انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع کر دی

خاتون مجسٹریٹ زیبا چوہدری کو مبینہ طور پر دھمکانے کے مقدمے میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی عبوری ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان کی ضمانت میں توسیع، آج سماعت کے دوران کب کیا ہوا؟

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی دہشت گردی کے مقدمے میں دی گئی عبوری ضمانت میں بارہ یوم کی توسیع کردی ہے۔ بارہ ستمبر کو اس مقدمے میں حتمی دلائل ہوں گے۔

    دیکھیے بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو۔۔۔

  2. اگست میں مہنگائی کی شرح 27 فیصد سے زائد ہوگئی, تنویر ملک، صحافی

    اگست میں مہنگائی کی شرح 27 فیصد سے زائد ہوگئی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ملک میں اگست کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 27.3 فیصد رہی جو جولائی کے مہینے میں 25 فیصد تھی۔

    ملک میں موجودہ مالی سال کے دو مہینوں میں مہنگائی کی اوسط شرح 26.10 فیصد رہی جو گذشتہ سال کے پہلے دو مہینوں میں 8.38 فیصد تھی۔

    اگست کے مہینے میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 63 فیصد اضافہ ہوا۔ غذائی اشیا کی قیمتوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا جبکہ تعمیراتی شعبے میں مہنگائی کی شرح 27 فیصد رہی ہے۔

  3. بریکنگ, عمران خان کی عبوری ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی 12 ستمبر تک عبوری ضمانت میں توسیع کر دی ہے۔

    عمران خان عدالتی حکم پر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

    اپنے ریمارکس میں جج جواد حسن عباس نے کہا عمران خان کے خلاف درج مقدمہ میں جو نئی دفعات لگی ہین ان میں ضمانت منظور کر لیتے ہیں۔

    انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے سرکاری وکیل سے کہا کہ اگر اس میں کوئی اور دفعات بھی شامل کرنی ہیں تو بتا دیں ہر دو دن کے بعد نئی دفعات کا اضافہ کرنا اچھی بات نہیں ہے۔

    اس سے قبل عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے استدعا کی کہ مقدمے میں شامل نئی دفعات میں بھی عمران خان کی ضمانت منظور کی جائے جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ ’ان دفعات میں ہم نوٹس جاری کریں گے۔‘

    میڈیا سے گفتگو میں بابر اعوان نے کہا عدالت میں بتایا ہے کہ میرے کلائنٹ کو کچھ ہوتا ہے تو حکومت، آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد ذمہ دار ہوں گے۔‘

  4. عمران خان ضمانت کے لیے انسداد دہشت گردی کی عدالت پہنچ گئے

    سابق وزیراعظم عمران خان اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پہنچ گئے ہیں۔

    اس سے قبل عدالت نے عمران خان کو 12 بجے طلب کیا تھا۔

    کیس کی ابتدائی سماعت کے دوران جج نے ریمارکس دیے کہ ’آج تین عدالتیں کھلی ہیں آپ لسٹ دیں گے، وہ وکلا کمرہ عدالت میں آئیں گے۔

    کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج جواد عباس حسن کریں گے۔

  5. اسلام آباد ہائیکورٹ کا اے آر وائے کی نشریات فوری بحال کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیوز چینل اے آر وائے کی نشریات فوری بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کے دوران حکم دیا کہ ’پیمرا کا تحریری آرڈر نہیں ہے۔ فوری نشریات بحال کی جائیں۔‘

    ’اگر کوئی تحریری آرڈر ہے تو کل صبح ساڑھے 10 بجے آ کر وضاحت دیں۔‘

    عدالت نے چیئرمین پیمرا کی کل پیشی کے لیے مجاز افسر مقرر کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ’مجاز افسر عدالت کے سامنے پیش ہو کر وضاحت کرے۔‘

  6. عمران خان بنی گالا میں ہیں، 12 بجے لے آؤں گا: بابر اعوان

    انسداد دہشت کی عدالت کے جج نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ ’کیا ان کے پاس ان ایگزیکٹو افسران کے بیانات ہیں جس کو ملزم نے دھمکیاں دی تھیں۔‘

    اس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے پاس بیانات ہیں۔

    عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ ’جس مجسٹریٹ کی مدعیت میں یہ مقدمہ درج کروایا ہے کیا اس سے پہلے بھی انھوں نے کسی کے خلاف کوئی مقدمہ درج کروایا ہے اور اگر ایسا ہے تو وہ ریکارڈ بھی پیش کریں۔‘

    وکیل بابر اعوان نے استدعا کی کہ مقدمے میں شامل نئی دفعات میں بھی عمران خان کی ضمانت منظور کی جائے جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ ’ان دفعات میں ہم نوٹس جاری کریں گے۔‘

    باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران بابر اعوان نے کو بتایا ہے کہ ’عدالت میں دو تحریری جواب جمع کروائے ہیں۔‘

    ’عدالت میں بتایا ہے کہ میرے کلائنٹ کو کچھ ہوتا ہے تو حکومت، آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد ذمہ دار ہوں گے۔‘

    ’ایک تو سیکورٹی خان صاحب سے لے رہے ہیں اور دوسرا کسی صوبے کی پولیس ان کے ساتھ یہاں نہیں ہو سکتی۔کل عمران خان مکمل سفید پوش تھے ان کے نرغے میں عدالت میں گئے تھے۔ ہمیں بنی گالا میں ایک تھریٹ لیٹر دیا گیا ہے کہ کچھ لوگ خان صاحب کو مارنا چاہتے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’تھریٹ لیٹر عدالت میں جمع کروا دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ عمران خان کو پیش ہونا چاہیے۔

    ’میں نے عدالت میں کہا عمران خان کون سے مے فیئر میں ہیں۔ بنی گالا میں ہیں۔ 12 بجے لے آؤں گا۔‘

  7. بریکنگ, اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کو 12 بجے طلب کر لیا

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کو 12 بجے طلب کرلیا ہے۔

    کیس کی ابتدائی سماعت کے دوران جج نے ریمارکس دیے کہ ’آج تین عدالتیں کھلی ہیں آپ لسٹ دیں گے، وہ وکلا کمرہ عدالت میں آئیں گے۔

    وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ’عمران خان کی جان کو خطرہ ہے، اس لیے وہ نہیں آئے‘ جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ ’عمران خان کو کون سا خطرہ ہے وہ بتائیں۔‘

    ’جب انھیں ضمانت ملی ہے، عدالت نے ضمانت دی تو ان کا فرض تھا عدالت پیش ہوتے۔‘

    بابر اعوان نے کہا کہ ’عمران خان تو آنا چاہتے ہیں لیکن پولیس نے انھیں کہا کہ انھیں خطرہ ہے۔‘

  8. انسداد دہشتگردی عدالت کے اندر اور باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات

    انسداد دہشتگردی عدالت
    انسداد دہشتگردی عدالت
    انسداد دہشتگردی عدالت

    عمران خان کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس اور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    پولیس نے جوڈیشل کمپلیکس کے باہر خار دار تاریں لگا رکھی ہیں۔

  9. ’ملزم ابھی تک عدالت نہیں پہنچے‘

    اے ٹی سی

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اے ٹی سی کی کاز لسٹ میں عمران خان کے خلاف مقدمہ پہلے نمبر پر ہے۔

    پولیس کے مطابق جج اپنے چیمبر میں موجود ہیں لیکن ملزم ابھی تک عدالت نہیں پہنچے۔

    اس کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج جواد عباس حسن کریں گے۔

  10. عمران خان عدالت ضمانت لینے بھی اسلام آباد پولیس کی سکیورٹی میں جاتے ہیں: آئی جی اسلام آباد

    اسلام آباد کے آئی جی پولیس اکبر ناصر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی سابق وزیر اعظم کی سکیورٹی کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے اور اس وقت عمران خان کے پاس 266 افراد تعینات ہیں۔

    انھوں نے ٹوئٹر پر شیئر کیے اپنے بیان میں کہا کہ دو نجی کمپنیوں کے علاوہ عمران خان کو اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور گلگت بلستان پولیس، رینجرز اور ایف سی پر مشتمل دستے سکیورٹی فراہم کر رہے ہیں۔

    آئی جی اسلام آباد کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کی سکیورٹی پر دو کروڑ روپے ماہانہ خرچ ہوتا ہے اور وہ ’عدالت ضمانت لینے بھی اسلام آباد پولیس کی سکیورٹی میں جاتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ تمام سابق وزرا اعظم کو یکساں سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. عمران خان کی آج انسداد دہشتگردی عدالت میں دوبارہ پیشی متوقع

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خاتون مجسٹریٹ زیبا چوہدری کو مبینہ طور پر دھمکانے کے مقدمے میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی آج انسداد دہشتگردی عدالت میں دوبارہ پیشی متوقع ہے۔

    عمران خان کی درخواست اور وکیل بابر اعوان کے دلائل سننے کے بعد انسداد دہشتگردی عدالت نے انھیں ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض یکم سمتبر تک عبوری ضمانت دی تھی۔

    خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم نے ایک تقریر کے دوران پارٹی کے رہنما شہباز گل پر تشدد کا الزام لگاتے ہوئے اسلام آباد پولیس اور خاتون مجسٹریٹ کے خلاف ایکشن لینے کا بیان دیا تھا۔

    اس پر ان کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  12. ییٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ

    حکومت پاکستان نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کردیا ہے اور نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جن کا اطلاق آج سے ہو گا۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 2.07 روپے اضافہ کیا گیا جس کے بعد نئی قیمت 235.98 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 2.99 روپے اضافے کے بعد فی لیٹر 247.43 روپے ہو گی۔

    دوسری جانب مٹی کا تیل 10.92 پیسے مہنگا ہو کر 210.32 اور لائٹ ڈیزل 9.79 روپے اضافے سے 201.54 روپے تک پہنچ گیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. آئی ایم ایف سے پاکستان کو ایک ارب 16 کروڑ ڈالر قرض کی قسط موصول ہو گئی، سٹیٹ بینک

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق بدھ کو آئی ایم ایف کی جانب سے ایک ارب 16 کروڑ ڈالر قرض کی قسط موصول ہو گئی ہے۔

    ٹؤٹر پر جاری بیان میں سٹیٹ بینک کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کی جانب سے منظوری کے بعد پاکستان کو ساتویں اور آٹھویں قسط کی رقم جاری کر دی گئی ہے۔

    سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ اس رقم سے زر مبادلہ ذخائر بہتر ہوں گے اور دیگر بین الاقوامی ذرائع سے مدد لینے میں بھی آسانی ہو گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. عمران خان کا جواب تسلی بخش نہیں، ضمنی جواب کے لیے سات دن کی مہلت دی جاتی ہے: عدالت

    عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں آج کی سماعت پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری حکمنامے میں چیئرمین تحریک انصاف کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا ہے۔

    تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کا جواب تسلی بخش نہیں لہذا شوکاز نوٹس واپس نہیں لے سکتے۔

    ’عمران خان کے وکیل نے ضمنی جواب جمع کرانے کے لیے مہلت مانگی ہے۔‘

    حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ’عمران خان کو ضمنی جواب کے لیے سات دن کی مہلت دی جاتی ہے۔ ضمنی جواب کی کاپی اٹارنی جنرل کو بھی فراہم کی جائے۔‘

    عدالت نے پاکستان بار کونسل، منیر اے ملک اور مخدوم علی خان کو عدالتی معاون مقرر کیا ہے۔

  15. ترازو سیدھا نہیں ہو سکا: مریم نواز

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران کب کیا ہوا؟

    عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت ملتوی ہو گئی ہے۔

    عدالت نے سات دن میں تحریری جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا ہے۔ اس عدالتی کارروائی میں مزید کیا کیا ہوا، جانیے اس فیس بُک لائیو میں۔۔۔

  17. عمران خان عدالت سے روانہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. بریکنگ, عدالت کا عمران خان کو سات دن میں دوبارہ تحریری جواب جمع کرانے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو حکم دیا ہے کہ وہ سات روز میں دوبارہ تحریری جواب جمع کرائیں۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس نے عمران خان کو سات دن میں دوبارہ جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا اور اس کے ساتھ ساتھ منیر اے ملک اور مخدوم علی خان کوعدالتی معاون مقرر کرنے کا حکم دیا۔

    اس کے علاوہ ایک اور عدالتی معاون پاکستان بار کونسل کا ہو گا۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ ’آپ ہمیں الزام دیتے ہیں کہ پاکستان کی عدلیہ 130 ویں نمبر پر ہے۔‘

    ’ہم نے ایک کیس میں فواد چوہدری کو بتایا کہ وہ نمبر عدلیہ کا نہیں، ایگزیکٹو کا تھا۔‘

    عدالت نے آٹھ ستمبر تک سماعت ملتوی کر دی ہے۔

  19. توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور عمران خان کے درمیان ہے: جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ

    سماعت کے دوران عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو بات کرنے سے روک دیا اور ان کو خاموش رہنے کی ہدایت کی۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور عمران خان کے درمیان ہے۔‘

    معزز جج نے ریمارکس دیے کہ ’شہباز گل ٹارچر کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم جاری کیا۔ میں عمران خان کے سارے بیانات ریکارڈ پر لے آتا ہوں۔‘

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ ’اڈیالہ جیل کس کے ایڈمنسٹریٹو کنٹرول میں ہے؟ کیا ٹارچر کی ذرا سی بھی شکائت ہو تو کیا جیل حکام ملزم کو بغیر میڈیکل داخل کرتے ہیں؟‘

    ’کسی قیدی پر ذرا بھی تشدد ہو تو کیا کوئی جیل اس کو اس طرح رکھ لیتی ہے؟ یہ پٹیشن اسلام آباد ہائی کورٹ سے کب نمٹائی گئی اور تقریر کب کی گئی؟‘

    اس موقع پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’پٹیشن 22 اگست کو نمٹائی گئی اور تقریر 20 اگست کو کی گئی۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا تھا تو تقریر کی گئی۔‘

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے شہباز گل کیس اور ریلی سے خطاب کا حوالہ دیا۔ ان کے ریمارکس تھے کہ ’اس عدالت نے کبھی تنقید کی پرواہ نہیں کی۔‘

    چیف جسٹس نے حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت رات کھلی تو آپ کے کلائنٹ نے کہا عدالت رات کیوں کھلی۔‘