بریکنگ, فاروق ستار کا این اے 245 کا ضمنی الیکشن آزاد حیثیت میں لڑنے کا اعلان
ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رہنما فاروق ستار کا کہنا ہے کہ وہ این اے 245 کا ضمنی الیکشن آزاد حیثیت میں تالے کے نشان پر لڑیں گے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حمزہ شہباز کے وزارت اعلیٰ کے نوٹیفیکیشن کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے اور گورنر پنجاب کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں۔
ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رہنما فاروق ستار کا کہنا ہے کہ وہ این اے 245 کا ضمنی الیکشن آزاد حیثیت میں تالے کے نشان پر لڑیں گے۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 20 جولائی 2022 کو سہ پہر 4 بجے کے بجائے 22 اگست 2022 کو سہ پہر 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو گا۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ بیان کے مطابق سپیکر نے مشترکہ اجلاس کے شیڈول میں تبدیلی پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیٹنگز رولز 1973 کے قاعدہ چار کے تحت تفویض شدہ اختیارات کو بروئے لاتے ہوئے کی ہے۔
تحریک انصاف نے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بتایا ہے کہ عمران خان اب سے کچھ ہی دیر میں عوام سے خطاب کریں گے جس میں عوام کو آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اگاہ کیا جائے گا۔
ایک بیان کے مطابق ’چیئرمین تحریک انصاف کی زیر صدارت کور کمیٹی کے اہم اجلاس میں وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، مرکزی سیکرٹری جنرل اسدعمر، سینیئر مرکزی نائب صدور فواد چودھری اور ڈاکٹر مزاری، مرکزی سیکرٹری اطلاعات فرخ حبیب، مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرلز عامر محمود کیانی اور عمر ایوب خان سمیت اراکین کور کمیٹی موجود تھے۔ پنجاب کے ضمنی انتخاب میں تاریخی کامیابی اور بعد کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔‘
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت کا اہم اجلاس شروع ہوگیا ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں وفاقی وزرا رانا ثنا اللہ، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب اور اعظم نذیر تارڑ سمیت دیگر شریک ہیں۔
اجلاس میں وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے بھی شرکت کی ہے جبکہ ایاز صادق، ملک احمد خان، عطاء اللہ تارڑ، سردار اویس لغاری، رانا مشہود بھی اجلاس کا حصہ ہیں۔
اس اجلاس میں ضمنی انتخابات میں پارٹی کی شکست پر غور و خوض کیا جائے گا اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔
اجلاس کا پہلا راؤنڈ مکمل ہوگیا ہے جبکہ دوسرے میں پارٹی قائد نواز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کریں گے۔
وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن ضمنی الیکشن کے نتائج تسلیم کرتی ہے لیکن حقائق عوام کے سامنے لائیں گے اور ’حکومت ہار گئی لیکن نوازشریف کا نظریہ جیت گیا ہے۔‘
اپنی پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ ’(آئندہ) ضمنی انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم و جماعتی فیصلے جماعت میں کریں گے۔ ہم نے سیاست قربان کر کے ریاست کو بچایا ہے۔ مینڈیٹ حاصل نہیں ہے، ریاست کی غلطیوں کا ملبہ جو اٹھائے (عوام) اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’نوازشریف نے قوم میں تحریک پیدا کی۔۔۔ کل کے انتخابات میں (یہ تحریک) نمایاں تھی۔ نتائج مختلف آئیں گے تو حکومت ڈسٹرب ہو سکتی ہے۔‘
’عمران خان کہہ رہے کہ بند کمروں میں ججز اور جرنیل فیصلے کرتے ہیں تو کیا یہ فیصلے نوازشریف اور مریم نوازشریف کے خلاف فیصلے نہیں آئے۔ عوام نے مینڈیٹ نہیں دیا جن غلطیوں سے ملک تباہ ہوا انھیں بیل آؤٹ ملا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’جماعتوں میں اداروں کے لوگ کمپرومائز ہوں گے، انھیں چلائیں گے تو کل والا ردعمل آئے گا۔‘
’اداروں کی غلطیوں کا مداوا ناگزیر، اس کا ملبہ نہیں اٹھائیں گے‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کا ’پہلے بھی مینڈیٹ نہیں تھا۔ عدم اعتماد سے قومی حکومت بنائی۔ اس کا ایک مقصد تھا کہ معیشت کو سہارا دیا جائے، کہیں ڈیفالٹ نہ کر جائے۔
’اگر آج کمپرومائز کیا تو فوری الیکشن کی رٹ لگائی۔ آج فوری انتخابات کا متحمل ہے یا نہیں خمیازہ قوم بھگتے گی۔ جب عمران خان حکومت میں تھا، اس وقت فوری الیکشن ہونے چاہییں تھے۔ اگر سال عمران خان کو دے دیا تو نئے انتخابات سے پارٹی ملک کو سنبھال نہ سکے گی اور تین ماہ میں ریلیف نہ دے سکے گی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’الیکشن کے باوجود پیٹرول و بجلی کی قیمتیں بڑھائیں کیونکہ ریاست و معیشت کو بچانا تھا۔ اب نظریہ ضرورت کو دفن کرنا ہوگا۔ ہم نے شکست تسلیم کی۔ ریاست بچانے کے لیے خود کشی کی لیکن اداروں سے غلطیاں ہوئیں اس کا مداوا کرنا ناگزیر ہے۔ اس کا ملبہ نہیں اٹھائیں گے۔ نوازشریف کو پورا کا پورا سچ قوم کے سامنے رکھنا چاہیے۔
’جب حقائق قوم کے سامنے رکھیں گے تو آئندہ انتخابات میں مخالفین کی ضمانتیں ضبط ہوجائیں گی۔‘
دفتر صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے پی پی 7 راولپنڈی کے حوالے سے میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں کی تردید کی ہے۔
ایک بیان میں الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ’رٹرننگ آفیسر پی پی 7 راولپنڈی نے پی ٹی آئی امیدوار شبیر اعوان کی دوبارہ گنتی گنتی کی درخواست وصول کی ہے۔ رٹرننگ آفیسر نے درخواست پر فیصلے کے لیے حلقے کے تمام امیدواران کو کل ساڑھے 11 بجے اپنے کیمپ آفس کہوٹہ میں طلب کیا ہے۔
’دوبارہ گنتی کی درخواست وصول نہ کرنے یا رد کرنے کی خبریں بے بنیاد اور غلط ہیں۔‘
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 7 میں دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے امیدوار سغیر اعوان کو پی ٹی آئی کے راجہ شبیر اعوان پر 49 ووٹوں کی برتری حاصل تھی۔
انھوں نے 68 ہزار 906 ووٹ حاصل کیے جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار راجہ شبیر اعوان نے 68 ہزار 857 ووٹ حاصل کیے اور وہ دوسرے نمبر پر رہے۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز شدید مندی کا رجحان نظر آیا اور سٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں سات سے پوائنٹس سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی رجحان کے ساتھ شروع ہوا اور انڈیکس میں مسلسل کمی دیکھی گئی۔
سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق گذشتہ روز پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے بعد موجودہ سیاسی سیٹ اپ کے بارے میں غیر یقینی بڑھ گئی ہے اور یہ صورتحال ملک کے آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کو بھی متاثر کر سکتی ہے جس کا منفی اثر سٹاک مارکیٹ میں کاروبار پر ہوا ہے۔
صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے موجودہ حکومت کی قانونی حیثیت کھونے کے متعلق اعلامیہ جاری کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ بار نے ایسا کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا۔
صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کو اپنا وقت پورا کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ بار کے ایک عہدیدار نے انفرادی طور پر بیان جاری کیا ہے جس سے سپریم کورٹ بار کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
یاد رہے اس سے قبل ایسی اطلاعات تھیں کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ عوام کا فیصلہ ہی کسی بھی حکومت کی قانونی بنیاد ہوتی ہے اور مسلم لیگ ن کی حکومت قانونی حیثییت کھو چکی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اعلامیے میں نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ضمنی انتخابات نے بہت سے افسانوں اور دعوؤں کی نفی کی ہے اور تمام اداروں کو غیر جانبداری سے عوام کے فیصلے سے ملک کو مشکل حالات سے نکالنا چاہیے۔
شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ کل کے باوقار الیکشن سے اسٹیبلیشمنٹ کو بھی عزت ملی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے نگران حکومت بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کل کے الیکشن سے صرف ایک ٹیلر چلا ہے اور قوم نے غیر ملکی سازش کے ذریعے بنی امپورٹڈ حکومت کو مسترد کر دیا ہے۔
شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کا اعلامیہ گھر گھر تک پہنچ گیا ہے اور اب جتنا جلدی عام الیکشن ہوں یہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بہتر فیصلے کرتی تو لاہور کی چوتھی سیٹ بھی جیت جاتی۔
شیخ رشید نے پاکستان مسلم لیگ نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے حکومت میں آنے کے بعد ایف آئی اے اور نیب میں اپنے بندے بھرتی کیے تاکہ عمران خان کے ساتھیوں کا جینا دوبھر کیا جائے مگر ہم بڑے لوگ ہیں، حکومت میں آ کر معاف کریں گے۔
پاکستان میں موجودہ ہفتے کے پہلے روز پیر کو ڈالر کی قیمت میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا جب ایک ڈالر کی قیمت میں ساڑھے تین روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور اب ڈالر کی قیمت 214.50 روپے کی سطح عبور کر گئی ہے۔
جمعے کے روز ایک ڈالر کی قیمت 210.95 روپے پر بند ہوئی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے جبکہ دوسری جانب درآمدی ادائیگیوں کے ساتھ ملک میں سیاسی صورتحال بھی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ بنی ہے۔
تجزیہ کار سمیع اللہ طارق کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز ہونے والے ضمنی انتخابات کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک نئی بے یقینی پیدا ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ سیٹ اپ کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات پیدا ہوئے ہیں جس نے مقامی کرنسی کی قدر پر منفی اثر ڈالا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس آج شام اسلام آباد میں طلب کر لیا ہے جس میں انتخابی نتائج کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس تین بجے بنی گالہ میں ہو گا جس میں یاسمین راشد حماد اظہر اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کو بھی شریک ہونے کا کہا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔
یاد رہے پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردرای نے پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی ہنگامی میٹنگ آج شام کراچی میں طلب کر لی ہے۔
یہ میٹنگ بلاول ہاؤس میں کراچی میں طلب کی گئی ہے جبکہ ممبران زوم کے ذریعے بھی اس میں شرکت کر سکتے ہیں۔
گذشتہ روز پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں شکست کی وجوہات کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کا اعلی سطح کا اجلاس آج شام لاہور میں طلب کر لیا ہے۔
اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز سمیت سینئیر رہنما شرکت کریں گے۔
وزیراعظم نے تمام صورتحال پر اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اتحادیوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس کل اسلام آباد میں متوقع ہے۔
اجلاس میں پنجاب اسمبلی میں اکثریت ختم ہو جانے کے بعد حمزہ شہباز کے مستعفی ہونے سے متعلق بھی فیصلہ کیا جائے گا۔
پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے۔
ٹویٹر پر سابق وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور پنجاب کے ووٹرز کا شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے کہا کہ یہاں سے آگے کا واحد راستہ ایک ساکھ کے حامل الیکشن کمیشن کی زیرِنگرانی آزادانہ وشفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔ کوئی بھی دوسرا راستہ محض سیاسی غیر یقینی میں اضافےاور مزید معاشی انتشار کی جانب لے کر جائے گا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے شفاف اور پرامن انتخابات ممکن بنانے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کی تعریف کی ہے۔
الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کی تمام 20 نشستوں کا غیر حتمی نتیجہ جاری کر دیا ہے۔ فہرست کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف نے 15، پاکستان مسلم لیگ (ن) نے چار اور آزاد امیدوار نے ایک نشست حاصل کی ہے۔
غیر حتمی نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی امیدوار محمد معظم علی خان نے 46 ہزار 069 ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کی امیدوار سیدہ زہرا باسط بخاری کو 36 ہزار 401 ووٹ ملے ہیں۔
غیر حتمی نتائج کے مطابق اس حلقے میں پی ٹی آئی کے امیدوار محمد عامر اقبال شاہ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار زوار حسین وڑائچ کو شکست دے دی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیرِ ہوابازی و ریلوے سعد رفیق اس وقت پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ آج وہ بھی دھاندلی کے الزامات لگا سکتے ہیں مگر وہ یہ نہیں کریں گے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ، الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت مکمل طور پر غیر جانبدار رہے اور یہ ’ثابت‘ ہو گیا کہ کسی نے دھاندلی نہیں کی۔
سعد رفیق نے کہا کہ اُن کا مقابلہ بڑھی ہوئی تیل کی قیمتوں اور مہنگائی کے ساتھ تھا۔ ’اس مخلوط حکومت کے سامنے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے بجائے بھاگنے کا راستہ موجود تھا مگر اس حکومت نے مشکل فیصلے کیے کیونکہ پاکستان کا مفاد سب سے اوپر ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ اتحادی حکومت کو اس پر کوئی افسوس نہیں ہے۔
لیگی رہنما نے مزید کہا کہ یہ نشستیں مسلم لیگ (ن) کی نہیں تھیں، گذشتہ انتخابات میں ان پر (ن) لیگ ہاری تھی یا ’ہروائی‘ گئی تھی اور (ن) لیگ کے مخالفین جیتے تھے۔
’جو چار نشستیں ہم نے جیتی ہیں، وہ پہلے ہاری ہوئی تھیں، ہم نے اپنی کوئی سیٹ نہیں ہاری ہے۔‘