انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع کر دی

خاتون مجسٹریٹ زیبا چوہدری کو مبینہ طور پر دھمکانے کے مقدمے میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی عبوری ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان کے سابق پرنسپل سیکریٹری سٹاپ لسٹ پر، عدالت نے فریقین کو بدھ کو طلب کر لیا

    AK to IK

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/@KPKUPDATES

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالے جانے کے خلاف کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکریٹری داخلہ سمیت دیگر فریقین کو بدھ کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔

    اس مقمدے کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔ عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو مجاز افسر مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔

    وکیل قاسم ودود نے عدالت کو بتایا کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو نو فلائی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اعظم خان کے خلاف کوئی کیس رجسٹرڈ ہے؟

    اعظم خان کے وکیل نے کہا کہ کوئی کیس رجسٹرڈ نہیں ہے، سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عدالت کی طرف سے ایسی لسٹ کو پہلے ہی غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اعظم خان بیرون ملک جانا چاہتے ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی وہ بیرون ملک جانے کے لیے چھٹی لے چکے ہیں۔

    عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کیس کی سماعت کل ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دی۔

  2. تین گھنٹوں میں 5 بلین کے اعلانات:عمران خان کا عطیات دینے والے پاکستانیوں کے مشکور

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ گذشتہ شب نہایت فیاضی اور سخاوت سے عطیات دینے پر میں اہلِ وطن خصوصاً اپنے سمندر پار پاکستانیوں کا مشکور ہوں۔

    انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ 'ہماری 3 گھنٹوں کی ٹیلی تھون میں ہمیں 5 ارب روپے کے عطیات کے اعلانات (Pledges) موصول ہوئے'۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی عبوری ضمانت منظور

    Assad Qaiser

    اسلام آباد کی ایک عدالت نے سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمے میں اسد قیصر کی پانچ ہزار روپے مچلکوں پر عبوری ضمانت 7 ستمبر تک منظوری دی ہے۔

    ضلعی عدالت کے ڈیوٹی جج ویسٹ ایڈیشنل سیشن ظفر اقبال نے پولیس کو اسد قیصر کی گرفتاری سے روک دیا۔ عدالت نے پولیس کو آئندہ سماعت پر ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ہے۔

  4. ریاست شہباز گل پر تشدد کے ذریعے ہر صورت عمران خان تک پہنچنا چاہتی ہے: شیریں مزاری کی عدالتی فیصلے پر تنقید

    پاکستان تحریک انصاف کی سینیئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے شہباز گل کی ضمانت مسترد ہونے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے قابل شرم قرار دیا ہے۔

    انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ ریاست شہباز گل پر تشدد کے ذریعے عمران خان تک پہنچنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق ان پر کیا جانے والا تشدد اب دنیا کے سامنے ہے۔ انھوں نے سوال پوچھا کہ کب تک سازشی عمران خان کو پکڑنے کی بے چینی میں ایسے حربے استعمال کرتے رہیں گے۔

    شیریں مزاری کے مطابق ابھی تک تو یہ عناصر اپنے عزائم میں ناکام ہی ہوئے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. بریکنگ, شہباز گل کی ضمانت کی درخواست مسترد

    Shahbaz Gill

    ،تصویر کا ذریعہYoutube

    اسلام آباد کی ایک عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے قریبی ساتھی اور ان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی دخواست ضمانت مسترد کر دی ہے۔

    ایڈشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر اقبال نے محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ملزم شہباز گل جنھیں اداروں کو بغاوت پر اکسانے کے مقدمے کا سامنا ہے کی درخواست ضمانت خارج کی جاتی ہے۔

    جج نے یہ بھی فیصلے میں درج کیا کہ ملزم شہبازگل کے خلاف تھانہ کوہسار پولیس نے سٹی مجسٹریٹ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا تھا۔

  6. آئی ایم ایف پروگرام منظوری کے بعد ڈالر کی قیمت میں ایک روپے سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    Dollar

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    منگل کے روز کاروبار کے آغاز پر پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 1.40 پیسے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    انٹر بنک میں ایک ڈالر کی قیمت اس وقت 220.50 روپے کی سطح پر ٹریڈ ہو رہی ہے۔

    کرنسی ڈیلرز کے مطابق ڈالر کی قیمت میں کمی کی وجہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی ہے ورنہ ڈالر کی طلب ابھی بھی ہے۔

    ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کے مطابق ڈالر کی قیمت میں کمی کی وجہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی ہے۔ انھوں نے حکومت کی جانب سے لگژری اشیا کی درآمد پر پابندی کے خاتمے کے بعد ڈالر کی طلب بڑھی اور ابھی بھی موجود ہے۔

    تاہم آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی نے مثبت رجحان کو پیدا کیا۔ انھوں نے ڈالر کی قیمت میں مزید کمی کی توقع کا اظہار کیا ہے۔

  7. آئی ایم ایف پروگرام مقصد نہیں، معاشی بحران سے نکلنے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں: شہباز شریف

    Shahbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی اگرچہ ہماری معیشت کے لیے بہت اہم ہے تاہم یہ خود کوئی ہمارا مقصد نہیں ہے۔ شہباز شریف کے مطابق یہ پروگرام ہمیں اپنی معیشت کو درست کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

    ہم خود انحصاری کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو معاشی بحران سے نکلنا ہوگا، جو صرف ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی سماعت کل ہو گی، کورٹ روم نمبر ون میں داخلہ اجازت سے مشروط

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت بدھ کو ہوگی۔ اس حوالے سے کورٹ روم نمبر ون میں داخلے سے متعلق رجسٹرار ہائیکورٹ نے سرکلر جاری کیا ہے، جس کے تحت 15 کورٹ رپورٹرز، ہائیکورٹ بار ڈسٹرکٹ بار کے پانچ، پانچ وکلا، عمران خان لیگل ٹیم کے 15 وکلا، اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ جنرل آفس سے 15 لا افسران کو داخلے کے لیے پاسز جاری کیے جائیں گے۔

  9. ریاست کوئی بھی لیبل لگائے مگر پاکستانی عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں: شیریں مزاری

    تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ جب لوگ آپ پر اعتماد کرتے ہیں تو پھر وہ خیرات دیتے ہیں۔

    ان کے مطابق صرف تین گھنٹوں میں سابق وزیراعظم عمران خان کی سیلاب متاثرین کے لیے ٹیلی تھون میں پانچ بلین روپے جمع ہوئے۔

    ان کے مطابق ریاست عمران خان پر کوئی بھی منفی لیبل لگا سکتی ہے مگر ملک کے اندر اور باہر پاکستانی ان پر مکمل اعتماد کرتے ہیں اور انھوں نے گذشتہ رات ایک بار پھر یہ واضح بھی کر دیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. آئی ایم ایف کا اعلامیہ، بجٹ اقدامات پر عمل درآمد اور اصلاحات پر زور

    آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے پاکستان کو قرض کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکام نے ملک کی خراب ہوتی معاشی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یوکرین جنگ سمیت دیگر عوامل نے روپے کی قدر اور پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ بڑھایا۔

    عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق ’پاکستان ایک نازک موڑ پر ہے‘ کیوں کہ ایسی پالیسیاں اپنائی گئیں جنھوں نے مقامی طور پر کھپت میں اضافہ کیا جس کے باعث ایک طرف اندرونی اور بیرونی خسارہ بڑھا تو دوسری جانب مہنگائی میں اضافہ ہوتا چلا گیا جبکہ زرمبادلہ ذخائر میں کمی واقع ہوئی۔

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سرکاری اداروں میں اصلاحات پر بھی کام کرنا ہو گا جبکہ فوری طور پر بجٹ میں منظور کردہ اقدامات پر عمل درآمد کو ترجیح قرار دیا گیا۔

  11. آج آئی ایم ایف کے معاہدے کے اعلان کے بعد کل سے روپیہ مستحکم ہونے کی امید ہے: مفتاح اسماعیل

    miftah

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ امید ہے کہ آج آئی ایم ایف کے معاہدے کے اعلان کے بعد کل سے روپیہ مستحکم ہونے کی امید ہے۔

    انھوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں انڈیا سے کچھ سبزیاں لے لینی چاہییں، اس وقت جس قسم کی کمی ہے تو ہم ایران اور ترکی سے بھی سبزی وغیرہ درآمد کریں گے۔‘

  12. آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟, تنویر ملک، صحافی

    IMF

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کو قرض کے اجرا کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد آئی ایف ایف پروگرام بحال ہو گیا ہے جس کے تحت ساتویں اور آٹھویں قسط کی مد میں ایک ارب 17 کروڑ ڈالر دیے جائیں گے۔

    آئی ایم ایف پروگرام بحالی کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنی ایک ٹویٹ میں کیا آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان جولائی 2019 مین چھ ارب ڈالر کے قرضے پروگرام کا معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت پاکستان کو اب تک تین ارب ڈالر مل چکے ہیں تاہم پاکستان تحریک انصاف کے دور میں حکومت کی جانب سے تیل و بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کے بعد یہ پروگرام تعطل کا شکار ہو گیا تھا اور پاکستان کو قرض کی نئی قسط کی ادائیگی روک دی گئی تھی۔

    موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد آئی ایم شرائط کے تحت تیل و بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ کیا گیا۔ پھر جولائی کے وسط میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ ہوا تھا اور اب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں اس معاہدے کی منظوری دے کر پاکستان کو 1.17 ارب ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی آئی ایم ایف سے قسط کے جاری ہونے سے پاکستان کی بیلنس آف پیمنٹ کو استحکام ملے گا اور ملک کے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا ملے گا جو اس وقت 14 ارب ڈالر کی سطح سے نیچے گر چکے ہیں۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے قرضے کے پروگرام کی بحالی کے بعد دوسرے عالمی مالیاتی اداروں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دوسرے اداروں کی جانب سے پاکستان کے لیے فنانسنگ کا راستہ بھی کھل جائے گا۔

    اس سال پاکستان کو 30 ارب ڈالر سے زائد کی بیرونی فنانسنگ کرنی ہے اور آئی ایم ایف پروگرام کو اس کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

  13. یہ فیصلے مشکل ضرور ہیں لیکن صرف یہی پاکستان کو مستحکم کرنے کا طریقہ ہے: شیری رحمان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. بریکنگ, آئی ایم ایف نے پاکستان کو ایک ارب 17 کروڑ ڈالر کے قرض کے اجرا کی منظوری دے دی: مفتاح اسماعیل

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کو قرض کے اجرا کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد ای ایف ایف پروگرام بحال ہو گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اب ہمیں ساتویں اور آٹھویں قسط کی مد میں ایک ارب 17 کروڑ ڈالر دیے جائیں گے۔

    ’میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کو تمام سخت فیصلے لینے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں جن کے باعث پاکستان ڈیفالٹ سے بچ گیا ہے۔‘

  15. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ نے شریف برادران کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کر دی, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    nawaz shehbaz

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کے ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا معاملہ سننا اس عدالت کا اختیار نہیں۔

    گذشتہ روز رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ درخواست پر سماعت کے دوران پٹیشنر ظفر علی شاہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ نواز شریف بیماری کی غرض سے لاہور ہائی کورٹ کی اجازت سے بیرون ملک گئے تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ نواز شریف کا نام وفاقی کابینہ نے ای سی ایل سے نکالا، کسی عدالت نے نہیں۔ وفاقی کابینہ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے عدالت سے اجازت نہیں لی۔

    ادھر ظفر علی شاہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’حکومت نے نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے شورٹی جمع کروانے کا کہا تھا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے اس عدالت سے رجوع ہی نہیں کیا جہاں اپیلیں زیرِ سماعت ہیں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’لاہور ہائی کورٹ کا آرڈر عبوری حکم تھا یا حتمی فیصلہ سنایا گیا تھا؟ ایک عبوری حکم جاری ہوا، اس کے بعد درخواست تاحال زیر التوا ہے۔ کیا حکومت نے اس حکم کو چیلنج کیا؟ عبوری حکم کو چیلنج نہ کر کے حکومت نے اس آرڈر کو تسلیم کیا۔ جس پٹیشن میں عبوری حکم آیا وہ بھی تاحال لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔‘

    ظفر علی شاہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’جس پٹیشن پر ابھی فیصلہ نہیں آیا اور عبوری حکم بھی چیلنج نہیں کیا گیا اس پر ہم توہین عدالت کی کارروائی کریں؟ کیا یہ عدالت کسی اور ہائی کورٹ میں زیر سماعت معاملے پر کارروائی کا اختیار رکھتی ہے؟‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم اس درخواست کو مثالی جرمانے کے ساتھ خارج کرتے لیکن آپ سینیئر وکیل ہیں اس لیے اس طرف نہیں جا رہے۔‘

  16. شہباز گل کی درخواست ضمانت پر فیصلہ کل صبح 11 بجے سنایا جائے گا

    shehbaz gill

    ،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/SHAHBAZ GILL

    بغاوت اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گل کی درخواست ضمانت پر فیصلہ کل صبح 11 بجے سنایا جائے گا۔

    سماعت کے دوران شہباز گل کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل بیان پر معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔

    شہباز گل کے وکیل برہان معظم نے کہا کہ ’شہباز گل نے بغاوت کے متعلق کبھی سوچا ہی نہیں، ٹرانسکرپٹ کے مختلف جگہوں سے پوائنٹ اٹھا کر مقدمہ درج کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’الزام ایسے ادارے پر لگائے جا رہے ہیں جو رات کو سڑکوں پر جاتے ہیں، اس سارے بیان پر کسی جگہ پر غلط فہمی پیدا ہوئی ہے، شہباز گل اس غلط فہمی کو دور کرنے پر تیار ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’شہباز گل معافی مانگنے پر بھی تیار ہیں لیکن یہ حق کس طرح ملا مختلف پوائنٹ اٹھا کر بغاوت کا الزام لگا دیا گیا۔‘

    یاد رہے کہ شہباز گل نے گذشتہ ہفتے ضمانت کے لیے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

    اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں شہباز گل کی درخواست ضمانت پر ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے سماعت کی۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کو نجی نیوز چینل ‘اے آر وائی’ پر متنازع بیان دینے کے بعد اسلام آباد پولیس نے بغاوت اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں نو اگست کو حراست میں لیا تھا۔

  17. عمران خان کی تقریر براہِ راست نشر کرنے پر پابندی کا حکم معطل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائیکورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی لائیو تقریر نشر کرنے پر پیمرا کی جانب سے عائد پابندی کو معطل کر دیا ہے۔

    عدالتی حکم کے مطابق پیمرا کا نوٹیفیکیشن پانچ ستمبرکو معاملے کی اگلی سماعت تک معطل رہے گا۔

    عدالت کی جانب سے پیمرا اور اٹارنی جنرل کو نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ پیمرا ایک افسر نامزد کرے جو پیش ہو کر نوٹیفیکیشن کے اجرا کی وضاحت کرے۔

    عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ بادی النظر میں پیمرا نے عمران خان کی تقریر پر پابندی لگا کر اختیار سے تجاوز کیا۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں عمران خان کی تقریر پر پابندی کی کوئی مناسب وجہ نظر نہیں آتی۔

  18. عمران خان کی لائیو تقریر نشر کرنے پر پابندی اسلام ہائیکورٹ میں چیلنج

    تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پیمرا کی جانب سے پاکستانی ٹی وی چینلز پر ان کی براہ راست تقریر نشر کرنے پر پابندی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکلا کے ذریعے دائر کردہ درخواست میں کہا ہے کہ براہِ راست تقریر نشر کرنے پر پابندی کا آرڈر کالعدم قرار دیا جائے۔

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی تقریر میں شہباز گل پر تشدد کا حوالہ دیا تھا اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی بات کی تھی۔

    عمران خان کا موقف ہے کہ قانونی کارروائی کا حق قانون نے بطور شہری انھیں دے رکھا ہے اور ان کی تقریر کو غلط طور پر نفرت انگیز تقریر کے طور پر لیا گیا۔

    عمران خان کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی قانون کارروائی کا کہنا نفرت انگیزی کے زمرے میں نہیں آتا۔

  19. عمران خان توہین عدالت کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا لارجر بینچ 31 اگست کو سماعت کرے گا, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    IK

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    چیف جسٹس کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ 31 اگست کو عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کرے گا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکیاں دینے پر توہین عدالت کیس میں پیمرا نے عمران خان کی تقریر کا ریکارڈ عدالت میں جمع کرا دیا۔

    پیمرا کے ڈی جی مانیٹرنگ اشفاق احمد کی طرف سے جمع کرائے گئے ریکارڈ میں عمران خان کی 20 اگست والی تقریر کی ڈی وی ڈی اور سکرپٹ بھی شامل ہے۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی لارجر بنچ نے توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران 23 اگست کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیمرا سے مذکورہ ریکارڈ طلب کیا تھا۔جس پر پیمرا کی جانب سے عمل درآمد کی رپورٹ ریکارڈ کے ساتھ جمع کرائی گئی ہے۔

  20. بریکنگ, وزیر اعظم شہباز شریف اور نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    Nawaz Shraif

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ درخواست پر سماعت کی۔

    سماعت میں درخواست گذار ظفر علی شاہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ نواز شریف بیماری کی غرض سےلاہور ہائی کورٹ کی اجازت سے بیرون ملک گئے تھے، نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے شہباز شریف نے بیان حلفی جمع کرایا، نواز شریف مختلف عدالتوں سے اشتہاری ہیں۔

    درخواست گذار نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ عدالت نواز شریف کی واپسی کے لیے احکامات جاری کرے۔

    جس پر چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا نام وفاقی کابینہ نے ای سی ایل سے نکالا، کسی عدالت نے نہیں۔

    ظفر علی شاہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت نے نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے شورٹی جمع کرانے کا کہا تھا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے اس عدالت سے رجوع ہی نہیں کیا جہاں اپیلیں زیر سماعت ہیں۔

    جس پر درخواست گزار نے کہا کہ حکومت نے ایک مرتبہ نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے رقم جمع کرانے کی شرط رکھی تھی، لاہور ہائیکورٹ میں رٹ فائل ہوئی جس پر ایک آرڈر ہوتا ہے،اُس عدالتی کارروائی میں نواز شریف اور شہباز شریف نے انڈر ٹیکنگ دی۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر عبوری حکم تھا یا حتمی فیصلہ سنایا گیا تھا؟

    جس پر ظفر علی شاہ نے عدالت سے کہا کہ ایک عبوری حکم جاری ہوا، اس کے بعد درخواست تاحال زیر التوا ہے، کیا حکومت نے اس حکم کو چیلنج کیا؟

    عبوری حکم کو چیلنج نہ کر کے حکومت نے اس آرڈر کو تسلیم کیا،جس پٹیشن میں عبوری حکم آیا وہ بھی تاحال لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔

    ظفر علی شاہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ جس پٹیشن پر ابھی فیصلہ نہیں آیا اور عبوری حکم بھی چیلنج نہیں کیا گیا اس پر ہم توہین عدالت کی کارروائی کریں؟

    کیا یہ عدالت کسی اور ہائی کورٹ میں زیر سماعت معاملے پر کارروائی کا اختیار رکھتی ہے؟

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم اس درخواست کو مثالی جرمانے کے ساتھ خارج کرتے لیکن آپ سینئر وکیل ہیں اس لیے اس طرف نہیں جارہے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ آپ پٹیشن واپس لینا چاہتے ہیں یا اس پر آرڈر پاس کریں ؟

    اس پر وکیل نے کہا کہ اگر آپ نے درخواست مسترد کرنی ہے تو میں واپس لیتا ہوں، میں لاہور ہائیکورٹ جانے کے لیے درخواست واپس لے سکتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہیں بھی جانے کے لیے آزاد ہوں گے، ہم آبزرویشن نہیں دیں گے،ہم اس درخواست پر مناسب حکمنامہ جاری کریں گے۔

    عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔