رانا ثنا اللہ نے مزید کہا ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلا الیکشن ہوا جس میں پورے صوبے میں امن و امان رہا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور صرف معمولی جھگڑے ہوئے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر سے چور دروازے سے ملنے کی کوشش کی جب ایسا نہیں ہوا تو ان کے خلاف اس قسم کی گفتگو شروع کی گئی۔‘
ضمنی الیکشن میں شکست پر ان کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن کی قیادت نے سیاسی جماعت کے طور پر خود احتسابی کی ہے۔ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسلم لیگ ن نے 20 حلقوں نے جن لوگوں کو امیدوار نامزد کیا تھا، ان کے ذمے عمران خان کی ساڑھے تین سال کی حکومت کا بوجھ تھا۔ لوگوں کے کام نہیں ہوئے تھے۔
’مسلم لیگ ن اپنے امیدواروں کے لیے ووٹروں کو قائل نہ کرسکی۔ جماعت کی مکمل حمایت انھیں نہ مل سکی۔ آئندہ الیکشن میں ان چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر امیدواروں کا انتخاب کریں گے۔ پنجاب میاں نواز شریف کا تھا، ہے اور رہے گا۔‘
وزیر داخلہ نے نئے عام انتخابات کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ فیصلہ حکومت کی اتحادی جماعتوں کے سربراہان کریں گے۔
’اگر عمران خان الیکشن کے (مطالبے سے) مخلص ہوتے تو پہلے اسمبلیاں توڑتے۔ وہ خود اس بات سے مخلص نہیں۔ اگر الیکشن کا اعلان ہوا تو وہ کہیں گے چیف الیکشن کمشنر کو تبدیل کرو۔۔۔ وہ نوجوانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں، قوم میں تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کا ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ ’غیر سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ فری اینڈ فیئر الیکشن ہونا چاہیے۔ کل کے الیکشن میں ایسا ہی ہوا۔‘