آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب: ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم، سپریم کورٹ کا پرویز الٰہی سے آج رات ہی حلف لینے کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حمزہ شہباز کے وزارت اعلیٰ کے نوٹیفیکیشن کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے اور گورنر پنجاب کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, شہباز گل کو گرفتار کر لیا گیا ہے: عطا تارڑ

    پنجاب کے وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ رہنما تحریک انصاف شہباز گل کو ’اسلحہ رکھنے پر‘ گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ٹوئٹر پر اپنے آخری پیغام میں شہباز گل نے لکھا تھا کہ ’پی پی 272 میں پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی۔ شہباز گل ایک فیکٹری میں محصور۔

    ’میں گرفتاری سے نہیں ڈرتا۔ عمران خان کا سپاہی ہوں۔ ایسے ہتھکنڈوں سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ ہم دہشتگردی کرنے نہیں آئے۔ میں گرفتاری کے لیے تیار ہوں۔‘

    عمران خان: ’ہینڈلرز کو معلوم ہونا چاہیے وہ قوم کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں‘

    ادھر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں اس لیے گرفتار کیا گیا تاکہ لوگوں میں خوف پھیلایا جاسکے۔ ’یہ فاشسٹ اقدام کام نہیں کریں گے اور ہمارے لوگوں کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔‘

    ’امپورٹڈ حکومت کے ہینڈلر کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ قوم کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘

  2. الیکشن کمیشن نے شاہ محمود قریشی کو پولنگ سٹیشنز کا دورہ کرنے سے روک دیا

    الیکشن کمیشن نے رہنما تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کو ضمنی انتخابات کے دوران ملتان پی پی 217 کے مختلف پولنگ سٹیشنز کا دورہ کرنے سے روک دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے کیونکہ ووٹر، امیدوار یا منظور شدہ الیکشن ایجنٹ کے علاوہ کوئی بھی شخص کمیشن کے جاری کردہ پاسز کے بغیر پولنگ سٹیشن کا دورہ نہیں کر سکتا۔

    الیکشن کمیشن نے شاہ محمود قریشی کو دھاندلی کے ثبوت جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ اس بیان کے مطابق شاہ محمود قریشی نے ’غیر قانونی طور پر حلقے میں اپنے ووٹروں کے ہمراہ ایک فیکٹری پر چھاپہ مارا اور دھاندلی کا الزام لگایا۔۔۔ آپ کو 24 گھنٹوں میں اس کی وضاحت دینا ہوگی۔‘

    خیال رہے کہ پی پی 217 میں تحریک انصاف کے امیدوار شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی ہیں۔

  3. پی ٹی آئی کے رہنما جمشید اقبال چیمہ کی گرفتاری کا حکم: عطا تارڑ

    پنجاب کے صوبائی وزیر عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے تحریک انصاف کے رہنماؤں جمشید اقبال چیمہ اور سعید مہیس کی گرفتاری کا حکم دیا گیا ہے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انھوں نے یہ حکم پی پی 158 میں ضمنی انتخاب کے دوران جھگڑے پر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے لیگی کارکنان کو زد و کوب کیا جو کہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے۔

    پی ٹی آئی کارکنان کا دعویٰ تھا کہ ان کے ووٹروں کو دھرم پورہ پولنگ سٹیشن میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔

    جمشید اقبال چیمہ نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ ’ن لیگی امیدوار تو گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو چکے ہیں۔ اب ہمارے خلاف الیکشن صرف پولیس اور الیکشن کمشن لڑ رہا ہے۔‘

  4. کیا مذہبی جماعتیں ماضی کی طرح اس بار بھی نتائج پر اثر انداز ہوں گی؟

    مذہبی جماعتوں پر مشتمل یہ تیسری قوت اگر انفرادی حیثیت میں کامیابی حاصل نہ بھی کر پائی تو کئی حلقوں میں دونوں بڑی جماعتوں کے امیدواروں کے انتخابی نتائج پر اثر انداز ضرور ہو سکتی ہے اور ماضی میں ایسا ہو بھی چکا ہے۔

    اس کی حالیہ مثال صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں ہونے والے قومی اسمبلی کے حلقہ 240 کا ضمنی انتخاب ہے۔ یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے امیدوار جیتنے میں تو کامیاب ہو گئے لیکن محض 61 ووٹوں کے فرق سے۔ ان کے مدِمقابل دوسرے نمبر پر رہنے والی مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) تھی۔

    پنجاب میں 17 جولائی کو 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھی ٹی ایل پی نے لگ بھگ تمام حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کر رکھے ہیں تاہم کالعدم تنظیم جماعت الدعوتہ کا حمایت یافتہ کوئی گروپ اس مرتبہ نظر نہیں آ رہا۔

  5. خوشی ہے ووٹرز باہر نکلے، یہ خودمختاری اور حقیقی آزادی کا الیکشن ہے: عمران خان

    چیئر مین تحریکِ انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ’مجھے یہ دیکھ کرخوشی ہےکہ ہمارے ووٹرز ہر قسم کے دباؤ اور ہراساں کرنے کی (حکومتی) کوششوں کی مزاحمت کرتے ہوئے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکل رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ وہ سب لوگ، خصوصاً ہماری خواتین جنھیں ابھی اپنا ووٹ ڈالنا ہے، وہ نکلیں اور ووٹ ڈالیں کیونکہ یہ خودمختاری اور حقیقی آزادی کا الیکشن ہے۔‘

  6. لاہور میں پی ٹی آئی کا ’ووٹر لسٹوں میں رد و بدل‘ کا الزام، وقت کے ساتھ ووٹر ٹرن آؤٹ میں اضافہ, ترہب اصغر، نامہ نگار بی بی سی اردو لاہور

    پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں لاہور کے چار حلقے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں جس کے باعث صبح سے ہی لاہور میں خاصی گہما گہمی دیکھنے کو ملی ہے۔

    صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ کے بعد سے دن 12 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ خاطر خواہ نہیں رہا، تاہم اب پولنگ سٹیشنز پر اچھا رش دیکھنے کو مل رہا ہے، تاہم ووٹر لسٹوں میں مبینہ رد و بدل کے باعث ووٹروں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

    ہماری کئی ایسے ووٹرز سے بات ہوئی جنھیں ایس ایم ایس پر جس پولنگ سٹیشن کا پتہ بتایا گیا وہاں ان کے ووٹ کا اندراج نہیں تھا۔

    کچھ ایسے بھی تھے جن کے ووٹ سرے سے حلقے میں ہی موجود نہیں تھے۔

    اس حوالے سے پی ٹی آئی کی رہنما عندلیب عباس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے ووٹرز جن کی ایسی شکایات تھیں، ان کی پٹیشنز کو ہائی کورٹ لے جایا جائے گا۔

    ان کے علاوہ پی ٹی آئی کے رہنما شفقت محمود کی جانب سے بھی اس قسم کے ’سنگین شکایات‘ کا ذکر کیا گیا ہے کہ ووٹ حلقے سے باہر منتقل کر دیے گئے ہیں۔

    تاہم تاحال اس بارے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

  7. آج پنجاب کا باشعور ووٹر اس ملک کی سیاسی سمت کا تعین کرے گا: شاہ محمود قریشی

    پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کی جانب سے کی گئی ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ووٹرز سے گزارش ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے اپنا ووٹ ڈالیں۔ اربابِ اختیار سے مطالبہ ہے کہ اس ملک کی سالمیت کی خاطر کسی بھی قسم کی ممکنہ دھاندلی کو روکا جائے تاکہ اس ملک میں جاری سیاسی خلفشار کو خاتمے کی طرف گامزن کیا جا سکے۔‘

  8. پی پی 158، 168 میں پیدا ہونے والی ناخوشگوار صورتحال پر قابو پا لیا گیا، پولنگ کا عمل دوبارہ شروع: الیکشن کمیشن

    اب سے کچھ دیر قبل پی پی 158 اور 168 لاہور میں ناخوشگوار صورتحال دیکھنے کو ملی تھی جس کے بعد پولنگ کا عمل کچھ دیر کے لیے تعطل کا شکار رہا تھا۔

    تاہم اب الیکشن کمیشن پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پی پی 158 میں ہونے والے واقعے کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور اب صورتحال کنٹرول میں ہے۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پی پی 158 میں پی ٹی آئی اور ن لیگ جبکہ 168 میں ٹی ایل پی اور مسلم لیگ ن کے درمیان جھگڑا ہوا۔ پی پی 158 میں ایک کارکن کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

  9. لاہور میں خواتین کے پولنگ سٹیشن کے مناظر!

  10. عمومی صورتحال بہتر ہے تحریک انصاف کے دوستو انتظار نہ کرو بس پولنگ پر پہنچو: فواد چوہدری

    پاکستان کے تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’لوگوں کا جوش وخروش ہے، عمومی صورتحال بہتر ہے لوگ ووٹ ڈالنے نکل پڑے ہیں۔

    انھوں نے لکھا کہ ’موسم بھی اچھا ہے، تحریک انصاف کے دوستو انتظار نہ کرو بس پولنگ پر پہنچو اور ووٹ ڈالو! آج کا دن تحریک انصاف کی فتح کا دن ہے۔‘

  11. مظفر گڑھ میں پولنگ کے عمل سے متعلق شہباز گل کا الزام بے بنیاد ہے: الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کی جانب سے مظفر گڑھ میں پولنگ سٹیشن 46,47 پر پولنگ ایجنٹ کو باہر نکالنے کے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔

    شہباز گل نے الزام عائد کیا تھا کہ ’مظفر گڑھ میں ہمارے امیدوار معظم جتوئی کے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ سٹیشن 44 اور 46 سے باہر نکلا دیا گیا۔

    ’انھیں خالی ڈبے اور بیلٹ پیپر چیک نہیں کرنے دیے گئے۔ فارم 46 شفافیت ختم کر دی گئی۔ اب ہمیں پتہ نہیں اس پولنگ سٹیشن پر کتنے جعلی ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دھاندلی کا آغاز کر دیا گیا۔‘

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ریٹرننگ افسر کے مطابق خواتین پولنگ سٹیشن پر خواتین اور مرد پولنگ سٹیشن پر مرد پولنگ ایجنٹ بیٹھتے ہیں۔ پولنگ سٹیشن 44 پر پی ٹی آئی پولنگ ایجنٹ امیر بخش موجود ہے۔ جبکہ پولنگ اسٹیشن 46 پر پی ٹی آئی کا کوئی ایجنٹ نہیں پہنچا.

    صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے کہا ہے کہ ’بغیر تصدیق کے الزامات لگا کر پولنگ کے عمل کو متنازعہ نہ بنایا جائے۔‘

  12. پولنگ کے لیے عمارتوں میں تلاشی کے بعد ہی داخلے کی اجازت ہے:سی سی پی او لاہور

    سی سی پی او لاہور بلال صدیق نے لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جو سکیورٹی پروگرام ہم نے جاری کیا تھا اس کے مطابق تین ٹیئرز میں ڈیوٹی لگ گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’تمام پولنگ کی عمارتوں کے دونوں اطراف رکاوٹیں لگائی گئی ہیں جن میں چیکنگ کے بعد ہی داخلے کی اجازت ہے جبکہ مین گیٹ سے آگے کسی کو موبائل لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔‘

  13. لاہور کے چار حلقوں میں پولنگ کا عمل جاری!

  14. مسلم لیگ نون نے اپنے کارکنوں کے بجائے ’منحرف اراکین‘ کو ترجیح کیوں دی؟

    پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں 17 جولائی کو صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوں گے۔ ان انتخابات میں کامیابی کے لیے دو روایتی حریف پاکستان مسلم لیگ ن اور اب اپوزیشن بینچز پر موجود پاکستان تحریک انصاف آمنے سامنے ہیں۔ ان ضمنی انتخابات کو دونوں جماعتوں اور ان کے بیانیے کے لیے ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    اس بات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان خود اس مہم میں خاصے متحرک ہیں اور وہ مختلف حلقوں کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔

    دوسری طرف جہاں مریم نواز بڑے جلسوں کا انعقاد کر رہی ہیں وہیں اب اس جماعت کے دو سینیئر رہنما بھی اپنی وزارتوں سے مستعفی ہو کر اس مہم میں شامل ہو گئے ہیں، جن میں سے ایک سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق جبکہ دوسرے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کے بھائی خواجہ سلمان رفیق ہیں۔

  15. ضمنی انتخابات: الیکشن کمیشن اسلام آباد میں مرکزی کنٹرول روم قائم، ’پولنگ میں مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی‘

  16. پاکستان پی ٹی آئی دور میں اپنی منزل سے دور ہو گیا، اس کا اظہار آپ نے اپنے ووٹ سے کرنا ہے: شہباز شریف

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ضمنی انتخابات میں ووٹنگ کے آغاز پر ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ پاکستان پی ٹی آئی دور میں اپنی منزل سے دور ہو گیا، اس کا اظہار آپ نے اپنے ووٹ سے کرنا ہے۔

    پنجاب کے ضمنی انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے عمران خان حکومت کے پونے چار سالہ سیاہ دور کی کرپشن، نا اہلی، معاشی تباہی، مافیہ کی سہولت کاری و سرپرستی اورتبدیلی کے نام پر برپا کی گئی تباہی کے بارے میں ضرور سوچیے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’شہریوں کو مفت ادویات اور طلبا کو وظائف سے محروم کیا گیا۔ سرکاری آسامیوں اور تبادلوں کی کھلےعام خرید و فروخت کی گئی۔ شہری سہولیات کی حالت ابتر اور لاقانونیت عروج پر رہی۔ پنجاب کی جو حالت کی گئی، وہ پنجاب کے لوگوں کی توہین سےکم نہیں۔‘

  17. اتحادیوں کو اسمبلی میں لانے کے لیے ایجنسیوں کو کہنا پڑتا تھا، بجٹ پاس کروانے کے لیے منتیں کرنی پڑتی تھیں: عمران خان

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے گذشتہ روز سوال و جواب کے ٹیلی فونک سیشن کے دوران انکشاف کیا ہے انھیں اتحادیوں کو اسمبلی میں لانے کے لیے خفیہ ایجنسیوں کی مدد لینی پڑتی تھی۔

    عمران خان نے گذشتہ روز ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’لیکن ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، ہمارے اتحادی تھے ہم بلیک میل ہوتے تھے، بجٹ پاس کروانا ہے تو منتیں کرنی پڑتی تھیں، ہمیں اپنی ایجنسیوں کو کہنا پڑتا تھا کہ ان کو لے کر آؤ اسمبلی میں، ووٹ کروانے کے لیے۔‘

    عمران خان نے پی ٹی آئی دور میں احتساب نہ ہونے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’جو احتساب ہونا چاہیے تھے وہ نہیں ہوا، نیب میرے نیچے نہیں تھا، وہ ایک آزاد ادارہ ہے اور احتساب انھوں نے کرنا تھا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’طاقت کہیں اور ہے، جو نیب کو کنٹرول کرتے تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ احتساب ہو، ان کے لیے کرپشن اتنی بری چیز نہیں تھی۔‘

  18. 20 حلقوں میں ہونے والے یہ انتخابات مستقبل کی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہوں گے؟

    ہم یہاں اِن 20 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کا جائزہ اِس تناظر میں لیں گے کہ پنجاب کی مستقبل کی سیاست پر ان کے نتائج کے نقوش کس حد تک اَنمٹ ہوں گے؟

    نیز اِن حلقوں میں کن نعروں اور وعدوں پر انتخابات لڑا جا رہا ہے؟ یعنی دونوں سیاسی جماعتوں کے پاس ووٹرز کو دینے کے لیے کیا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کا سیاسی کردار کیا ہے اور اگلے عام انتخابات میں یہ ضمنی الیکشن پیپلز پارٹی کی سیاست پر کوئی اثرات مرتب کر سکتا ہے یا نہیں؟

  19. تحریک انصاف نے ٹکٹ دیرینہ کارکنوں کے بجائے ’الیکٹیبلز‘ کو کیوں دیے؟

    پنجاب کے 20 ضمنی حلقوں میں مقابلہ واضح طور پر دو ہی جماعتوں یعنی پاکستان مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے درمیان ہو گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی پہلے ہی ن لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر چکی ہے اور پاکستان مسلم لیگ ق پی ٹی آئی کا ساتھ دے رہی ہے۔

    رواں ماہ کی 17 تاریخ کو زیادہ تر حلقوں میں مقابلہ سخت رہنے کی توقع ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے زیادہ تر حلقوں میں پی ٹی آئی کے ان ہی سابق ممبران کو ٹکٹ دے رکھے ہیں جن کے منحرف ہونے کی وجہ سے یہ نشستیں خالی ہوئی تھیں۔

  20. بریکنگ, پنجاب کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات پر پولنگ کا آغاز، مختلف جماعتوں کے 175 امیدوار مدِ مقابل

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات پر پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ ووٹنگ صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک جاری رہے جس کے لیے تین ہزار سے زائد پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے 175 امیدوار مدِ مقابل ہوں گے۔