی سی اردو

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے انڈیا کے ساتھ تجارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا کے ساتھ تجارت میں مسئلہ نہیں تھا مگر آپ دیکھیں کہ وہ کشمیر میں نسل کشی کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے آرٹیکل 370 کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’کیا ہمارے پاس کچھ بچا ہے بات کرنے کو؟‘

    بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ گفتگو میں ان کا کہنا تھا ’ہم آج بھی بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہیں اور اپنے مسائل کشمیر اور پانی پر بات کرنے کو تیار ہیں کیونکہ ہم ایک اور جنگ کے متحمل نہیں ہیں۔ جنگ کی بجائے دونوں ممالک کو اپنے وسائل غربت دور کرنے پر خرچ کرنے چاہییں۔ مگر کیا آپ امن کی توقع کر سکتے ہیں جب ایسے (کشمیر) مسائل موجود ہوں؟‘

    انھوں نے کہا کہ اگر انڈیا تیار ہے تو ہم مذاکرات کر سکتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

    انڈیا ہی سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اس مشکل وقت میں سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ میں اپنی جماعتوں، اپنے لوگوں سے بھی یہی کہنا چاہتا ہوں۔ میں تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان گرینڈ ڈائیلاگ کی بات کرتا رہا ہوں۔ تو اگر میں ملک میں یہ بات کرتا ہوں تو بین الاقوامی سطح پر یہی پالیسی کیوں اختیار نہیں کروں گا۔ مگر آپ ان معاملات کو آئسولیشن میں نہ دیکھیں۔ انڈیا میں مسلم اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے،وہ سب غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’ہم خطے میں امن چاہتے ہیں۔ ہم ہمسایہ ممالک ہیں۔ یہ ہماری چوائس ہے کہ ہمیں جنگ چاہیے یا امن اور ہم امن چاہتےہیں۔ مگر امن صرف پراپر اور دانش مندانہ ایکشن سے ہو سکتا ہے۔‘

    تاہم انھوں نے انڈیا کے ساتھ تجارت کے حوالے سے بات نہیں کی۔

  14. عمران خان کا توہین عدالت شوکاز نوٹس پر معافی مانگنے سے انکار، تاہم الفاظ واپس لیے کو تیار

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہImrankhan/Facebook

    عمران خان نے خاتون جج زیبا چوہدری سے متعلق کہے گئے الفاظ واپس لینے کی پیشکش کی ہے تاہم انھوں نے کہا ہے کہ وہ اس پر معافی نہیں مانگیں گے۔

    عمران خان کا جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈووکیٹ حامد خان کی جانب سے جمع کرایا گیا جس میں کہا گیا کہ ’عمران خان ججز کے احساسات کو مجروع کرنے پر یقین نہیں رکھتے، عمران خان کے الفاظ غیر مناسب تھے تو واپس لینے کےلیے تیار ہیں۔‘

    جواب میں کہا گیا کہ ’عدالت عمران خان کی تقریر کے سیاق و سباق کے ساتھ جائزہ لے۔ عمران خان نے پوری زندگی قانون اور آئین کی پابندی کی ہے۔ عمران خان آزاد عدلیہ پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔‘

    عمران خان کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ کو توہین عدالت کی یہ کارروائی شروع کرنے کا اختیار ہی نہیں تھا۔ رجسٹرار ماتحت عدلیہ کے جج کے ریفرنس کے بغیر توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار نہیں رکھتا‘

    ان کے ججوں سے متعلق بیان کےبارے میں کہا گیا کہ ’ایکشن لینے کی بات صرف آئین اور قانون کے مطابق ایکشن لینے سے متعلق تھی۔ بدقسمتی سے بعض صحافیوں اور سیاستدانوں کی جانب سے صنفی بحث کو اجاگر کیا گیا۔ ‘

    عدالت میں جمع کروائے گئے جواب کے مطابق ’عمران خان توہین عدالت کے مرتکب نہیں ہوئے۔‘

    جواب میں کہا گیا کہ ’تقریر سے چند الفاظ کا انتخاب کیا گیا۔ عمران خان کی تقریر کے ان الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر دیکھا گیا۔ میڈیا میں ایسے رپورٹ ہوا جیسے عمران خان قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہر شہری کا حق ہے کہ وہ کسی بھی عوامی عہدیدار یا جج کے مس کنڈکٹ پر شکایت کرے۔‘

    جواب میں مزید کہا یا کہ ’جس اخبار کی کلپنگ پر توہین عدالت کی کارروائی شروع ہوئی وہ عمران خان کا ناقد ہے۔‘

  15. ’قومی مفاد کے خلاف اگر ثبوت ملے تو بڑے سے بڑا آدمی بھی رعایت کا مستحق نہیں‘

    مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ جو لوگ ملکی مفادات کے خلاف بات کرتے ہیں یا لکھتے ہیں ان کو سخت سے سخت سزا دینی چاہیے۔

    ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو قوم بھی معاف نہیں کرے گی اور قومی مفاد کے خلاف اگر کوئی ثبوت ملے تو بڑے سے بڑا آدمی بھی رعایت کا مستحق نہیں ہونا چاہیے۔

  16. آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر آٹھ روپے سستا, تنویر ملک ، صحافی

    منگل کو اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں آٹھ روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 222 روپے تک گر گئی جو گذشتہ روز 230 روپے تھی۔

    کرنسی ڈیلرز کے مطابق ڈالر کی قیمت میں کمی کی وجہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی ہے ورنہ ڈالر کی ڈیمانڈ ابھی بھی ہے۔

    ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کے مطابق ڈالر کی قیمت میں کمی کی وجہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی ہے۔

  17. جج کو دھمکی پر مقدمے کے اخراج کے لیے عمران خان عدالت پہنچ گئے

    ایڈیشنل سیشن جج زیبا چودھری کو دھمکی دینے پر درج مقدمے کے اخراج کے لیے عمران خان نے ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    عمران خان نے شعیب شاہین ایڈووکیٹ، بیرسٹر سلمان صفدر اور فیصل چودھری ایڈووکیٹ کے ذریعے دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست جمع کروائی ہے۔

    یہ مقدمہ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت 20 اگست کو تھانہ مارگلہ میں درج کیا گیا تھا۔

    عمران خان کی جانب سے درخواست میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کے اخراج کی درخواست پر فیصلے تک ایف آئی آر پر کارروائی معطل اور تفتیش روکنے کا حکم دیا جائے۔

    خیال رہے کہ عمران خان کو اسی معاملے پر توہینِ عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے جس کی سماعت 31 اگست کو ہونی ہے۔

  18. ’شہباز گل کا بیان پاکستانی فوج میں نظم و ضبط خراب کرنے کے لیے کافی ہے‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے تحریکِ انصاف کے رہنما شہباز گل کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ شہبازگل بادی النظر میں دفعہ 131 کے تحت جرم کے مرتکب ہوئے ہیں تاہم ضمانت کے حوالے سے جاری کیے گئے حکم میں آبزرویشنز عارضی ہیں جن کا کیس پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شہباز گل کے وکیل برہان معظم نے ملزم کی جانب سے غیر مشروط معافی کی پیشکش کی تاہم شہباز گِل کے خلاف ریکارڈ پر ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کے مطابق ملزم نے افواجِ پاکستان کے خلاف اکسانے کی کوشش کی اور استغاثہ کے مطابق ملزم بیپر پر دیے گئے بیان سے انکاری نہیں اور نہ ہی متنازع بیان کسی اندرونی اجلاس میں دیا گیا تھا۔

    جج کا کہنا ہے کہ شہباز گل کا بیان پاکستانی فوج میں نظم و ضبط خراب کرنے کے لیے کافی ہے اور یہ عوامی مفاد میں ہے نہ ہی ملکی سالمیت کے حق میں۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون ہر ملزم کو ضمانت پر رہائی کی رعایت نہیں دیتا اور بادی النظر میں شہباز گل ناقابل ضمانت جرم کے مرتکب ہوئے ہیں اس لیے ان کی درخواستِ ضمانت مسترد کی جاتی ہے۔

  19. لاہور ہائی کورٹ نے فواد چوہدری کے خلاف الیکشن کمیشن کی توہین عدالت کی کارروائی معطل کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    Fawad

    لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فواد چوہدری کو دیے گئے توہین الیکشن کمیشن کے نوٹس کو معطل کر کے الیکشن کمیشن کو ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے روک دیا ہے۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر کے 7 ستمبر کو جواب طلب کر لیا ہے۔

    تحریک انصاف کے رہنما کی طرف سے پٹیشن فیصل چودہری ایڈووکیٹ نے دائر کی تھی اور اس درخواست میں موقف احتیار کیا گیا تھا کہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن ایک عدالت نہیں اور توہین عدالت کا اختیار صرف اعلیٰ عدالتوں کو حاصل ہے۔

    اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین میں دیے گئے مخصوص اختیارات عام قانون سازی کے تحت دوسرے اداروں کو تفویض نہیں کیے جاسکتے ہیں، اس لیے الیکشن کمیشن کی اس کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  20. سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا پر کوئی اکاؤنٹ نہیں: ترجمان

    Supreme Court

    ترجمان سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے نام سے سوشل میڈیا پر فیک اکاؤنٹ چلایا جا رہا ہے جبکہ سپریم کورٹ کا فیس بک، ٹوئٹر یا کسی بھی سوشل میڈیا پر کوئی اکاؤنٹ موجود نہیں ہے۔ لہٰذا سپریم کورٹ کے نام سے چلنے والے تمام اکاؤنٹ جعلی ہیں۔

    پی ٹی اے اور ایف آئی اے کے حکام کو ایسے تمام اکاؤنٹس اور پیچز کو بند کرنے کا کہا گیا ہے اور ذمہ داران کے خلاف ضروری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔